GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
یخ بستہ ہوائوں میں گرم لہو بہانے کاحساب کون دے گا؟
انکوائری ہوئی نہ کسی کو سزا ملی ،سرکاری لیت و لعل پر حقوق کمیشن بھی برہم، بالآخر تحقیقات کا حکم

سرینگر//گائوکدل قتل عام کو 23سال گزر گئے لیکن آج تک اس قتل عام میں ملوث سی آر پی ایف یا پولیس کے کسی اہلکار کو سزادی گئی اور نہ ہی کوئی انکوائری ہوئی۔ پولیس نے کیس فائل بند کرکے ملوثین کو لاپتہ قرار دیا اور یوں آج تک اس کیس کا چالان بھی پیش ِعدالت نہیں کیا جاسکا۔ 22سال بعد ایک مقامی انسانی حقوق تنظیم انٹر نیشنل فورم فارجسٹس نے اس سانحہ کی تحقیقات کرانے کیلئے ریاستی انسانی حقوق کمیشن میں عرضی دائر کی۔ کمیشن نے پولیس سربراہ ،مرکزی و ریاستی داخلہ سیکریٹریوں ،صوبائی پولیس سربراہ اور سیول انتظامیہ کے نام نوٹس جاری کرکے انہیں واقعہ سے متعلق حقائق پرمبنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ۔کیس کی 8سماعتیں ہوئیں تاہم کسی بھی ایجنسی سے رپورٹ موصول نہ ہوئی جس کے بعد سرکاری ایجنسیوں کے رویہ سے تنگ آکر کمیشن نے آخر کار26دسمبر 2012کوکمیشن کی تحقیقاتی ونگ کے انچارج ایس پی کے ذریعے اس سانحہ کی خصوصی انکوائری کے احکامات صادر کردئے جو ہنوز جاری ہے جبکہ کیس کی اگلی سماعت26فروری کو مقرر ہے۔

گاؤکدل مقتل کیسے بنا؟

1990 جب ریاست میں عسکری تحریک اپنے جوبن پر تھی اور لوگوں کے جذبہ آزادی میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا تھا اور اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے نئی دلی نے جگموہن کو ریاست کا گورنر بنا کر بھیجا۔19جنوری کو نئی دلی نے جگموہن کو ریاست کا گورنر نامزد کیا اور ان کے نامزدگی کے صرف ایک روز بعد سی آر پی ایف کے ہاتھوں کشمیریوں کے قتل عام کا پہلا اور بڑا واقعہ پیش آیا۔اس واقعہ میں 52شہری ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔21جنوری 1990کو وادی میںسخت سردی تھی لیکن عسکری تحریک دن بدن گرم ہوتی جارہی تھی،اس روز موسم صاف تھا مگر کرفیو کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں سہمے ہوئے تھے اس دوران شہر کے پادشاہی باغ سے لوگوں نے ایک جلوس نکالا یہ جلوس جواہر نگر اور راجباغ سے ہوتے ہوئے گائو کدل پہنچ گیا۔دن کے دو بجے اس پرْامن جلو س پر سی آر پی ایف نے فائرنگ کر کے گائوکدل کو مقتل میں تبدیل کیا۔

