GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
ہم لوگ
گفتار میں عالی کردار سے خالی

یہ واقعہ اُس زمانے کا ہے جب بغداد میں بایزید بُسطامی ؒکے کرامات کا چرچہ زوروں پر تھا، ہر خاص و عام کی نوک ِ زبان پر بایزیدؒ کا نام رہنا کوئی تعجب کی بات نہ تھی بلکہ لوگ حضرتؒ سے بات کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے اور عقیدت و محبت سے اُن کی بارگاہ میں نصحیت حاصل کر نے کے لئے حاضری دینے آتے تھے۔اُسی  زمانے میں بغداد کے اندر ایک بدنامِ زمانہ چور کے دونوں ہاتھ کاٹ کر اُس کے جسم سے اس وقت الگ کر دئے گئے جب کسی چوری میں اس پر لگاالزام ثابت ہوا لیکن تعجب اور حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ باوجوداپنے دونوں ہاتھ کھونے کے وہ چور ڈاکہ زنی سے باز نہ آیا ،پھر کیا تھا کہ چوری کرنے کی حد اُس کی بری لت اُس وقت پار ہوئی جب ایک روز رات کے اندھیرے میں وہ بایزید ؒ کے گھر میںان کو لوٹنے کی غرض سے وہاں گیا۔ بایزیدؒ  چونکہ خدا دوست تھے، اسی لئے رات گئے بھی عبادت میںمشغول تھے ۔آدھی رات کوایک انجان آدمی کو اندر داخل ہوتے ہی اندازہ کر لیا کہ چوری کی غرض سے آیا ہے لیکن بایزیدؒ کا عالیٰ کردار اور نیک بختی دیکھئے کہ بجائے غصہ ہونے کے وہ ایک شمع اُٹھا کر اُسی کمرے میں جہاں چور سر قہ لگارہا تھا،یہ کہہ کر شمع اس کے سامنے رکھ لی کہ تجھے اندھیرے میں کوئی مشکل درپیش نہ ہو ۔ پھر اُس نیک بخت خدا ولی کامل نے دودھ کا ایک پیالہ چور کی خدمت میں یہ کہہ کر پیش کیا کہ تو بھوکا ہو گا ۔ آ خر پربایزیدؒ خود چور کی مدد کی غرض سے اس کا گھر سے چرایا ہوا سامان باندھنے میں مصروف ہو گئے۔

جب بایزید بُسطامیؒ نے پورا سامان باندھ لیا تو کچھ خود اُٹھا لیا اورکچھ چور سے اُٹھا نے کو کہا ۔ وہ خود بھی چور کی مدد کی غرضسے چور کے ہمراہ چل پڑے ۔ جب دونوں چور کی قیام گاہ تک پہنچے تو بایزیدؒ نے سارا سامان چور کے حوالے کرکے واپسی کی راہ لی ۔ دوسرے دن صبح جب چور کا گزر بایزید ؒ کے یہاں سے ہوا تو وہاں لوگوں کی بھیڑ دیکھی تو چور نے ــــــ ’ چوری اُوپر سے سینہ زوری‘  کے مصداق کسی سے پوچھا کہ اِس بھیڑکی وجہ ؟  کہا گیا کہ یہاں چوری ہوئی ہے۔ چور نے پھر سوال کیا کہ یہ کس کا گھر ہے جواب میں کہا گیا کہ تجھے معلوم نہیں ،یہ وقت کے ولی اللہ حضرت بایزید بسطامی ؒ کا گھر ہے۔ یہ سن کر چور اندر ہی اندر نادم ہوا ۔ وہ گھر کے اندر داخل ہوا تواُس پُر اثر روحانی وجاہت والے شخص کے اردگرد لوگوں کا مجموعہ دیکھا جس نے چوری کے وقت اس کی مددکی تھی ۔حیران ہو کر کسی سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہے جس کے اردگرد لوگ جمع ہیں؟ جواب میں جب کہا گیا کہ یہ بایزیدبسطامیؒ ہیں ۔چور کے پائوں تلے زمین سرک گئی ، اُس کے پورے بدن میں کرنٹ دوڈ نے لگی اور مارے ندامت کے وہ پسینے پسینے ہو گیا ۔ا ُس کی زبان سے بے ساختہ نکل پڑا : اے خدا ! ایسے بھی تیرے بندے ہیں کیااس کے بعد چور نے چوری اور ڈاکہ زنی کے ساتھ ساتھ سارے بُرے کاموں سے توبہ کرکے بایزیدؒکی صحبت اختیار کی اور مسلمانِ صادق بن کر دکھایا۔ بایزید بسطامیؒ کا یہ کردار، نیک بختی اور حکمت ودانائی دیکھ کرداد دیجئے ۔ کیا ہم عصرحاضر کے مسلمان  ایسی کو ئی مثال قائم کر سکتے ہیں؟ ہم گفتارمیں عالی اور کردار سے خالی ہیں۔ گفتار میں اگرچہ ہم کسی سیاستداں سے کم نہیں مگر کردار ایسا کہ کافرتو کافر یہود وکذاب بھی ہم پر کف افسوس ملیں ۔ ہمیں دیکھ کر ہی دانائے راز ؒ نے بجا طور فر مایا تھا    ؎

