GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
پیرِ مغرب شاعرِالمانوی
حکیم الامت سے فکری قربتیں نظری مماثلتیں

جان وولف گانگ گوئٹے نے اٹھارہ اگست ۱۷۴۹ء میں فرانک فورٹ ام مین میں آنکھ کھولی اور جرمنی کے تاریخی شہر وائمر میں ہی وفات پاگیا۔ گوئٹے نے اپنی ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے ہی والد سے حاصل کی۔ کہا جاتا ہے کہ گوئٹے کے والد ایک سخت گیر قانون دان تھے جب کہ والدہ میں خوش دلی اور شگفتہ مزاجی بدرجۂ اتم موجود تھی۔ اس طرح سے اُس کے والدین میں اعتدال رہتا تھا ۔ اسی ماحول میں گوئٹے کی پرورش و پرداخت ہوئی ۔ اسے فرانسیسی ادبیات اور جمالیات سے لگاؤفوجی افسروں کے میل میلاپ اور تھیٹر کے تماشوں کے ذریعے پیدا ہوا۔ وہ سولہ سال کی عمر میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے لائپ زگ گیا۔ یہاں وہ زیادہ تر کھیل کود اور رنگ رلیوں میں بسر کرتا رہا۔ یہیں سے اسے فنون لطیفہ اور شاعری کے ساتھ دلچسپی بڑھنے لگی۔ اسی کھیل تماشے میں اُسے مہ جبین کے ساتھ عشق کی انتہا ہوگئی ۔ اسی دور میں گوئٹے نے دو مختصر ڈرامے اور چند شوخ غنائی نظمیں تخلیق کیں۔ اپنی زندگی میں ان ابتدائی بے اعتدالیوں کی وجہ سے وہ سخت بیمار پڑگیا اور پھر یہیں سے اس کی زندگی میں رد عمل شروع ہوا جس نے اس کی آئندہ زندگی کی راہ متعین کی۔ بیماری کے دوران مذہب اور علم الاخلاق کی طرف راغب ہوا۔ اس نے جو اپنا دیوان لکھا ہے اس میں اگرچہ اس نے دیوانِ حافظ کا جواب تو نہیں لکھا لیکن اظہارِ عقیدت اور تتبع ضرور کیا ہے۔ اسی طرح تصوف اور علم باطن کے رموز و اسرار جاننے کی تڑپ بھی اس کے رگ وپے میں جاگزیں ہوگئی تھی۔ اس لئے اس کے کلام میں تصوف کا ہلکا سا رنگ پایا جاتا ہے۔ اس آمیزش کی جھلک اس کے معروف ڈرامے ’’فاوسٹ‘‘ میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ چنانچہ سٹراس برگ میں گوئٹے نے قانون کی ڈگری دو سال تک حاصل کی،اس کے بعد علم طب کا شوق بڑھنے لگا۔ تقریباً اسی زمانے میں کیمیا ء سے بھی اس کی دلچسپی پیدا ہوتی گئی، اس لئے اپنے ڈرامے ’’فاوسٹ‘‘ میں اس نے اس فن کا خوب مذاق اڑایا ہے۔ یوں اس کی بے حاصلی اور زیاں کاری پر سخت طنز کیا ہے۔ اسی اثناء میں اس کی علم الحقائق سے وابستگی ہوگئی اور اس نے ہلکے پھلکے علوم و فنون کو جوڑ کر حقیقی علمی راہ اپنانی شروع کی۔ اس طرح اس نے شیکسپیئر کے ڈراموں کا بغور مطالعہ کیا۔ آرٹ کی عظمت اور ہرڈر کی تنقیدی تصانیف سے وہ کافی متاثر ہوا۔ یوں اس کے تاریخی ڈرامے گوٹز (Goetz) اور المیہ افسانے ورتھر (Werther) کو قبول عام کا شرف حاصل ہوا، اور یہ تسلیم کیا گیا کہ گوئٹے جرمنوں کی رومانی بغاوت (Romantic Revolt) کا قائد ہے۔ ۱۷۷۵ء میں گوئٹے کو وائمر آنے کی دعوت ملی اور وائمر کی جرمن ریاست کے ڈیوک کارل آگسٹ نے اسے اپنا وزیر منتخب کیا۔ ۱۷۸۶ء میں یہ نابغہ اطالیہ چلا گیا جہاں وہ دو سال تک روما کی فنی و علمی تاریخ اور تعمیرات کی عظمت اور شان و شوکت کا بغور مطالعہ کرتا رہا۔ یوں اسے وجدانی طور پر یہ احساس ہوا کہ عہدِ عتیق اور قدیم فن میں جو اللہ نے پُر سکون عظمت و شان رکھی ہے ،اس سے دورِ جدید یکسر محروم ہے۔ اس شعور وآگہی نے گوئٹے کے نظریات زندگی کو یکسر بدل ڈالا۔ چنانچہ اس کے مشہورِ زمانہ ڈرامہ ’’فاوسٹ‘‘ میں جو دور جدید کے آرٹ پر تنقید ہے وہ اسی احساس سے متاثر دکھائی دیتی ہے۔ گوئٹے نے ’’فاوسٹ‘‘ کو اپنے مرحوم دوستوں سے انتساب کیا ہے۔ ’’فاوسٹ‘‘ میں گوئٹے حیات بعد الموت اور روحوں سے عالم آخرت میںملاقات کے عقیدے کا اظہار بھی کرتا ہے۔

