GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
لبریشن فرنٹ کا سمینار
رفیق بن کر رقیب آ ئے فر یب دینے

مجھے نہیں معلوم کہ آیا میں کوئی مناسب اور موزوں شخص ہوں جو اُس موضو ع پر بات کرسکتا ہے جس کو بہ الفاظ دیگر دانشوروں کے فکر وعمل کا میدان تصور کیا جاتاہے ۔جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنمامحمد یٰسین ملک کے الفاظ میں انہیں (دانشوروں کو)بے نوائوں کومعرضِ اظہار کے لئے آواز فراہم کرنی چاہئے ۔ مجھے اپنی دروں بینی سے یہ معلوم پڑتاہے کہ میں دانشوروں کے زمرے میں نہیں آتاہوں جیسے کہ برسوں پہلے دو اہم بین الاقوامی مفکروں نوام چومسکی اور ایڈورڈسعیدنے تشریح کی ہے ۔

عصرحاضر کے کشمیر میں دانشوروں کے رول پر ایک سمینار بہ عنوان ’’کشمیر کے قیدی اور ہماری ذمہ داریاں ‘‘ منعقد ہوا جس کا اہتمام جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے مقتول ڈاکٹر عبدالاحد وانی پروفیسر آف انٹرنیشنل لاء کشمیریونیورسٹی کی یاد میں کیا تھا۔ سمینار کے فوری انعقاد کی وجہ یہ تھی کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے دوسرگرم عمل کارکنوں نذیراحمد شیخ اور شوکت احمد خان کوٹاڈا عدالت نے عمرقید کی سزاسنائی ہے ۔

سمینار میںکشمیر کی نمایاں شخصیات مورخ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال سے اعلیٰ پایۂ شاعر رحمان راہی تک مقررین میں شامل تھے ۔ بلاشبہ ڈائس پر یہ ادیبوں کی ایک کہکشاں تھی جس میں سے چند ایک نے ادب اور شاعری میں اعلیٰ انعامات حاصل کئے ہیں مگر صحیح معنوں میں کوئی فرانز فینان، جین پال سارترے یا اقبال احمد جیسا دانشور موجود نہیں تھاکیونکہ انہیں الجیریا کوآزاد ی دینے کے انکار پر اپنی آوازیں بلند کرنے پر یاد کیا جاتاہے ۔اسی طرح رابرٹ بیلی ، ڈیوڈ ریٹ، رابرٹ لاول ،گریس پیلی اور دیگر ادیبوں کا کوئی ہم پلہ موجود نہیں تھا جنہوں نے ویت نام کی جنگ کے خلاف امریکی ادیبوں کے جھنڈ ے تلے امریکی فوجیوں کی جانب سے روا رکھے گئے ظلم وستم پر اپنی آوازیں بلند کی تھیں ۔تاہم جموںکشمیرلبریشن فرنٹ نے مورخوں ، ادیبوں ، شاعروں ، ڈاکٹروں اورپیشہ وارانہ مہارت کے افرادکو ، جن کے مشاغل اورعقائد مختلف ہیں ، ایک ہی جگہ پر لاکر محبوسین کے بارے میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی اورجموںکشمیر لبریشن فرنٹ اور دیگر تنظیموں کے چند فعال اور متحرک کارکنوں کو عمر قید کی سزا سنائے جانے پر اپنے زبردست ردعمل کا اظہا رکیا۔ سمینار کا انعقاد منتظمین کی ایک بڑی کامیابی ہے۔سمینار میں بولتے ہوئے جموںکشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما نے چند اہم نکات کاتذکرہ کیا:-

۱- جدوجہد کشمیر اب اپنے آپ کو یتیم محسوس کررہی ہے ۔

۲- تحریک نے ،جس مباحثے کا تعین کیا تھا ،اس کواب اچھی حکمرانی کی جانب موڑد یا گیا ہے ۔

۳-نئی دلّی کو یہ تاثر مل رہاہے کہ کشمیریوں نے نفسیاتی طور پر شکست قبول کی ہے ۔

۴- 1994ء میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی انڈین سول سوسائٹی کے ساتھ مصروفیات اور ملاقاتیں اور اس کے فعال کارکنوں کو عمر قید کی سزا ؟

