GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
میر طائوس مرحوم۔۔۔۔۔ایک منتظم ، ایک پختہ فکر سخن ور


 زغفران زاروں کے رنگ ونکہت سے معمور،لل عارفہ اور حبہ خاتون کے محبت بھرے اور سُریلے نغموں سے بھرپور پانپور کی بستی سے تعلق رکھنے والے مرحوم غلام محمد میر طائوس ایک طویل عرصے تک ریاستی انتظامیہ میں کلیدی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں لیکن ایک سنجیدہ منتظم سے بڑھ کر وہ ایک صاحب ِ نظر ادیب اور ایک پختہ فکر شاعر تھے جنہوں نے ’’یادوں کے آنسو‘‘ اور ’’موج موج‘‘ تحریر وتصنیف کرکے شعروادب کے ساتھ اپنی قلبی وابستگی کااظہار کیا تھا ۔اسّی کے عشرے میں جب وہ ریاستی انتظامیہ سے فراغت پاچکے تھے ،مجھے ان سے بارہا ملنے اور ان کے خیالات ،تصورات اور وسیع انتظامی تجربات کے خم وپیچ سے شناسا ہونے کاموقع ملا تھا   ؎

زعفران زاروں میں میری تربیت ہوتی رہی

گرمی ٔ رُخ سے ہویدا ہے مرا جوشِ جنوں

                        (طائوسؔ)

میرے محسن ومشفق مرحوم خواجہ ثناء اللہ بٹ مدیر’’آفتاب ‘‘طائوس صاحب کا تذکرہ نہایت ہی ادب واحترام کے ساتھ کیا کرتے تھے ،ورنہ انتظامی عہدوں پر فائز بڑے بڑے حکمرانوں کو ان کے غلط کارناموں کے سبب اپنے اداریوں اور طنز ومزاح کے کالموں میں وہ آڑے ہاتھوں لیتے تھے ۔خواجہ صاحب نے ایک بار راقم سے کہا آپ میر طائوس سے ملئے اور ان سے ایک مفصل انٹرویو لیجئے ۔ میںنے طائوسؔ صاحب سے فون پر رابطہ قائم کیا اور انٹرویو کی تاریخ مقررکی ۔گوگجی باغ سرینگر میں ان کی رہائش گاہ پر ریاست ، سیاست ، ادب، سماج اور اس عہد کے حالات وواقعات پرایک تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا، جس کو میں نے مختصراً روزنامہ’’ آفتاب ‘‘کی 19فروری 1984ء کی اشاعت میں منظر عام پر لایا ۔ اس یاد گار نشست کے دُھندلے نقوش اب بھی میرے لوحِ ذہن پر محفوظ ہیں ۔

غ۔ م۔ طائوس ؔاپنے وطنِ مظلوم ومحکوم کی نظم ونثر میں ہمہ جہت عکاسی کرتے نظر آتے ہیں ۔یہاں کے عوام بالخصوص دیہاتوں میں رہنے والے بھولے بھالے اور سیدھے سادے لوگوں کی بے ریا زندگی سے جڑے حالات وکوائف کو ’’یادوں کے آنسو‘‘ کے نام سے چھپے مجموعۂ مضامین میں بڑی چابکدستی سے پیش کرچکے ہیں ۔ساٹھ سال پہلے بحیثیت تحصیلدار ان کی تقرری نے انہیں دیہاتی زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا تھا۔ 1947-48ء میں تحصیل کولگام کے علاقہ ’’نارواؤ‘ کا مرقع بڑے ہی دلنشین انداز میں یوں کھینچ چکے ہیں :

