GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
آ زادی ٔ اظہار۔۔۔۔ ۲
منشور ہے اسلام کا پر چم ہے یہ قرآ ن کا

حریت فکر کیاہے:-اس کے لیے ہمیں حریت اورفکردونوںتصورات کا مفہوم متعین کرناہوگا۔کتب لغت کے مطابق فکرکسی معاملہ میں نظریاخیال کو عمل میں لانے کوکہتے ہیںیعنی فکرکسی چیز کی معرفت کے لیے حرکت ِذہنی سے عبارت ہے ۔قرآن میں فکروتفکرکا زیادہ تراستعمال آیات اللہ اورخلق اللہ کے سلسلہ میں آیاہے ۔فرمایا:سی طرح اللہ تعالی اپنے احکام صاف صاف تمہارے لئے بیان فرمارہاہے ،تاکہ تم سوچ سمجھ سکو۔(البقرہ: 219) اورجوآسمانوںاورزمین کی پیدائش میں غوروفکرکرتے ہیںاورکہتے ہیں اے ہمارے پروردگار!تونے یہ بے فائدہ نہیں بنایا،توپاک ہے ۔آل عمران : 191)۔ زمخشری کہتے ہیں کہ حریت :اللہ کی آیات میں ذہن کو حرکت میں لاناتاکہ اس کے وجوداوراس کی صفات کی حقیقت تک رسائی ہو۔ بعدکے علماء ومفکرین اس کودوسرے لفظوںمیں ’’معلوم سے مجھول کی طرف جانے کے لیے حرکت ِ ذہنی سے ‘‘تعبیرکرتے ہیں۔اسی کیفی مفہوم کو الفاظ کے اختلاف مگرمفہوم میں کسی قدریکسانیت کے ساتھ ابن سینا(متوفی428  ھ)، امام فخرالدین رازی ؒ(متوفی606)،ابن خلدونؒ(متوفی808) اور سیدشریف جرجانیؒ (متوفی 816ھ)وغیرہ نے بیان کیاہے ۔
حرعربی زبان میں فعل کریم ( شریفانہ طرزعمل  ) حرۃ الکریمۃ من النساء (معززخاتون )الحرمن الناس خیارہم وافاضلہم (اچھے اورنیک لوگ)کوکہتے ہیں ۔عرب آزادی وحریت کو انسانی شرف اوررق وغلامی کو ننگ وعارسمجھتے تھے ۔ڈاکٹرالدرینی نے حریت کی تعریف یوںکی ہے : وہ عمومی صلاحیت جو شارع نے تمام انسانوںکو برابردی ہے اورکوئی بھی کام کرنے کا اختیاردیاہے ،بشرطیکہ دوسرے کونقصان نہ پہنچایاجائے ‘‘۔مغربی مفکرین میں جان اسٹیوارٹ مل کی تعریف بھی اسی سے ملتی جلتی ہے البتہ اس میں ظاہرہے کہ شارع کا حوالہ نہیں ہے ۔البتہ کانٹ نے اپنی تعریف میں حریت کو قانون اخلاقی کا پابندبنایاہے ۔صوفیاء میں جرجانی نے اس کی تعریف یوںکی ہے کہ وہ ’’کائنات کی غلامی سے نکلنا اوراس کی اشیاء سے اپناناطہ توڑلیناہے ،سے کی ہے ۔علامہ اقبال کے فلسفہ خودی میںبھی اس عارفانہ تعریف کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

