GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
عوام کی بد نصیبیاں
مسائل کے بحر میں مصائب کی لہر یںـ

2008 ء میں ریاستی اسمبلی  کے لئے الیکشن ہوئے۔ الیکشن میں حصہ لینے والی جماعتوں میں این سی، کانگریس ، پی ڈی پی  بی جے پی ور دیگر ہند نواز تنظیموں نے روزگار، بجلی، پانی، سڑک ، نالی کے مسائل حل کرنے کے وعدے وعید سے ووٹ حاصل کئے اور جموں کشمیر کے عوام نے اس بنیاد پر بھاری تعداد میں الیکشن میں حصہ لیا کہ ہم مسئلہ کشمیر کے لئے نہیں بلکہ اپنے روزمرہ مسائل حل کرانے کے لئے ووٹ دے رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان پارٹیوں نے جب الیکشن مہم میں وعدہ کیا کہ ہم عوامی مسائیل بجلی پانی سٹرکیں روزگار وغیرہ حل کریں گے تو ووٹروں نے ان سابقہ حکمرانوں سے یہ سیدھا سادہ سوال نہ پوچھا کہ 60برس تک آپ ہمیں بجلی ، پانی ، سٹرکیں، روزگار وغیرہ نہیں دے سکے تو اب کے بار آپ کے پاس کونسا اللہ دین کا چراغ ہاتھ لگا ہے کہ جو چھ دہائیوں میںنہ کرسکے وہ اب 6سالوں میں کرسکو گے ۔ ریاستی عوام مسائل کے بپھرے سمندر میں مصائب کی منہ زور لہروں میں کس طرح ہچکو لے کھا تے ہیں ، آ یئے اس کا ایک مختصر جا ئزہ لیتے ہیں۔ 

گیس کی نا یا بی:-  رسوئی گیس کوئی عیاشی کا سامان نہیں بلکہ ہر امیرو غریب شہری کی بنیادی ضرورت ہے ۔ اگریہ کہا جائے کہ جد ید دورمیں انسانی سانسوں کا دارومدار گیس پر ہی ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ بدقسمتی سے گیس کے سلسلے میں جو اچانک یہاں اتھل پتھل مچائی گئی ہے اُس سے عام صارفین کی عزت نفس کو پا مال کر نے کے علاوہ اسے پر یشاں کر کے رکھ دیا گیا ۔ گیس ایجنسیوں نے گیس سلنڈروں کی سپلائی  Regulateکرنے کے لئے ایسی بے ہودہ شرایٔط رکھی ہیں جس سے لوگوں کو بے انتہا مصائب کا شکار ہونا پڑرہاہے ۔ مصدقہ اطلاع یہ ہے گیس والوں نے گیس کے اس نقلی بحران کو عوام کے استحصال کرنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ نئے کنکشن اور کاغذات بنانے کے نام پر ان رنگے سیاروں نے کروڑوں روپیہ ناجا ئز طور کمایا۔ کیا حکومت نے اس درد سر کو ختم کرانے میں ذرہ برابر بھی جنبش کی؟ محکمہ امور صارفین نے صرف بیانات جاری کر کے اپنا حمام گرمایا اور لوگوں کو بے رحم گیس ایجنسی  والوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔

 بجلی کی آ نکھ مچولیاں :- بجلی کا حال بد سے بدتر ہوتارہا ہے ۔ اس بار کٹوتی شیڈول کا بھی کو ئی مطلب نہیں ۔ بار بار بجلی آف ہو نا اور لوڈ شیڈ نگ کے سائے میں صارفین کو ناکوں چنے چبوانا محکمہ بجلی کی فطرت ثانی بن چکی ہے ۔ گزشتہ دنوں کی معمولی بر ف باری کے دوران شہر ودیہات میں سب سے پہلے بجلی کی ترسیلی لائینیں سلا دیں گئیں ۔ اگرچہ سر ی نگر کے شہری حدود میں ایک دن بعد بجلی سپلائی بحال کر کے پی ڈی ڈی نے اپنی کٹی ناک کو پھر سے منہ پرجوڑ دینے میں پہل کی مگر تاحال اکثردیہات میں ر قی رو عنقا ہے ۔ یہ کیا غضب ہے کہ دن کے آ ٹھوں پہر میں صرف چند گھنٹوں تک بجلی آن رکھنے کے بعد وقفے وقفے سے پاور سپلائی کٹی رہے اور بل برابر ہاتھوں میں تھمایا جا ئے؟ اتنا ہی نہیں بلکہ پا ور 110، 115 سے زیا دہ وولٹیج نہیں ہوتا ۔ بعض علاقوں کے بے نوا لوگ بجلی کا بلب ڈھونڈنے کے لئے ٹارچ یا موم بتی کا سہارا لیتے ہیں ۔

