GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
قانون میں ترمیم
’فورسز کو بھی آبروریزی سے متعلق نئے قانون کے دائرے میں لایا جائے ‘

طارق علی میر
سرینگر// جنسی جرائم سے متعلق ریاستی حکومت نے اگرچہ قانون میں ترمیم لانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن وادی کے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کا مانناہے کہ جب تک وردی پوش افراد کو بھی اس کے دائرے میں نہیں لایا جاتا اس وقت تک یہ مجوزہ قانون موثر ثابت نہیں ہو سکتا ۔مبصرین کہتے ہیں ’’ آبروریزی کا مرتکب کوئی بھی ہو اُس کیلئے  عدالت اور قانون ایک ہو نا چاہئے‘‘ ۔ پچھلے 23 برس کے حالات و واقعات کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو تا ہے کہ عوامی سطح پر جموں کشمیر میںمختلف نوعیت کے جرائم میں عصمت دری کی شرح بہت ہی کم بتائی جاتی ہیں۔مرکزی ادارہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیور ونے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ریاست جموں کشمیر میں2011 میں 3146خواتین سے متعلق معاملات درج کئے جا چکے ہیں جس میں عصمت دری کے واقعات کی بہت کم شرح پائی گئی۔اس صورتحال میں وادی کے مختلف طبقہ ہا فکر نے اپنی ردعمل ظاہر کر تے ہوئے کہا کہ قانون میں ترمیم تب اثر انداز ہو گی ۔ جب ایک عام آدمی کے ساتھ ساتھ اس جرم میں ملوث کسی اہلکار کو بھی سزا دی جائے۔اس حوالے سے رابط کر نے پر سی پی ایم کے ریاستی سکریڑی محمد یوسف تاریگامی کا کہنا ہے’’ آبروریزی قانون میں ترمیم اگرچہ خوش آئند ہے لیکن یہ فیصلہ تب بامعنی ثابت ہو گا جب اس جرم میں مرتکب ایک عام انسان کے ساتھ ساتھ وردی پوش کو بھی شکنجے میں لایا جائے ‘‘انہوں نے کہا کہ حکومت سے میری یہ رائے ہوگی کہ ترمیم کے وقت نئے قانون کے ذریعہ حکام اور عوام کو جواب دہ بنانا چاہئے۔ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر عبدالرشید نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا’’ ریاست جموں کشمیر میں آبروریزی کے قوانین میں ترمیم ایک کاغذی سرگرمی سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہو سکتی کیوں کی ملک کی مختلف ریاستوں کے برعکس ریاست میں خواتین کیخلاف ہونے والے جرائم میں زیادہ عوامی سطح کا نہیںبلکہ فوجی و نیم فوجی اہلکاروں ملوث پائے جاتے ہیں جس کی بدترین مثال کو نن پو شپورہ واقعہ ہے‘‘ ۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں جہاں پچھلی دو دہائیوں میں عصمت دری کی شکار خواتین کو انصاف فراہم نہیں ہوا ہے وہاں نئے قانون بنانے کا کیا معنی ہوگا‘‘۔ ممبرقانون ساز اسمبلی نے کہا ’’ فوجی اہلکاروںکو افسپا قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے اسی قانون کوہٹا کر اگر موجودہ قوانین کے تحت ہی ان آبروریزی کے معاملات میں ملوث اہلکاروں کو سزا دی جاتی وہی بہت تھا‘‘ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر حکومت قانون کی ترمیم کے حوالے سے اسمبلی میں بل متعارف کرے گی تو اس کی حمایت کی جائے گی ۔مزید تبصرہ کر تے ہوئے انسانی حقوق کی کارکن ڈاکٹر حمیدہ نعیم کہتی ہے ’’دلی کے حالیہ بدنصیب واقعہ پر واویلا کرنے والے بھارتی دانشوروں اور ماہرین قانون کیلئے واقعی ایک آزمائش ہوگی کہ آیا وہ جموں کشمیر میں کسی متوقع قانون سازی میں آبروریزی کے مرتکب وردی پوشوں کیخلاف کارروائی کرنے کے عوامی مطالبے کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوجاتے یا پھر اپنے ’ نیشنل انٹرسٹ‘ کے نام پر انسانیت کااُسی طرح ’مذاق ‘ اڑائیںگے جس طرح وہ گزشتہ دودہائیوں کے دوران کشمیر کے حوالے سے کرتے آئے ہیں‘‘مبصرین کا مانناہے کہ جموں کشمیر میں عصمت دری سے متعلق قانون سازی کرنے کا کوئی مقصد نہیں جب تک نہ یہ قانون وردی پوشوں پر بھی لاگو کرنے کی سبیل کی جائے کیونکہ کشمیری معاشرہ ویسے بھی ایک سلجھا ہوا اور سنجیدہ معاشرہ ہے اور یہاں عمومی طور پر عصمت دریوں جیسے گھنائونے جرائم کا ارتکاب نہیں کیا جاتا تاہم اگر قانون سازی کے نتیجے میں قانون کے محافظین اور فورسز کو بھی اس کے دائرے میں لایا جائے اور پچھلے 23برسوںمیں خواتین کے ساتھ یہاں پر جو زیادتیاں کی گئیں ان میں مرتکب اہلکاروں کو سزا دی جاتی ہے تو پھر حکومت کے فیصلے کی کوئی جوازیت نظر آئے گی ۔یاد رہے کہ سوموار کو وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے تحت قانون، انصاف و پارلیمانی امور کے وزیر علی محمد ساگر نے  آبروریزی سے متعلق قوانین کا جائیزہ لینے کیلئے ایک میٹنگ طلب کی۔میٹنگ میں ایم آئی قادری، ایڈوکیٹ جنرل جی ایچ تانترے، سیکرٹری لاء اور محکمہ کے سینئر افسران موجود تھے۔میٹنگ کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ جنسی جرائم سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنانے کیلئے موثر اور کارگر اقدامات اْٹھائے جائیں گے تا کہ انہیں عوامی جذبات کا آئینہ دار بنایا جاسکے۔اس میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ رنبیر پینل قوڈ اور ضابطہ فوجداری و ایویڈنس ایکٹ میں بھی ترامیم کی جائیں گی اور اس حوالے سے ایک مسودہ قانون تیار کیا جائے گا جس سے کابینہ میں پیش کرکے اسے منظور ی دی جائے گی ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By