وجہ کیاہے کہ اسلام میں حریت فکر کو اتنی اہمت دی ہے ؟اس کا جواب یہ ہے کہ انسانی معاشرہ کا تاریخی و نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ جس طرح انسان ایک مل جل کر رہنے والی مخلوق ہے(ابن خلدون کے الفاظ میں مدنی الطبع اور ارسطو کے الفاظ میں ایک Social Animalہے) اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان خود ایک عالم اصغرہے۔ ہر انسان اپنا ایک الگ وجود رکھتا ہے، وہ اپنی جگہ خود ایک چھوٹی سی دنیا ہے، اس کی اپنی ایک ایک رائے ہے، اپنی انفرادیت ہے۔ شرعی احکام کابھی اصلاو اولا مخاطب فرد ہی ہے۔خدا کے یہاں بھی فردہی جواب دہ ہوگا۔ اجتماع بھی اصل میں فرد کے تزکیہ کے لئے ہوتا ہے۔ گویا جس طرح انسان کی اجتماعیت پسندی ایک واقعہ ہے اسی طرح انسانی طبعیتوں اور ورجحانات کا اختلاف بھی زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ فکر وخیال کی بوقلمونی ہی دنیا کو زیب دیتی ہے۔ گویا اختلاف سے مفر نہیں۔ وہ معاشرہ کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ کے مختلف پہلو سامنے آجاتے ہیں۔ انسان کے فکر و خیال کو مہمیز ملتی ہے۔ تفکر کی صلاحیت بیدار ہوتی ہے۔ ذہن تخلیق کی طرف مائل ہوتا ہے یعنی اختلاف انسانی معاشرہ کا ایک وصف بھی ہے اور ارتقاء کے لئے ناگزیر ضرورت بھی۔اسی لئے دیکھا جاتا ہے کہ انسان کی فکری تاریخ میں ہمیشہ اختلاف رائے رہا ہے، ہر نسل پچھلی نسل سے اختلاف کرتی آئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف اپنے آداب و حدود کے اندر رہے تو ناپسندیدہ نہیں۔ اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اختلاف رائے کی آڑ میں خودرائی، ذاتی انا، شخصیت پرستی، عصبیت اور پارٹی بندی کے مہلک جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں اور اختلاف مخالفت میں بدل جاتا ہے اور فساد کا باعث بنتا ہے۔ تاہم فکرونظرکی آزادی کا اسلامی تصورمغرب کی طرح بے قیدآزادی کا تصورنہیں ہے ۔اس کو بعض اصولوںکی پابندی کرنی ہوگی:

(۱)-اورگالی مت دوان کوجن کی یہ لوگ اللہ کوچھوڑکرعبادت کرتے ہیں کیونکہ پھروہ براہ جہل حدسے گزرکراللہ تعالی کی شان میں گستاخی کریں گے۔(الانعام :108 )کے مصداق دوسرے مذاہب اورافکارپر لعن طعن والے انداز میں تنقیددرست نہ ہوگی ۔نہ ان کے مذہبی پیشوائوںاورمسلمہ شخصیات کی اہانت کی جائے گی ۔اس میں فکرونظرکی آزادی کا اسلامی تصورمغربی تصورآزادی سے مختلف ہوجاتاہے۔

(۲)-حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے ،بلکہ حتی الامکان دوسروںکے لیے عذرتلاش کیاجائے ۔اہل سنت کے یہاں متفق علیہ ہے کہ ’’اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔‘‘(شرح عقائد نسفی اور شرح عقیدہ طحاویہ) کسی کی تکفیر تبھی کی جا سکتی ہے جب وہ اسلامی عقائد کا منکر ہو، توحید و رسالت کو نہ مانے اور ضروریات دین کا انکار کرے۔ جو لوگ اس زمرے میں نہیں آتے بلکہ اہل ایمان اور دین کے وفادار ہیں ان کی جزوی غلطیوں اور بعض اختلافی آراء یا اجتہادی تفردات کے باعث ان کی تکفیر نہیں کی جاسکتی۔ محض بعض ایسی عبارتوں کے سبب جن کی توجیہ کی جا سکتی ہے کسی کی تکفیر کرنا اتنی سنگین بات ہے کہ وہ خدا و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت کا مستحق بنادیتی ہے اور امت کے اکابر اہل علم اس معاملہ میں بہت حساس رہے ہیں۔ علامہ ابن عابدین شامی ؒ فرماتے ہیں:

              ’’اگر کسی مسئلہ میں کئی وجوہ موجب تکفیر ہوں اور ایک وجہ مانع تکفیر ہو تو مفتی کے لئے ضروری  ہے کہ مسلمان کے ساتھ حسن ظن رکھتے ہوئے اس وجہ کی طرف اپنا میلان ظاہر کردے جس سے تکفیر کی نفی ہوتی ہو۔‘‘اسی طرح امام ملا علی القاری حنفیؒ شرح فقہ اکبر میں تکفیر مسلم پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’علماء نے مسئلہ متعلقہ بالکفر کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ کلمہ ٔ کفر  کے ننانوے احتمالات کفر کے ہوں اور ایک احتمال نفی کفر کا تو قاضی ومفتی کے لئے بہتر یہ ہے کہ کفر کی نفی وا لے احتمال پرعمل کرے کیونکہ ہزار کافروں کے کفر میں غلطی کرنابھی اس سے بہترہے کہ ایک مسلمان کو کافر قرار دے دیا جائے۔‘‘(دیکھیں:شرح عقود رسم المفتی:۹۲)

(۳)-علمی گفتگومیں نیتوں پر حملہ کرنے اوراکسی کے اخلاص پر سوالیہ نشان کھڑاکرنے کی قطعی گنجائش نہ ہوگی ۔

