GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  جمہ ایڈیشن
کتاب وسنت کے حوالے سے مسائل کاحل


حمام میں نماز منع

سوال: -قرآن کریم میں ہے کہ نمازفرض کی گئی ہے اپنے اپنے وقت مقررہ میں اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہم کو اذان یا اذان سے پہلے یا نماز سے پہلے مسجد میں حاضر ہوجاناچاہئے ۔اب جو لوگ نماز کے بعد مسجد میں آتے ہیں کیا وہ لوگ دوسری جماعت حمام میں ادا کرسکتے ہیں یا نہیں حالانکہ وہ اللہ کی حد توڑتے ہیں۔ کیا حمام میں ادا کی گئی نماز ہوگی یا نہیں؟ کیا ہم روزانہ ہرجماعت کے بعد حمام میں دوسری جماعت ادا کرسکتے ہیں یا نہیں؟ جیساکہ امام صاحب نے انہیں بولا ہے کہ یہ کس حد تک جائز ہے ۔

انجینئر ریاض احمد

 گل آباد ،آرمپورہ ،سوپور

جواب : اذان ، نماز کی باجماعت ادائیگی کا اعلان ہے جولوگ اذان سننے کے باوجو بلا کسی عذر کے مسجد کی جماعت میں حاضر نہ ہوں ان کے لئے قرآن کریم میں ارشاد ہے ’’خرابی ہے ان نمازیوں کے لئے جو نماز کی ادائیگی میں سستی وکاہلی کرتے ہیں ‘‘۔(سورہ الطاعون) حدیث میں ہے کہ جو اذان سن کر بھی مسجد کی جماعت کے لئے حاضر ہوں ان میں ایک قسم کا نفاق ہے ۔ ایک حدیث میں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میردل چاہتاہے کہ اُن لوگوں کے گھروں میں آگ لگا دوں جو اذان سن کر بھی مسجد کی جماعت کے لئے نہ آئیں۔

اس لئے مسجد کی جماعت میں شریک ہونا لازم ہے ۔ بلا عذر دوسری جماعت مسجد میں کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔اگر اذان وجماعت کے وقت کچھ لوگ موجود ہی نہ تھے ۔ مثلاً بس اڈہ کی مسجد کہ کچھ لوگ بعد میں پہنچے ۔ ان کے لئے اجازت ہے کہ مسجد کی اصل حصہ سے باہر مثلاً صحن میں یا حمام میں دوسری جماعت کریں ۔ یہ لوگ چونکہ اذان اور جماعتِ اول کے وقت موجود ہی نہ تھے اس لئے یہ جماعت اوّل کے تارک قرار نہیں پائیں گے۔ہاں جو لوگ

گھروں میں یا دکانوں پر موجود ہوں اور پھر بھی جماعت اول میں بلا عذر شامل نہ ہوئے وہ ضرور اللہ کی اس نداء سے اعراض کرنے والے ہیں ۔ جس حمام میں نماز پڑھنے کی ممانعت احادیث سے ثابت ہے وہ حمام مساجد کاحمام نہیں بلکہ یہ وہ حمام ہے جو صرف غسل کرنے اور سردی کے امراض کے علاج کے لئے بنایا جاتاہے ۔ جہاں مختلف لوگ کافی دیر تک گرم پانی میں غسل کرتے رہتے ہیں پھر اسی جگہ گرم پتھروں پر اپنے بدن کو حرارت پہنچاتے ہیں جہاں ایک طرف کچھ لوگ غسل کرتے ہیں اوروہیں دوسری طرف کچھ لوگ گرم پتھروں پر بیٹھ کر نماز پڑھیں اس حمام میں نماز منع ہے۔ ہماری مساجد کا حمام دراصل صفہ ہے اس پر نماز درست ہے  ۔

: ۱-اگر کسی شخص نے مجبوراً اپنا  یا اپنی بیوی کو Family Palaning  آپریشن کیا ہے ۔ کیا وہ دائمی امام بن سکتاہے یا امام صاحب کی عدم موجودگی میں نماز پڑھاسکتاہے جبکہ یہ شخص قرآن وحدیث کا علم جاننے والا ہو۔