سمینار کے دوران جو نکات اُبھارے گئے وہ کم وبیش ایک حقیقت بیانی ہے۔ اگرچہ ہر نکتہ بجائے خود گہرائی اور گیرائی کے ساتھ تجزیہ کا تقاضا کرتاہے مگراس کے ساتھ ہی یہ کوئی چیستاں یا معمہ نہیں ہیں ۔حقیقت تو یہ ہے کہ جن عوامل کی وجہ سے موجودہ صورتحال پیدا ہوئی ہے اُن کی شروعات بہت پہلے ہوئی تھیں۔ کچھ لوگوں کو کثیر جماعتی اتحاد اور اس کے سمجھوتے کی دستاویزمیں تفرقہ انگیزی کے بیج نظر آرہے ہیں مگر کثیر جماعتی اتحاد کا 2002ء کا انقسام اس کا واضح اظہار تھا ۔ تواریخی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو رہنمائوں کی صفوں میں 1933ء سے ہی دھڑے بندی چلی آرہی ہے جس سے عوامی جدوجہد کو زبردست دھچکا لگاہے اور اس سے عوام کے مصائب وآلام میں اضافہ ہی ہوتا گیا ۔ کشمیری قیادت صرف1931ء میں ہی منظم تھی جس کا فوری فائدہ گلینسی کمیشن کی تقرری کی صورت میں سامنے آیا ۔ اس کے نتیجے میں سیاسی معنوں میں یہ فائدہ ملاکہ شاکی اور نالان اکثریت کو حکومت میں نمائندگی مل گئی ۔اس کے علاوہ صرف چند ماہ کے بعد ہی قیادت داخلی اور بیرون ریاست کی ریشہ دوانیوں کی شکار ہوگئی ۔قیادت میں گروہ بندی سے نہ صرف سیاسی جدوجہدکوہرمرحلے پر گزند پہنچی بلکہ سماج کا شیرازہ ہی بکھرگیااور یہ تنزل کی کھائیوں میں گرتی گئی اور شاید یہ ہماری سرشت اور خمیر میں سرایت کرگئی ہے ۔1993ء کے مابعد منظر نامے پر ایک کے بعد ایک دھچکا لگتا گیا اور یہ یقین کیا جارہا تھاکہ قیادت ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرے گی اور82سالہ پرانی سیاسی تحریک کو اپنے منطقی انجام تک پہنچادے گی ۔ مگر اس گھپ اندھیرے میں روشنی کی کرن کہیں نظر نہیں آرہی ہے ۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگاکہ یہ صرف تواریخی قوتیں ہیں جو اِن بے ہنگم اور بے سرو پا حالات میں کام کررہی ہیں اور شاید یہی ایک نئی قیادت کو سامنے لائیں گی۔

ملک صاحب نے جو نکات اُبھارے ان میں سے سب سے اہم اور  فوری توجہ کا طالب اور جو غالباً آنے والے مہینوں کے دوران سیاسی مباحثے پر غالب ہوگا   وہ ان کی اور دیگرجماعتوں کے سرگرم کارکنوں کوعمرقید کی سزا سنانے کا معاملہ ہے ۔ حق خودارادیت کے حصول کے لئے مولانا مسعودی کی قیادت میں 1965ء کی سول نافرمانی تحریک کی یاد تازہ کرتے  ہوئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنمائوں او رکارکنوں نے اپنے آپ کو گرفتار ی کے لئے پیش کیا اورجن 157افراد نے اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کیا اُن کا امتیاز اور خصوصیت یہ ہے کہ ان میں کچھ خواتین والنٹیربھی شامل تھیں ۔ اُن کے پارٹی کارکنوں کو عمر قید کی سزا سنانے کے بارے میں انہیں ایسا محسوس ہوتاہے کہ انڈین سول سوسائٹی کے چند سینئر ارکان نے ان سے دغابازی کی ہے ۔

1994ء میں انڈین سول سوسائٹی کے ایماء پر جے کے ایل ایف نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا ۔اس تنظیم نے ہتھیار چھوڑدئے اور عدم تشدد کی سیاسی تحریک شروع کی جس طرح موہن داس کرم چند گاندھی نے برطانیہ کے خلاف چلائی تھی ۔ قیادت کے بیان سے یہ مترشح ہوتاہے بندوق چھوڑد ینے کا فیصلہ اس زبانی مفاہمت کے بعد لیا گیا کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکنوں کو خوفزدہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں ہلاک جائے گا ۔ وہ کارکن جو جیلوں میں بند ہیں انہیں رہا کیا جائے گا اور وہ سیاسی کارکنوں کی حیثیت سے آزاد ہوں گے ۔یہ سچ ہے کہ اس ایفائے عہد پر عمل کرتے ہوئے اس کے کارکنوں کوضمانت پر رہا کیا گیا مگر اُن کے خلاف کیس واپس نہیں لئے گئے جیسا کہ ہونا چاہئے تھا۔

