GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  اداریہ
2012اُمید بر نہ آئی


آج سال 2012ء کا آخری دن ہے اس کے ساتھ ہی یہ برس تاریخ کا ایک حصہ بن کر رہ جائے گا اور دُنیا نئے سال کے ساتھ اُسی طرح نئی اُمیدیں باندھے گی جس طرح ہر برس ہوتاآیاہے۔ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں کے لئے چند گھنٹوں کے اندر ختم ہونے والا یہ سال کیسا رہا اس پر یقینی طور پر سوچ کے دو دھارے ہیں ، جو متوازی چل رہے ہیں۔سرکاری یا بہ الفاظ دیگر برسراقتدار طبقہ 2012ء کو ریاست خاص کروادی کے اندر قدرے پُرسکون حالات کے تناظر میں دیکھتے ہوئے اسے اُمیدوں کی برآری اور کامیابی کا سال قرار دے رہاہے،کیونکہ اس دوران وادی میں ایک بھر پور اورکامیاب سیاحتی سیزن دیکھنے کوملا، جو بقول اُن کے ریاستی عوام کومعیشی خوشحالی کے ہدف کی طرف لے جانے کے لئے ایک نشانِ راہ کی حیثیت رکھتاہے ۔حکومت کی جانب سے وادی وارد ہونے والے سیاحوں کی تعداد 13لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے ، جو بلاشبہ ایک بڑی کامیابی ہے او راس سے گزشتہ چند برسوں کے دوران مقامی معیشت میں آئی گرواٹ کو ضرور سنبھالا ملا ہے ۔حکومت نے اسے اپنی کامیابی کے طور پروجیکٹ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیااور اس کی بنیاد پر وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت کوریاست کے اندر چیدہ چیدہ علاقوں سے سنگین قانون افسپا ہٹانے پر آمادہ کرنے کی بارہا کوششیں کیں، جس میں ابتدائی طور پر انہیں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے بہتر تعاون ملا مگر وزارت دفاع نے ہر مرحلے پر ان کوششوں کو سبوتاژ کیا ،بالآخر برس گزرنے پروزارت داخلہ نے بھی وہی بیانیہ اپنایا جو اس معاملے میں وزارت دفاع کا طرۂ امتیاز رہاہے۔ حالانکہ یہ ایک عجیب معاملہ ہے کہ مرکزی وزارت خارجہ نے ریاست کے اندرکامیاب سیاحتی برس کو کشمیر میں تشدد پر قابو پانے اورمزاحمتی حلقوں کی سیاسی ساکھ کمزور ہونے کی دلیل کے طو رپر بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے میں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔اس تکونی صورتحال میں بے شک مرکزی اور ریاستی حکومت کا ایک برس ٹھیک ٹھاک گزر گیا مگر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ریاستی عوام کو جوتحفظات اور خدشات ہیں وہ برابر اپنی جگہ برقرار رہے اور ان تحفظات وخدشات کو دور کرنے کے لئے سرکاری سطح پر کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔ حالانکہ گزرے برس کے گرم ترین حالات کے دوران ،جب ریاست میں 2008ء اور 2010ء کے دوران زوردارعوامی ایجی ٹیشن چلیں اور جن سے تقابل کے بطور رواں برس کو پُرامن قرار دیا گیا ،سرکاری سطح پر داخلی اورخارجی سطح پر کشمیر مسئلہ کے پہلوئوں پر مثبت اقدامات کرنے کے وعدے کئے گئے لیکن 2012ء میں ان باتوں کو بستۂ فراموشی میں ڈال دیا گیا ۔ رواں برس یہی اُمید ضرور کی جارہی تھی کہ ریاست کے مزاحمتی حلقے کو مناسب اور معقول سیاسی سپیس فراہم کرکے افہام وتفہیم کے لئے ایک مناسب ماحول کو پروان چڑھانے کی کوشش ہوگی ،لیکن اسکے برعکس مزاحمتی خیمے کی سیاسی جولانگاہ کو تنگ سے تنگ ترکرنے کی متواتر کوششیں کی گئیں ۔اس امرکا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ سینئر مزاحمتی قائد اور حریت (گ) کے چیئرمین سیدعلی گیلانی کو 365دنوں میں سے 177دنوں تک خانہ نظر بندرکھاگیا ۔ ایسی ہی ہمچو قسم کی پابندیاں دیگر جماعتوں کے قائدین کے ساتھ بھی روا رکھی گئیں اور ان کی نقل وحرکت کو مسدود کرنے کے لئے اکثر انہیں وقفوں وقفوں سے درمیان سفر روک کرپروگراموں میں ان کی شرکت کو ناکام بنادیا گیا ۔دلچسپ معاملہ یہ ہے کہ حکومت ہی نہیں بلکہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے خود بھی وادی کے اندر امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے ایسی قدغنوںکوجائز ٹھہرایا ہے۔اگرچہ حریت (ع) نے چند روزقبل پاکستان کا دورہ کرکے منجمد سیاست میں ارتعاش پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ،تاہم اس کے مضمرات فی الوقت بھارت اورپاکستان کی بجائے ریاست کے اندر موجود مزاحمتی خیمے میں ہی محسوس کئے جارہے ہیں ۔ ریاست کے حکمران اتحاد اور مین اسٹریم اپوزیشن کے درمیان 2012ء الزام تراشیوں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ایک دوسرے کی پگڑیاں اُچھالنے میں صرف ہوا تو بے جا نہیں ہوگا۔ ان حلقوں کے پوسچرس سے کسی طورکشمیر مسئلے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات کے حوالے سے عوام کے تئیں کوئی دردمندی جھلکتی نظر نہیں آئی ،بلکہ دونوں اپنی اپنی سیاسی دنیا کی سیاست میں مصروف رہے ۔ مجموعی طور پر عوام الناس پہ یہ تاثر گہراتا جارہاہے کہ بنیادی مسئلے اور اسکے شاخ درشاخ مضمرات کہیں نہ کہیں ہر سیاسی حلقہ کے لئے ثمر ور ثابت ہورہے ہیں اور ریاست کا دانشورحلقہ بھی غالباً اس دائرے میں کہیں نہ کہیں کھڑا ہے ۔ کل شروع ہونے والا نیا برس اس پیش پاافتادہ قوم کے لئے کیا پیغام لاتاہے ، یہ آنے والے ایام ہی بتاسکتے ہیں ، ہاں بہتری کی اُمید ضرور کی جاسکتی ہے کیونکہ   ع         دنیا بہ اُمید قائم است ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By