ج:۲-کیا مذکورہ شخص مسجد کے اندر صفِ اول میںبیٹھ سکتاہے جبکہ کچھ لوگ یہ کہتے کہ ایسے شخص کے لئے مسجد میں آخری صف  میں بیٹھنا ضروری ہے ۔

ج:۳-کیا مذکورہ شخص اذان دے سکتاہے اور جانور ذبح بھی کرسکتاہے ۔

ج:۴-اگرکوئی امام اعلانیہ مسجد کے اندر غیر اللہ کا نعرہ بلند کرے ۔ کیا اس امام کے پیچھے نمازپڑھنا شریعت کی روسے جائز ہے یا نہیں ؟

فاروق ابن حاجی ایم مقبول

نس بندی اورامامت:چند اہم شرعی مسائل

پ:۱-اگر کسی شخص نے واقعی مجبوری اور اطباء کے حکم سے زوجہ کی جان بچانے کی بناء پر نس بندی کرائی ہو تو چونکہ ایسی صورت میں شریعت خاتون کی جان بچانے کی غرض سے نس بندی کی اجازت دیتی ہے اس لئے یہ شخص مستقل امام بن سکتاہے اور اس کی امامت درست ہے لیکن اگر کسی شخص نے بغیر کسی مجبوری کے صرف بچے کم کرنے اور اس دور کے چلے ہوئے نعرے کہ کم بچے اور معیاری زندگی سے متاثر ہوکر نس بندی کی ہو تو اس شخص کا نس بندی کرانا حرام ہے ۔ایسے شخص کو مستقل امام ہرگز نہیں بنایا جاسکتا۔ شریعت کا ایک اصول یہ ہے کہ جو شخص کسی گناہ ِ کبیرہ کامرتکب ہواُس کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے ۔ ہاں مقرر امام اگر موجودنہ ہوتو وقتی طور پر اُس کے پیچھے نمازپڑھی جاسکتی ہے ۔ اس سلسلے میں حدیث کی متعدد کتابوں میں یہ ارشادِ رسول ؐموجود ہے ۔ترجمہ : تم ہر نیک اور برے کے پیچھے نماز ادا کرلینا ۔ اس ارشاد مبارک کا تعلق اسی قسم کی صورتحال سے ہے ۔

پ:۲-نس بندی چاہے مجبوری میں کرائی گئی ہو یا بلامجبوری کے دونوں صورتوں میں ایسا شخص صف اول میں یقینا بیٹھ سکتاہے ۔ اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔

پ:۳-ایسا شخص اگر جانور ذبح کرے تو اس کاذبح کرنا بھی درست ہے ۔ اس میں کوئی کراہت نہیں ہے۔

پ:۴-اللہ کے علاوہ کسی اور پکارنا شرک ہے ۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے ۔ترجمہ : اس شخص سے زیادہ گمراہ اور کون ہے جو اللہ کے علاوہ کسی اور کوپکارے ۔

انسان کی ضروریات پورا کرنا ،مشکلات دورکرنا،مسائل کا حل صرف اللہ کے قبضہ ٔ قدرت میں ہے۔اس لئے غلط اورفاسد عقائد کی اصلاح کرنا ضروری ہے ۔ اگر امام اصلاح کرے تو بہتر ورنہ شخص امامت کا اہل نہیں ۔

-----------------------------------------------

ج:۱- آج کل کشمیر میں کسی مریض ہمسایہ ، رشتہ دار یا دوست کی عیادت  کے لئے جاتے وقت نقدی ، پھل یا بیکری وغیرہ بطور تحفہ ساتھ لے جانے کا رواج چل پڑاہے اور خالی ہاتھ جانا باعث ننگ وعار سمجھاجانے لگاہے ۔ کیا ایسا خیال شرعی طور درست ہے ؟

ج:۲-اگر کسی ہمسایہ ، رشتہ دار یا دوست کے ہاں شادی بیاہ کے موقع پر ناچ نغمے ، بے پردہ خواتین کا گانا بجانا اور ضیافتوں کا غیر ضروری اور غیر شرعی اہتمام ہوتوکیا اس دعوت میں حاضر ہونا درست ہے ۔ اگر غیر حاضر رہیں تو گھمنڈ ، تکبر اور قطع رحمی کا الزام لگنے کا اندیشہ ہے ۔