چشم دید گواہ کیا کہتے ہیں؟

اس واقعہ کے ایک چشم دید گواہ اور سابق چیف انجینئر پی ایچ ای 60سالہ فاروق احمد وانی ولدحاجی محمد سلطان وانی ساکن7۔گرین لین راج باغ سرینگر واقعہ کی نسبت ایک چشم دید گواہ کی حیثیت سے تحریری بیان حلفی میں کہا ہے ’’21جنوری1991کومیں شہری آبادی کو واٹر ٹینکروں کے ذریعے پانی بہم پہنچانے کی خاطر کرفیو پاس حاصل کرنے کی خاطر صبح سویرے گھر سے ڈیوٹی پر نکلا۔شہر میں کرفیو کی وجہ سے مجھے جہانگیر چوک اور لالچوک میں کئی مقامات پر تعینات سی آر پی ایف اور کشمیر پولیس کے اہلکاروں نے ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی بلکہ مجھے گائوکدل کے راستے حبہ کدل کی جانب رواں دواںجلوس کے ساتھ چلنے کیلئے کہا‘‘۔فاروق احمد کامزید کہنا ہے’’میں گائوکدل پل پر تھا جب الیکٹرک ڈیوژن بسنت باغ میں تعینات سی آر پی ایف پکٹ نے جلوس پر بلا اشتعال اور بے جواز فائرنگ شروع کی،میں فوری طور پل پر لیٹ گیا تاکہ گولیوں سے بچ سکوں ،فائرنگ کا سلسلہ بند ہوا تومیں نے کھڑا ہونے کی سوچی تاہم کھڑا نہ ہوسکا کیونکہ میں نے ایک کانسٹیبل کو بندوق تانے کھڑا دیکھااور یوں میں لیٹے رہنے کو ہی ترجیح دی،میں نے سی آر پی ایف کمک کو پل پر آتے ہوئے دیکھااور ان پر فائرنگ کرکے دیکھا جو زخمی ہوئے تھے اور مدد کیلئے پکار رہے تھے تاہم مدد فراہم کرنے کی بجائے ان کے سروں پرگولیاں برسائی جارہی تھیں،میں یہ منظر دیکھ کر دم بخود ہوگیا اور اپنی سانسیں کچھ اس طرح روک لیں کہ جیسے میں مردہ ہوگیا تھاتاہم میرا سر کانگڑی سے گری آگ سے لگ رہا تھا جو ناقابل برداشت بنتا جارہاتھا،کچھ وقت تک میں نے گرمی کی شدت برداشت کی تاہم جب گرمی کی شدت ستانے لگے تو میں نے اپنا سرگھمایا،اس دوران جونہی ایک اہلکار نے مجھے زندہ دیکھا تواُس نے اپنے آفیسر سے کہا’’سر یہ آدمی زندہ ہے‘‘،مذکورہ آفیسر سٹین گن ہاتھ میں لئے میری طرف آیا اور مجھ پر نشانہ سادھ لیا،جونہی میں نے دیکھا کہ وہ مجھ پر نشانہ سادھ رہا ہے تو میں نے کھڑا ہوکر چلایا’’سر،خدا کیلئے مجھ پر گولی مت چلایئے ،میں ایک آفیسر ہوں اور سرکاری ڈیوٹی پر ہوں‘‘لیکن اس نے ایک نہ سنی اور مجھ پر چلایا’’سالا اسلام مانگتا ہے ،پاکستان مانگتا ہے ‘‘،مجھے لگا کہ وہ شاید انگریزی زبان نہیں سمجھ پایا ،اس لئے میں نے فوری طور ہندی میں بات کرتے ہوئے کہا’’بھگوان کیلئے مجھ پر گولی مت چلائو ،میں سرکاری ڈیوٹی پر ہوں‘‘تاہم اس آفیسر نے پرواہ نہ کی اور پوری بندوق مجھ پر خالی کردی،میں زمین پر گر پڑا اور خون میں نہلایا،اسی دوران چند منٹ کے بعد دوسرا آفیسر میرے پاس آیااور کہنے لگا’’سالا،تو مرانہیں،ابھی تو زندہ ہے؟‘‘،اس نے میرے سرپر بندوق تان لی ،ابھی وہ گولی چلانے ہی والا تھا کہ میں نے مجھ پر پہلے گولی چلانے والے آفیسر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ’’او،گولی ضائع مت کرو،یہ سالا مرے گا،اس کو میں نے بہت گولیاں ماری ہیں،اس کو مرنے دو ایسے ہی‘‘،یوں اس آفیسر نے اپنی بندوق واپس کھینچ لی تاہم جاتے جاتے سرپر لات مارتے ہوئے یہ کہہ گیا کہ’’مرو سالا‘‘۔اس دل دہلانے والے قتل عام کی یاد تازہ کرتے ہوئے فاروق کا مزید کہنا ہے’’تقریباً دس منٹ بعد انہوں نے ایک ٹرک لایااور لاشوں(جن کی تعداد 20سے زیادہ تھی)کو اس میں لادھ لیا،چونکہ میں ابھی بھی ہوش میں تھا تاہم گولیاں لگنے کی وجہ سے حرکت کرنے سے قاصر تھا،میں نے ایک سکھ اہلکار سے گزارش کی کہ وہ مجھے گھسیٹ کر ٹرک میں ڈال دیں،وہ دوڑتا ہوا آیا اور مجھے مفلر سے گھسیٹ کرٹرک میں ڈال دیا،ٹرک کا دروازہ بند کردیا گیا اور مجھ سمیت تمام لاشوں پر پردہ ڈال دیاگیااور اس کے بعد ٹرک روانہ کردی گئی،کچھ دیر بعدٹرک ایک جگہ رکی جہاں میں نے لوگوں کو کشمیری میں بات کرتے ہوئے سنا،اچانک ٹرک کا دروازہ کھولاگیا،پردہ ہٹالیاگیا،جونہی انہوں نے مجھے زندہ دیکھا تو میں اس وقت نیم ہوشی کی حالت میں تھا تاہم میں نے اسی حالت میں ہکلاتے ہوئے ان سے کہا کہ میں زندہ ہوں،خدا کیلئے مجھے ہسپتال لیجایئے ،ہوسکتا ہے کہ میں بچ سکوں،یہ پولیس کنٹرول روم تھا،انہوں نے فوری طور ڈاکٹر کو بلایا ،جس نے میری نبض پکڑ کر انہیں بتایا کہ یہ شخص واقعی زندہ ہے اور اسے فوری طور ہسپتال لیجایئے،مجھے جلدی صدر ہسپتال منتقل کیاگیاجہاں میرا آپریشن کیاگیااور شام گئے میرے ہوش بحال ہوئے،حواس میں آنے کے بعد میں نے ہسپتال عملہ سے کہا کہ وہ میرے گھر فون کرکے میرے افرادخانہ کو بلائیں،انہیں بلایاگیا اور وہ آگئے‘‘۔