GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
ماؤزے تُنگ
اشتراکی انقلاب کا نظریہ ساز

26دسمبر2012کو کامریڈ مائوزے تنگ کا 199واں جنم دن ہے۔ کامریڈ مائوزے تنگ نہ صرف مارکسزم کے علمی خزانہ میںبیش بہا اضافہ کرنے والے دنیا کی آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے ملک چین میں انقلاب کے عظیم رہنما،تیسری دنیا کے رہبر ، خود کفیل اور خود انحصار معاشرہ قائم کرنے والے ماہر معاشیات ، تضادات کی دریافت اور انہیں حل کرنے کے عالم ہی نہیں بلکہ تحریف پسندی کی یلغار کے سامنے ناقابل شکست چٹان،تطویلی نظریۂ جنگ کے خالق، گوریلا جنگ کو سائنٹفک شکل دینے والے، پارٹی کے اندر بیورو کریسی کے خلاف جد وجہد کے علمبردار ، کلچرل انقلاب کے ذریعہ انسانی ذہن بدلنے کے داعی،متحدہ محاذ بنا کر بنیادی دشمن سے لڑنے کا طریقہ کار پیش کرنے والے ،تین دنیائوں کا تصورپیش کرنے والے ،ایشیائی ، افریقہ او رلاطینی امریکی اتحاد کے مبلغ اور سامراج کو ’’کاغذی شیر‘‘ کی شکل میں پیش کرنے والے مدبر تھے۔ کامریڈ ماوزے تنگ کے نظریات ساری دنیا کے لئے مشعل راہ بنے رہیں گے اور جب بھی مظلوم انسانیت محنت کشوں اور دبی کچلی قوموں کی رہنمائی کی ضرورت پیش آئے گی،وہ ان کے نظریات سے استفادہ کرکے ظلم وستم ، جبر واستبداد، لوٹ کھسوٹ اور استحصال کوہٹانے کے لئے اس  کی جانب رجوع کریںگے۔ اگرچہ خود ملک چین میںزبانی طورپر مارکسزم لینن ازم اور مائوزے تنگ کے ساتھ وابستگی کا اعلان کرنے کے باوجود موجودہ حکمران نو مائوزے تنگ نظریات سے غداری  اور روگردانی کرچکے ہیںلیکن دنیا کے کمیونسٹ انقلابی اس موقعہ پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔

 کامریڈ مائوزے تنگ نہ صرف سچے مارکس وادی اور لینن وادی ہی تھے بلکہ مارکسزم اور لینن ازم کے علمی خزانہ میںمزید اضافہ کرکے نئے حالات کے مطابق خصوصی طورپر تیسری دنیا کے نوآبادیاتی و نیم آبادیاتی ممالک میں اسے لاگو کرنے کے نظریہ پیش کرکے انہوں نے مارکسی نظریہ کو نئی بلندیوں پر پہنچادیا۔ اگر کارل مارکس اور فریڈ رک اینگلس نے سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کی اصل نوعیت واضح کرکے عالمی مزدور طبقہ کو پرولتاری مسلح انقلاب کا نظریہ اور فلسفہ بتایاتھا۔ لینن اور سٹالن نے سامراجی دورمیں مارکسز م کا اطلاق کرکے نئے تضادات کی روشنی میںسوشلسٹ انقلاب کا نظریہ پیش کرکے اور زار شاہی روس میںبغاوت کے ذریعہ انقلاب کرکے مارکسی نظریہ میں اضافہ کیا تھاتوکامریڈ مائوزے تنگ نے نوآبادیاتی اورنیم آبادیاتی ممالک میںعوامی جمہوری انقلاب اور تطویلی عوامی جنگ کے ذریعہ چین میں انقلاب کرکے مارکس نظریہ میںبیش بہا اضافہ کیاہے۔ اسی لئے مارکسزم لینن ازم کے ساتھ ساتھ مائوزے تنگ نظریہ عالمی کمیونسٹ تحریک کا جزوایمان بن گیاہے اور رہتی دنیا تک مارکس اینگلز لینن اور سٹالن کے ساتھ ساتھ مائوزے تنگ کا نام بھی اس نظریہ کے اساتذہ میں شامل رہے گا اور عالمی انقلابی تحریک موجود دور کے مارکسزم لینن ازم یعنی مائوزے تنگ نظریہ سے فیضان حاصل کرکے لٹیرے طبقوں پریلغار کرتی رہے گی۔