ج:۳-۔تقلید کا لفظی معنی کیا ہے ؟ تقلید کیا ضروری کرتی ہے جب کہ غیر مقلد کہتے ہیں ۔ تقلید ضروری نہیں۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں مطلع کریں ۔ ہمارے لئے کیا ضروری ہے ؟

یکے از نمازی … مسجد تقویٰ،بارہمولہ

عیادت کیلئے تحائف لے جانا

پ:۱- رسم کی بنیاد پر کوئی رقم یا نقدی کے علاوہ کوئی پھل، میوہ یا تحفہ دینا کوئی اجر وثواب کا عمل نہیں ہے۔ شرعاً ہدیہ وہ چیز ہے جو انسان اپنی خواہش اور دل کی رضا سے صرف محبت کی بناء پر دوسرے کو دے اور واپس کسی چیز کے ملنے کی نہ چا ہت نہ لالچ اور ہدیہ لینے والا بھی اپنے ذمہ اس ہدیہ کا عوض دینا لازم نہ سمجھے ۔

ہمارے معاشرے میں شادی کی تقریبات ، بچے کی ولادت ، امتحان میں پاس ہونے اور اس طرح کے دوسرے مواقع پر جو ہدایا اور تحائف دئے جاتے ہیں ان میں شرعی طور پر متعدد خرابیاں ہیں ۔ اس لئے سب سے بہتر یہ ہے کہ لین دین کے اس غیر شرعی طریقے سے بچ کر تقریبات میں شرکت ہو اور اسی طرح عیادت بھی ہو اور مبارک بادی بھی ہو ۔ اگر کچھ دیا جائے تو خلوص کی بناء پر دوسروں سے چھپا کر واپسی کی اُمید کے بغیر اپنی مالی وسعت کے مطابق دیا جائے۔

شرعی منکرات کی حامل دعوت میں شرکت

پ:۲-جس دعوت پر شرعی منکرات ہوں اُس دعوت میں شریک ہونا سنت کجا گناہ ہے ۔ اگر قرابت داری کے تقاضہ یا صلہ رحمی کے جذبہ سے شرکت کرنی پڑے تو ان منکرا ت سے اپنے آپ کو بچانا بھی ضرورت ہے ۔ جیسے کوئی دوامضر ہوتو اس کے مضراثرات کا تدارک کرنے کا اہتمام کرنے کے بعد اس دوائی کا استعمال کرنا چاہئے ۔ اسی طرح اس مسئلہ میں بھی یہی حکم ہے ۔

پ:۳-تقلید کی حقیقت ،ضرورت ،افادیت وغقرہ کے لئے یہ کتابیں پڑھیں ۔ الکلام المفسر از مولانا سرفراز خان ،تقلید کی شرعی حیثیت از مولانا محمد تقی عثمانی ۔

ج: ۱-کیا غیر مسلم کے لئے دعائے خیر کرنا جائز ہے ؟

ج:۲-ہمارے یہاں ایک علاقے میں ایک شخص کا انتقال ہوا ۔ چونکہ جامع مسجد وہاں سے کافی دورتھی اور وہاں کی محلہ مسجد میں جمعہ کی نماز قائم نہیں ہوتی تھی ۔لہٰذا میت کا نماز جنازہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ہوا ۔ تب کچھ لوگ جمعہ کی نماز اداکرنے کے لئے جامع مسجد (جووہاں سے کافی دور تھی)پہنچے تو کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ جمعہ کی نمازمحلہ کی مسجد اداکرسکتے ہیں لیکن مکمل طور جمعہ قائم نہیں ہوگا تو کچھ لوگوں نے نمازِ جمعہ ادا کی اور کچھ نے نہیں کی ۔ اس بارے میںکیا حکم ہے ۔کیا ایک جمعہ ادا کرسکتے ہیں ؟

محمد عرفان۔۔۔۔۔بیولی ڈوڈہ

غیرمسلم کیلئے دعائے خیر کرنا درست

پ:۱-دعائوں میں سب سے بہتر ، سب سے زیادہ دُوررَس اثرات کی دعا ہدایت کی دعا ہے۔ یہ ہدایت مل گئی توسب کچھ مل گیا ۔

