GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
لوریاں۔۔۔۔محرومیاں اور اُمیدیں


میں نے جو لوریاں سنی ہیں وہ شاید دوسری ہی نوعیت کی تھیں ۔ بسا اوقات جب میں گزرے ایام کی گردش پر نگاہ ڈالتاہوں تو مجھے یہ یقین ہو جاتاہے کہ میری دادی ا ماں میڈم لفارجی تھیں جن کی بڑی خصوصیت یہ تھی کہ پنگوڑے سے متعلق گیت یعنی لوریاں گنگنانے  کے فن میں اُن کویدطولیٰ حاصل تھا ۔ ان لو ریوں کی خوبی یہ تھی کہ وہ ان میں ہمارے تمام قومی المیوں کا احاطہ کرتی تھیں ۔ وہ ان گھڑسواروں جنہوں نے نہتے لوگوں کا اس طرح تعاقب کیا کہ وہ دریا میں ڈوب کر مرگئے ،کے ظلم کی نوحہ خوانی کرتی تھیں۔ وہ اُن پگڑیاں پہنے ہوئے فوجیوں ، جنہوں نے جیل سے باہر نماز اداکرنے والے پر بے تحاشہ گولیاں برسائیں اور انہیں آبی پرندوں کی طرح آبی زمین میں گرادیا تھا ، وہ ان رہنمائوں کی اس شجاعت کی داد میں نغمے سنا تی تھیں جنہیں زمانے کی ستم رانی کو ئی گزند نہ پہنچاسکی ۔ ان کے پنگوڑے کے گیت اور کہانیوں ، جن میں شدید دردوکرب بھرا ہوا کرتا تھا، میں یقین محکم کی دمک اور اعتماد کی چمک بھری ہو تی ہوتی تھی جیسے کہ شاعر نے کہاہے   ؎

’’کوئی بھی ہمارے قدموں کو روک نہیں سکتاہے ۔

ہمیں کاز کی جانب

واحد ایک قدم…‘‘

ہماری ایک پوری نسل شہادت کی کہانیوں اور عوام کی شجاعت اور بہادری کے کارناموں کے درمیان پروان چڑھی۔خون سے تربہ تر کمہار کے لڑکے کی شبیہ ، وہ پہلا شہید تھا جس کو میں نے اُس وقت اپنے مکان کی جالی دار کھڑکی سے دیکھا جب میں خود گھٹنوں کے بل چلنا سیکھتا تھا۔ یہ منظر برسوں تک ایک خوفناک سائے کی طرح میرا پیچھا کرتا رہا۔ہمارے بچپن میں جیلوں میں محبوس اور جلاوطن رہنمائوں کی تصویریں محلے کے تقریباً ہرگھر کی دیوارپہ نمایا ں طور آویزاں ہوا کرتی تھیں۔

میرے لئے یہ تمام رہنما دیگر عام لوگوں کے برعکس نہایت ہی دلچسپ اور باعث کشش دکھائی دیتے تھے ۔یہی بات میرے بہن بھائیوں اور ہم سروں پر صادق آتی ہے ۔ یہ گویا خواب کا شرمندہ تعبیر ہونا تھاکہ ہم نے جیلوں سے رہا ہونے والے رہنمائوں کوگوشت پوست والے انسانوں کی صورت میں دیکھا۔ یہ ہمارا یقین تھا۔ جی ہاں! ہمیں یہ یقین ہوگیا تھا کہ یہ رہنمایان ِ کرام ہماری آزادی کے لئے برسرپیکار رہے ہیں ۔تمام رہنمائوں میں سے شیخ محمد عبداللہ اور مرزا محمد افضل بیگ اور میرواعظ محمد یو سف شاہ صاحب کی عوام میں بڑی توقیر اور تکریم مسلمہ تھی ۔

یہ درست ہے کہ آزادی کے گیت لوریوں کی صورت میں ہمارے کانوں میں گھول دیئے گئے تھے ۔ اس کے علاوہ ایک کے بعد ایک سنگین واقعہ ہمارے علاقے کی سڑکوں پر رونما ہوتا رہا جس کی وجہ سے ہماری نفسیات متاثر ہوتی رہی مگر حقیقی معنوں میں یہ 1964ء میں موئے مقدسؐ کی تحریک تھی جس نے طلباء اورنوجوانوں کی ایک پوری نسل کا پہلی مرتبہ سیاسی اصطباغ کیا ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مسلم پار ک جامع مسجد میں تقریباً دو لاکھ لوگوں کا جم غفیر اکٹھا ہوا تھا ۔لکڑی کے تختو ں کے بنے ہوئے ایک وسیع عارضی سٹیج پررہنمائوں کی ایک کہکشاں موجودتھی ۔ان میں سے بیشتر پگڑیاں باندھے ہوئے مختلف علماء تھے جن کا کسی نہ کسی مذہبی تنظیم سے تعلق تھا۔ اس عظیم اجتماع میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں حق خودارادیت اور محبوس قائدین کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔اس قرارداد کی حمایت میں تمام لوگوں نے اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے ۔ میں اور میرے اسکول کے لڑکوں نے بھی بے فکری کے عالم میں انہی لوگوں کی طرح ہاتھ اوپر اٹھائے ۔