’’دریائے ویشو اَہرہ بل کے مشہور آبشار سے اُچھل کر بَل اور پیچ کھاتا ہوا اس علاقے کے بیچوں بیچ گزرتا ہے ۔ کوہستاں کا یہ طویل سلسلہ صوبۂ جموں اور صوبۂ کشمیر کے درمیان حدِ فاضل سمجھاجاتاہے ۔ یہاں کے لوگ بیرونی دنیا کے شوروشر، غل غپاڑے سے بے خبر، تہذیب وثقافت کے تصنّعات سے ناآشنا ،جینے کو ایک مقدس فرض کی ادائیگی سمجھ کر زندگی کے دن گزاررہے ہیں ،بیج بوتے ہیں ،فصلیں کاٹتے ہیں ۔فصل اچھی ہوئی تو اطمینان سے کھاتے ہیں ،نہ ہوئی تو فاقہ کرتے ہیں ۔وقت پر بارشیں ہوئیں تو نغمے الاپتے ہیں ، نہ ہوئیں تو روٹھی ہوئی قدرت کو دعائوں سے مناتے ہیں ۔کسی سے گلہ شکوہ نہیں ۔ اُخوت ، رواداری اور سچائی …سادہ لوح دہقانوں کو انسانیت کی یہ بنیادی قدریں یواین او کی کاوشوں نے نہیں سمجھادی ہیں ۔انہیں شاید اس بات کا علم نہیں کہ انسان بحروبر کی وسعتوں کو مسخر کرکے ،تہذیب اورترقی کی اوج گاہوں پر پہنچ کر انسانیت کو کھو چکاہے اور اس گمشدہ متاع کی جستجو میں کبھی جنیواؔکی خاک چھانتا ہے او رکبھی لیک سکسس کی ۔ ’’یادوں کے آنسو‘‘جو گیارہ مضامین پر مشتمل ہے ، کا لب ولہجہ اور خیالات کا زیروبم اوپر نقل کئے گئے اقتباس سے ہر جگہ میل کھاتا نظر آتاہے ۔ مجھے اٹھائیس سال پہلے کی اس گفتگو کا وہ ایک سوال بھی یاد آرہاہے جو میں نے طائوس صاحب سے ان کے نظریۂ شعر کے بارے میں پوچھا تھا ۔ انہوں نے اولاً یہ وضاحت کی تھی کہ وہ روایتی انداز کے شاعر نہیں ہیں اور نہ ہی کسی مشاعرے میں کبھی شمولیت کرچکے ہیں، تاہم شعراء اُردو بالخصوص علامہ اقبال اور فیض احمد فیض کے ساتھ انہیں بے پناہ لگائو ہے۔ نظریۂ شعر کی صراحت کرتے ہوئے اپنی ایک عزل کے چند اشعار سنائے   ؎

وہ فکر کیا ہے ؟ میرے معزز سخنورو!

جو محورِ شباب سے آگے نہ بڑھ سکے

پُرکیف ہو تو ہو چھپا زَہر اب ہے وہ شعر

جوا ک خمارِ خواب سے آگے نہ بڑھ سکے

یاروں نے پھینک دی ہے ستاروں پہ بھی کمند

ہم بُرج کے احساس سے آگے نہ بڑھ سکے

ایک اعلیٰ پایہ کے منتظم اور معاشرے کے انفرادی واجتماعی خدوخال سے آگاہ میر طائوس سے راقم نے معاشرے اور عصری قیادت کے بارے میں ان کا ردّعمل جاننا چاہا تھا تو مرحوم نے صاف الفاظ میں مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اب سے تین دہائی پہلے کہا تھا کہ ’’معاشرے کا تانا بانا بکھر چکاہے ،احساس ِ ذمہ داری کا دور دور تک نام ونشان نظرنہیں آرہاہے ،محبت ومروّت او راخوت والفت کے سارے پیمانے ٹوٹ رہے ہیں اور مجموعی طور پر معاشرہ رو بہ زوال ہے ، اس پر طرہ یہ کہ جن سے اصلاحِ معاشرہ کی توقع تھی اور جو رہبری ورہنمائی کے مقامات پرفائز ہیں ، ان پر یہ شعر صادق آتاہے   ؎

