GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
کہاں ہے ہمارا بچپن؟


 حالیہ دنو ں دہلی سمیت ملک میں خواتین کے ساتھ جو کچھ ہو ا وہ کسی بھی طرح جائز نہیں کہلاسکتا ۔ اس پر جتنا  واویلا کیا جائے کم ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ پوردی دنیا میں خواتین اور بچوں کے حقوق کی بازیابی  کے لئے بے شمار سر کاری اور غیر سرکاری تنظیمیں کام کررہی ہیں ،یہاں تک کہ عالمی سطح پر ہرسال میں ان کے حقوق کے نام پر ایک ایک دن منایا جاتا ہے مگر عملاً ان کے حقوق کے ساتھ کیا کیا کھلواڑ کیا جاتا ہے ، وہ ساری کا رستانی دنیا کے سامنے وقتاً فوقتاًآتی ہی رہتی ہے۔ تازہ مثال دہلی میں ہونے والا اجتماعی ریپ کیس اور اس پر عوام و خواص کا غم وغصہ ہے ۔افسو س کا مقام ہے کہ بچوں کے ساتھ طرح طرح کی بد سلوکیاں کی جا تی ہیں ۔ کاغذ پر تو ان کے حقوق نہ صرف تسلیم کئے جاتے ہیںبلکہ ان کے نام بڑے بڑے پروگرام کئے جا تے ہیں جن پراربوں روپے کے اڑائے جاتے ہیں ،لیکن ان کے ساتھ سوسائٹی میں جو سلوک کیا جاتا ہے ان سے بچوں کو ذہنی کو فت اوراور جسمانی اذیتوں کا سامنا رہتا ہے ۔گائوں اور قصبوں سمیت ملک کے بڑے بڑے شہروں میں یہ معصوم بچے چھوٹی بڑی فیکٹریوں کارخانوں میں بد ترین استحصال کا شکار رہتے ہیں جب کہ گھریلو نوکروں کی حیثیت میں ان کی بڑی تعداد میں حیوانوں سے گئے گزرے سلوک کا تختۂ مشق بن جا تے ہیں ۔یہ عام گھروں کی بات ہی نہیں بلکہ بعض سیاسی نیتاؤں ، سماجی کارکنوں اور مذہبی رہنمائوں کے گھروں میں بھی ان کو  مصائب اور بے عزتی کے زخم سہنا پڑ تے ہیں ۔ انٹر نیشنل لیبرآرگنائزیشن کے ایک رپورٹ کے   مطابق اس وقت 5سے 17سال کی عمر کے تقریباً 215ملین بچے مختلف قسم کی مزدوری میں مشغول ہو کر اپنا پیٹ پال رہے ہیں ۔ہندوستان میں بچوں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی ایک معروف تنظیم’ سیو دی چلڈرن‘ کے مطابق "ہندوستان 12.6ملین بچہ مزدوروں کا ایسا گھر ہے جہاں انہیں زندگی گزارنے کے لئے سخت محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے ۔یہ بچے گھروں ،گلی کوچوں ،فیکٹریوںاور کھیت کھلیان میں کام کرنے پر مجبور ہو ت ہیں۔ ایک ماہر عمرانیات کے مطابق صرف ہماری ریاست جموں و کشمیر میں 2لاکھ40ہزار بچہ مزدور کام کررہے ہیں۔حالانکہ آ ئین وقانون نے انہیں تعلیم کے حق( RTE) سے بھی نوازا ہے ، یعنی چودہ سال تک کے بچوں کے لئے مفت اور لازمی تعلیم کی ذمہ داری حکومت پرلیتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ پرائمری سطح کے اسکولوں میں طلبہ وطالبات کو ہر طرح کی سہولت اسکولوں میں فراہم کی جاتی ہیں۔ اسی کا ایک حصہ اسکولوں میں ملنے والا ظہرانہ بھی ہے ۔اتنا ہی نہیں زیرو سے چھ سال تک کے بچوں کی ذمہ داری بھی حکومت ِ ہند پر عائد ہوتی ہے ،اس لئے انہیں آنگن واڑی اسکیم کا حصہ بنادیا گیا ہے ۔ جہاں بچے کی پیدائش سے قبل حاملہ خواتین کو ہر طرح کی سہولت فراہم کرائی جاتی ہے تاکہ پیدائش کے وقت بچہ صحت مند ہو ۔ پیدائش کے بعد چھ سال تک اس کی تعلیم و تربیت اور صحت و تندرستی کی ساری ذمہ داری حکومت انہیںآنگن واڑیوں کے ذریعہ پوری کرتی ہے جو پورے ہندوستان میں ہر ہزار آبادی پر واقع ہوتی ہیں۔ یہ اسکیم چلا نے والے اپنا کام کرتے ہیں یا نہیں یہ تو اپنے اپنے محلوں کی آنگن واڑیوں کا جائزہ لے کر بخوبی سمجھا جاسکتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ اس حکومتی اسکیم پر خرچ ہونے والا پیسہ زیادہ تر بدعنوان عناصر کی جیبوں میں جاتا ہے ۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ متعلقہ حکام سے اس کا حساب نہ مانگ کر بہت بڑی غلطی کرتے ہیں ۔ بہر کیف چلڈ لیبر قانون کی خلاف ورزیاں اوررائٹ ٹو ایجوکیشن کو نظر اندز کر کے بچوں کے حقوق کا تحفظ ناممکن ہے ۔اوپرسے آنگن واڑی اسکیم کے اچھے مقاصد کے بجا ئے کورپشن کا ذریعہ بنا نے سے حقوق اطفال کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہم اپنے سماج میں بچوں کو بہتر نشوونما اور اچھی زندگی کا عطیہ دینا چا ہتے ہیں تو ان کے آ ئینی وقانونی حقو ق کا احترام ہو نا چا ہیے ۔ساتھ ہی حکام کو دیکھنا چا ہیے کہ بچوں کی بہبود کے لئے مختص اسکیمیں واقعی ان کو فائدہ پہنچارہی ہیں یا یہ کورپشن کی نذر ہورہی ہیں ۔ خصوصی طور پسماندہ ضلع پونچھ میں اس کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے ۔ خدارا بچوں کا بچپن نہ چھینئے۔ یہ وہ انمول تحفہ ہے جو قدرت کی طرف سے قوموں کو صرف ایک بار ہی ملتا ہے۔ ہمارے یہاں غریب واستحصال زدہ بچے اپنی خاموش زبانوں سے سوال کرتے ہیں کہ کہاں ہے ہمارا بچپن ؟

سید انیس الحق……پونچھ

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By