فاروق احمد مزید کہتے ہیں’’دوسرے دن مجھے برزلہ ہسپتال منتقل کیاگیا کیونکہ میری بازو میں گولی پیوست ہوچکی تھی اور دیگر کئی مقامات پر زخم لگے تھے ،اس ہسپتال میں میں تقریباً20دن رہاجہاں گولی نکالنے کے بعد میرا علاج ومعالجہ کیاگیا‘‘۔فاروق احمد شفایابی کے بعد ڈیوٹی جوائن کرنے کے بارے میں کہتے ہیں کہ’’میں نے جب ڈیوٹی دوبارہ جوائن کی تو گورنر جگموہن کے مشیر حمید اللہ خان نے مجھے اپنے پاس بلایااور انعام و مراعات کے علاوہ اس واقعہ کو میرے سروس بک میں ریکارڈ کرنے کا لالچ دیکر مجھے تسلی دینے لگے،میں نے موقعہ پر ان کی پیشکش ٹھکرا دی اور جواباً ان سے کہا کہ وہ ایک کشمیری ہونے کی حیثیت سے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہیں اور اس انسانیت سوز واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیکر اس میں ملوث آفیسران و اہلکاروں کی نشاندہی عمل میں لاکر انہیں کڑی سزا دلوائیںجنہوں نے اس قتل عام کے کے تمام ثبوت مٹانے کیلئے زخمیوں کو بھی نہ بخشا اور انہیں بھی گولیوں سے بھون ڈالا‘‘۔اس واقعہ میں مارے گئے ایک اور شہری علی محمد ڈارساکن ڈوم پورہ بسنت باغ سرینگرکے فرزند رئوف علی ڈار اپنے والد کی شہادت کے نسبت کہتے ہیں’’میرے والد پیشے سے ڈرائیور تھے اور وہ پولوویو ٹیکسی سٹینڈ سے ٹیکسی چلاتے تھے تاہم وہ گاڑی رات کو گھر لاتے تھے اور گھر کے باہر سڑک کنارے ہی رکھتے تھے،21جنوری 1990کو جب باہر کرفیو کے ہوتے ہوئے بھی نعرے بازی سنائے دینے لگی تومیرے والد اپنی گاڑی دیکھنے باہر نکلے تاہم اس دوران سی آر پی ایف اہلکاروں نے ان پر گولیاں چلائیں او وہ شدید زخمی ہوگئے،انہیں زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیاگیاجہاں وہ8فروری کو زخموں کی تاب نہ لاکر خالق حقیقی سے جاملے‘‘۔رئوف مزید کہتے ہیں’’والد کی ہلاکت کے بعد میری والدہ اور دوسرے رشتہ دار گورنر کے مشیر حمید اللہ خان اور گورنر جگموہن سے ملاقی ہوئے اور انہیں ایس آر او کے تحت معاوضہ دینے کا مطالبہ کیاتاہم دادرسی کہیں سے نہ ہوئی،اس کے بعد ننہال میں ہماری پرورش ہوئی لیکن آج تک انصاف نہ مل سکا حالا نکہ اس ہلاکت کی نسبت کرالہ کھڈ پولیس سٹیشن میں کیس زیر نمبر3/1990زیر دفعہ148،149،307اور188آر پی سی درج ہے تاہم نہ تحقیقات ہوئی اورنہ ہی متاثرین کوانصاف مل سکا ‘‘۔گائوکدل قتل عام کے ایک اور چشم دید گواہ بسنت باغ کے ارشد احمد بٹ کا کہنا ہے’’شہر میں کریک ڈاون اور گھر گھر تلاشیوں کے بعد کر فیو تھا،سول لائز سے ایک جلوس نکالا گیا جو گائو کدل پہنچتے پہنچتے ایک بڑے جلوس کی شکل اختیار کر گیا،جلوس میں شامل لوگ جوں ہی گائوکدل پل پار کر کے نئی سڑک کے قریب پہنچ گئے تو سی آر پی ایف اہلکاروں نے دونوں طرف سے فائرنگ شروع کی ‘‘۔اس قتل عام کے واقعہ کو دھراتے ہوئے ارشد کہتے ہیں’’ میں نے یہ منظر خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے،سی آر پی ایف اہلکاروں نے لوگوں پر براہ راست بندوق کے دھانے کھول دئے،کچھ لوگ موقعہ پر ہی ہلاک ہوئے اور کچھ زخمی حالت میں وہیں گر گئے ،یہ صورتحال تقریبا دس منٹ تک جاری رہی اس کے بعد سی آر پی ایف اہلکار گاڑیوں میں آگئے اور زخمیوں پر گولیاں چلائیں اتنا ہی نہیں انہوں نے لاشوں کے ساتھ بے حرمتی بھی کی ،باقی لوگ گلیوں اور کوچوں سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے‘‘۔ارشد کے مطابق ’’یہ جلیانوالہ باغ قتل عام کو دوسرا منظر تھا ،سی آر پی ایف نے پر امن لوگوں پر فائرنگ کی اور ایسا لگ رہا تھا کہ عام لوگوں کے قتل عام ایک منصوبہ بند طریقے سے کیا گیا کیونکہ پہلے لوگوں کو گائو کدل پْل پار کرنے کی اجازت دی گئی اور لوگوں نے جوں ہی پْل پار کیا اور کچھ نئی سڑک پہنچ گئے تو دونوں تک سے سی آر پی ایف اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کی‘‘۔

