GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
کشمیر حل تک پائیدار امن و استحکام قائم نہیں ہوگا: گیلانی
جنگ بندی لائن پر کشیدگی کم ہونے پر حریت چیئر مین کا اظہار اطمینان

سرینگر// حریت (گ) کے چیئر مین سید علی شاہ گیلانی نے جنگ بندی لائن پر فائیرنگ کے واقعات کے بعد بھارت اور پاکستان کے مابین پیدا ہوئی کشیدگی کے کم ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، البتہ انہوں نے کہا ہے کہ جب تک تنازعہ کشمیر کو لوگوں کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل نہیں کیا جاتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام قائم نہیں ہوسکتا ہے اور بھارت اور پاکستان کے مابین ایک تباہ کُن جنگ کا خطرہ ہمیشہ برقرار رہے گا۔ موصولہ بیان کے مطابق گیلانی نے بعض بھارتی حکام کے حالیہ بیانات کو جنگی جنون پیدا کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکمران شائستگی اور سفارتی آداب کو ملحوظ نظر نہ رکھتے اور دانشمندی کا مظاہرہ نہ کرتے تو اس چھوٹی سی چنگاری کے شعلہ بن جانے میں کوئی دیر نہیں تھی اور یہ آگ خطے کے خرمن امن کو بھسم کرنے کی باعث بن سکتی تھی۔گیلانی نے بھارتی میڈیا کی طرف سے جنگی جنون پیدا کرنے کی کوششوں کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں پچھلے 23سال کے دوران میں بے گناہ لوگوں کے قتل عام کے سینکڑوں واقعات پیش آتے رہے ہیں، لیکن بھارتی میڈیا اس کا تذکرہ کرنے تک کی زحمت نہیں اُٹھاتا ہے، جنگبندی لائن پر پیش آئے فائیرنگ کے واقعات میں اگرچہ دونوں ممالک کے کئی سپاہی کام آئے، البتہ اس میڈیا نے دو بھارتی فوجیوں کے معاملے کو اسطرح اچھالا کہ جیسے یہ آگ کے شعلوں کو ہوا دینے پر مامور تھا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے نشریاتی اداروں میں سب سے زیادہ غیرذمہ دار بھارت کا میڈیا ہے اور شائستگی، ذمہ داری اور غیرجانبداری کا اس کی طرف سے کوئی مظاہرہ نہیں ہورہا ہے۔اپنے بیان میں گیلانی نے مکمل فوجی انخلاء کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک کشمیر کا قضیہ التوا میں رہتا ہے اور دونوں ممالک کی فوجیں ایل او سی پر حالتِ جنگ میں موجود رہتی ہیں، تب تک امن کی گارنٹی کوئی نہیں دے سکتا اور کسی بھی وقت ایک چھوٹا سا واقعہ بھیانک نتائج پر منتج ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین کشمیر کو لیکر آج تک کرگل سمیت چار جنگیں واقع ہوئی ہیں اور ان میں جان و مال کا بے شمار نقصان بھی ہوا ہے، البتہ ان جنگوں کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر حل ہونے میں کوئی پیش رفت اس لیے نہیں ہوسکی ہے کہ یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کا کوئی سرحدی تنازعہ نہیں ہے۔ گیلانی صاحب نے کہا کہ فوجی طاقت بھارت کے پاس زیادہ ہوتی ہے یا پاکستان کے پاس، اس سے تنازعہ کشمیر کی ہئیت یا حیثیت پر کوئی بھی بڑا فرق نہیں پڑنے والا ہے، کیونکہ یہ بھارت اور پاکستان سے پہلے ایک قوم کی موت اور زندگی کا مسئلہ ہے اور یہ ان کے پیدائشی اور بنیادی حقوق کی بحالی کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم اپنے حقِ آزادی کو لیکر بہت زیادہ حساس ہے اور جب تک ان کی امنگوں اور آرزوؤں کا احترام نہیں کیا جاتا یہ مطمئن