(۴)-ذاتیات پر کیچڑنہ اچھالی جائے ،اختلاف رائے کرتے ہوئے الاماشاء  اللہ ہی کوئی اس سے بچ پاتاہے ۔

(۵)-فتویٰ اورمناظرہ کی زبان استعمال نہ کی جائے کہ اس سے ہمیشہ الٹانتیجہ ہی برامدہوتاہے ۔

-(۶)دلیل وہ معتبرہوگی جوفریقین کے نزدیک مسلمہ ہو امام شاطبی لکھتے ہیں: اگردلیل فریق ثانی کے نزدیک نزاعی ہوتووہ اس کے نزدیک دلیل ہی نہ ہوگی اس دلیل کو پیش کرنابے کارہوگاکہ اس سے نہ کوئی فائدہ ہوگااورکوئی مقصدحاصل ہوگا۔

یہ واضح رہنا چاہیے کہ اختلاف رائے ہر حال میں مذموم نہیں بلکہ اپنے حدود میں رہے تو یہ ایک محمود اور مفید عمل بن جاتا ہے، اس سے آدمی کی تنقیدی اور تخلیقی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں۔ اختلاف امتی رحمۃ  کو فقہاء و علماء عام طور پر حدیث کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن یہ حدیث محدثین کے ہاں ضعیف ہے بلکہ موضوع ہے ۔البتہ اگر اسے ایک حکیمانہ مقولہ کے طور پر لیا جائے تو وہ اس کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اختلاف ایک مثبت او رایجابی عمل ہے۔ لٰہٰذا تعمیر پر منتج ہوتا ہے تخریب پر نہیں۔(اختلاف رائے کے آداب وشرائط کے سلسلہ میں ڈاکٹرطٰہٰ جابرعلوانی کی کتاب ادب الاختلاف فی الاسلام ملاحظہ کی جائے)۔

اعلان واظہار کی رائے کی آزادی صحت مند معاشرہ کے لئے بہت ضروری ہے جب یہ آزادی حاصل ہوگی تو مخالف رائے بھی سامنے آئے گی ، شکوک و شبہات کا مقابلہ ہوگا۔ دلیل و برہان کی قوت جس رائے کو حاصل ہوگی وہی برقرار رہے گی باقی خود ساقط ہو جائیں گی۔ اسلام میں استبداد کی کوئی گنجائش نہیں،پھروہ سیاسی استبداد ہو یا علمی و فکری کیونکہ وہ آزادی رائے کا گلا گھونٹ کر امت کو لکیر کا فقیر بنا ڈالتاہے۔ آپ جمہورکی سندسے یاسلف کی آڑمیں یااجماع کا حوالہ دے کرکسی ایسی رائے کو ظاہرکرنے سے نہیں روک سکتے جوقرآن وسنت کے حدود میں ہو۔ائمہ اربعہ اورمسالک اربعہ کو تاریخ میں جواحترام اور اعتبار ملا ہے وہ ان کے تلامذہ کی علمی جدوجہداورعظیم خدمات کا رہین منت ہے اورغالی متعصب مقلدین کوچھوڑکرجوہر مسلک میں موجود ہمیشہ موجودرہے ہیں ، محققین کا مسلک ان کے بارے میںبھی کبھی بھی یہ نہیں رہاکہ آنکھ بندکرکے ان کی تقلیدکی جائے ۔امام دارالہجرت حضرت امام مالکؒ نے جب خلیفہ منصورکو اس بات سے روکاتھاکہ موطاکوسرکاری قانون بنادیاجائے توان کے ذہن میں یہی نکتہ تھاجس کا انہوںنے خلیفہ سے اظہاربھی کیا۔کہ صحابہ ؓ سے استفادہ کرنے والے تابعین اوران کے تلامذہ مختلف ممالک وامصارمیں پھیل گئے ہیں اورلوگ مختلف انداز میں عمل کررہے ہیں ،کسی ایک فقہ کا ان کو پابندبنادینے سے فکرونظراورتحقیق پر ِضرب پڑے گی جو مجھے گوارا نہیں۔ خود ان ائمہ کرام سے اس کے بارے میں جواقوال منقول ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتے ہیںکہ یہ ائمہ خودفکرونظرکی آزادی کا زبردست اہتمام کرتے تھے۔چودھویں ہجری کے مشہورمالکی فقیہ محمدالحجوی نے ائمہ اربعہ کی تقلیدپر روشنی ڈالتے ہوئے کیااچھی بات لکھی ہے ۔کہتے ہیں: شعرانی ’’الدرالمنثور‘‘ میں لکھتے ہیں کہ
’’ہم کوسلف میں سے کسی سے بھی یہ بات نہیں پہنچی کہ وہ کسی متعین مذہب کے پابندہوئے ہوں۔اگرانہوںنے ایساکیابھی ہوتاتوغلط ہوتاکہ ایسی صورت میںاس حدیث پران کاعمل چھوٹ جاتاجسے اس مجتہدنے اختیار نہیں کیایاوہ اس تک نہیں پہنچی، جس کے اتباع کاانہوںنے اپنے کو پابند بنا لیا ہوتا۔فقہ اسلامی درحقیقت تمام مجتہدین کی آراء کے مجموعہ کانام ہے کسی ایک کے اجتہادکانہیں۔نہ اللہ نے کسی مذہب معین کاالتزام کسی پرفرض کیاہے نہ کسی ایک کومعصوم قراردیاہے۔پھراس کا وجوب کہاںسے ثابت ہوگیا؟‘‘