انصاف کا گلہ گھونٹا گیا

 آج اس قتل عام کے23برس مکمل ہوچکے ہیں تاہم آج تک اس قتل عام میں ملوث کسی بھی سی آر پی ایف یا پولیس اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی اس رات گائوکدل علاقہ میں تعینات کسی پولیس یا فورسزاہلکار کو سزادی گئی ۔گورنر انتظامیہ کے دوران انصاف کا گلہ گھونٹنے کی حد تو یہ تھی کہ اس قتل عام کی تحقیقات کیلئے انکوائری تک آرڈر نہ ہوئی جبکہ پولیس نے اس نسبت جو کیس درج کیاتھا،وہ بھی ان تاثرات کے ساتھ بند کردیا کہ ملوثین بازیاب نہ ہوسکے اور یوں کیس کا چالان بھی پیش ِ عدالت نہ ہوسکا۔

 حقوق کمیشن انکوائری

22برس بعد ایک مقامی انسانی حقوق تنظیم انٹر نیشنل فورم فار جسٹس کے چیئرمین محمد احسن انتو نے یکم مئی2012کو ریاستی انسانی حقوق کمیشن میں عرضی دائرکرکے قتل عام کی سرنو تحقیقات کامطالبہ کیا۔کمیشن نے پولیس سربراہ ،مرکزی و ریاستی داخلہ سیکریٹریوں ،صوبائی پولیس سربراہ اور سیول انتظامیہ کے نام نوٹس جاری کرکے انہیں واقعہ سے متعلق حقائق پرمبنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ۔کیس کی 8سماعتیں ہوئیں تاہم کسی بھی ایجنسی سے رپورٹ موصول نہ ہوئی جس کے بعد سرکاری ایجنسیوں کے رویہ سے تنگ آکر کمیشن نے آخر کار26دسمبر 2012کوکمیشن کی تحقیقاتی ونگ کے انچارج ایس پی کے ذریعے اس سانحہ کی خصوصی انکوائری کے احکامات صادر کردئے جو ہنوز جاری ہے جبکہ کیس کی اگلی سماعت26فروری کو مقرر ہے۔غور طلب ہے کہ کیس کے اہم ملزم اللہ بخش ،جو اس وقت پولیس کے ڈی ایس پی تھے اور اسی علاقہ میں تعینات تھے ،گزشتہ دنوں انتقال کرگئے ۔ انٹر نیشنل فورم فار جسٹس نے کمیشن کی انکوائری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری آفیسران کو کمیشن کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By