GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
حسین حق پسندی کا رول ماڈل
یہ شہادت گہۂ اُلفت میں قدم رکھنا ہے

واقعات کربلا کی ہمہ گیریت سے کون انکار کرسکتاہے ۔بظاہر یہ چند سعید روحوں پر مشتمل چھوٹی سی جماعت کی شہادت کا خوں آشام واقعہ ہے مگر اپنی انفرادیت کے اعتبار سے یہ تاریخ اسلام کا وہ روشن ترین باب ہے جس کی تابانیاں تا ابد قائم ودائم رہیں گی۔واقعۂ کربلا کی ہمہ گیر وسعتوں کا اندازہ اس طرح بھی لگایا جاسکتاہے کہ حق وباطل کے در میان فیصلہ کن معرکو ں کی تاریخ میں خیر وشر کے لاتعداد وقائع برپا ہوئے، ہزاروں صالحین ابدی حیا ت کا جام پی گئے ۔ تاریخ کی کتابوں سے ہمیں معلوم ہو تاہے کہ اسلام کا اوّلین دور ِ زریں عظیم شہادتوں سے لبریز ہے ۔ تاہم یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ شہادت امام حسین ؑ کو اس قدر شہرت ،منزلت اور مقبولیت حاصل ہوئی کہ ساڑھے تیرے سو سال گزرجانے کے باوجود بھی شہادت امام حسینؑ کا ذکر زندہ وتابندہ ہے ۔ اس کی شہرت اور تذکروں میں آج بھی ذرہ برابر بھی کمی نہیں ہوئی،جیساکہ شاعر نے اعترافاًکہاہے   ؎

دنیا کو تو بیدار ہو لینے دو

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ

محترم سامعین! حسینیت ہر جا  پیما نۂ حق اوریزیدیت ہر انسانی طبقے میں فتنہ و فساد کی علامت بن گئی ہے ۔ آ ج تک واقعۂ کربلا اور شہادت امام حسینؑ کے درس و موعظت پر دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں ہزاروںروشن فکر علماء اور ہزاروں بیدار ضمیر ادیبوں وشاعروں نے قلم اُٹھاکر بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مہذب دنیا کا شاید ہی کوئی فرد بشر ہو جو اس دردناک واقعہ سے بے خبر ہو ۔ فی ذاتہٖ یہ ایک ایسا نا قابل فراموش واقعہ ہے جو اپنی کشائش سے ہردور میں توجہ کا مرکز بنا رہے گا ۔ اگر آج تک اس موضوع پر ہزاروں کتابیں لکھی جاچکی ہیں تو آنے والے زمانے میں بھی اس کی اہمیت اور جہات پر خا مہ فر سائیاں کی جائیں گی ۔کیوں نہ ہو آ خر حسینؑ ابن علی ؑکے شہادت اعظمیٰ میں وہ عظمتیں چھپی ہیں جن  کے دم سے اسلام کی عزت ،حرمت وعظمت کا سکہ رائج ہو ااور با طل وناحق کے حصہ میں خجا لت اور رسوائیاں آ ئیں ۔تاریخ کے مطالعہ سے امام حسینؑ کی عظمت ،محبت ، مودت وعقیدت مومنین با صفااور مفکرین حق پسند کے دلوں میں اس طرح سما گئی ہے جس طرح عطر اپنی خوشبوکی وجہ سے اپنے اطراف کے رہنے والوں میں معطر کرکے قلب وجگر میں اپنا ڈیرا جما تی ہے اور جس طرح آگ سے گرمی اور پانی سے تری ، آفتاب سے تپش و روشنی الگ کرنا ناممکن ہے اسی طرح مومنوں کے دلوں سے محبت حسین ؑ  میں رتی بھر کمی واقع ہو نا ناممکن ہے کیونکہ خون حسینؑ کی سرخی تو تا قیام قیامت فضائوں میں شفق بن کر بکھری ہوئی ہے ۔ شاعر نے درست کہاہے   ع