گوئٹے کے نزدیک عمل ہی زندگی نہ بدلنے والی حقیقت ہے اور حقیقی عمل وہ ہے جو بے حاصل نہ ہو۔ گوئٹے مسلسل اور پیہم جد و جہد کا قائل ہے اس کے لئے سکون اور تعطل موت کے مترادف ہے اس کے نزدیک ذوق عمل میں زندگی اور ترقی کا راز مضمر ہے۔ ’’فاوسٹ‘‘ اسی لئے خناس سے کہتا ہے کہ ’’اگر میں کسی گریزاں ساعت سے یہ کہوں، ٹھہرے رہ، تو کتنی حسین ہے، تو وہ میری موت کی گھڑی ہونی چاہیے‘‘۔ اسی طرح گوئٹے کے فلسفہ ٔحیات میں انانیت یعنی غرور و تکبر ام الرزائل ہیں اور تیاگ و ترکِ دنیا خواہشات اُم الفضائل۔

گوئٹے کامذہب اور اللہ:

فضل حمید کے مطابق ’’گوئٹے نہ مذہب کا منکر ہے اور نہ کسی مخصوص مذہب کو حق و صداقت کا واحد اجارہ دار سمجھتا ہے‘‘ یعنی اُس کے یہاں مذہب خدا تک رسائی حاصل کرنے کی راہ ہے۔ وہ ایمان کی ضرورت کو تو تسلیم کرتا ہے مگر اپنے ہم نوا غالبؔ کی طرح یہ پوچھتا ہے کہ کامل ایمان کیا ہے۔ مذہب اور خدا کے بارے میں جو مارگریٹا (کردار) اور (فاوسٹ) کے سوال و جواب ہوئے ہیں، وہ گوئٹے کے عقیدے پر خاصی روشنی ڈالتے ہیں:

گوئٹے کا معروف ڈرامہ ’’فاوسٹ‘‘ ہی ہے۔ اس ڈرامے کے ابتداء میں فاوسٹ ایک عظیم عالم کی حیثیت میںہمارے سامنے آتا ہے۔ فاوسٹ اپنی تمام تر توجہ علم و ادب کی تکمیل میں صرف کرتا ہے لیکن پھر بھی اس کا دل مضطرب ہی رہتا ہے۔ دراصل وہ عشق اور فطرت کے حسن و جمال سے بے خبر ہے، تمام عمر وہ علم ہی کے ذریعے سے فطرت کے راز جاننے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے لیکن اس کی یہ کوشش رائیگاں ہوجاتی ہے۔ آخر کار فاوسٹ پر یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ محض علم اور عقل کی بدولت انسان حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا ہے۔ دراصل اسی نظرئیے کی بنا پر گوئٹے اپنے دور کا باغی کہلاتا ہے کہ وہ مجرد عقلیت پسندی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ یہی حقیقت اس نے فاوسٹ کی شخصیت میں پیش کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ فاوسٹ کو ایک ایسی کامیاب زندگی کی تلاش رہتی ہے جو صرف خیالی تصورات کا مرقع نہ ہو اور جس میں فقط سوچ بچار کا رویہ ہی نہ ہو بلکہ احساسِ مرّوت کار فرما ہو اور ذہنی اطمینان نصیب ہو۔ اس مقصد کو پانے کے لئے وہ ابتداء میں جادو کا سہارا بھی لیتا ہے اور اسی میںکسی حد تک اپنے لئے سکون واطمینان کا سامان پاتا ہے لیکن یہ سکون و اطمینان عارضی ثابت ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ روحِ ارضی کو بلاتا ہے لیکن اس کی ناپختگی کے باعث رُوحِ ارضی اس سے کنارہ کشی اختیار کرتی ہے۔ لہٰذا وہ نا اُمید ہو کر مرنے پر اپنے آپ کو تیار کراتا ہے کیوں کہ محض ایک کیڑے کی زندگی بسر کرنا نہیں چاہتا بلکہ اس کے نزدیک ایک حقیر زندگی بسر کرنے سے تو مرجانا بہتر ہے لیکن ایسٹر کی ایک صبح اس کے دل میں محبت اور گداز کے خوابیدہ سوتوں کو پیدا کردیتی ہے اور وہ اس حقیقت کو پالینے کے لئے بے قرار ہوجاتا ہے جو اُسے ساری دنیا پر حاوی کردے مگر اچانک اس کے دل میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ ایسا ناممکن ہے کہ وہ تمام دنیا کو مسخر کرسکے۔ لہٰذا وہ ایک اور بار مایوسی کے دلدل میں پھنس جاتا ہے۔

گوئٹے اور اقبالؔ:

علامہ اقبال نے گوئٹے کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ پوری تحقیق اور جستجو کے بعد علامہ اقبالؔ کو گوئٹے کے متعلق یہ جانکاری حاصل ہوگئی تھی کہ اس نے اسلامیات کا بھی گہرا مطالعہ کیا ہوا تھا اور وہ اس سے کافی متاثر بھی ہوچکا تھا۔ اگرچہ قرآنی فہم و فراست سے گوئٹے اس حد تک محظوظ و مستفید نہ ہوا کہ وہ اس پر ایمان لا کر مسلمان ہوجاتا مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ اس نے ایرانی ادبیات سے بے پایاں خوشہ چینی کی ہے اور بڑی فراخ دلی سے اس حقیقت کا اعتراف بھی کیا ہے۔ ابلیس سے متعلق بھی گوئٹے کے خیالات اسلامی ہی ہیں ،گرچہ اس کے وہ خیالات ناقص ہی قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ اقبالؔ اس بارے میں ہمیں یوں جانکاری دیتے ہیں:

’’ابتدائے شباب ہی سے گوئٹے کی ہمہ گیریت مشرقی تخیّلات کی طرف مائل تھی سٹراس برگ میں جہاں وہ قانون کے مطالعے میںمصروف تھا، اس کی ملاقات جرمن لٹریچر کے مشہور اور قابلِ احترام شخصیت ہرڈر سے ہوئی جس کی صحبت کے اثرات کو گوئٹے نے خود اپنی سوانح حیات میں تسلیم کیا ہے۔ ہرڈر فارسی نہیں جانتا تھا لیکن چونکہ اخلاقی رنگ اس کی طبیعت پر غالب تھا اس لئے سعدیؔ کی تصانیف سے اسے نہایت گہری دلچسپی تھی۔ گلستانِ سعدیؔ کے بعض حصّوں کا اس نے جرمن زبان میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ خواجہ حافظؔ کے رنگ سے اُسے چنداں لگاؤ نہ تھا، اپنے معاصرین کو سعدیؔ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے لکھتا ہے۔ حافظ کے رنگ میں ہم بہت کچھ نغمہ سرائی کرچکے۔ اس وقت سعدیؔ کے تلمذ کی ضرورت ہے۔ ۱۸۱۳ء میں فان ہمیر نے خواجہ حافظؔ کے دیوان کا پورا ترجمہ کیا۔ اس ترجمے کی اشاعت سے جرمن ادبیات میں مشرقی تحریک کا آغاز ہوا۔ گوئٹے کی عمر اس وقت ۶۵ سال کی تھی اور یہ وہ زمانہ تھا جب کہ جرمن قوم کا انحطاط انتہائی حد تک پہنچ چکا تھا۔ ملک کی سیاسی تحریکوں میں حصہ لینے کے لئے گوئٹے کی فطرت موزوں نہ تھی اور یورپ کی عام ہنگامہ آرائیوں سے بے زار ہو کر اس کی بے تاب اور بلند پرواز روح کے مشرقی فضا کے امن و سکون میں اپنے لئے ایک نشیمن تلاش کرلیا۔ حافظ کے ترنم نے اس کے تخیلات میں ایک ہیجان عظیم برپا کردیا، جس نے آخر کار مغربی دیوان کی ایک شاندار اور مستقل صورت اختیار کی مگر فان ہمیر کا ترجمہ گوئٹے کے لئے محض ایک محرک ہی نہ تھا بلکہ عجیب و غریب تخیّلات کا ماخذ بھی تھا۔ بعض جگہ اس کی نظم ’خواجہ‘ کے اشعار کا آزاد ترجمہ معلوم ہوتی ہے اور بعض جگہ اس کی قوت تخیل کسی مصرع کے اثر سے ایک نئی شاہ راہ پر پڑ کر زندگی کے نہایت دقیق و گہرے مسائل پر روشنی ڈالتی ہے‘‘۔

خواجہ حافظؔ کے علاوہ گوئٹے اپنے تخیّلات میں شیخ عطار، سعدیؔ، فردوسیؔ اور دیگر اسلامی ادباء کا بھی ممنونِ احسان ہے۔ اقبالؔ کو افسوس رہا ہے کہ گوئٹے نے مولانا رومؔ کو سمجھنے کی چنداں کوشش نہیں کی۔ اقبالؔ کے خیال کے مطابق گوئٹے چونکہ عاشق مزاج تھا، اس لئے مولانا روم کا روح پرور فلسفہ اس کی فہم سے بالا تر تھا اور وہ اسے گنجلک تصور کرتا تھا۔ اقبالؔ گوئٹے کے اس رویے کے متعلق یوں رقمطراز ہیں:

’’مولانا رومؔ کے حقائق و معارف اس کے نزدیک مبہم تھے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس نے رومیؔ کے کلام پر غائر نگاہ نہیں ڈالی، کیوں کہ جو شخص سپینوزا (ہالینڈ کا فلسفی جو مسئلہ وحدت الوجود کا قائل تھا) کا مداح ہو اور جس نے برونو (اٹلی کا ایک وجودی فلسفی) کی حمایت میں قلم اٹھایا ہو، اس سے ممکن نہیں کہ رومیؔ کا معترف نہ ہو۔ غرض کہ ’’مغربی دیوان‘‘ کی وساطت سے گوئٹے نے جرمن ادبیات میں عجمی روح پیدا کرنے کی کوشش کی۔ بعد کے شعراء ہلاٹن، روکرٹ اور بورڈن اسکاٹ نے مشرقی تحریک کو جس کا آغاز گوئٹے کے دیوان سے ہوا، تکمیل تک پہنچایا‘‘۔

