GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
2008میں اتحاد ہوتا تو پی ڈی پی کا نام نہ ہوتا
این سی کانگریس 2014میں بھی انتخابات مل کر لڑیں گے: عمر

بانڈی پورہ// وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے نیشنل، کانگریس اتحاد کوقدرتی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ دونوں پارٹیاں اگلے اسمبلی انتخابات مل کر لڑ رہی ہیں ۔  ایم ایل سی انتخابات کو 2014 کے انتخابات کی بنیادقرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این سی اور کانگریس ان انتخابات سے ہی اسمبلی نتخابات کی تیاریوں کا آغاز کر رہی ہیں ۔ سابق وزیر مملکت عثمان مجید کی سرکاری رہائش گاہ پر منعقد جلسہ عام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر 2008کے اسمبلی انتخابات کانگریس نے الگ سے نہ لڑے ہوتے تو آج پی ڈی پی کا وجود بھی نہیں ہوتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک مخصوص پارٹی کے کارکن پنچوں اور سرپنچوں کو دھمکانے کے لئے جنگجوگروپوں کے نقلی پوسٹر چسپا ں کرنے میں پیش پیش ہیں ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ نہ تو جھوٹ کے پاوں ہوتے ہیں اور نہ مکاری سے کوئی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ مخلوط سرکار کے دور میں اب تک سرحد پار سے 580سے زیادہ نوجوان اپنے گھروں کو لوٹ آئے۔ وزیراعلیٰ نے اپوزیشن جماعت پی ڈی پی کی جم کر خبر لیتے ہوئے کہا کہ اس پارٹی کا وجود ہی جھوٹ پر مبنی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی لیڈران بات کا بھتنگڑ بنا کر چھوٹے سے کام کی بھی خوب تشہیر دیتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ہم سستی شہرت کے خواہاں نہیں اسی لئے کوئی بڑا کام بھی کرے تو گلی گلی گاوں گاوں ڈھنڈورہ نہیں پیٹتے ۔ عمر عبداللہ نے دونوں پارٹیوں کے درمیان قریبی تال میل کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں پارٹیوں کے لیڈران ریاست میں برابری کی بنیاد پر ترقیاتی اور بحالی امن کے عمل کو آگے لے جاسکتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اگر 2008کے اسمبلی انتخابات کانگریس نے الگ سے نہ لڑے ہوتے تو آج پی ڈی پی کاوجود بھی نہ ہوتا۔ انہوں نے پنچوں اور سرپنچوں پر زور دیا کہ وہ پنچایتی اداروں کی مضبوطی اور دیہی علاقوں کی بہبودی کے لئے اپنے ووٹ کا استعمال صرف اور صرف نیشنل کانفرنس اور کانگریس امیدواروں کے حق میں کریں ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس کا قریبی تال میل نہ صر ف ریاست بلکہ ملک کے وسیع تر مفاد میں بھی ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ بھائی چارے ، برابری ، ترقی اور پائیدار امن کی بحالی کے حوالے سے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ایک جیسے اصول ہیں۔ اس موقعہ پر وزیر اعلیٰ نے کسی پارٹی کا نام لئے بغیر کہا کہ کچھ لوگ جنگجووں کے نقلی پوسٹر چسپاں کرواکے پنچوں اور سرپنچوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں ۔ بانڈی پورہ، سمبل اور سوپور میں پنچوں اور سرپنچوں کے علیحدہ علیحدہ اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پنچایتی انتخابات کرانے کا بنیادی مقصد لوگوں کو بنیادی سطح پر با اختیار بنانا تھا اور اسی جذبے کے تحت ریاستی سرکار نے پنچایتی راج ایکٹ کو موثر بنانے کیلئے اہم اقدامات اٹھائے۔ وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ علی محمد ڈار اور غلام نبی مونگا صرف ڈاکٹر فاروق یا میرے امیدوار نہیں بلکہ وہ دونوں راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کے امیدوار بھی ہے اور اسی بنیاد پر ہم تمام پنچوں اور سرپنچوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے قیمتی ووٹ کااستعمال ان امیدواروں کے حق میں ہی کریں۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر عثمان مجید نے پنچایت ممبران سے اپیل کی کہ وہ مخلوط سرکار کے امیدواروں کو ہی ووٹ دیں۔مجید نے  وزیر اعلیٰ سے  اپیل کی کہ وہ  بانڈی پورہ حلقہ انتخاب میں  تعمیر و ترقی کے کام پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ یہ علاقہ عدم ترجمانی کا شکار ہے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By