جناب و جا ہت حبیب ا للہ کے منہ میں گھی شکر، چلو بخل کے ساتھ ہی سہی کم از کم ظلم وجور کی شکار اُن اس کشمیری ما ں بہن بیٹی کا ذ کر تو اُن کے دہن مبارک پر آ گیا جن کی عز ت اور نا مو س کو تار تار کیا گیالیکن ظلم و زیا د تی پر ہا ہا کار کر نے وا لوں پر بار بار جو ما ر پڑی اس کا تذ کرہ تو کسی کی مجلس ایوان یا فورم میں نہیں آ یا۔البتہ دِلّی کی اُس مظلوم اور معصوم لڑ کی نے سب کو ہلا دیا،رُ لا د یا، زخموں کو کریدا ۔وہ جنرل صا حب بھی رو پڑے اور ایک دم میدان نعر ستان میں کو د پڑے اور انگلی کٹا کر شہیدوں کی صف میں کھڑا ہو نے کی ایکٹنگ کی۔جب د یکھا کہ توا گرم ہے سینکو سیا سی رو ٹیاں…جو کل تک انسانی اعضاء کو بو ٹیان بنا کر چٹ کر جا تا تھا، وہ بھی رو پڑا کہ لگاسارا بھارت ورش رو پڑا۔ بھئی کیوں نہ رو تے ، ایکٹروں کی بات الگ ہر با ضمیر انسان کا دل رو ئے گا ایسے دلدوزوا قعات پر ۔ مگر آ نکھ وہ ہے جو ہر ایسے واقع پر رو ئے، آنسو بہا ئے۔مہان دیش کے مہان پرشوں نے دا منی کا دا من ِ عفت چاک کیا،اس کی پا ک دا منی سے اتیا چار کیا، جس طرح سالوں پہلے کنن پو شہ پو رہ میں کچی عمر کی بچیو ں سے لے کر عمر رسیدہ عو ر توں تک کی آ برو ریزی کر ڈالی گئی ، آسیہ اور نیلو فر کےپاک وجود کو انہی ذاغ وزغن نے دا غ داغ کیا گیا۔رو ما نہ کے جوان ار مان کو ز یر خاک د فنا یا ،اُن کے لئے ا گر کو ئی رو یا تو بس اُن کے گھر والے اور سہیلیاں۔ مہان دیش کے مہان جمہو ری ادا کار، سکیو لر جمعدار، جمہوریت کے د عویدار سب ان دنوں بیمار بھی تھےلا چا ر بھی کیونکہ انہو ں نے مون بر ت رکھا تھا۔ اس لئے اُن کی بو لتی بند تھی… یہ جمہو ری پلندہ خاندانی نظام کا پھندہ ہے،یہ ون بلب شا رٹ ہے یعنی ایک آنکھ سے کا نا ہے۔ اسی لئے اس کو کچھ کچھ د کھا ئی د یتا ہے اور کچھ کچھ نہیں ۔سماج واد کے یہ دعو یداربڑے بڑے عز ت دار اکثر ایسے موا قع پر ’بے عار ‘د کھا ئی دیتے ہیں۔سمجھ میں نہیں آتاکہ یہ سکیو لر کر دار ہے یا peculiarکردار۔ ویسے بھی یہ سکیو لر تلوارایک پر بے تحا شہ وار کر تی ہے تو دو سرے کے سا تھ عشق لڑا تی ہے۔ اس کو سر آ نکھوں پر بٹھا تی ہے،اُس کو با ر با ر پٹوا تی ہے،مر وا تی ہے،سڑک پر بٹھواتی ہے۔ایک بار کیابار بار ان واردات پر ما تم کر نے وا لوں کا گلا کا ٹتی ہے۔ اپنے سیکولر کا رندوں کے ہا تھوں ما تم دار کوپٹواتی ہے۔ کل د لی وا لوں نے بھی اس تلوار کا مزہ نوش کر لیا، جب نو جوان لڑ کیوں پر مہان د یش کے وردی پو ش ویر وںتفنگ اور تیر پھینک رہے تھے۔رہے کشمیری اُنہوں نے بار بار اس تلوار کا اصل ا نہارد یکھ لیا ہے۔اب تو ہم سر خم اس صورت حال کو سہنے کے عا دی بن چکے ہیں، جس طر ح ہما رے لیڈ ر صا حبان اور ر ہبران قوم بس ایک آنکھ سے دیکھنے کے عا دی بن چکے ہیں۔ان کو سیکو لر کے بجا ئے peculiarنظر آ تا ہے۔ما ہر ین لغت نے سیکو لر کے لفظی معنی لا دینیت لکھا ہے مگر ہما رے اربا ب اقتدار کے سا منے پتہ نہیںسیکولرلفظ کے معنی کیا ہیں ؟