اب کے بعد ’’گرم‘‘ اور ’’گورموج گور‘‘ جیسی کھیلوں کے دوران گائے جانے والے گیتوں کے بجائے ہمارے علاقے میں ایک صحت مندنعرہ باز عبدالرحمان سوداگر کی جانب سے ایکشن کمیٹی کے جلسوں میں لگائے جانے والے زوردار نعرے عام بچوں کے لئے ایک شناختی دُھن بن گئی ۔ ہمارے محلے کے گلی کوچے ’’فوراً کرائو ، فوراً کرائو ،…رائے شماری فوراً کرائو ‘‘کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھتے تھے ۔ محلے کا مشکل سے ہی ایسا کوئی لڑکا رہاہوگا جس نے مکانوں کی دیواروں پر کوئلے اور سفید چاک سے یہ نعرے نہ لکھے ہوں ۔میں بزرگوں کی طرح کان لگا کر ریڈیو ٹراڈ کھل سٹیشن ( واقع راولپنڈی) کے پروگرام بڑے انہماک سے سناکرتا تھا۔ میں اب دوکان کے تھڑے پر صرف سیاسی مباحث کا چپ چاپ سامع نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ اب ان میں خود بھی حصہ بھی لیا کرتاتھا ۔

8اپریل 1964ء کو شیخ محمد عبداللہ کو کُد جیل سے رہا گیا گیا ۔ عوامی سطح ان کی رہائی پر جشن کا سماں تھا مگر ہمارے محلے کے کچھ بزرگ شیخ محمد عبداللہ کی رہائی کے بارے میں متشکک تھے ۔ اصلاً انہیں شیخ صاحب کی قیادت پر اعتماد نہیں تھا۔ تاہم نائی کی دوکان ، درزی کی دوکان اور مقامی زیارت گاہ میں رجائیت کا ایک پہلو نظر آنے لگا ’’وُن گژھ فیصلہ‘‘(اب مسئلہ کشمیر کا فیصلہ ہوگا)۔ اس اعلان کے بعد کہ شیر کشمیر17روزہ دورے پر پاکستان جارہے ہیں جہاں وہ صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان سے ملاقات کریں گے ۔فیصلے کے بارے میں رجائیت اور خوش امیدی کو تقویت ملنے لگی ۔ہمارے گھر میں اس بات کا چرچا تھاکہ اب کی بار یقینی طور مسئلہ کشمیر حل ہوگا ۔’’آزاد کشمیر‘ ‘ریڈیو کی آواز صاف سنائی دینے کے لئے ہمارے کئی ہمسایوں نے اپنے ریڈیو سیٹوں کے سُرملانے کے لئے میکینک کے پاس لے کرگئے اور انہوں نے مکانوں کی چھتوں یا کمروں کے اندر نئے انٹینا نصب کروائے ۔

جونہی شیخ محمد عبداللہ پاکستان پہنچ گئے تو لوگوں نے اپنے کان ریڈیو پاکستان سے لگائے اور مشکل سے ہی کوئی نیوز بلیٹن چھوٹتا تھا ۔ بازاروں اور گھروں میں شیخ صاحب اور صدرایوب کے درمیان ملاقات کی کامیابی کی خبروں او رسنی سنائی باتوں کا زبردست چرچا ہواکرتا تھا ۔26تاریخ کو پٹاخے پھوڑے گئے جب شیخ محمد عبداللہ نے اعلان کیا کہ ماہ جون کے دوران نئی دہلی میں پنڈت نہرواور صدر ایوب کے درمیان ملاقات ہوگی اور یہ کہ وہ (شیخ محمد عبداللہ)کانفرنس میز سے زیادہ دور نہیں ہوںگے۔27تاریخ کو شیخ صاحب مظفر آباد میں تھے اور دن کے تقریباًدو بجے آل انڈیا ریڈیوسے اعلان کیا گیا کہ پنڈت نہرو دل کا دورہ پڑنے سے سورگباش ہوگئے ۔ سارے شہر پر مایوسی چھاگئی ،لوگوں نے اس واقعہ کو کشمیرکی بدقسمتی سے تعبیر کیا ۔بچوں کوبھی یقین نہیں ہورہا تھاکہ وہ غیر طبعی موت مرے ہیں ۔

zahidgm@greaterkashmir.com

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By