GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادب نا مہ
ریاست میں اردو افسانہ روبہ زول کیوں؟


 

جب میں سوچتا ہوں کہ کیا سچ مچ میں نے پچاس سال افسانے لکھنے میں گزارے ہیں ،تو ماضی کی کچھ دھندلی یادیں سامنے آجاتی ہیں ۔جب میں نے افسانہ لکھنا شروع کیا تھا تو ہماری وادی میں کئی ایسے معتبر افسانہ نگار پورے برصغیر میں چھائے ہوئے تھے ۔جن میں پریم ناتھ پردیسی ،پریم ناتھ در،ٹھا کر پونچھی ، علی محمد لون ،موہن یاور وغیرہ بہت ہی مشہور تھے ۔نئے لکھنے والوں میں حامدی کاشمیری ،تیج بہادر بھان ،پشکر ناتھ ابھی ابھی ” بیسویں صدی“ میں قدم جما رہے تھے کہ میں نے بھی افسانہ نگاری شروع کردی ۔اگر چہ ابتداءمیں مجھے خاصی محنت و مشقت کرنا پڑی ،تب جا کر افسانہ کہیں شائع ہوا ۔ اس زمانے میں ریاست میں کہنہ مشق افسا نہ نگاروں کی ایک بڑی تعداد تھی جن کے سامنے لکھنا ایک بڑا کارنامہ تصور کیا جاتا تھا ،لیکن میں نے اور میرے ساتھی افسانہ نگاروں نے ،جن میں خصوصاً عمر مجید ،مخموربدخشی ،حسن ساہو،وید راہی ،شبنم قیوم اور دیگر معاصرین نے ہمت نہیں ہاری بلکہ مطالعہ و مشاہدہ کی ریاضت ،علمی و عمل کی جستجو ،پیش رو و ں کی حوصلہ افزائی اور کچھ کرنے کا جنون ، ان سب چیزوںنے ہمیںافسانہ نگار بنادیا۔جس کا شاید آج کی نسل میں عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔ہم لوگ اس فکر میں رہتے تھے کہ کون معیار ی افسانہ لکھ کر سنائے گا۔ادبی رسائل کا شدت سے انتظار رہتا۔نجی محفلوں میں افسانوں پر بحث و تمحیص ہوتی ،افسانہ کے خد وخال ابھارے جاتے ،نئے نئے نکتے سامنے آتے ،جن کو شاید کتابوں میں پڑھ کر بھی نہیں سمجھا جاسکتا تھا ۔ان چیزوں سے ہماری صلاحیتوں کو جلا ملتی اور ہم نئے نئے افسانے لکھنے کی طرف راغب ہوتے۔

روسی افسانہ نگار انتن چیخوف نے صحیح کہا ہے کہ ” تخلیق کار کے لئے مطالعہ و مشاہدہ آب حیات کی مانند ہے اور عمر جاوداں پانے کے لئے کچھ نہ کچھ تخلیق کرتے رہنا شرط ِ اول ہے ۔“شاید یہی اصول میرے رگ و ریشہ میں غیر دانستہ طور پر سرایت کرچکا تھا اور میں مسلسل لکھتا رہا ،یہاں تک کہ میری ہم عمر نسل کے کچھ قلم کارتھک ہار کر بیٹھ گئے اور کچھ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ان کی جگہ نئے تازہ دم لکھنے والے سامنے آگئے اور اس طرح افسانوی منظر نامہ کبھی خالی نہیں رہا ۔ اس نسل میں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں سے ثابت کردیا کہ ہم لکھنے میں کسی سے کم نہیں ۔ان میں بشیر شاہ،شمس الدین شمیم ،مشتاق مہدی،غلام نبی شاہد،آنند لہر ، زاہد مختار ،شام طالب ،دیپک بدکی اور ترنم ریاض (فہرست مکمل نہیں )قابل ذکر ہیں ۔اگرچہ ستر کی دہائی میں ڈاکٹر بشیر گاش نے ” ارمغان کاشمر“ چھاپ کر اس بات کی نوید ضرور سنائی تھی کہ افسانہ لکھنے والوں کے قافلہ میں ہم بھی شامل ہیں ،لیکن بدقسمتی سے ان میں سوائے عمر مجید اور شمس الدین شمیم کے کوئی آگے نہ بڑھ سکا۔

90کے بعد حالات بدل گئے ۔ہر کوئی گوشہ نشینی کو اختیار کرنے میں عافیت محسوس کرنے لگااور یوں افسانوں ادب پر ایک جمود سا چھایا رہا ۔بقول ٹی ۔ایس ۔ الیٹ ” ادب مرتا نہیں بلکہ اند ر ہی اندر پنپتا ہے“ کے مترادف سب خاموشی سے ایک دوسرے سے بے خبر ادب تخلیق کرتے رہے ۔البتہ ملاقاتیں مختصر ہونے لگیں اور یوں ہماری نئی نسل بھی ہم سے بچھڑ گئی۔جب حالات کچھ سدھر گئے تو افسانوں منظرنامہ پر جن نئے لکھنے والوں نے اپنی آمد کا اعلان کیا ۔ان میں اشوک پٹواری ،پرویز مانوس ،خالد کرار،مشتاق احمد کینی،میر ایوب قابل ذکر ہیں ،جن کے افسانوی مجموعے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی ان کو بہت سے مراحل طے کرنے باقی ہیں ۔ان کے بعد جن افسانہ نگاروں کے خد و خال ابھر نے لگے ،ان میں یوسف میر ،ریاض توحیدی ،ناصر ضمیر ،مجید ارجمند،فلک ریاض کی کوششیں بار آور آسکتی ہیں بشرط کہ مسلسل لکھتے رہیں ۔

آج جب میں پچاس سال کے بعد ریاست میں اردوافسانہ کے حوالے سے سوچتا ہوں کہ کیا سچ مچ ایسا وقت آگیا ہے کہ افسانہ نگاروں کے نام انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں ۔تو مجھے ماضی کے وہ حسین پل یاد آرہے ہیں جب لکھنے والوں کا ایک بڑا کارواں موجود تھا ۔ہر کوئی میعاری افسانہ لکھنے کو ترجیح دیتا ،اگرچہ ان میں بہت ریاضت کرنا پڑتی ۔شاید میری نسل محنت سے نہیں گھبراتی تھی بلکہ مسائل کا مقابلہ مردانہ وار کرتی ۔اسی لئے آج بھی پیش رو افسانہ نگاروں میں وریندر پٹواری ،آنند لہر ،دیپک بدکی ،دیپک کنول ،زاہد مختار اور ترنم ریاض تازہ دم ہو کر لکھتے ہیں ۔تو مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ یہ چند نام اس لائق ہیں کہ انہوں نے ریاست کے افسانہ کو دیگر ریاستی افسانہ نگاروں کی طرح شانہ بشانہ اپنا کر تخلیقی سفر جاری کیے ہوئے ہیں۔لیکن اس میں دوررائیں نہیں اگر نئی نسل افسانہ کی طرف راغب نہیں ہوئی تو یہاں یقیناافسانہ روبہ زوال ہوجائے گا ۔جس کے لئے ہمیں پریم ناتھ پردیسی کی روح کبھی معاف نہیں کرے گی۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By