ہوئی جن سے توقع خستگی کے داد پانے کی

وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغِ ستم نکلے

میر طاوس کی تحریروں ،بالخصوص ’’یادوں کے آنسو‘‘ صفحہ نمبر113سے 180تک یہ بات بالکل عیاں ہے کہ وہ کشمیر کی سیاسی قیادت کے منفی طرزِ عمل اور کشمیری قوم کے ساتھ غیر کشمیری حکمرانوں کے روّیے سے نہایت مایوس، مغموم اور متفکر دکھائی دیتے ہیں ۔ انہوں نے نہایت دردناک الفاظ میں وہ مناظر سامنے لائے ہیں جن میں کشمیری قوم کی بے عزتی جھلکتی دکھائی دے رہی ہے ۔ طائوس صاحب نے واقعات کے منظر کشی کرتے ہوئے جو زبان استعمال کی ہے ، اس سے ان کے دردمند اور احساس دل ودماغ کی غمازی ہوتی ہے ۔ان تمام واقعات کو ایک جلّی عنوان ’’ کیا دن دکھائے گردشِ لیل ونہار نے ‘‘کے تحت قلمبند کرتے ہوئے مستقبل آگاہ شاعر نے کئی پیش گوئیوں کے دریچے وا کئے ۔کتاب کے پیش لفظ میں وجہِ تحریر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

’’یادوں کے آنسو‘‘ان کا سرچشمہ وہ ترش وتلخ تجربات اور تاریخی واقعات ہیں جو میرے مشاہدے میں آئے ہیں ۔ دراصل 1947ء اور اس کے بعد چند برسوں کے ایسے گنے چنے واقعات اور حادثات کو وقت وقت پر سپردقلم کرتا رہا جن میں کسی نہ کسی قسم کا انوکھا پن موجود تھا۔ حقائق بعض اوقات افسانوں سے زیادہ حیرت انگیز اور دلچسپ ہوتے ہیں ۔غالباً دور حاضر کے اکثر قارئین کویہ یقین نہیں آئے گاکہ 35-40سال قبل اس قسم کے واقعات بھی رونما ہوسکتے تھے ۔

میر طائوس مرحوم نے نظم ونثر دونوں اصناف میں کشمیر کے سیاسی حالات کی عکاسی کرنااپنا اخلاقی فریضہ تصور کیاہے ۔ اس مختصر کام میں ان خیالات واحساسات کا تجزیہ ممکن نہیں ،تاہم اس کالم کو مکمل کرنے سے پہلے مجھے وہ سوال پھر ذہن میں آتاہے جو میں نے مرحوم سے اُن کی شاعری کے بارے میں پوچھا تھا کہ آپ مشاعروں میں شمولیت کیوں نہیں کرتے ہیں ؟ تو جواباً مرحوم نے کہا تھا ’’ میں مشاعروں میں شرکت سے اجتناب برتتا ہوں اور میں نے کبھی بھی شعروادب کوپیشے کے طور پر قبول نہیں کیا ہے ۔ جن لوگوں کا فکروفن ماہ وثریا سے آگے پرواز کرتاہو، وہی شعراء جب مشاعرے کے اختتام پر پچاس یا سو روپے پر کھینچاتانی کرنے پر اُتر آتے ہوں ، تو آپ بتائیے اس فکر وفن کی کیا قدروقیمت رہ جاتی ہے ؟‘‘   ؎

قوم گویا جسم ہے افراد ہیں اعضائے قوم

منزل صنعت کے رہ پیما ہیں دست وپائے قوم

محفل نظمِ حکومت ، چہرۂ زیبائے قوم

شاعر رنگیں نوا ہے دیدۂ بینائے قوم

میرطائوسؔ ایک شریف النفس انسان تھے اور محفلِ نظم حکومت میں چہرۂ زیبااور شاعر رنگیں نوا کی حیثیت سے زندہ تھے ۔

…………………

رابطہ:-اقبال انسٹی ٹیوٹ ،کشمیر یونیورسٹی

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By