GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
کشمیر حل کا کوئی متبادل نہیں:مفتی
تما م متعلقین سے سنجیدہ مذاکرات کئے جائیں

سرینگر//پی ڈی پی سرپرست اور سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے مرکزی حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے داخلی پہلووں پر سنجیدگی کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرے۔انہوں نے کہا کہ صرف سرخیوں میں رہنے کی روایات منفی بھی ثابت ہوسکتی ہیں ۔ چرار شریف میں پارٹی کارکنان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کشمیر حل کا کوئی بھی متبادل نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ نئی دلی کو جموںوکشمیر کے عوام کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے واقعات کے ردعمل کی بنیاد پر اقدامات کرنے کی پالیسی ترک کرنی چاہئے ۔ کیونکہ کشمیرمسئلہ، جس نے دہائیوں سے برصغیر کے بے پناہ معیشی امکانات کو مسدود کیا اور جموںوکشمیر کے عوام کے جسم و روح کو مجروح کرکے ، کے حل کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا۔مفتی نے کہا کہ نئی دلی کو کشمیرکے داخلی پہلوئوں کو اکٹھا کر کے تمام متعلقین کی حمایت سے انہیں ایک ہی میز پر لانا چاہئے ۔ مفتی نے کہا کہ ملک کو بہر صورت ریاست کے درد اور خواہشات کا مثبت انداز میں ردعمل ظاہر کرنا ہوگا اور تمام سیاسی نظریات کے حامل حلقوں کو اس حوالے سے تعاون دینا ہوگا ۔ مفتی نے کہا کہ 2003کے بعد سیاسی اور سفارتی سطح پر کشمیری معاملے کے اندرونی پہلوئوںکے ساتھ پاکستان کے ساتھ بات چیت کا عمل اس لئے یو پی اے سرکار کی جانب سے بڑھانے کا موجب بنا کیونکہ مذکورہ سرکار نے واجپائی کی جانب سے اٹھائے گئے تاریخی اقدامات کو جاری رکھا ۔انہوں نے کہا کہ یہ این ڈی اے اور خصوصاً بھاجپا کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کئے جارہے اقدامات کے حوالے سے شک وشبہ اظہار کرنے کی پالیسی ترک کریں اور موجودہ حکومت کو اس بارے میں مکمل حمایت دے۔مفتی نے کہا کہ امن عمل مستقل بنیادوں پر اسی صورت میں ثمر حاصل کرسکتی ہے جب متنازعہ فی معاملات پر اتحاد پیدا کیا جائے اور صرف عمل امن کو اعتماد سازی تک محدود نہ رکھا جائے ۔انہوں نے حکومت ہند پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار کو سنجیدگی کے ساتھ ریاست کے تمام فریقین کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کردینا چاہئے اور تمام فریقین کو مذاکرات کے ٹیبل پر لاکر مسئلہ کشمیر کے اندروزی پہلو ئوںکو ایڈرس کرنا چاہئے ۔ مفتی نے کہا کہ پاکستان سے نوجوانوں کی واپسی ایک اچھا اقدام ہے تاہم ماضی میں اعتماد سازی کے جو اقدامات کئے گئے تھے انہیں نظر انداز کیا گیا ہے ۔لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت یرغمال بنایا گیا ہے کیونکہ اس میں بہت ساری رکاوٹیں حائل کر دی گئی ہیں لہٰذا حکومت ہند کو اس حوالے سے ہر کوئی اقدام اٹھانے کی ضروت ہے تاکہ آر پار تجارت کے اصلی مقاصد کو حاصل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر سارک ممالک کیلئے اقتصادی تعاون کے حوالے سے ایک ماڈل بن سکتا ہے لیکن اس کے لئے آر پار تجارت اور آواجاہی کو ہر سطح پر مثبت انداز سے تعاون دینا ہوگا۔این سی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ مخلوط سرکار نے منفی طریقہ کار سے جمہوری اداروں کمزور کیا اور یہ صرف اسلئے کیا گیا تاکہ مخلوط سرکار کی ناکامیوں کو چھپایا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ موجوہ سرکار نے عوام کو دھوکہ دیا ہے جنہوں نے پنچایتی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس کے بعد ان جمہوری اداروں کو بے معنی رکھ دیا گیا ، یہ بات ثابت کرتی ہے کہ موجودہ حکومت جمہوری اداروں کو مستحکم نہیں دیکھنا نہیں چاہتی جس کی وجہ سے لوگوں کا جمہوریت پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By