پھریہ بھی حقیقت ہے کہ ہراہل مذہب نے (بہت سے معاملات میں) اپنے ا مام کے قول کو چھوڑ کریاتوان کے شاگردوںکی رائے اپنائی ہے یاکسی دوسرے مذہب کے قول کوتسلیم کیاہے۔ کوئی امام ایسا نہیں جس کے کسی قول پرتنقیدنہ کی گئی ہویاکوئی سنت اس پرمخفی نہ رہ گئی ہویااستدلال میںغلطی نہ ہوئی ہو اوران کے مسلک کوکمزورنہ قراردیاگیاہو۔برصغیرمیں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کی شخصیت ایک ایسے سنگم کی ہے جہاں اہل سنت کے بیشترفرقے اورمسالک آکرجمع ہوجاتے ہیں ۔انہوں نے جمودفکرکو توڑا،لوگوںکو یہ حوصلہ اور فکرونظرکی یہ تربیت دی کہ اپنے اسلاف سے اختلاف کرناسیکھیں ۔یہ بات بالکل واضح ہے کہ شاہ صاحب عملاًقہ حنفی کے پیروتھے لیکن فکری طور پر وہ جامد مقلدنہ تھے ۔بلکہ فقہ حنفی وشافعی میں زیادہ سے زیادہ تقارب چاہتے تھے۔ اپنا طریقہ یوں بیان کیا ہے:

’’ فروع میں ہم علما کے متفق علیہ مسئلہ کو لیتے ہیں خاص کر حنفی و شافعی مسلک کے اتفاق کو کہ یہ عظیم فرقے ہیں اور وہ بھی طہارت و نماز کے سلسلہ میں خصوصا ۔اگر اتفاق نہ حاصل ہو اور علما مختلف ہوں تو پھر جس مسئلہ کی تائید ظاہر حدیث سے ہوتی ہے ،ہم اسے اختیار کرتے ہیں ۔ ہم علما میں سے کسی کی بھی اہانت نہیں کرتے کہ سبھی حق کے طالب ہیں البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کسی کے لئے عصمت کا اعتقاد نہیں رکھتے۔‘‘

شاہ صاحب کی تحریر وں میں ایسی طرح کی متعدد عبارتیں ملتی ہیں ۔وہ مذاہب اربعہ مروجہ سے باہر نکلنا پسند نہیں فرماتے لیکن صحیح حدیث کی موجودگی میں پھر کسی مسلک یا امام کی رائے سے اختلاف کو صحیح قراردیتے ہیں اور طالبان علوم نبوت سے بھی اسی رویہ کی توقع رکھتے ہیں۔وہ عوام کے لئے تقلید کو معقول اور فطری سمجھتے ہیں لیکن شرائط اجتہاد پر پورے اترنے والے اہل علم کے لیے تقلیدجامد کارویہ دوست قرار نہیں دیتے۔