 کارل مارکس اور اینگلز نے یوروپ میں سرمایہ دارانہ دور میں جب ابھی سامراج نے عالم گیر حیثیت اختیار نہیںکی تھی اور مقامی منڈیوں پرمکمل قبضہ نہیںکیا تھا، یہ بتایا تھاکہ چونکہ مزدور طبقہ سب سے ترقی یافتہ طبقہ تھے اور اس کے پاس اپنی زنجیریں کاٹنے کے علاوہ کھونے کے لئے کچھ نہیں، اس لئے سب سے پہلے انقلاب سرمایہ دار ممالک میں ممکن ہیں اور مزدوروں کو مسلح انقلاب کے ذریعہ سرمایہ داروں کے تختے الٹ دینے چاہیں اور ان ممالک میں بیک وقت انقلاب ممکن ہے۔ جب سامراج کی  عالم گیر شکل اختیار کرنے کے بعد صورت حال تبدیل ہوگئی تو لینن نے سامراجی دور میں سرمایہ داری اور مزدور طبقہ کے درمیان تضاد، نوآبادتی قوموں اور سامراجی طاقتوں کے درمیان تضاد اور بین السامراجی تضادات دریافت کرکے ایک لخت بغاوت کے ذریعہ سوشلسٹ انقلاب کا نظریہ پیش کیا تھا اور بتایاتھا کہ ایک ملک میں بھی انقلاب ممکن ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت لینن نے روس میں انقلاب کرکے سامراجی دورکے مارکسزم یعنی لینن ازم کی برتری ثابت کردی تھی۔ مائوزے تنگ نے بدلے ہوئے حالات میں نوآبادیاتی اور نیم آبادیاتی ممالک میں پہلے دیہات میںاڈے قائم کرنے اور پھرشہروں کوگھیر کر فتح کرنے کاتطویلی جنگ کا نظریہ پیش کیا اور بتایا کہ اس دورمیں سامراج اور دلال سرمایہ داری کے خلاف مزدوروں کسانوں درمیانہ طبقوں اورمحب الوطن سرمایہ داری کا متحدمحاذ بنا کر سوشلسٹ انقلاب سے پہلے عوامی جمہوری انقلاب ضروری ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت کامریڈ مائوزے تنگ نے چین میں 1927سے1949 تک طویل عوامی جنگ لڑی۔ پہلے دیہات میںبنیادی اڈے قائم کئے، پھر شہروں کوگھیر کر انہیںفتح کیا اور آخر اکتوبر 1949تک طویل عوامی جنگ  کے بعد پیکنگ پر قبضہ کرکے سرخ پرچم لہرایا۔ سامراج اور اس کے پٹھو چیانگ کائی شیک کو چین سے بھاگنے پرمجبور کردیااور یہ ثابت کردیا کہ عوامی انقلاب چین کوئی معمولی واقع نہیں ۔ انقلاب روس کے بعدانقلاب چین دوسرا سب سے بڑا واقع ہے جس نے سارے عالم میں اپنے اثرات پید اکئے اور محکوم ممالک میں مائوزے تنگ نظریہ کے مطابق سامراج کو شکست ہوئی۔ ویت نام ، کمبوڈیا ، لائوس، الجریا، کینیا، کانگو اور دوسرے کئی ممالک کے عوام نے مائوزے تنگ کی تطویلی عوامی جنگ اورگوریلہ طریقہ ہائے کار کو اپنا کرسامراجی طاقتوں کو پسپائی پر مجبور کردیا۔ جب مائوزے تنگ ہم سے جدا ہوئے تو ایشیائ، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے بیشتر ممالک برائہ راست سامراجی غلامی سے نجات پاچکے تھے۔ مائوزے تنگ نظریہ کی یہ زبردست کامیابی تھی۔ جسے ہمیشہ یادرکھا جائے گا۔ بے شک بعدازاں مقامی رجعت پسندوں کی غداری سے کئی ممالک دوبارہ سامراج کی نوآبادیاتی سازش میںپھنس گئے، تاہم برائہ راست سامراجی غلامی کی زنجیریں ضرور ٹوٹ گئیں۔ یہ سامراج کے خلاف مائوزے تنگ نظریہ کی عظیم فتح ہے۔

