GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
محل وقوع دوست یا دشمن؟
آثارکہہ رہے ہیں کابل کے بعد کشمیر

 جدید دُنیا میں اگرچہ جیواسٹرٹیجی اور جیو پالیٹکس سفارتی لغات میں نہایت ہی اہم اصطلاح تصور کئے جاتے ہیں مگر یہ ہمارے یہاں کچھ عرصے سے سیاسی طور پیش پا افتادہ الفاظ بن کر رہ گئے ہیں ۔ اب کچھ مدت سے بعض کشمیری رہنما ان الفاظ کو اکثر اِس طرح استعمال کرتے رہے ہیں کہ یہ فرسودگی کے ہم معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ کچھ رہنما جیواسٹرٹیجی اصطلاح ، جس کو سب سے پہلے فیڈرک ایل شومان نے 70برس قبل وضع کیا تھا، موقع محل دیکھے بغیر زبانوں پر لا تے رہتے ہیں ۔

نائین الیون کے مابعد ابھرنے والے سیا سی منظرنامے نے ان اصطلا حات کو اتنا بڑھاوادیا کہ بعض کشمیری رہنمائوں نے انہی کے گرد ایک متبادل مباحثہ پیدا کرنے کی کوشش کی اور عوامی بیانیہ کو غالب مباحثے کے تابع بنانے کی سعیٔ لاحاصل بھی کی ۔  اس قماش کے چند  ایک رہنمائوں نے اپنی سیاسی تھکن کو ایک قابل جواز معنی پہنانے کی خاطر کشمیر کی سرگزشت میں نیویارک کے دوہرے ٹاوروں کا زمین بوس ہوکر ڈھ جا نے سے جوڑنے کی سرتوڑکوشش کی اور جدوجہد کی مقبولیت کو حاصل جواز کو نکارنے کی جسارت بے جا کی ۔

کہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ کشمیرکوجیو اسٹرٹیجک اہمیت حاصل نہیں ہے۔ قدرت نے ریاست کا جغرافیائی محل وقوع کچھ اس طرح سے ترتیب دیا ہے کہ سوئے اتفاق سے یہی ریاستی عوام کے لئے ضرررساں ثابت ہواہے بلکہ اُن کے خلاف ایک غیر محسوس طریقے پر معاندانہ رول اداکرتارہاہے ۔ریاست جموں وکشمیر جب معرض وجود میں آئی تو اس کی سرحدیں افغانستان ، چینی سنکیانگ اور تبت سے لگتی تھیں اور افغانستان کے محض ایک تنگ وتار ر درے کی وجہ سے یہ سوویت یونین سے الگ ہوتی تھی ۔ معاصر تاریخ ہند کے ایک اہم سکالر رام چند گوہا لکھتے ہیں ’’ محل وقوع نے اس (ریاست)کو اسٹرٹیجک اہمیت سے خاموشی سے سرفراز کیا۔کشمیر کی سیا سی اہمیت  15اگست 1947ء کے بعد کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی جب کشمیرکی سرحدیں دونوں نوزائدہ مملکتوں سے ملنے لگیں ۔یہ بے قاعدگی اور بے ترتیبی اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ ایک ایسی مسلم اکثریتی ریاست پر ایک ہندو راج کررہا تھا جس کو جغرافیہ کے نقوش نے نے پیچیدہ تر بنادیاتھا ۔ دوسرے متنازعہ راجواڑوںجیسے جوناگڑھ اور حیدرآباد کے مقابلے میں کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے بالکل نزدیک پڑتا تھا ۔‘‘

جموں وکشمیر مسئلے یا قضیے کی جڑیں اس نظریئے میں پیوست ہیں جس نے ہندوستان اور پاکستان کی آزاد مملکتوں کو جنم دیا لیکن ریاست کا جغرافیائی محل وقوع کچھ ایسا ہے جس کی وجہ سے با لمعنی ایک پیچیدہ ترالمیہ معرضِ وجود میں آیا۔ مسئلہ کشمیر پر ایک محققانہ کتاب کے مولف  بر طانوی اسکا لرا لسٹرلیمب نے بجاطور اس جانب اشارہ کیا ہے کہ ’’اگربرصغیر میں ریاست جموں وکشمیر کسی دوسری جگہ واقع ہوتی تو اس کے مستقبل کے بارے میں ہندوستان او رپاکستان کے مابین اتنے شدید ترین مناقشے پیدا نہ ہو ئے ہوتے ۔ یہ ایک سو برس پہلے برطانوی حکمت عملی وضع کرنے والے ماہرین کی توجہ کا مرکز بن گئی کیونکہ اس کی اہم تجارتی شاہرائیں وسطی ایشیاء سے جاملتی تھیں اور یہ اس کی ہمسائیگی میں واقع تھی ۔یہ سلسلہ برصغیر سے برطانوی حکمرانوں کو بوریا بستر باندھ کر چلے جانے تک جاری رہا۔ ‘‘