اقبالؔ کو گوئٹے سے کافی دلی قربت رہی ہے اور اس قربت کو اصل میں وہی شخصیت جان سکتا ہے جس کو اقبالؔ کی طرح وسیع مطالعہ اور درک حاصل ہو۔ چنانچہ گوئٹے کے متعلق پہلا شاعرانہ حوالہ اقبالؔ کی اس نظم میں ملتا ہے جو انہوں نے برصغیر کے عظیم اردو اور فارسی شاعر غالبؔ پر کہی ہے۔ غالبؔ کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے اقبالؔ یوں گوئٹے کا تذکرہ چھیڑتے ہیں:

آہ! تُو اُجڑی ہوئی دلّی میں آرامیدہ ہے

گلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے

اس کے علاوہ ’’پیام مشرق‘‘ میں ان کا یہ شعر بھی گوئٹے کے حوالے سے زبردست اہمیت کا حامل ہے:

صبا بہ گلشن ویمر سلام ما برساں

کہ چشم نکتہ وراں خاک آں دیار افروخت

پیام مشرق:

اقبالؔ نے اس حقیقت کا برملا اعتراف کیا ہے کہ ’’پیام مشرق‘‘ کی تصنیف کا محرک گوئٹے کا ’’مغربی دیوان‘‘ ہے۔ ’’پیام مشرق‘‘ کے دیباچے میں انہوں نے اس ’’دیوان‘‘ کا تذکرہ قدرے تفصیل سے کیا ہے اور جرمن ادب کی مشرقی تحریک کی مختصر مگر نہایت بلیغ و دلچسپ تاریخ بیان کی ہے۔ اگرچہ گوئٹے کا ’’دیوان‘‘ اقبالؔ کی تصنیف کا محرک ثابت ہوا، جیسے بیشتر نقاد اس کا یہ سب سے بڑا کارنامہ تصور کرتے ہیں لیکن اقبالؔ گوئٹے کے ’’فاوسٹ‘‘ (Faust) کو ’’دیوان‘‘ سے زیادہ مشکل سمجھتے ہیں کیوںکہ اس کے حصہ دوم میں علم کیمیاء سے متعلق بہت سی اصطلاحات ملتی ہیں اور کچھ تلمیحات اور اشارات بھی ہیں جن سے مغرب کے لوگ مانوس تب تک نہ تھے او ر جن کو صحیح طور پر صرف مشرق کے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ اقبالؔ کہتے ہیں کہ:

 ’’جرمنی کے قیام کے دوران مجھے بہت سے مواقع ملے جب میں نے ان اصطلاحات کی تشریح و توضیح کی تو اس سے میرے جرمنی کے سامعین بہت متاثر ہوئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ گوئٹے کی نگاہ وسیع تھی‘‘۔

اقبالؔ کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ ’’اگر کسی نے گزشتہ ایک ہزار سال کی تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا تو وہ خود کو مہذب اور تربیت یافتہ کہلانے کا مستحق نہیں۔ پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ ہر جرمن ان اصطلاحات اور اشارات سے واقف ہوجاتاجس کو گوئٹے نے مشرقی ادب سے منتخب کیا تھا۔ ہمارے لئے یہ اصطلاحات روز مرہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بہر حال ’’فاوسٹ‘‘ کے ان ابواب کے ہضم کرنے میں مجھے کوئی دقت نہیں ہوئی۔ جس آسانی کے ساتھ میں نے ان اصطلاحات کی وضاحت کی اور اس پر اہل جرمنی کو واقعتا حیرت تھی‘‘۔

جاری

رابطہ:-اسسٹنٹ کنڑولر آف ایگزامنیشنز،یونیورسٹی آف کشمیر

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By