 سامراجی غلامی کے آزادی کے بعد خود کا مریڈ مائوزے تنگ نے چین میں خود کفیل اور خود انحصاری معاشرہ قائم کرنے کا نعرہ دیا۔ چین نے اس پر عمل کرتے ہوئے اپنا معاشرہ خود کفیل اور خود انحصاری بنایا۔ چین کے علاوہ جن ممالک نے اس پرعمل کیا اوران کا معاشرہ بھی خودکفیل اور خود انحصاری بن گیا۔ یہ مائوزے تنگ نظریہ کی زبردست کامیابی تھی۔ آج جب امریکہ کے سپریم سپر پاور بننے کے بعد گیٹ اور ڈنکن تجاویزکے تحت امریکہ سارے ممالک کے معاشرہ کو اپنی گرفت میںلے رہاہے تو جب تک تمام ممالک میں خود کفیل اور خود انحصاری معاشرہ قائم کرنے کے مائوزے تنگ اصول کو نہیں اپناتے تب تک ان کی معاشی آزادی کے لئے زبردست خطرہ ہے۔ تجربہ نے صاف طورپر واضح کردیاہے کہ خودکفیل اورخود انحصاری معاشرہ قائم کرنے کے متعلق مائوزے تنگ نظریہ کس قدر درست اورصحیح ہے۔

موجودہ دور میں کامریڈ مائوزے تنگ نے عالمی سطح پر تفاوات کے متعلق لیننی تجربہ کو وسعت دے کر بتایا کہ اس وقت دنیاتین حصوںمیں تقسیم ہے۔ (۱) امریکہ اور روس کی سپر سامراجی طاقتیں جسے انہوں نے پہلی دنیاکا نام دیا۔ (2) یوروپ ، کنیڈا اور جاپان پر مشتمل سرمایہ دار ممالک جنہیں انہوں نے دوسری دنیا کا نام دیا اور ایشیاء ،افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک جنہیں انہوں نے تیسری  دُنیا کا نام دیا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ دور میں تیسری دُنیا عالمی انقلاب کی محرک اور محوری قوت ہے۔ انہوں نے ایشیائی ، افریقی اور لاطینی امریکی ممالک کا اتحاد قائم کرکے اور دوسری دنیا کے ممالک اور سپر طاقتوں کے عوام پر مشتمل متحدہ محاذ بنا کر سپر سامراجی طاقتوں کے خلاف یلغار کا نعرہ بلند دیا اور اگر تیسری دنیا کے ممالک نے مائوزے تنگ کے تین دنیائوں کے تصورپر عمل کرتے ہوئے متحد ہ محاذ بنایا ہوتا اور سپرسامراجی طاقتوں کے خلاف یلغار کی ہوتی تو آج تک سامراج کا دنیا کے نقشے سے نام و نشان مٹ گیا ہوتا لیکن سامراجی حکمت عملی کے تحت تیسری دنیا کے کئی ممالک سپر سامراجی طاقتوں کی عیاری اورمکاری میںپھنس گئے ، جس وجہ سے مائوزے تنگ کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ آج بھی مائوزے تنگ کا تین دنیائوں کے متعلق تصور بالکل صحیح ہے اور اس پر عمل درآمد کرکے سامراج کا نام ونشان مٹایاجاسکتاہے۔ آج نہیں تو کل دنیا کی دبی کچلی قوموں اور محنت کش عوام کو یہ تصور قبول کرناہوگاتبھی وہ سامراجی لوٹ کھسوٹ سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔

 کامریڈ مائوزے تنگ نے چین میں سامراج کو شکست دے کر کوریا کی جنگ میں امریکہ اور اس کی اتحادی طاقتوں کو پسپا کرکے اور دنیا بھرمیں نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ سے اپنا یہ نظریہ درست ثابت کردیا کہ سامراج کاغذی شیر ہے۔ اس تصورکا مطلب ہے کہ دائو پیچ کے لحاظ سے سامراج کی طاقت کو سنجیدگی سے لیا جائے لیکن حتمی طورپر حکمت عملی کے نکتہ نظر سے اسے حقیر سمجھا جائے۔ جہاں جہاںبھی مائوزے تنگ کے خیال کے مطابق عمل کرتے ہوئے محنت کش عوام اور قوموں نے سامراج پردھاوا بولا وہاں انہیںکامیابی حاصل ہوئی اور جہاں سامراج سے خائف ہوکر انہوں نے اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے وہاں انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ آج بھی مائوزے تنگ کا یہ قول سوفیصدی درست ہے اور سامراج کے خلاف جدوجہد کررہی قوتوں کو یہ قول نوشتہء دیوار سمجھ کر اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہے اور اس وقت تک جب تک سا مراج کا خاتمہ نہیںہوجاتا۔