غم حسینؑ قسمت میں ہوتوکیا غم ہے 

 امام حسینؑ کی شہادت پر غوروفکر کرنے کے بعد ہر سلیم الفطرت انسان بے ساختہ امام حسینؑ کی شہادت کو حق پسندانہ معیارِ زندگی قرار دیتاہے ۔ایسا معیار کہ جس کو سامنے رکھ کر حق وباطل اور کفر وایمان کا امتیاز کیا جاسکے ۔شہادت امام حسین ؑ ایک ترازو ہے جس میں شجا عت و بزدلی، بغض وعداوت اور محبت ومودت کا وزن کیا جاسکے ۔ قرآن مجید کی سورہ احزاب ،آیت نمبر۳۳ کا ترجمہ عبدالرحمٰن جامی اپنی کتاب ’سوانح حیات بارہ امام‘ؑ صفحہ 10پر یوں تحریرکرتے ہیں : اے اہل ِبیت یعنی اے نبیؐ کے گھروالو! اللہ تعالیٰ تو ہی چاہتاہے کہ تم سے ہر ناپاکی کو دور فرمادے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے ۔ حضرت ابوجعفرمحمد بن جریر طبری ؒ یوں اس کی تو ضیح فرماتے ہیں: کہ اے آل محمد!ؐ اللہ تعالیٰ چاہتاہے کہ تم سے بُری باتوں اور فحش چیزوںکودوررکھے اور تمہیں گناہوں کے میل کچیل سے صاف رکھے۔ اب اس آیت میں دیکھناہے کہ اہل ِبیت سے مراد کون لگ ہیں ؟اس بارے میں مفسرین کرام کا اختلاف ہے لیکن امام خازن اوربہت سے دوسرے مفسرین کے مطابق اس جماعت جس میں صحابی رسولؐ اور حضرت ابو سیدجعفریؓ اور تابعین میں سے حضرت مجاہد اور قنادو غیرہ ہیںجو فرما تے ہیں کہ اے اہل بیت سے مراد اہل عبایعنی رسول اللہؐ ، حضرت علیؑ،حضرت فاطمہؑ،حضرت امام حسنؑ اور حضرت امام حسینؑ ہیں۔(کتاب بارہ امام صفحہ11)

