GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  اداریہ
منریگا میں دھاندلیاں
پاسباں بھی لوٹ میں شامل

 مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگارضمانتی سکیم (منریگا)2005میں پارلیمنٹ میں منظور شدہ ایک ایکٹ کے ذریعے دیہی غریب لوگوں کو ان کے گائوں میں ہی کم از کم 100دن کا یقینی روزگار فراہم کر نے کے عمل میں لائی گئی تھی جس کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر میں بھی عمل میں لایا گیا تھا ۔ اس سکیم کے رہنما خطوط میں اس بات کی پوری کوشش کی گئی ہے کہ درمیانہ داروں اور ٹھیکیداروں کا رول ختم کر کے دیہی محنت کشوں کو براہ ِ راست اُجرت مل پائے جس کے لئے بنک میں ان کے کھاتے کھلوائے گئے ۔ غرض کلی طور پر مرکزی معاونت والی اس سکیم کے نفاذ میں وہ تمام نکات شامل کئے گئے ہیں جس سے اس کے اغراض و مقاصد پورے ہو سکیں اور دیہی لوگوں کی معاشی معاونت کے ساتھ ساتھ گائوں میں بنیادی ڈھانچہ تعمیر ہو سکے ۔ اس سکیم کا سب سے منفرد پہلو یہ ہے کہ اس کے لئے رقومات کی فراہمی محدوود نہیں جیسا کہ دیگر دیہی ترقی کی سکیموں میں ہوتا ہے بلکہ اس کا کلی د ارومدار جاب کارڈ رکھنے والے کنبہ جات اور ان کی طرف سے مزدوری کے مطالبہ پر ہے جس کا سیدھا مطلب یہ کہ کسی بھی گائوں یا پنچائت کے اندر سا لانہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے کے زائد المعیاد نہ ہونے والے فنڈز فراہم کئے جا سکتے ہیں ۔ تاہم ریاست میں اس سکیم کا فائدہ دیہی غریبوں کو کس حد تک ہوا ہے اور گائڈ لائنز کا کہاں تک لحاظ کیا جا رہا ہے ، اس کی ایک مثال حال ہی میں پہاڑی ضلع رام بن کے رام سو بلاک میں سامنے آئی جہاں نہ صرف محکمہ دیہی ترقی کے افسران، انجینئروں و اہلکاروں بلکہ پنچائت کے عہدیداروں نے ساز باز کر کے لاکھوں روپے کی رقم خرد برد کر لی ۔ اس کے لئے انہوں نے طلبا اور بیرون ضلع کام کر نے والے اُن مزدوروں کے نام پر جعلی ماسٹر شیٹ تیار کئے جو وہاں موجود ہی نہیں تھے اور اس کے بعد بہ آسانی رقوم نکال کر ہڑپ کر لیں ۔اگرچہ ویجی لینس محکمہ نے اس ضمن میں کیس درج کر کے تحقیقات شروع کردی ہے تاہم یہ معاملہ منریگا میں کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کے ایک عظیم سیکنڈل کا معمولی سا حصہ ہے جو گزشتہ 7سال سے ریاست بھر میں پنپ رہا ہے۔خصوصی طور پر جموں خطہ کے پہاڑی اور پسماندہ اضلاع میں، جہاں بیشتر لوگ مزدورپیشہ ہیں ، اس طرح کی دھاندلیاں معمول بن چکی ہیں جبکہ سا ل کے اختتام پر حکام اس سکیم کے تحت اپنی فرضی حصولیابیوں کے زیادہ تر غیر حقیقی اعداد و شمار کے اشتہار ذرائع ابلاغ میں شائع کرتے رہتے ہیں ۔ 2011ءکی وسط میں پنچایتی انتخا بات کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ منتخب دیہی نما ئندے اپنے لوگوں کے مفادات کی نگرانی کرتے ہو ئے اس قسم کی بد عنوانیوں کے سامنے سینہ ٔ سپر ہو جائیں گے لیکن بدقسمتی سے توقعات کے برعکس بیشتر پنچائت ممبران خود بھی محکمہ دیہی ترقی کے بد عنوان افسران و اہلکاروں کے ساتھ اس لوٹ میں شامل ہو گئے جبکہ بیچارہ دیہی غریب اب دو طرفہ استحصال کا شکار ہو رہا ہے اور اگر کبھی کبھار اس کے خلاف کوئی آواز بلند ہوتی بھی ہے تو اسے پنچایتی چنائو کی سیاست سے جوڑ کر یا کسی اور طریقے سے دبا دیا جاتا ہے ۔ جموں خطہ کے مختلف دیہی بلاکوں میں ابھی تک اس طرح کے درجنوں واقعات رونما ہو چکے ہیں لیکن مقامی انتظامیہ اور افسران نے کبھی ان کی تحقیقات کرانے کی کوشش ہی نہیں کی اور معاملہ مقامی سطح پر ہی دفن کر دیا گیا ۔اس طرح یہ وقاری سکیم دیہی لوگوں کی معاشی حالت سدھارنے کی بجائے محکمہ دیہی ترقی کے افسران ، اہلکاروں ، انجینئروں اور پنچائتوں کے وجود میں آنے کے بعد کچھ بد دیانت دیہی نما ئندوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر اپنی افادیت کھو رہی ہے۔ اس ضمن میں مختلف سیاسی ، سماجی اور غیر سرکاری تنظیموں خصوصی طور پر حق اطلاعات کارکنوں پر بھی ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ وہ منریگا میں کی جارہی ان دھاندلیوں کا پردہ فاش کر نے کے لئے آگے آئیں اور دیہی لوگوں ، جن میں سے بیشتر کم تعلیمیافتہ اور اپنے حقوق کے تئیں کم بیدار ہیں ، کے ساتھ ہو رہی ان نا انصافیوں کا پتہ لگائیں تاکہ اس سکیم کی حقیقی صورت حکومت کے سا منے پیش کی جا سکے ۔ نہایت مناسب ہو گا اگر حکومت اعداد و شمار کے سحر سے نکل کراس ضمن میں ایک اعلیٰ سطحی کمیشن تشکیل دے جواس سکیم کے تحت گزشتہ 7سال کے دوران خرچ کی گئی رقومات اور زمینی سطح پر انجام دئے گئے کاموں کا حقیقی موازنہ کرے تاکہ منریگا کے نفاذ کا حقیقی چہرہ سامنے آسکے اور یہ بھی معلوم ہو سکے کہ اس سکیم کے مستحقین کس حد تک فیضیاب ہو پائے ہیں اور بددیانت اہلکاروں اور وچولیوں نے کس حد تک اپنی معاشی حالت میں سدھار کر لیاہے ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By