 سابقہ سوویت یونین میں خرد شچوف کے برسرا قتدار آنے کے بعد کامریڈ مائوزے تنگ نے دوربین نگاہوں سے دیکھ لیاتھا کہ وہاں تحریف پسند برسر اقتدار آگئے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف وہاں سرمایہ داری بحال کردی ہے بلکہ روس اور تحریف پسند برسراقتدار آگئے ہیں، نیزروس ایک سپر سامراجی طاقت بن گیاہے ۔ تحریف پسندی اور روس کی سامراجی سپر طاقت کے خلاف زبردست سنگھرش کیا اوردنیا بھر میںانقلابی قوتوں کو منظم کرنے کی کوشش کی۔ روسی تحریف پسندی وار روس سوشل سامراج کے خلاف بے جگری سے جدوجہد کے لئے کامریڈ مائوزے تنگ کوہمیشہ یادرکھا جائے گا لیکن دنیا بھرمیںموقع پرست تحریف پسندوں نے مائوزے تنگ کے خلاف زہریلا پراپیگنڈہ کیا اور روس کو سوشلسٹ ملک ہی نہیں بلکہ انقلاب کا مرکز ظاہرکرتے رہے۔  اب جب کہ مسلمہ طورپر سوویت یونین ٹوٹ چکاہے، سوویت یونین میں منظم جمہورتوںمیںبرملا اور مکمل طورپر سرمایہ داری بحال ہوچکی ہے۔ اس وقت معلوم ہوتاہے کہ حالات کا جائزہ لینے میںکامریڈ مائوزے تنگ کی نگاہیں کس قدر دوربین تھیں اور انہوں نے کس مدبرانہ طریقہ سے روس میں رونماہونے والے واقعات کا جائزہ قبل از وقت لے لیاتھا۔تحریف پسندی اور روس سوشل سامراجی کے خلاف مردانہ وار جدوجہد کے لئے مائوزے تنگ کو ہمیشہ یاد کیاجاتارہے گا۔

 کامریڈ سٹالن کی وفات کے بعد روس میں تحریف پسند ٹولہ کے برسر اقتدار آنے سے سبق حاصل کرکے کامریڈ مائوزے تنگ نے چین میںلیائو،شائو جی کی رہنمائی میں چینی تحریف پسندوں کی واضح طورپر نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اعلیٰ اداروں میں غلاظت کے خلاف بم باری کرتے ہوئے کلچر ل انقلاب شروع کیا اور بتایا کہ مزدور طبقہ کے برسر اقتدار آنے کے بعد خودبخود لٹیرے طبقہ کے برسر اقتدار آنے کے بعد اُن طبقوں کے خیالات اور نظریات ختم نہیں ہوجاتے بلکہ اندرونی طورپر وہ سازش کرتے رہتے ہیں اور خود پارٹی کے اعلیٰ طبقوں میں پنپے لگتے ہیں اور ایسے نظریاتی طورپر ان خیالات اور نظریہ کو تہس نہس نہیںکرتا اور پارٹی کے  اعلیٰ عہدوں سے انہیں نظریات والوں کو خود وہ کتنی بلندیوں پر نہ پہنچے ہوں اور الگ کرنا اشد ضروری ہے۔چین میں کلچرل انقلاب ایک تاریخی حیثیت رکھتاہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عمر نے مائوزے تنگ کے ساتھ ایفانہ کی اورکلچرل انقلاب کی تکمیل نہ ہوسکی لیکن اس سے مائوزے تنگ کی دانشمندی کا بخوبی اندازہ ہوتاہے اور واضح ہوتاہے کہ کس ملک میں انقلاب کے باوجود ذہنی انقلاب کس قدر لازمی ہے اور پارٹی کے اعلیٰ حلقوں میںبورژوا غلاظت کے خلاف سنگھرش کتنا ضروری ہے۔ اس کلچرل انقلاب کے خلاف عالمی سطح پر انتہائی گمراہ کن پراپیگنڈہ کیاگیا۔امر واقع یہ ہے کہ اقتدار کی تبدیلی کے باوجود چین میںلٹیرے طبقوں کے نظریات کے پنپنے کا اندازہ مائوزے تنگ کو ہوگیاتھا اور انہوں نے اس غلاظت کے خلاف جد وجہد بھی کی۔ انہیں مکمل کامیابی نہ مل سکی۔ اس کانتیجہ یہ ہے کہ ان کے بعد آج کل وہاں تحریف پسند ٹولہ اقتدار پر قابض ہوگیاہے لیکن کلچرل انقلاب شروع کرکے کامریڈ مائوزے تنگ نے بورژوا ہیڈ کوارٹر پر بمباری کی۔ وہ دنیابھرمیں کمیونسٹ انقلابیوں کے لئے ہمیشہ مشتعل راہ رہے گا۔