وہ بار بار اپنے بھا شنوں میںاس لفظ کو دہرا تے ہیںمگر لو گوں کو پٹواتے بھی ہیں۔اپنے مخا لفین کو مر واتے بھی ہیں،اندر بھی کر واتے ہیں،خو جہ یار بل کی ہوابھی کھلواتے ہیں۔اس سیکو لر اور جمہو ری جمعدار کے بہت سا رے چہرے ہیں۔یہ بہروپ ہے،یہ کہیں شریف تو کہیں بد ذات ہے۔کسی کے سا تھ مست رومان اور کسی کے لئے شیطان۔یہ دو د ھار والی تلوار ہے، کسی کے لئے جا ں نثار تو کسی کے لئے وبال جان،اندھ کار ہے یہ جمہو ر یت کے تا جدار،ارباب اقتدار،جمہو ری اور سیکو لر در با ر سجا تے ہیں،عوامی راج کا کا روبار تو کر تے ہیں مگر لوگ اب ان کے شر سے ڈر تے ہیں،یہ سیا سی تلوار اصل میں ظلم اور جبر کی تلوار ہے۔بس اس کے کر دار الگ الگ ہیں،یہ کبھی محراب عبادت میں چلا ئی گئی، وہی تلوار اب جگہ جگہ چل رہی ہے،اب یہ سر با زار چلتی ہے۔کبھی پس دیوار چلتی ہے مگر اکثر یہ تلواربے بس اور لا چا ر کے گلے پر چلتی ہے۔بات چل رہی تھی دلی کی دا منی کی ، یہ وہ بجلی تھی جو سا رے دیش کے آ شیا نۂ قلب پر گرپڑی،سا را د یش ہل گیا، ما تم کر نے لگا، ما تم کر نے وا لوں پر بھی ظلم کی وہ تلوار چل پڑی ۔ادھر جنو بی کشمیرپلوامہ کے کچھ گا ئوں میں بھی وہ تلوار بے نیام چل پڑی،بے گنا ہوں کا کام تمام کیا،غرض یہ سیکو لر کر دار بے بس اور لا چار ہیںکیو نکہ یہ نظام ہی مکار اور عیار چلا رہے ہیں۔اسی لئے بے گناہ کے لئے تختہ داراور گناہ گار کے لئے پھو لوں کے ہار۔ یقین نہ آئے پٹیا لہ پنجاب کی ہوس کی شکار اُس لڑ کی کے وا لدین سے پو چھئے جس نے اب خود کشی کر لی، اپنا کام تمام کیا۔ بھا ئی لوگو!اس نظام میں نہ کسی کی عز ت محفو ظ ہے نہ کسی کا مال یا جان، نہ سر کا ری خزا نہ ،نہ کام کا ج کا پیما نہ، نہ عو رت محفوظ ، نہ بچے محفوظ،ایٹم بم،جٹ بمبار، ہتھیا روں کے انبار،وردی پو ش بے شمار مگر عو رت محفوظ نہیں،قا نو نی کتا بوں کے انبار،عدا لتیں بے شمارمگر ملزم فرار،کیو نکہ تھا نیدار کا پیٹ کھا تے کھا تے پھو لا ہوا ہے ،وہ مجرم کے پیچھے دوڑ نہیں سکتا اب رہیں عدا لتیں وہا ں بس قا نون کا کا روبار چلتا ہے۔رہا عدل و انصاف بے چا رہ کو ہ کا ف پر جلا و طنی کی ز ند گی گزار ر ہا ہے۔سنا ہے اب صو رت حال کو قا بو میں کر نے کے لئے قانو نی ما ہر ین کی پو ری ٹر ین دلی لا ئی جا رہی ہے جو قا نون کو نئے فنو ن سے آ را ستہ کر یں گے،عدا لت کے ستون از سر نو تعمیر کر یں گے مگر نہ قانون کے انبار، نہ ہتھیا روں کے بھنڈار اور نہ لشکر جرار اس صو رت حال کو قا بو کر سکتے ہیں، نہ یہ سیکو لر عیار اور مکار،جب تک نہ قو می کردار، رو حا نی اقدار کو قوم کے اندر بیدار کیا جا ئے ۔۔۔۔ جان ِ من !یہ سا رے اقدار دنیا سے فرار اختیار کر چکے ہیں،یہاں او پر سے نیچے تک بس بد کردار صا حب ا ختیار بن بیٹھے ہیں،لا چا ر عو رت ما تم بھی کرے تو کیا فرق پڑ تا ہے، اقتدار محفو ظ رہنا چا ہئے۔ہاں اگر مظلو م اور لا چا ر اُف بھی کرے تو ٹیر گیس گو لوں کے بمبار سے اُن کاانہار بگا ڑ د یا جا تا ہے۔۔۔۔(رابطہ کے لئے۔ (mjlone10@gmail.com.) cell no 9797111614