 تبدیلی ٔ مذہب اوراسلام :-آزادیٔ فکرونظرسے گہرائی کے ساتھ جڑاایک مسئلہ تبدیلی ٔ مذہب اوراسلام کا بھی ہے ،جس میں لازمی طورپر ارتداد کی سزابھی زیربحث آتی ہے ۔فقہ اسلامی اورعام اسلامی لٹریچرمیں بالعموم اس کو مان لیاگیاہے کہ مرتدکی سزامطلقاقتل ہے ۔اس کی تفصیل میں آزادوغلام اورمردوعورت کے سلسلہ میں مذاہب ِ فقہ میں تھوڑابہت اختلاف پایاجاتاہے تاہم اکثریت کا اتفاق اسی پرہے ۔عام طورپر اس پر اجماع نقل کیاجاتاہے مگرراقم خاکسارکو اسے اجماع ماننے میں اس لئے تامل ہے کہ بقول طٰہٰ جابرعلوانی قرآن میں تقریباً 200آیات ایسی ہیںجوعقیدہ ومذہب کی آزادی پر دلالت کرتی ہیں اورافقہ الصحابہ حضرت عمرفاروق ؓکے علاوہ صدراول کے ہی دوبڑے اماموںاورجلیل القدر فقیہوں امام ابراہیم نخعی اورامام سفیان ثوری کا ارتدادکی سزامیںاختلاف منقول ہے۔چنانچہ امام نخعی مرتدکے بارے میںکہتے ہیں: - یستتاب ابدا و لایقتل(مصنف عبدالرزاق 10/166)اوراسی کی تائیدمیں سفیان ثوری کہتے ہیں: ہذاالذی ناخذ بھ ۔

 اس کے علاوہ خود عہدرسالت ؐاورعہدراشدی ؓکے کئی واقعات ملتے ہیں کہ عام مرتدوں(جومحارب نہ تھے ) کوقتل کی سزانہیں دی گئی ۔ لہٰذاجوروایات قتل مرتدکے بارے میں آئی ہیں ان کی توجیہ کرنی ہوگی کہ وہ سب محاربہ کے کیسز تھے ،خالی تبدیلی ٔ مذہب کے معاملات نہ تھے ۔اس کی تائیداس سے بھی ہوتی ہے کہ ابتداء میں تبدیلی ٔ مذہب کی سزا دراصل اس سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے متعین کی گئی تھی جس کے مطابق اعداء دین اوربالخصوص یہودی قوتوںنے اپنے لوگوںکواس پرآمادہ کیاتھاکہ صبح کو اسلام قبول کرواورشام کواس سے پھرجاؤتاکہ مسلم معاشرہ میں اضطراب کی کیفیت پیداہوجائے ،جیساکہ قرآن سے بھی معلوم ہوتاہے ۔اس خیال کا اظہارکئی عرب علماء واسکالروںنے کیاہے ۔ڈاکٹریوسف قرضاوی نے اپنی کتاب فقہ الاولویات میں لکھاہے کہ ارتدادکی دوقسمیں ہیں۔ ارتدادصامت (خاموش) اور ارتداد مجاہر داعی ( وہ ارتدادجس کی ا علانیہ دعوت دی جارہی ہو)۔ ظاہرہے کہ یہ محاربہ ہی کی ایک قسم ہوگی ۔علامہ محمدرشیدرضانے قتل ِمرتدپر اجماع کے دعوی کو اس لئے غلط دیااورلہٰذاقتل مرتدسے اختلاف کیاہے کہ ان کی رائے میں یہ (مزعومہ ) اجماع صریح نص قرآن: دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں (البقرہ : 256)سے متصادم ہے ۔موجودہ زمانہ میں اس پر نظرثانی کے لیے پروفیسرنجات اللہ صدیقی کی دلیل یہ ہے : آزادی ٔ ضمیراوراپنی پسندکا مذہب اختیارکرنے یاناپسندی کی صورت میں مذہب چھوڑنے کا مسئلہ بڑی اہمیت اختیارکرگیاہے ۔آج دنیاکے ہرملک میں مسلمان موجودہیں ۔ شاذو نادر کو چھوڑکران تمام ملکوںمیں انہیں اپنے مذہبی آداب ورسوم کے ساتھ رہنے اوراپنے مذہب کی تبلیغ کی آزادی حاصل ہے ۔مغربی ممالک سے مسلسل نئے لوگوں کے اسلام قبول کرنے کی خبریں آتی رہتی ہیں ۔یہ کیسے ہوسکتاہے کہ جوآزادی مسلمان غیرمسلم اکثریت کے ممالک میں عزیز رکھتے ہوں ان سے مسلم اکثریت والے ممالک کے غیرمسلموںکو محروم رکھاجائے ۔عدل وانصاف کا تقاضاہے کہ دہرے معیاراختیارنہ کیے جائیس۔یہ مسئلہ غیر مسلموں کے تعلق سے تواہمیت کا حامل ہے ہی خودمسلم معاشروںمیں اس کی اہمیت یہ ہے کہ بعض مسلمانوںکی حدسے بڑھی ہوئی مذہبی جذباتیت ارتدادکے نام پران کو فوری تشدداورقتل وخون پر آمادہ کرڈالتی ہے۔کسی کے بارے میں معلوم ہواکہ وہ کسی مسئلہ میں جمہورکی رائے سے بلکہ صحیح لفظوںمیں مقبول ِعام رائے سے الگ ہے ۔بعض عجلت پسندعلمااس کے خلاف ارتدادکا فتویٰ جلدی سے دے ڈالتے ہیںاوراس کے قتل یامعاشرہ سے کھدیڑدیے جانے یااس کے خلاف غلط افواہوںکا بازارگرم کردینے کی راہ ہموارہوجاتی ہے۔اس لئے راقم کی نظرمیں ارتدادکا مسئلہ مسلم علماودانشوروںکی طرف سے بحث ومباحثہ اوراس پر نئی رائے بنانے کا متقاضی ہے۔