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود        یہ مسلمان ہیں! جنہیں دیکھ کر شرمائے  یہود

ایک زمانہ تھا جب دنیا بھر میں ہم مسلمان اپنے نیک سلوک ، اعلیٰ کردار اور بھلی سیرت سے پہچا نے جاتے تھے لیکن آج حال یہ ہے کہ جہاں کہیںپر بھی دغا بازی ، بد سلوکی ، بدد یانتی اور بد کرداری کا ذکر آتا ہے ہم جیسے مسلمانوں کا نقشہ فورا ًذہن نشیں ہو جاتا ہے۔ ہمارے اس قابل رحم حالت پر افسوس اور واویلا کہ ہمارے اسلاف کا کردار اور حسن ِ عمل دیکھ کر جہاں لوگ مشرف بہ اسلام ہو جاتے تھے اوربت خانے دفعتاً عبادت خانوں میں تبدیل ہو جا یا کرتے تھے ، جہاںبایزید بسطامیؒ کی حکمت عملی اور کردار و نیک سیرت سے ایک بدنام زمانہ چور راہِ ہدایت پاگیا وہاں آج ہم مسلمانوں کو دیکھ کر انسان توخیر انسان ابلیس بھی عاجز اور تنگ آچکا ہے اور وہ ربّ کے حضورمیں فریاد ی ہے   ؎

اے خدا وند صواب و ناصواب        من شدم ازصحبت ِآدم خراب

اے خیر و شر کے مالک ربّ ذولجلال میں بنی آدم کی صحبت میں رہ کر خراب ہو چکا ہوں۔آدم کی اس صحبت نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا۔‘جہاں ابلیس کا حال یہ ہو جس کا وجود ناری ہے وہاں انسان کس کھیت کی مولی ۔ اب ذرا  غور و فکر اور تدبر سے کام لے کر سوچیں کیا آج کا ہم جیسا مسلمان کردار سے مسلمان ہے ؟ کیا ہمارے اندر وہ اوصاف ہیں جن کی بدولت ظلمت کدوں میں دین کی ضوفشانیاں ہوتی تھیں؟ نہیں! بلکہ آج ہم مسلمان تو گفتار کا غازی ہیںکردار کے نہیںاور جب تک پوری امت مسلمہ کے اندرگفتار کے بجائے وہ کردار پیدانہ ہو جس کے حامل صحابہ کرام ؓ ، اولیا ئے عظام ؒ اور تمام سلف صالحین تھے ، جب تک ہر ایک بایزید بسطامیؒ جیسا کردار اپنی رگ وپے میں پیدا نہ کرے تب تک مسلمانوں کی کامیابی کی کو ئی توقع نہیں اور نہ ہی مسلم معاشرے میں پھیلی ان بدیوں اور بُرایئوں کا ازالہ ممکن ہے جن سے آج دنیا بھر کے کلمہ خوان دوچار ہیں۔ 

رابطہ:-سیر جاگیر سوپور؛فون:9858464730

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By