GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
سال نو کی آمد پر ہندو پاک کا اپنی نیوکلیائی تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ
دونوں ممالک نے ٹیلی فون ہاٹ لائن بھی قائم کرلی

سرینگر//بھارت اور پاکستان نے نئے سال کی آمد پر منگل کوحسب روایت اپنی نیوکلیائی تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ کیا۔ایسا نئے سال کے پہلے روز ایک مخصوص سالانہ معاہدے کے تحت کیا گیا جو1988میں عمل میں لایا گیا تھا ۔اطلاعات کے مطابق منگل کو بھارت اور پاکستان نے اپنی نیوکلیائی تنصیبات کی مکمل فہرست ایک دوسرے کے حوالے کی۔ مذکورہ فہرست میں دونوں ممالک کے اندر ایٹمی ہتھیاروں کی مکمل تفصیلات درج ہیں اور اس فہرست کی ادلا بدلی کا مقصد ایک دوسرے کی نیوکلیائی تنصیبات پر حملہ نہ کرناہے۔ان فہرستوں کا تبادلہ نئی دلی اور اسلام آباد میں سفارتی چینلوں کے ذریعے بیک وقت کیا گیا۔پاکستانی اور بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ آج نئے سال کے پہلے روز بھارت اور پاکستان نے ایک دوسرے کے ساتھ مذکورہ فہرستوں کی ادلا بدلی کی ہے۔ یاد رہے کہ دونوں ممالک نے31دسمبر1988کو ایک معاہدہ عمل میں لایا ہے جو 27جنوری1991سے نافذ العمل ہے۔معاہدے کے مطابق دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ جنگ کی صورت میں نیوکلیا ئی تنصیبات پر حملہ نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے ایک ٹیلی فون ہاٹ لائن بھی قائم کی ہے۔ منگل کونئی دہلی اور اسلام آباد میں قائم دونوں ملکوں کے ہائی کمشنروں کے پاس نیوکلیائی تنصیبات کی فہرست جمع کی گئی جس میں بھارت اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی تنصیبات کی مکمل تفصیل درج ہے۔ واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان اب تک تین جنگیں ہوئی ہیں جبکہ بھارت مسلسل الزام عائد کررہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر اس کے خلاف جنگجوئوں کو تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ پاکستان کا استدلال ہے کہ دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کی واحد وجہ مسئلہ کشمیر ہے ،اس لئے پورے خطے میں استحکام قائم کرنے کے لئے مسئلہ کشمیر کو حل کیا جانا ضروری ہے۔ بھارت گذشتہ ایک سال سے یہ الزام دہرا رہا ہے کہ لشکر طیبہ سے وابستہ جنگجوئوں نے ممبئی حملوں کا منصوبہ تیار کیا تھا اور اُنہیں پاکستان کی حمایت حاصل تھی۔ اس دوران پاکستان کا ماننا ہے کہ وہ کود بھی دہشت گردی کا شکار ہرے اور یہ کہ مذکورہ مسئلہ ایک بین الا قوامی معاملہ ہے جس کو بھارت اور پاکستان کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہئے۔ پاکستان بھی اپنے جوابی الزام میں کہتا ہے کہ بھارت وزیرستان میں دہشت گردوں کو ہر قسم کی امداد فراہم کررہا ہے جبکہ اس الزام سے بھارت لگاتار انکار کررہا ہے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں













سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By