صدراسلام میں جو اتنے سارے فقہی اورکلامی مذاہب نظرآتے ہیں اور ائمہ اوراہل علم کے بہت سے حلقے نظرآتے ہیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے ہاں فکرونظرکی آزادی کا زبردست احترام واہتمام تھا ۔وہ آپس میں ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے توایک دوسرے کے خیالات پر بغیرکسی ترددکے کھلی تنقیدبھی کرتے تھے ۔ان کے ہاں کسی امام کی رائے یافتوی کو تقدیس کا درجہ حاصل نہیں تھا اورنہ ایسی کلیت پسندی تھی کہ بس میراطریقہ ، میراقول اورمیرامسلک ہی حق اوردوسروںکا غلط والی بات ہوتی۔امام شافعی نے اس زمانہ کی عمومی فضاء کی ترجمانی یوںفرمائی ہے ۔رائناصواب یحتمل الخطاء ورائی غیرناخطاء یحتمل الصواب ،ومن جاء بافضل من قولناقبلناہ (ہماری رائے درست ہے مگراس میں غلطی کا احتمال ہے اوردوسروںکی رائے غلط ہے مگراس میں صحت کا احتمال ہے )۔یہ قول تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ حنفی امام علامہ علاء الدین حصکفی کی طرف بھی منسوب ہے۔ سوال یہ ہے کہ صدیوںتک اسلام پوری دنیاکا ہرمیدان میں امام بنارہا۔اس کا سیاسی وعسکری زوال تو ابھی کل کی بات ہے (یادرہے کہ عثمانی ترکوںکی فوجیں 1782میں ویاناکے دروازوںپر دستک دے رہی تھیں)اجتہاداورتخلیقی روح ہر میدان میں جاری رہی اوراس کے بعدجودورزوال شروع ہواتو رکنے کا نام نہیں لیتااورآج بھی ہم اس کے گرداب سے نکل نہیں پائے ہیں،ایساکیوںہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ صدیوںتک اورخاص کرصدراسلام میں اجتہاداورتخلیقی عمل اس لئے جاری رہاکہ اس وقت تنقیدواختلاف اوراظہاررائے کی کھلی آزادی تھی ۔امام محمدؒامام ابوحنیفہ ؒکے شاگردہیں اورفقہ حنفی کے اساطین میں سے ہیں مگراپنے استاذ سے نہ صرف فروع میں بلکہ اصول میں بھی سینکڑوںمسائل میں اختلاف کیا،سبکیؒ نے ان کے بارے میں لکھاہے : فانہمایخالفان اصول صاحبہما،طبقات الشافعیہ1/243امام الحرمین الجوینیؒ کہتے ہیںکہ ان دونوںنے مسلک حنفی کے 2/3حصہ میں امام ابوحنیفہ سے اختلاف کیااورامام شافعی کا قول اختیارکیاہے مگربعدکی صدیوںمیں اس صورت حال کا خاتمہ ہوگیااوراکابرپرستی اورشخصیتوںکی تقدیس شروع ہوگئی جس نے اظہاررائے اورتنقیدواختلاف کو ایک امرممنوع بناکررکھ دیا۔

اسلامی تاریخ کے غائر مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ امت میں پہلا بگاڑسیاست کے راستہ سے آیا۔ملوکیت نے اپنے مقاصدکے حصول کے لئے پاپائیت اورمشائخیت کو رواج دیاجوملوکیت کو گویاسندجواز عطاکرتے تھے ۔ان تینوںنے مل کر استبدادکی وہ فضاء برپاکی کہ آزادی فکر ونظر اوراجتہادکا خاتمہ ہوگیا۔رہی سہی کسرعجمی تصوف نے پوری کردی جس میں پیری کا ساراکاروبار مریدکی فکری وذہنی سرکوبی پر قائم ہوتاتھا۔علماء وفقہاء کے حلقوںکی حالت رفتہ رفتہ وہ ہوگئی جس کو قرآن نے :ہرگروہ جوکچھ اس کے پاس ہے اسی پراترارہاہے (المومنون:53 )سے تعبیرکیاہے۔اپنے پسندیدہ مسالک کے لئے غلو،تعصب اوراندھی تقلیدکی لے یہا ں تک بڑھی کہ کہنے والوںنے یہ تک کہہ ڈالاکہ ہمارے اصحاب کے خلاف جوبھی قرآن کی آیت ہے یاحدیث ہے اس میں تاویل کی جائے گی یااس کو منسوخ ماناجائے گا۔

