GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
سید نا اما م حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
اے شہیدِ کربلا تیری امامت کو سلام

سیدنا امام حسینؓ ابن علیؓ کی ولادت باسعادت ۵ شعبان المعظم ۴ ہجری بروز منگل ہوئی۔ آپ ؓ کی ولادت کی خبر سنتے ہی سرکار ِدوعالمؐ حضرت علیؓ کے دولت خانے پر تشریف لائے اور انتہائی مسرت کا اظہار کیا۔ آپؓ کو اپنی آغوشِ رسالت میں لے کر نگاہِ شوق سے دیکھا، گوش ہا ئے مبا رک میں اذان دی اور تکبیر کہی اور آپ ؓ کا اسم مبارک حُسین ؓ رکھا۔ حضرت حُسینؓ  شکل و شمائل میں اس قدر اپنے نانا جان آقائے نامدار ؐ کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے کہ انہیں ہم شکل مصطفیٰؐ بھی کہا جاتا تھا۔ حضرت حُسینؓ اس قدر حسین و جمیل تھے کہ جب کسی اندھیری جگہ پر بیٹھ جاتے تو لوگ آپؓ کو آپ ؓکی پیشانی کی چمک کی وجہ سے پہچان جاتے تھے۔سرکارِ دوعالمؐ کی محبت حضرت حُسینؓ کے ساتھ اس درجہ گہری تھی جس کی کہیں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ کمسن حسنین رضی اللہ تعالیٰ عنہما گرتے پڑتے آئے۔ آقائے نامدار ؐ خطبہ چھوڑ کر آئے اور حسنین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکو سنبھالا، اپنے سینۂ مبارک سے لگایا اور اپنے سامنے بٹھایا۔ اس موقعہ پر حضور ؐ نے ارشاد فرمایاکہ ’’اللہ نے سچ فرمایا ہے کہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہارے لئے ایک آزمائش ہے۔ میں حسنین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکا گرنا برداشت نہ کر پایا ، اسی لئے خطبہ چھوڑ کر آیا۔ ‘‘سیدنا امام حُسینؓ کے ساتھ حضورؐ کی محبت کا عالم یہ تھا کہ حضور ؐ نماز کے دوران سجدے کی حالت میں ہوتے تو حُسینؓ آپؐکی پشت مبارک پر سوار ہوتے اور حضورؐ حسین ؓکی شوخیوں پراپنی نماز میں بھی رعایت فرماتے۔انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ’’بعض لوگوں نے سرور کائنات سے پوچھا کہ اپنے خاندان میں آپ ؐ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ،تو آپؐ نے فرمایا، حسن ؓ اور حُسینؓ۔‘‘ اسی طرح حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیںکہ’’ ایک مرتبہ پیغمبرخداؐ اِس شان سے تشریف لائے کہ ایک کندھے پر حسنؓ اور دوسرے پر حُسین ؓ سوار تھے۔ محبوبِ خدا کبھی ان کا بوسہ لیتے اور کبھی ان کو پیار دیتے۔ ابو ہریرہ ؓ مزید فرماتے ہیں کہ اس موقعہ پر حضور ؐ نے فرمایا کہ جواِن کو محبوب رکھے وہ میرا محبوب ہے اور جو اِن سے دشمنی کرے وہ میرا دشمن ہے۔ ‘‘روایات میں آیا ہے کہ آقائے نامدار جب بھی حُسین ؓ کے رونے کی آواز سنتے تو آپ ؐپر بے چینی کی کیفیت طاری ہوجاتی۔