یہ سمجھنے کے لئے کہ نئی دہلی نے انڈین سول سوسائٹی کے ارکان کی خدمات حاصل کیوں کیں جن کی سرگرمیاں 1993ء اور 1994ء کے دوران بڑی شدت سے کشمیر کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر واقعات کی یاددلاتے ہیں؟ ان واقعات نے کس طرح ہندوستان کو نرم آپشنز پر غور کرنے پر مائل کیا ۔ پر ان چوپڑہ لکھتے ہیں ’’ہندوستان منطقی مغالطوں پر مبنی استدلال یا سادہ لوحی کی سفارتی اختراعیت میں حصہ نہیں لینا چاہتا تھا خواہ یہ امریکہ کی ہی ہو ۔ اس کے علاوہ یہ وہ وقت تھا جب متبادل حل کے طور پر نرم سرحد اور مشترکہ انتظام کے اشارات دیئے جاتے تھے۔ اس طرح کی اطلاعات بھی تھیں کہ حکومت ہند ریاست میں شورش کو فرد کرنے کے لئے پس پردہ کشمیری رہنمائوں کے ساتھ بات چیت میں مشغول ہے مگر انڈین سول سوسائٹی کچھ ارکان سب سے آگے تھے ۔

یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ کیا انڈین سول سوسائٹی کے ارکان نئی دہلی میں حکومت کے مشورے کے بغیر  آزادانہ طور پر کام کررہے تھے ؟ یا یہ کہ ریاست میں چھاپہ مار جنگ کے خاتمے کے لئے یہ ارکان مرکزی حکومت کے رحم دل چہرے کو ظاہر کررہے تھے ۔ بظاہر انڈین سول سوسائٹی کے ارکان پروفیسر خسرو سے لے کر کلدیپ نائر تک سبھی 1990ء کے عشرے کے دوران کشمیر کے دورے پر آتے رہے انہیں حکومت نے ہدایات دے رکھی تھیں۔ یہ ہدایات سادہ تھیں کہ بقول اُن کے مسلح شورش کا خاتمہ کیا جائے ۔ کلدیپ نائر نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ کس طرح نرسمہا رائو نے انہیںکشمیرکے معاملے میں ساتھ دینے پر راضی کیا اور اس بات کا سہرا اپنے سر لیاہے کہ انہوں نے کس طرح محمد یاسین ملک کو بندوق استعمال کرنے کی لایقینیت کے بارے میں مطمئن کیا ۔

(Beyond the Lines, Page: 343-344)

جنگ بندی کے عوض انڈین سول سوسائٹی کے ارکان اور جے کے ایل ایف کے درمیان کوئی رسمی معاہدہ نہیں ہوا تھامگر زبانی معاہدہ طے ہوا تھاکہ جے کے ایل ایف کے فعال کارکنوں کے خلاف 1994ء سے قبل دائر کئے گئے کیس واپس لئے جائیں ۔اس سلسلے میں (مرکزی)حکومت کی جانب سے کوئی اعلانیہ جاری نہیں کیا گیا جس میں یہ یقین دہانی کرائی گئی ہوتی کہ تنظیم جے کے ایل ایف کے زعماء اور کارکنوں کوپارٹی کے رہنما اور انڈین سول سوسائٹی کے ارکان کے درمیان طے پائے گئے زبانی معاہدے کی رو سے تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔ جے کے ایل ایف رہنما نے انڈین سول سوسائٹی کے ارکان اور بطور خاص کلدیپ نائر پر مکمل اعتماد کیا ۔ اُن کے حوالے سے ’’آپ کی ذات میں مجھے یقین ہے ‘‘۔

فوری طور اعتماد شکنی کی گئی جیسے کہ سمنترا بوس نے اپنی کتاب Kashmir Roots of Conflict میں لکھا ہے۔محمد یاسین ملک باقی بچے ہوئے جے کے ایل ایف کو مستقل  مزاجی سے استقامت نہیں بخش سکے او رجنگ بندی کے بعد اس گروپ کے تین سو فعال کارکن مارے گئے ۔ ملک(محمد یاسین ملک)کا حوالہ دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ ’’1994ء کے وسط سے ہندوستانی فو ج کی مسلسل کارروائیوں میں اُن کے ایک سو فعال کارکن مارے گئے۔‘‘(صفحہ نمبر:130)

یہ بات اپنی جگہ پر قائم ہے کہ اشتعال انگیزیوں کے باوجود جے کے ایل ایف اپنے فیصلے پر قائم رہی اور عدمِ تشدد کا راستہ اپنایا جس نے 2008ء کے دوران ایک مقام پایا ۔

اگرچہ جے کے ایل ایف کے لیڈروں اور انڈین سول سوسائٹی کے درمیان کوئی مفاہمت طے پائی ہے یا زبانی معاہدہ ہواہے تو یہ ایک اخلاقی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ (مرکزی)حکومت اپنے معاہدے کا احترام کرے۔

zahidgm@greaterkashmir.com

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By