GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
این سی کے بیان پر گیلانی برہم
کہا ووٹ بنک سیاست کے سوا اور کچھ نہیں

سرینگر// حریت (گ) نے نیشنل کانفرنس کی طرف سے پلوامہ واقعے پر فوج کیخلاف بیان دینے کو مضحکہ خیز اور ووٹ بینک سیاست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وہی فوج ہے، جس کا نیشنل کانفرنس نے ’’طیراً ابابیل‘‘ کہہ کر کشمیر میں استقبال کیا تھا اور جس کے جنگی جرائم کا این سی صدر فاروق عبداﷲ جنیوا اور دوسرے بین الاقوامی فورموں پر جاکر دفاع کرتے رہے ہیں۔ حریت نے کہا کہ اس پارٹی کو لوگوں کے جان ومال سے زیادہ ریاست میں قائم ’’جبری امن‘‘ جاری رکھنے سے دلچسپی ہے، تاکہ ریاست میں کہیں 2010 جیسی عوامی تحریک پیدا نہ ہو اور انکا اقتدار خطرے میں نہ پڑ جائے۔بیان میں کہا گیاہے کہ نیشنل کانفرنس کا اخباری بیان تضادات(Contradictions)کا شکار ہے۔ ایک طرف فوج کے مژھل انکاؤنٹر اور پتھری بل جیسے سیاہ کارناموں کا ذکر کیا گیا ہے اور دوسری طرف فوج کی تعریف کی گئی ہے کہ اس ادارے نے ساری دنیا میں ملک کا نام روشن کیا ہے۔ نیشنل کانفرنس نے عوامی موڈ کو دیکھ کر پلوامہ واقعے پر فوج کی سرزنش تو کی ہے، البتہ یہ احتیاط بھی رکھی گئی ہے کہ کہیں فوج ناراض نہ ہوجائے۔ نیشنل کانفرنس قیادت کو خوب معلوم ہے کہ وہ اسی فوج کی آشیرواد سے برسرِ اقتدار ہے، ورنہ جموں کشمیر کے گلی کوچے ’’انقلاب انقلاب‘‘ کے نعروں سے گونج اُٹھیں گے اور عوامی سیلاب میں این سی والے تنکوں کی طرح بہہ جائیں گے۔ حریت بیان میں کہا گیا کہ بھارتی فوج کی جموں کشمیر آمد کا ایک بڑا محرک خود نیشنل کانفرنس ہے اور یہ پارٹی آج بھی فوجی قبضے کی سب سے بڑی وکیل ہے۔ اس پارٹی کی قیادت کا ضمیر ذرّہ برابر بھی زندہ ہوتا تو فوج کے ہاتھوں مژھل انکاؤنٹر جیسے سینکڑوں واقعات اور دِلی سانحے جیسے بے شمار ریپ وارداتوں کے بعد یہ لوگ اقتدار میں رہنے کے بجائے اپنی مظلوم عوام کا ساتھ دینے کو ترجیح دیتے۔ اس کے برعکس یہ پارٹی اس فوج کے نہ صرف ایک مددگار ادارے کے طور پر کام کرتی رہی ہے، بلکہ ایک وقت میں جب پوری عالمی برادری جموں کشمیر میں فوج کے رول پر سوال اُٹھانے لگی تھی، فاروق عبداﷲ نے اس بھارتی وفد کی قیادت کی، جس نے بین الاقوامی فورموں پر جاکر فوج کے ہاتھوں ہورہے قتل عام اور عصمت دریوں کا دفاع کیا تھا اور اس فوج کی بڑی تعریف کی تھی۔ بیان کے مطابق نیشنل کانفرنس آج بھی فوجی قبضے کا سب سے بڑا پُل بن کر کام کررہی ہے اور بھارت کے کشمیر پر قبضے کو یہی لوگ اعتباریت اور جواز عطا کرتے ہیں۔ 2008کی عوامی تحریک کے بعد جب بھارتی حکمران اور ان کے تمام ادارے کشمیریوں کی طرف سے مایوس ہورہے تھے، اسی پارٹی کی قیادت نے ان میں دوبارہ جان ڈال لی اور یہ کہہ کر الیکشن کرانے کی وکالت کی کہ دو فیصد لوگ ہی اس عمل میں شریک ہوجائیں تو کافی ہے۔ حریت نے نیشنل کانفرنس قیادت پر واضح کیا کہ دنیا آج بہت بدل چکی ہے اور آپ کی دوہرے معیار والی سیاست کا زمانہ تیزی سے پیچھے چھوٹ رہا ہے۔ آج کی نسل کو ڈاٹ کام جنریشن کا نام دیا جاتا ہے اور ان کو مگر مچھ کے آنسو بہانے اور سیاسی واویلا کرنے سے دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ۔ قوم آپ کی اصلیت سے واقف ہوگئی ہے اور آپ کی پارٹی کا وجود اب صرف اقتدار کی وجہ سے قائم ہے، جو اقتدار آپ کو بھارتی فوج اور ریاستی پولیس کے بندوق کے طفیل حاصل ہے۔ حریت بیان میں مزید کہا گیا کہ عمر عبداﷲ جموں کشمیر میں اس مشترکہ کمانڈ کونسل کے سربراہ ہیں، جس کا فوج بھی ایک حصہ ہے۔ ایسے میں نیشنل کانفرنس کا پلوامہ واقعے کیلئے منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی سے تحقیقات کرانے کی اپیل کرنا مضحکہ خیز ہے۔ نیشنل کانفرنس قیادت میں اخلاقی جرأت موجود ہے تو انہیں خیرات میں ملے اقتدار کی پرواہ کئے بغیر مکمل فوجی انخلاء کا مطالبہ کرنا چاہیے، کیونکہ جب تک جموں کشمیر میں بھارتی فوج کا ایک بھی سپاہی موجود ہے، پلوامہ جیسے اور اس سے بڑھ کر سانحات یہاں وقوع پذیر ہوتے رہیں گے اور مجرموں کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکے گا۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By