سرکار دوعالم ؐ نے فرمایا ’’میں علم کا شہر ہوں اور علیؓاس کا دروازہ‘‘۔ سیدنا امام حُسین ؓ نے اپنی ابتدائی تعلیم و تربیت اسی علم کے شہر کی آغوش میں پائی جس کا فیض تا قیام قیامت جاری رہے گا۔ اپنے ناناؐ کے ظاہری انتقال کے بعدحُسینؓ کے علم و عمل کی تربیت کا سلسلہ جاری رہا اور یہ سلسلۂ محبت و شفقت اُس آغوش مبارک میں جاری رہا جس کو سرکار مدینہؐ نے علم کے شہرکا دروازہ قرار فرمایاتھا۔قلب رسالتؐ سے جو حکمت کسی انسانی سینے میں منتقل ہو سکتی تھی وہ سب قلب حُسین ؓ میں منتقل ہو گئی، اس پر سیدنا علی ؓ کی تربیت کا سایہ،اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قلب حُسینؓ میں کون کون سے انوارِ علوم وا عمال پیوست ہو گئے تھے۔ اسی مناسبت سے حضرت حسینؓ کی عظمت کا اندازہ بھی لگا یا جاسکتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ حضرت حُسینؓ نہ صرف ہمشکلِ مصطفیٰؐ تھے بلکہ اخلاق و عادات میں بھی اپنے ناناؐ جان سے مشابہت رکھتے تھے۔ سیدنا امام حُسین ؓ کی فضیلت کا مقام اس قدر بلند وبالا ہے کہ آپ ؓ مہر نبوت ؐ پر سوار ہوتے اور سرکار مدینہ ؐ  آپ ؓ کے حلق ِ مبارک کو بوسہ دیتے۔ ایک مرتبہ حُسین ؓ اپنے نانا جانؐ  کی خدمت میں آئے اور ان کے مبا رک کاندھے پر سوار ہوئے۔ آقائے نامدارؐ اسی حالت میں منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ’’حسینؓ اپنے نانا اور نانی کے اعتبار سے سب سے افضل ہے۔ اس کا نانا رسول خدا ؐ ہے اور نانی خدیجہ ؓ جو سب سے پہلے رسولؐ کی دعوت پر ایمان لائیں۔۔ حسین ؓ اپنی خالہ اور ماموں کے اعتبار سے سب سے بہتر ہے۔ اس کے ماموں قاسم، ابراہیم و عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہیں اور خالہ رقیہؓ اور ام کلثومؓ ہیں۔حُسینؓ اپنے چچا اور پوپھی کے اعتبار سے سب سے بہتر ہیں۔ جعفرؓ و عقیلؓ چچا اور ام ہانی ؓ پوپھی ہیں۔ حُسین ؓاپنے والدین وبھائی بہن کے اعتبار سے بھی سب سے افضل ہے۔ علیؓ باپ اور فاطمہ ؓ ماں ہیں۔ حسنؓ بھائی اور زینب ؓ و ام کلثوم ؓبہنیں ہیں۔‘‘یہ جملے فرما کر سرکار ؐ بیٹھ گئے اور پھر ارشاد فرمایا۔یہ وہ حُسین ؓ ہے جس کا نانا اور نانی بھی جنت میں ہیں، جس کے ماموں اور خالہ بھی جنت میں ہیں، جس کے چچا اور پوپھیاںبھی جنت میں ہیں، جس کا بھائی اور بہنیں بھی جنت میں ہیں ، جس کے والدین بھی جنت میں ہیں اور یہ خود بھی جنت میں ہے۔‘‘حضور ؐ کے اس ارشاد ِ مبارک سے حُسینؓ کی افضلیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ایک مرتبہ سرکار ِ دوعالم ؐ اس حالت میں کہیں جارہے تھے کہ ان کی پشتِ مبارک پر حُسین ؓ سوار تھے۔ ایک صحابی نے عرض کیا، ’’کیا ہی اچھی سواری ہے!‘‘حضور ؐ نے فرمایا، ’’کیا ہی اچھا سوار ہے۔‘‘

دیکھئے کہ آقائے نامدار ؐ سیدنا حُسین ؓ کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں۔

ٌٌٌٌٌٌ ٌٌدنیا میں حسن ؓ و حُسینؓ میرے دو پھول ہیں۔حسنؓ اور حُسینؓ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ حُسین ؓ مجھ سے ہے اور میں حُسین ؓ سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس کو دوست رکھے جو حُسینؓ کو دوست رکھتا ہے۔اے اللہ! میں حُسینؓ کو دوست رکھتا ہوں ، تو بھی اِس کو دوست رکھ اور اُس کو بھی دوست رکھ جو حُسین ؓ کو دوست رکھتا ہے۔ اس طرح یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جو مسلمان حضرت حُسین ؓ اور اہل بیت کے ساتھ محبت رکھتا ہے ، اللہ اس کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ اہل بیت کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ نماز کے دوارن ان پر درود سلام بھیجنا ضروری قرارپایا ۔اُن کی برتری و حرمت کا عالم یہ کہ اہل بیت پر صدقہ حلال نہیں۔