کامریڈ مائوزے تنگ کس قدر عظیم شخصیت تھے۔ اس کا اندازہ صرف ایک ہی واقعہ سے لگ سکتاہے ۔ اگر دیگر واقعات کو بالائے طاق بھی رکھ دیا جائے تب بھی جب لانگ مارچ کے بعد چین کی سرخ فوج ایک برس تک دلدل ، پہاڑ، جنگل، برف، ریگستان ، دریا عبور کرکے اور چیانگ کائی شیک کی طرف سے عیاری اور حملے برداشت کرکے چھ ہزار میل کی مسافت طے کرنے کے بعد جنوبی چین سے شمال چین سے پہنچی تو ایک لاکھ افراد پرمشتمل سپاہ کی تعداد صرف چالیس ہزاررہ گئی تھی۔اسی دوران مسلمہ غدار چیانگ کائی شیک سرخ فوجوں نے گرفتار کرلیا۔ اس ظالم کوختم بھی کیاجاسکتاتھا لیکن مائوزے تنگ نے ایسا نہیں ہونے دیا بلکہ اسے جمہوریہ چین کا صدر بھی تسلیم کرتے ہوئے صرف جاپانی سامراج کے خلاف متحدہ محاذ بنانے پر زوردیا ۔جس سے ثابت ہوتاہے کہ مائوزے تنگ میںکبھی کسی سے ذاتی انتقام لینے کا شابتہ تک موجود نہیں تھا۔ ہمیشہ قومی اور طبقاتی مفادات ان کے ملحوظ خاطر رہتے تھے۔خلاف انقلاب قوتیں جس قد رچاہیں مائوزے تنگ کی ذات کے خلاف پراپیگنڈہ کریں لیکن بڑے مقصد کے حصول کے لئے عفوودرگذر کایہ واقع اپنی نوعیت کاہیجس کو کبھی نہیں بھلایا جاسکتا اوربڑے دُشمن کے ساتھ بھی متحدہ محاذ کی یہ لامثال ہے اور اس سے کمیونسٹ و انقلابیوں کو خصوصی طورپر سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

 اگرچہ بظاہر چین میںبرسرااقتدار تحریف پسند ٹولہ ابھی بھی کمیونسٹ کہلاتاہے ۔ مائوزے تنگ کی نظریات پر اپنا یقین ظاہر کرتاہے جس طرح سٹالن کے جسد خاکی کو روسی تحریف پسندوں نے مسولیم سے نکال کر دفن کردیاہے اور لینن اور سٹالن کے مجسمے توڑدئے ہیں۔ اس طرح کی مائوزے تنگ کے ساتھ گستاخی کرنے کی جرات چینی تحریف پسندوں میںنہیںہوئی لیکن ایسا ان کی مائوزے تنگ کے ساتھ صدقدلی کے باعث نہیں بلکہ عوامی خوف کی وجہ سے ہے۔ وگرنہ چین کا برسر اقتدار ٹولہ بھی مارکس ازم لینن ازم ، مائوزے تنگ ، نظریہ سے مکمل طورپر انخراف کرچکاہے اور چین میں سرمایہ داری کی بحالی میںمشغول ہے ۔ مائوزے تنگ کی اس سلسلے میں تمام پیش بندیوں کے باوجود یہ واقع انتہائی سبق آموز ہے جس سے دنیابھر کے کمیونسٹ انقلابیوں کو سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

کامریڈ مائوزے تنگ کو ہم سے جدا ہوئے 33 سال کا عرصہ ہوگیاہے لیکن دنیا بھر کے انقلابیوں کے ذہن سے ان کی یاد اور تعلیمات محو نہ ہوسکیں اور نہ ہی دنیابھر کے محنت کش اور دبے کچلے عوام انہیں بھول سکتے ہیں۔ جب کبھی محنت کشوں اور دبی کچلی قوموں کو روشنی کی ضرورت محسوس ہوگی، وہ مائوزے تنگ نظریہ کے روشنی کے مینار سے ہی رہنمائی حاصل کریںگے۔

 علامہ اقبال کی دوربین نگاہوں نے انقلابی طوفان کا بخوبی اندازہ لگالیاتھا اورکہاتھا   ؎

 زمانے کے انداز بدلے گئے

نیا راگ ہے ۔ ساز بدلے گئے

پرانی سیاست گری جوارہے

انہی میر وسلطان سے بے زارہے

گیادور سرمایہ داری گیا

تماشہ دکھا کر مداری گیا

گران خواب چینی سنبھلنے لگے

ہمالہ کے چشمے اُبلنے لگے

اُٹھاسافیاپردہ اس راز سے

لڑادو ممولے کوشاہباز سے

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By