عصرحاضر کے بعض مورخین کا یہ یقین کامل ہے کہ کشمیر کے ساتھ جذباتی لگائو کی بناء پر ہندوستان کے اوّلین وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی شدید خواہش تھی کہ وہ کشمیر کو ہندوستان کے ایک حصے کے طور پر بہر صورت دیکھیں ۔ شایدیہ عنصر مسئلہ کی تخلیق کا بڑا محرک بنا ہو، تاہم تاریخ یہ جتانے کی بھرپور شہادت وثبوت فراہم کرتی ہے کہ کشمیرکے بارے میں یہ ان کا ذاتی میلان نہیں تھا جس کی وجہ سے اُن کے سیاسی اور سفارتی فیصلے اثرانداز ہوئے ۔ سردارپٹیل کے لئے کشمیرکی جو اوّلین اہمیت تھی وہ اس نکتے پر مرکوز تھی کہ وہ جغرافیائی محل وقوع کے بارے میں فکر مند تھے ۔ نہروریاست کی جغرافیائی اہمیت اور اس سے متعلق اسرارو رموزکے بارے میں پہلے ہی پوری طرح آگہی رکھتے تھے ۔ریاست کے جغرافیائی محل وقوع کے عوامل کے علاوہ والپرٹ لکھتے ہیں ’’نہرو میں نہ صرف کشمیر کو( ہند کیلئے )بچانے کا جذبہ غالب تھا بلکہ وہ ہر قیمت پر اس کا دفاع کرنا چاہتے تھے ، تاہم اس بارے میں ان کا تصور بالکل پٹیل کی طرح تھا کہ کشمیر کی جنگ سے پاکستان بڑی سرعت سے دیوالیہ ہوگا ‘‘۔ نہرو جب مسئلہ کشمیر لے کر اقوام متحدہ لے گئے تو وہ ریاست کی تقسیم کے انتظار میں تھے ۔ انہوں نے اس سلسلے میں نہ صرف وزیر اعظم پا کستان لیاقت علی خان کو یہ تجویز پیش کی بلکہ ایک طویل خط مہاراجہ ہری سنگھ کو بھی لکھا۔ ہندوستانی وزیراعظم نے مہاراجہ ہری سنگھ کے نام اپنے خط میں تصفیہ کے لئے کئی ایک طریقوں کی نشاندہی کی ۔ ایک یہ کہ پوری ریاست میں رائے شماری کرائی جائے تاکہ ریاستی عوام یہ فیصلہ کرسکیں کہ وہ کس مملکت میں شامل ہوںگے۔یا یہ کہ ریاست ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت سے قائم رہ سکتی ہے جب کہ اس کی دفاع کیلئے دونوں ہمسایہ ممالک ہندوستان اور پاکستان ضمانت دے سکتے ہیں ۔تیسرا آپشن ریاست کی تقسیم کا تھا جس کے مطابق جموں ہندوستان کا حصہ بن جاتا او رباقی ریاست پاکستان میں شامل ہوتی ۔ چوتھا آپشن یہ تھاکہ جموں اور وادی ہندوستان کا حصہ بن جاتے جب کہ پونچھ اور اس کے آگے سبھی علاقے اور خطے پاکستان میں شامل ہوجاتے۔ اس خط پر رام چندر گوہا تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’اس سے ظاہر ہوتاہے کہ قابل فہم ادراک و فراست کے برعکس ہندوستانی وزیراعظم کشمیر پر سمجھوتہ کرنے کے لئے بالکل تیار تھے ۔ بلاشبہ 1947ء میں جن چار آپشنز کا خاکہ پیش کیا گیا ہے آج بھی وہی چار آپشنز ہیں ۔(India After Gandhi)

 کشمیرتصفیے کے بارے میں نہروکا اپروچ مسئلہ کشمیر کے تعلق سے کو ئی حتمی صورت اختیار کرتا مگر سرد جنگ سدراہ بن گئی ۔سرد جنگ کے دوران جنوبی ایشیاء میں کشمیر اپنے جغرافیائی محل وقوع کی بنیاد پر مرکزیت اختیار کرگیا ۔ ’’مسئلہ کشمیر کوحل کرنے کے لئے اَن گنت مواقع کھو دیئے گئے ‘‘۔ یہ بات برطانوی غیر مخفی دستاویزات میں بتائی گئی ہے ۔افتخار ملک لکھتے ہیں ’’اقوام متحدہ کے زیراہتمام، جیسے کہ دونوں ملکوں کی رعایات جیسے کہ ابتدائی طور اس بات سے اتفاق کیا تھاکہ ان سے جنوبی ایشیاء میں غیر ضروری المیوں کے تسلسل کواحتراز کیا جاسکتا تھا جن سے ریاستی عوام کو دوچار ہوناپڑا۔‘‘

1962ء کی چین ہندجنگ کے نتیجے میں پاکستان اپنے مغربی اتحادیوں سے بددل ہوگیا تھاکیونکہ انہوں نے کشمیر کے بارے میں متوقع سفارتی حمایت نہیں دی تھی ۔فرینک موریس نے لکھا ہے کہ نہرو کے سورگباش ہونے کے بعد کشمیر کے بارے میں روس کا روّیہ بدل گیا مگر یہ حقیقت اپنی جگہ پر اَٹل ہے کہ اس سے مسئلہ کشمیر کے حل میں کوئی مدد نہ ملی ۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بھی جموں وکشمیر کی جیواسٹرٹیجک اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ اس میں اضافہ در اضافہ ہوا ۔افغانستان پرر وسی یلغار کے اثرات اور افغان مجاہدین کے ہاتھ روسی فوج کی شکست سے یہ ( خطہ جموں وکشمیر)بچ نہ سکی۔ گزشتہ کئی برسوں سے امریکی تھنک ٹینک ریاست کی جیو اسٹرٹیجک اہمیت کے پیش نظر مسئلہ کشمیر کے حل کو جنوبی ایشیاء اورافغانستان میں امن کا دروازہ تصور کرتے رہے ہیں ۔ 2014ء میں جب امریکی افواج کا افغانستان سے انخلاء ہوگا تو یہ سارے خطے کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہوگا۔ کابل کے واقعات ہندپاک تعلقات پر بھی اثر انداز ہوں گے اور ان کی ہی بدولت دونوں ملکوں کے لئے مذاکراتی میز پرمسئلہ کشمیر کے حل کی ندا آئے گی ۔

zahidgm@greaterkashmir.com

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By