ہوسکتے ہیں اور نہ ہی بھارت ان کو اپنے فوجی طاقت سے مرعوب کرسکتا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کو ماضی کے حالات پر ٹھنڈے دل ودماغ سے غور کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے آزادی پسند راہنما نے کہا کہ دہلی والوں نے کشمیریوں کی ہمت اور حوصلے کو توڑنے کے لیے کوئی حربہ نہیں چھوڑا ہے، البتہ وہ کشمیری قوم کا ذہن تبدیل کرنے میں بُری طرح سے ناکام ہوگئے ہیں اور یہاں کے لوگوں کا جذبۂ آزادی وقت گزرنے کے ساتھ اور زیادہ مضبوط اور توانا ہوتا جارہا ہے۔ دریں اثناء تحریک حریت نے اپنے ایک بیان میں حریت (گ) کے چیئر مین سید علی گیلانی صاحب کی طرف سے 21؍جنوری، 25؍جنوری، 26؍جنوری اور 27؍جنوری کے تعلق سے دئے گئے پروگرام کی حمائت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 21؍جنوری کے دن گاؤکدل اور متصل علاقوں، 25؍جنوری کے دن ہندواڑہ اور 27؍جنوری کے دن کپواڑہ میں مکمل ہڑتال کی جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ان تینوں جگہوں پر ایک سو سے زیادہ نہتے دین اور آزادی پسند لوگوں کو فورسز کی طرف سے بے دردی کے ساتھ گولیوں سے چھلنی کرنے سے جو زخم کشمیری قوم کے دلوں اور ذہنوں کو لگے ہیں وہ ابھی تک مندمل نہیں ہوئے ہیں، اُن کی ظالمانہ طریقے سے قتل کرنے کی یادیں ابھی تک ہمارے ذہنوں میں تازہ ہیں۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ 26؍جنوری کے دن کو بھی یوم سیاہ کے طور منانے اور مکمل ہڑتال کرکے سول کرفیو جیسے حالات پیدا کئے جانے چاہییں، کیونکہ بھارت کو جموں کشمیر میں اپنا یوم جمہوریہ منانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ وہ یہاں فوجی تسلط کے تحت جبری قبضہ جمائے ہوئے ہے، ورنہ جموں کشمیر کا یہ خطہ ارض متنازعہ ہے اور بھارت کا حصہ نہیں ہے۔‘‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک حریت عوام، والدین اور اسکولوں کے چلانے والوں سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ خود ان پروگراموں میں شرکت کریں اور نہ بچوں کو پروگراموں میں شرکت کرنے کے لیے بھیجیں۔ ترجمان کے مطابق تحریک حریت گاؤکدل، ہندوارہ اور کپوارہ کے شہداء کا شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتی ہے اور تجدید عہد کرتی ہے کہ اُن کے مقدس لہو کو رائیگان ہونے نہیں دیا جائے گا۔ ہم آخری دم تک بھارت کی غلامی سے آزادی برائے اسلام کی جدوجہد جاری رکھنے میں پرعزم ہیں، چاہے ہمیں اس کے لیے کتنی ہی مشکلات ومصائب کا مقابلہ کرنا پڑے، قیدوبند کے دور سے گزرنا پڑے اور یہاں تک اپنی جانوں کی قربانی تک سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ یہی ان شہیدوں کی قربانیوں کی قدر کرنے کے تقاضے ہیں۔ تحریک حریت سمجھتی ہے کہ اگر قوم یکسو ہوکر جدوجہد آزادی برائے اسلام کا ساتھ دے تو وہ دن دور نہیں جب بھارت اس بات پر مجبور ہوجائے گا اور اپنی ضد چھوڑ کر یہاں کے عوام کو اپنے پیدائشی اور بنیادی حق، حقِ خودارادیت کا استعمال ایک غیرجانبدارانہ رائے شماری سے کرانے سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقعہ فراہم کریگا اور ہم آزادی حاصل کرکے نظام اسلامی کے قیام کی برکتوں سے سرفراز ہوں گے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By