اس آیت الٰہی سے واضح ہوگیا کہ حسینؑ حق کے ترجمان ہیں اور یزید باطل کا پشتیبان ہے اور جب خداوند کریم نے اہل بیت ؑکی پاکیزگی کا اعلان فرمایا اور ان ہی پاکیزہ ہستیوں کے لئے تمام امت مسلمہ کو محبت وعزت واحترام کا پا نبد بنا یا۔قرآن مجید فرقان حمید نے بھی اہل بیت ؑ کا مقام بیان کیاہے اور لازم کردیا ہے کہ جو اہل بیت کے ساتھ محبت ومودت رکھے گا وہ مسلمان ہے اور حضورؐ کا اُمتی کہلانے کے قابل اور جو اُن کے مقابلے میں آئے گا وہ لعنت کے قابل ہے کیونکہ جو حسینؑ کا دامن تھام کر چلے گا اس نے صحیح معنوں میں نجات پائی ۔ مشکوٰۃ شریف صفحہ537 میں حدیث رسول ؐ درج  ہے :آگا ہوجائو کہ میرے اہل بیت تم توگوں کے لئے نوح کی کشتی کے مانند ہیں جو شخص کشتی میں سوار ہوا، اس نے نجات پائی اور جو شخص کشتی میں سوار ہونے سے پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہوا۔ قارئین کرام فرمان نبیؐ سے خود اندازہ لگاسکتے ہیں کہ دنیا میں اہل بیت کا مقام اتنا بلند ہے جو تمام مومنوں کے لئے آ خرت میں باعث نجات وفلاح یابی ہے ۔ متعدداحادیث رسولؐ کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوتاہے کہ اہل ِبیت محمدؐ علیؑ فاطمہؑحسن ؑوحسین ؑ خدا کی بارگاہ میں کس حیثیت کے قابل ہیںکہان کی اتباع اور احترام تمام عالم کے لئے باعث نجات ہیں۔ امام حسینؑ کی’ زیارت اربعین‘ میں ایک کثیرا لجہت جملہ ہے جو اس زیارت کے دوسرے بہت سے جملوں کی طرح پُرمعنی اور غور طلب ہیں اور یہ ایک زیارت ہے لیکن اس کے ابتدائی جملے دعائیہ کلمات ہیں جس میں آ پ ؑ خداوند متعال سے مخاطب ہوکر فر ماتے ہیں: اے پروردگار! حسین ؑابن علیؑ نے اپنی جان اور اپنا خون تیری راہ میں قربان کیا تاکہ تیرے بندوں کو جہالت کے دلدل سے باہر نکالے  اور گمراہی میں سرگرداں ہونے سے بچائے … یہ جا ہل وہ لوگ تھے جنہیں زندگی کے فریب نے یو نہی میں مشغول کردیا تھا۔ مادی دنیا ، اس کی رزق وبرق ( کر نے والی عارضی ترغیبات )اور خواشہات نفسانی نے انہیں خود سے غافل بنادیا تھا۔ انہوں نے سعادت وخوش بختی جیسے عظیم سرمایہ کو جوخدا خلقت کے ساتھ ہر انسان کو عطا کرتاہے،بہت حقیر اور ناچیز داموں میں بیچ دیاتھا ل۔ لہٰذادرحقیقت  حضرت حسین ؑکا مقابلہ اس کج عمل یزید سے ہی نہیں تھا بلکہ آپ ؑ کا مقابلہ جہالت ، گمراہی اور انسان کی اخلاقی وایمانی زبوںحالی سے تھا۔ امام حسینؑ ان چیزوں سے تن تنہا اپنے مٹھی بھر جانثاروں کی معیت میں مردانہ وارمقابلہ کررہے تھے ۔ اگرچہ امام حسینؑ اس وقت بظاہر یزید سے جنگ کررہے تھے لیکن امام ؑ کے قول یعنی زیارت اربعین کے ان عظیم المعنی جملوں نے ہمیں آگاہ کیا کہ امام حسین ؑ مردو دلوں کو جگارہے تھے اور برائی وجہالت سے دو دو ہاتھوںلڑ رہے تھے۔حسینؑ کی جنگ ضمیر فروشوں، پیٹ پرستوں اور ہوس زدہ لوگوں کے خلاف ہے۔ اگر چہ یزید اس وقت ناحق کا ساہو کار بن بیٹھا تھا ، ضمیر فروشوں کی منڈی اس نے جا بجا لگا رکھی تھی لیکن میدان کر ب وبلا میں اسے تاریخ کے عظیم تر ین حق پر ست ، اسلام کے شیدا ئی اور نواسۂ رسول اورؐ جگر بتول ؑنے  خدا کی وحدانیت ، رسول اللہ صلعم کی رسالت  اور حق وصداقت کی امامت کا پرچم سر بلند کر نے کے لئے اپنی اور اپنے اہل بیت کی 72 ذی وقار اور عظیم المر تبت جانیں قربان کر کے دین مصطفیٰؐ کی لا ج رکھی اور اسلام کے گلستان کے ایک ایک پھول کو سر سبزوشاداب رکھا ۔ اور دنیا ئے انسانیت کے واسطے ایک رول ما ڈل کی حیثیت سے دکھا یا کہ  مدان حق کیسے جیتے ہیں اور کیسے شہا دت کا جا م پی کر ہمیشہ ہمیش کے لئے زندہ وجا وید بنتے ہیں ۔

………موبائل نمبر:-9906777704

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں













سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By