حضرت حُسین ؓ کی عظمت اور بلند مرتبے کا خیال رکھتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ بھی ان سے بے حد محبت کرتے تھے اور ان کی عزت وتوقیر کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں مسلمانوں نے مدائن کو فتح کیا۔ مال غنیمت پھیلایاگیا۔ امیر المومنین حضرت عمرؓ نے تقسیم کا حکم دیااور بذاتِ خود حضرت حُسینؓ کو ایک ہزار درہم پیش کئے جب کہ اپنے فرزند عبداللہؓ کو فقط پانچ سو درہم دئے جانے کا حکم دیا۔ عبداللہ ؓ نے عرض کیا کہ اے امیرالمومنین !میں ایک مضبوط آدمی ہوں۔اُس وقت بھی تلوار سے لڑتا تھا جب سرکار دوعالمؐ حیات تھے اور حُسین ؓ ایک بچہ تھا۔پھر یہ امتیاز کیوں۔‘‘ امیرالمومنین ؓ حضرت عمر ؓ نے فرمایا، ’’حُسین ؓ کی برابری کرنی ہے تو جاؤ پہلے حُسینؓ کے ناناجانؐ جیسا نانا لاؤ، ان کی نانیجان ؓ جیسی نانی لاؤ، ان کے باپؓ جیسا باپ لاؤ، ان کی ماںؓ جیسی ماں لاؤ، ان کے چچا ؓجیسا چچا لاؤ، ان کی پوپھیؓ جیسی پوپھی لاؤ، ان کی خالہ ؓ جیسی خالہ اور ان کے ماموں ؓ جیسے ماموں لاؤ۔‘‘حضرت عمرؓ کے دور ِ خلافت میں جب ایران فتح ہواتو وہاں گرفتار کی گئی ایران کے بادشاہ نوشیروان عادل کی پوتی بی بی شہر بانو کی قسمت کا ستارہ بھی چمک اٹھا۔مالِ غنیمت کے ساتھ شہر بانو بھی امیر المومنین ؓ کے سامنے پیش کی گئیں۔ بی بی شہر بانو نے ہزار ہا روپے کی مالیت سے بنا ہیرے جواہرات کا لباس زیب تن کیا تھا۔ سب منتظر تھے کہ امیرالمومنین ؓ کے حکم سے یہ حور کس کو ملتی ہے۔ یہاں بھی حضرت عمرؓ نے حُسینؓ کی عظمت کا خیال کیا اور فرمایا: ’’آج تک یہ دنیا کے بادشاہ کی پوتی تھی ، اب میں اس کو دین کی شہزادی بناتا ہوں ۔اس طرح حضرت عمر ؓ نے شہر بانو کو حضرت حُسین ؓ کی خدمت میں پیش کیا۔ 

حضرت حُسین ؓ نے جب اپنے ناناجانؐ کے لائے ہوئے نظام میں رد و بدل ہوتا دیکھا تو آ پؓ نے اس باطل عقیدے کے خلاف صدائے حق بلند کی، جس پر آپ ؓکے جاں نثار ساتھیوں نے لبیک کہہ کر ان کا ساتھ نبھانے کا وعدہ کیا۔

فاطمہؓ کے لالؓ نے جب کی صدائے حق بلند

یک زباں سب کہہ اٹھے تیری قیادت کو سلام

شہرمکہ کی حرمت کا خاصا خیال کرتے ہوئے حضرت امام حُسین ؓ اپنے عزیزو اقارب کے ساتھ کوفہ کی جانب نکل پڑے۔ ۲ محرم ۶۱ ہجری کو کربلا کے میدان میں پہنچے ۔ خبر ملی کہ جن کوفہ والوں نے ان کو دعوت دے کر بلایا تھا ،وہ اپنے قول سے مکر گئے ہیں اورباطل کے ساتھ مل گئے ہیں ۔اس لئے حضرت حُسین ؓ نے اسی مقام پر قیام کیا۔ دشمن کی فوج بھی کربلا آپہنچی۔ آپ ؓ اور آپ ؓ کے قلیل لشکر پر پانی بند کر دیا گیا۔ آپ ؓ نے دشمن کو سمجھانے کی کافی کوشش کی۔ کسی پر کوئی اثر نہ ہوا البتہ حُر ، جو کہ دشمن کی فوجوں میں شامل تھا ،نے اپنے لئے جنت کا انتخاب کرلیا اور آپ ؓ پر اپنی جان نچھاور کردی۔ حسینؓ کے لشکر کو چار روز تک پیاسا رکھا گیا، لیکن کسی نے شکوہ نہ کیا بلکہ سب راہِ حق میں اپنی قربانی پیش کرنے کی بے تا با نہ آرزو لئے ہوئے تھے۔ دس محرم کی صبح، جمعہ کا دن تھا۔ دونوں فوجیں آمنے سامنے تھیں۔ حق و نا حق کی جنگ کا آغاز ہو چکاتھا۔ لشکر حُسین ؓ کے بہادر سپاہی دشمن کی صفوں میں ہلچل مچاتے۔ ان کی تلوار یں چلتیں تو دشمن کے فوج کی صفیں تہس نہس ہو جاتیں۔ اس طرح حضرت حُسینؓ کا ہر جانباز سپاہی نظام ِ مصطفیٰ ؐکی بقاء اورخوشنودیٔ خدا حاصل کرنے کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے میں پہل کرتا۔حضرت حُرؓ، حضرت علی اکبرؓ،حضرت عون و محمدؓ، حضرت عباس علمدارؓ، حضرت قاسم ابن حسنؓ، یہاں تک شیر خوار علی اصغرؓ نے بھی اپنی ننھی سی جان کا نذرانہ بارگاہ خداوندی میں پیش کرکے سر بلندی ٔ اسلام کی ایک تاریخ ِزریںرقم کردی۔