 امت مسلمہ کی علمی و فکری تاریخ اختلاف فکر و نظر کی تاریخ ہے، جب تک یہ اختلاف اپنی حدود میں رہا علمی تحقیق و تفحص اور فکری اجتہاد کا سفر بھی جاری رہا اور اس سے زبردست فوائد حاصل ہوئے لیکن جہاں وہ مذہبی و مسلکی تعصب میں بدل گیا اور گروپ بندی کی شکل میں ظاہر ہوا وہیں اس کے بھیانک نتائج نکلے۔ بہتیری بار ایسا ہوا کہ جیتی ہوئی بازی محض باہمی تفرقہ کے باعث شکست میں بدل گئی۔ کتنی ہی بار یہ ہوا کہ مخالف قوتیں اپنے لاؤلشکر اور بے پناہ وسائل کے باوجود میدان نہ مار سکیں لیکن امت کے کسی معمولی اختلاف نے انہیں فتح تک پہنچا دیا۔ جب امت مسلمہ کا دور عروج تھاتب بھی بارہا اختلاف و انتشار کی ہوائیں چلیں اور امت کو زبردست نقصانات اٹھانے پڑے۔ تاہم جلد ہی امتی روح عود کر آئی اور ان پر قابو پا لیا گیا لیکن ہمارے صدیوں پر محیط دور زوال میںاختلاف وانتشار کی وبا پوری شدت کے ساتھ امت کے جسم میں سرایت کر گئی حتیٰ کہ ایسے وقتوں میں بھی جب اسے اتحاد و اتفاق کی سب سے زیادہ ضرورت تھی مخالفت و افتراق کے مظاہر سب سے زیادہ نظر آئے ۔ جب چنگیز خان ایک قیامت صغری بن کر عالم اسلام کو تہہ و بالا کر رہا تھا اس وقت بھی امت کے سیاسی و مذہبی رہنما اور قائدین اپنے داخلی مناقشوں اور فرقہ وارانہ نزاعات کے چکر میں پھنسے ہوئے تھے۔ جب ہلاکو خاں کی خون آشام فوجیں بغداد کے دروازہ پر دستک دے رہی تھیں اس وقت بھی و ہاں کے علماء و فقہا اور امراء چوک’’المامون‘‘ پر جمع ہو کر مذہبی مناظروں کے دنگل دیکھا کرتے تھے۔ آج بھی ہم عالم اسلام پر نظر دوڑائیں تو کم وبیش یہی صورت حال دکھائی دے گی جس میں برصغیر کے اندر اور مزید شدت پائی جاتی ہے اور غیروں کی تمام تر چیرہ دستیوں کے باوجود ہم کسی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔

کاسمولیٹن فقہ کا تصور:جہاں تک آزادی اورفقہ اسلامی میں اس کی تطبیق کا مسئلہ ہے تواس سلسلہ میں راقم کے خیال میں برصغیرکے علماء کی اکثریت جموداورتنگ نظری کی شکارہے ۔یہاں بہت سے لوگ اپنے اپنے مسلک کے حصارمیں بندہیں اوراس سے باہرنکلنے کے لئے تیارنہیں ہوتے ۔بعض لوگوںکے خیال میں تواتنی شدت ہے کہ جب مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمیؒ نے اسلامی فقہ اسلامی اکیڈمی کے تحت فقہی سیمیناروںکا سلسلہ شروع کیاتوبعض حضرات نے اس کو فقہ حنفی کا جنازہ نکالنے سے تعبیرکیاتھا تاہم بعض جرأت مندانہ رائیں بھی اس خیال کی پائی جاتی ہیں کہ موجودہ زمانہ ،اس کے چیلنجوں،تقاضوںاورضروریات کی پیچیدگی اتنی شدیدہے کہ اب محض ایک ہی مسلک میں مقیدرہنے سے کام چلنے والانہیں ہے ۔اب یہ کرناہوگاکہ مختلف مسالک کی رایوںمیں تقابل اورترجیچ دے کرزیادہ قرین مصلحت رائے کواختیارکیاجائے ،خواہ وہ کسی بھی مسلک کی ہو۔اس فکرکے اولین نقوش توخودبعض علماء کے ہاں مل جاتے ہیں مگرمحموداحمدغازی نے اس تصورکو منضبط انداز میں پیش کیاہے اوراپنی تحریروںمیں مختلف مقامات پر اس نکتہ کواٹھایاہے ۔وہ کہتے ہیں:

 ’’دنیائے اسلام کے لوگوں نے ایک دوسرے سے استفادہ شروع کیا۔ ایران کے تجربات سے پاکستان نے فائدہ اٹھایا۔ پاکستان سے سوڈان نے استفادہ کیا۔ سعودی عرب سے مصر نے استفادہ کیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فقہی مسالک کی جو حدود تھیں وہ ایک ایک کرکے دھندلانے لگیں۔ اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا ئے اسلام میں باہمی مشاورت اور اشتراک عمل سے یہ اجتہادی کام کیا جارہا ہے۔ اسی اجتماعی اجتہاد کے نتیجہ میں فقہی مسالک کی حدود مٹ رہی ہیں۔ ایک نئی فقہ وجود میں آرہی ہے جس کو نہ حنفی فقہ کہ سکتے ہیں نہ مالکی، نہ حنبلی، نہ جعفری بلکہ اس کواسلامی فقہ ہی کہا جائے گا۔ میں اس کے لئے Cosmopolitan Fiqh  یعنی عالمی یا ہر دیسی فقہ کی اصطلاح استعمال کرتا ہوں۔ 

موجودہ زمانہ میں ایک طرح کی Mobocracyپیداہوگئی ہے ۔اب لوگوںکی بھیڑجوکہلواناچاہتی ہے وہی علماوقائدین بھی کہنے لگتے ہیںیعنی عوام کی من پسندغزلیں سنانابالکل عام مظہرہے اورایسے ہی لوگوںکو عوام میں مقبولیت ملتی ہے اوراگرکسی نے کسی ایشوپر حق بات کہنے کی جرأت کی جس سے ہماری ملی اناکوچوٹ لگی فوراہم اس کو یہودی سازش کے خانہ میں ڈال دیتے یادشمنوںکا ایجنٹ قراردے ڈالتے ہیں۔ یہ طریقہ غلط بھی ہے اوراسلام میں فکرونظرکی جوآزادی ہے اس کا گلاگھونٹ دینے والاہے۔یادرہے کہ موجودہ دنیامیں ان مذاہب وافکاراورنظریات کے لئے کوئی جگہ نہیں جوفکرونظرکی اس آزادی پر کسی بھی حوالہ سے قدغن لگاتے ہیں۔   

مقالہ کی سفارشات:اس مقالہ کے آخرمیں اسلام میں فکرونظرکی آزادی کے پس منظرمیں یہ سفارش کرنی مناسب ہے کہ:

(۱)علماء ودانشوروںاوراسکالروںکے درمیان اسلامی حدودمیں رہتے ہوئے اظہاررائے کا رواج ہوناچاہیے۔ان کے مابین تنقیدکی کھلی آزادی ہوکہ اس کے بغیرلوگوںمیں صدیوںسے چلے آرہے ذہنی جمودکا ٹوٹناممکن نہیں ۔

(۲)اوراظہاررائے نیز تنقیدکی کھلی آزادی دینے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگاکہ ہمارے درمیان خصوصااورمسلم معاشرہ میں عمومابرداشت اورتحمل کا رویہ فروغ پانا چاہیے ۔ برداشت کے اسی رویہ سے وہ ماحول برامدہوگاجس میں اختلاف رائے کے باوجود وحدت امت کا تصورزندہ رہے اورجب تک یہ دونوںچیزیں نہیں ہوتیںکوئی بڑاکام بھی نہیں کیاجاسکتا۔

(۳)عالمی فقہ یاکاسموپولٹین فقہ کے تصورکو بحث ومباحثہ کا موضوع بنایا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ آزادپیشہ مصنف ،مترجم وصحافی اورڈائرکٹرفاؤنڈیشن فاراسلامک اسٹڈیز
C-303/3شاہین باغ جامعہ نگرنئی دہلی 110025

ای میل : mohammad.ghitreef@gmail.com

      ghitreef1@yahoo.com

(یہ مقالہ ـڈاکٹرذاکرحسین اسنٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز اوراسلامی فقہ اکیڈمی انڈیاکے اشتراک سے 11-12اکتوبر2012کوجامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں ’’اسلام میں فکرونظرکی آزادی اورفقہ اسلامی میں اس کی تطبیق ‘‘کے موضوع پرمنعقدہ دوروزہ قومی سیمنیارمیں پیش کیاگیا)

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By