اس لئے جیسے اپنے لئے ہدایت کی دعاہر نماز کی ہررکعت میں منگوائی گئی اس سے ہدایت کی ضرورت اور اہمیت واضح ہوتی ہے ۔ اس لئے غیر مسلم کے لئے ہدایت کی دعا مانگنا درست ہے بلکہ سنت ہے ۔ چنانچہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت یہ دعا مانگی ۔یاا للہ میری قوم کو ہدایت دے دیجئے وہ مجھے اور میرے دین کو جانتے نہیں ہیں ۔

وقتی طور نمازِ جمعہ قائم کرنے کا مسئلہ

پ:۲-جہاںنماز جمعہ کی شرائط نہ پائی جائیں وہاںجمعہ پڑھنا درست نہیں ۔ اس لئے جن لوگوں نے اس جگہ جمعہ پڑھا جہاں ادائیگی جمعہ صحیح نہیں اُن کا جمعہ ادا نہیں ہوا۔ ان کو نمازِ ظہر کا اعادہ کرنا لازم ہے ۔ نماز جمعہ کی شرائط جہاں نہ پائی جائیں وہاں نماز ظہر اداکرنا لازم ہے محض جنازے کی وجہ سے وہاں جمعہ نہیں پڑھ سکتے ۔لہٰذا جن لوگوں نے جمعہ پڑھا وہ ظہرکا اعادہ کریں۔جن لوگوں نے ظہر پڑھی ان کی نمازِ ظہر ادا ہوگئی لیکن جن لوگوں نے نہ جمعہ پڑھا نہ ظہر پڑھی اُن پر نماز ظہر کی ادائیگی لازم ہے ۔جیسے ہرنماز فرض ہے ۔نماز کی فرضیت کے متعلق حضورؐ نے ارشادفرمایاکہ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان فرق نماز ہی کاہے ۔ ایک حدیث میںارشاد ہے : جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کردی اُس نے کفر کیا ۔اسی لئے بعض اماموں کا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص عمداًنماز ترک کرتاہوں وہ کافر ہے اور وہ سخت سزا کا مستحق ہے ۔

گری پڑی رقم کا صحیح استعمال

ج:تقریباً چھ ماہ پہلے میں نے ایک سڑک پر سے ایک بڑی رقم اٹھائی ۔ چند دنوں کے انتظار کے بعد جب کوئی بھی مالک نہ نکلا تو میںنے  مسجدوں میں اعلان کرایا ،اس پر  بھی کوئی مالک سامنے نہ آیا تو اخبار میں مشتہر کروایا لیکن آج تک کوئی بھی مالک نہیں نکلا۔اب بہت سی فلاحی تنظیمیں جو کہ بیوائوں، یتیموں وغیرہ کی مدد کرتے ہیں ، مجھے یہ رقم انہیں دینے کی ترغیب دے رہے ہیں لیکن مجھے کچھ نہیں سوجھتا کہ میں کس طرح یہ رقم صرف کروں ۔ یہ رقم اپنے پاس رکھنے میں خیر نہیں سمجھتاہوں ۔ آپ سے التماس ہے کہ مجھے تفصیل سے بتائیں کہ یہ رقم کس طرح میں خرچ کروں ۔  

      جی ایچ بٹ …کپوارہ

پ:اس رقم کو شریعت میں لُفطہ کہتے ہیں یعنی جس کا مالک معلوم نہ ہو وہ رقم لفطہ کہلاتی ہے ۔ لفطہ کا حکم یہ ہے کہ اگر اصل مالک نہ ملے تو غریبوں میں یہ رقم صدقہ کی نیت سے تقسیم کردی جائے اور یہ نیت کریں کہ اس صدقہ کا ثواب اس رقم کے مالک کو پہنچ جائے ۔ اس رقم کے صدقہ کا اصل ثواب تو رقم کے مالک کو ہوگااور جن ہاتھوں سے یہ صدقہ ہوگا اُسے بھی ضرور اس کا ثواب حاصل ہوگاکہ اس شخص نے اس رقم کو اپنی ذات پر خرچ نہیں کیا بلکہ شرعی حکم معلوم کرکے اس پر عمل کیا اور یہ کہ ہاتھ میں آئی ہوئی رقم کو حکم شریعت کی بناء پر صدقہ کرنے کے لئے اپنے آپ کوتیار کیا ۔ اس پر لازماً مستحقِ اجرہوں گے ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By