سر کٹانے کیلئے بے چین تھا ابن حسن

قاسمِؓ معصوم کے شوقِ شہادت کو سلام

وہ بلکتا پیاس سے معصوم اصغرؓ بھی دیا

 ائے حُسینؓ تیرے گھرانے کی سخاوت کو سلام

عصر کا وقت تھا۔ سورج ڈھلنے لگا تھا۔ باغِ مصطفیٰ ؐکے پھول پیاس کی حالت میں شہادت کے درجے پرپہنچ چکے تھے۔ ساقی کوثر ؐ کے پیاسے نواسے نے اپنے نانا جان ؐ کا عمامہ شریف اپنے سر پر باندھا، اپنے والد حضرت علی ؓ کی ذولفقار اپنی کمر سے لگائی اور اپنی شفیق ماں حضرت فاطمہ ؓکے ہا تھ کی سلی ہوئی چادر اپنی کمر کے ساتھ باندھی۔ اپنے خاندان کی خواتین کو ایک آخری نظر دیکھا اور خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے رن میں آگئے۔ بہادری اور جرأت کے ساتھ ابن زیاد کی فوجوں کا مقابلہ کیااور ظالموں کی صفوں میں ہلچل مچادی۔ ظالموں نے تیروں اور تلواروں کی بوچھاڑ کردی۔ امام حسین ؓ جب زخموں سے چور چور ہوئے تو شیت ابن ربعی نے سرِ مبارک کو تنِ مقدس سے جدا کرنے کی غرض سے وار کرنے کا اردہ باندھا لیکن ہیبت طاری ہوئی اور تلوار ہاتھ سے گر پڑی۔ پوچھا گیا کہ کیا ہواتو شیت نے کہا کہ میں نے چشم ِ حُسینؓ میں روے محمد ؐ کو دیکھا ہے۔ حضرت حُسینؓ…محبوبِ خداؐ کا محبوب۔ دوش ہا ئے رسالت ؐ کا سوار۔ وہ حلق جس کو سر کار دوعالمؐ بوسہ دیا کرتے تھے،آج اسی حلق میں تیر پیوست تھا۔ وہ جسم نازنین جس کو آقائے نامدارؐ اپنی ردائے مبارک میں لپیٹ کر سینۂ مبارک سے لپٹتے تھے، آج کربلا کی زمین پر زخموں سے چور چور ہوا تھا۔یہ حُسینؓ کی عظیم شخصیت وہ پہلو تھا جو کربلا میں اپنے عروج پر دیکھا گیا۔

یا حُسینؓ ابن علیؓ تیری شجاعت کو سلام

صبر و استقلال و عزم و استقامت کو سلام

ربِ کائنات نے امام حُسینؓ کو شہادت کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز کیا ۔ حُسین ؓ اور ان کے رفقاء نے راہ ِ حق میں اپنی عزیز جانوں کا نذرانہ پیش کرکے رہتی دنیا تک ایک پیغام دیا کہ نا حق کتنا ہی منہ زور آ ندھی بن کر اسے مغلوب کر نے کی حما قت کر ے بہر کیف آخر کار جیت حق کی ہی ہوتی ہے اور با طل کی پسپائی ہو کر ہی رہتی ہے ۔ کربلا میں جن پیاسوں نے نظام ِ مصطفیٰؐ کی بقاء اور اپنے رب کی رضاکی خاطر عزیز جانیں خوشی خوشی دیں ، انہوں نے لا زما ًساقی کوثرؐ کے دست مبارک سے اپنی پیاس بجھائی ہوگی۔اہل ِبیت ؓ کا مرتبہ و مقام بلند و بالا ہے اور ان سے محبت حصول ِ اجر کا باعث۔ رب ِ کائنات ہمارے دلوں میں عشق نبیؐ اور عشق آل نبیؐ کو محفوظ رکھے۔( آمین)

ہے مبشرؔ خاکِ پائے اہل بیت در ازل

 ائے شہیدِ کربلا تیری امامت کو سلام

…………………

قارئین کرام کالم نویس کے ساتھ اس پتہ پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

syedmmubashir@gmail.com

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By