GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
لاجپت نگر بم دھماکہ کیس
دو کشمیری بری

نیو زڈیسک
نئی دلی //16سال کے بعد دلی ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے لاچپت نگر بم دھماکے میں ملوث قرار دیئے گئے 2کشمیری نوجوانوں کو الزامات سے بری کر دیا جبکہ ایک نوجوان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیااور ایک کشمیری کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی گئی ۔جسٹس ایس رویندرا بھٹ اور جی پی متل پر مشتمل دلی ہائی کورٹ کے ڈویژنل بنچ کے سامنے لاجپت نگر میں1996میں ہوئے دھماکے سے متعلق کیس کی حتمی سماعت ہوئی۔ اس کیس میں مجرم ٹھہرائے گئے4افراد کی طرف سے اپیلوں کو دائر کرنے کے بعدعدالت عالیہ نے اس سلسلے میں200صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں محمد نوشاد ساکن دلی کو دی گئی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے احکامات صادر کئے۔ جبکہ کیس میں مجرم ٹھہرائے گئے مرزا نثار حسین ساکن فتح کدل اور محمد علی بٹ ساکن حسن آباد ، جنہیں ٹرائیل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی کو الزام سے بری کردیا۔تاہم عدالت نے جاوید احمد خان ساکن نائو پورخانیار کی عمر قید کی سزا برقرار کھی ۔ڈویژن بنچ نے دلی پولیس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ وہ ثبوت فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی اور جو ثبوت پیش کئے گئے اور اس کیس کے بارے میں جو تحقیقات سامنے لائی گئی اسے ظاہر ہوتا ہے کہ دلی پولیس نے اس اہم معاملے کو سر سری انداز میں لیا ہے۔ عدالت نے پولیس پر غیر مناسب طریقہ اختیار کرنے کے بارے میں مزید کہا کہ کم سے کم ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا نہ ہی شناختی پریڈ کی گئی ،اہم شاہدین کا بیان قلمبند نہیں کیا گیا اور کیس سے متعلق سب سے اہم چیز اس کیس کے اندراج سے متعلق دہلی ڈائری بھی نہیں پیش کی گئی ۔عدالت نے پولیس کی جانب سے پیش کئے گئے ثبوت اور وکلا کے ٹھوس دلائل کے بعد اس بات کا حکم دیا کہ محمد علی بٹ اور مرزا نثار حسین کو رہا کیا جائے جبکہ دلی کے رہنے والے محمد نوشاد کی پھانسی کی سزا کو عمرقید میں تبدیل کیا جائے ۔اس کے علاوہ ایک اور کشمیری جاوید احمد خان کی عمر قید کی سزا کو عدالت نے برقرار رکھا ۔21مئی 1996کو لاچپت نگر مارکیٹ میں بلاسٹ ہونے کے بعد دلی پولیس نے مختلف اوقات میں دس افراد کو گرفتار کیا ۔ سٹی کورٹ نے 2010میں کیس میں گرفتار کئے گئے 6افراد کو براہ راست مجرم ٹھہرایا جبکہ محمد نوشاد ، محمد علی بٹ اور مرز ا نثار حسین کو سزائے موت کا حقدار قرار دیا جبکہ جاوید احمد خان کو عمر قیدسنائی گئی ۔باقی دو فارو ق احمد خان ساکن دیلگام اسلام آباد اور فریدہ بہن جی کو بھی ملوث قرار دیکر بالترتیب 7سال اور 4سال 2ماہ کی سزا سنائی گئی ۔اس کے علاوہ دلی پولیس نے اس کیس میں لطیف احمد وازہ ساکن نوا کدل ،عبدالغنی گونی ساکن کشتواڑ،محمد مقبول شاہ ساکن لال بازار،مرزا افتخار کو بھی ملوث قرار دیا تھا ۔لطیف احمد وازہ کو 10سال کی قید سنائی گئی اور وہ اس وقت راجستھان کے بارہ بنکی جیل میں16سال سے بند ہے ۔اس کے علاوہ ان کے ساتھ فاروق احمد خان اور عبدالغنی گونی بھی قید ہیں ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ لاجپت نگر بم دھماکے میں تیرہ افراد کی ہلاکت ہوئی تھی جس کے بعد دلی پولیس نے کورٹ میں چالان پیش کیا ۔اور ان افراد کیخلاف جرم ثابت کرنے کیلئے 201گواہوں کے نام بھی منسلک کئے ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By