 پا نی کی ضرورت لافانی:-پانی انسانی زندگی کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل شئے ہے ۔ سچ یہ ہے کہ اس عطیہ ٔ الہٰی کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ سر زمین جموں کشمیر کو اللہ تعالیٰ نے اس عظیم نعمت سے نہ صرف مالا مال کیا ہے بلکہ ہندوستان اور پاکستان کے کروڑوں عوام کو بھی ریاست جموں کشمیر کی آب گاہوں سے ہی پانی میسر ہوتا ہے ۔ وائے ہماری قسمت !کہ آج بھی مختلف علاقوں میں ہمارے بے یارومدد گار عوام کو اپنی بہو بیٹیوں اور ماوؤں کو ننگے پیر کئی کئی کلو میٹر چل کر آلودہ پانی کے مٹکے کندھوں پر لادکر استعمال کر نا پڑتے ہیں ۔مختلف قصبوں ، دیہاتوں میں جو واٹر سپلائی کی جواسکیمیںوضع کی گئیں گئی ہیں وہ اکثر بد عنوانیوں کی بھینٹ چڑھنے سے نہ صرف نا کام ہیں۔ اُن ا سکیمیوں کے ذریعے حاصل شدہ پانی چونکہ تکینکی خرابیوں اور پی ایچ ای حکام کی دانستہ عد م توجہی سے مضر صحت ہو تاہے اور یہی آلودہ پانی صارفین کے واسطے مہلک بیماریوں کا سبب بنتا جا رہاہے ۔ واٹر ورکس ڈپارٹمنٹ کے آفیسر اور متعلقہ ٹھکیدار بجٹ کا چالسیواں حصہ بھی جائز طور استعمال نہیں کرتے بلکہ ہاتھ کی صفائی سے تمام کا غذت درست کر کے آپسی بند با نٹ سے کام چلا تے ہیں اور اپنی تجوریاں بھر تے ہیں ۔

 مرکزی اسکیمیں:-مرکزی حکومت کی طرف سے مختلف ترقیاتی ا سکیمیں پورے ہندوستان میں کشمیر سمیت لاگو ہیں ۔ ان میں اندرا آواس یوجنا، نہرو یوجنا، سرو سکھشا ابھیان، نریگا وغیرہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ ان ا سکیموں کے تحت غریب ونادار لو گو ں کی ہمہ گیر کفالت کے لئے انہیں اپنا مکان بنانے کے لئے زمین اور زر امداد دیا جا تا ہے ۔ اسکیم کے تحت دیہات کے ہر فرد کو سال میں 180دن کام دینا بھی شامل ہے ۔ حقیقت حال یہ ہے کہ یہ ساری ا سکیمیں زیادہ تر ریاستی حکومت کے کاغذی گھوڑوں پر ہی سر پٹ دوڑتی رہتی ہیں جب کہ عوام کو اس کا 10% یا 20%  فا ئدہ تک بھی نہیں پہنچتا ۔جہاں تک دیہاتی علاقوں کا تعلق ہے وہاں پنچوں اور سرپنچوں کے لئے نریگا (MGNRGA) اسکیم سونے کی چڑیا ثابت ہورہی ہے ۔ایک تصدیق طلب اطلاع کے مطابق آ ڈیٹر جنرل نے مرکزی فنڈس کے سلسلے میں ریاست کے مالی اداروں کااحتساب کرکے کروڑوں ، اربوں روپیوں کے غبن کو پکڑلیا ہے جس کے سبب مرکزکے بہت سارے فنڈوں کی الاٹ منٹ روک بھی دی گئی ہے۔ ہمیں اس بات پر حیرانگی ہورہی ہے کہ کسی مرکزی ادارے نے ریاستی حکومت کو ریاست میںغریبی ہٹانے کاانعام کس بنیاد پر دیا ہے؟  یہی نہیں بلکہ مرکزی حکومت کے اس ناقابل فہم رویے اور کشمیر کے متعلق اقدامات اور پالیسی پر یوں بھی سوالیہ نشان لگتے ہیں کہ عمر اس نے عبداللہ کی حکومت کو محکمہ ہیلتھ میں کو ن ساسدھارلانے پر انعام دیا  ؟ کیا کشمیر میں سال 2012کے دوران400سے زیادہ نو زائدہ بچے جی بی پنت چلڈرن ہسپتال میں میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر جا وید چو دہدری ، پیرا میڈیکل اسٹاف اور بوگس ڈرگ بزنس ما فیا کی ملی بھگت سے غیر طبعی موتیں واقع  نہ ہوئیں جس کے خلاف پوری قوم سراپا احتجاج بن گئی؟ کیا مرکزی حکومت نے اسی نسل کُشی پر ریا ست حکومت کو فل مارکس دے کر کاہے کو انعام سے نوازا؟

سرکاری ملازمین نالاں :- ریاست میں ٹرانسپورٹ، محکمہ تعلیم، طبی شبعہ، زراعت اور دیگر شعبوں کے ملازمین بار با ریاستی حکومت کے خلا ف ہڑتالیں کر کے ان کو یا د دلا تے ہیں کہ وہ اپنے معاہدوں کا ایفاء کر کے انہیں ریٹائر منٹ ایج میں تو سیع دینے ، پے کمیشن بقاجات ادا کرنے ، ڈیلی ویجروں کو مستقل کرنے کا عملی قدام کر نے سے گریز نہ کریں لیکن ملازمین بار بار سڑکوں پر احتجاج کرنے کے لئے مجبور ہو رہے ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ۔ ظلم با لا ئے ظلم یہ کہ حکومت کے پاس ملازمین کے ہر درد کاایک ہی علاج ہے کہ حق مانگنے والوں کے لئے لاٹھی ،گولی اور ٹائیر گیس کی دوائی آزماؤ۔

ہسپتال ناساز ہیں:-اگرسرکاری ہسپتالوں کا دوسرا نام ذبح خانہ رکھا جائے تو کو ئی غلط بیانی نہیں ہوگی ۔ ہسپتالوں میں پہلے تو علاج ومعالجہ  کے لئے درکار سازو سامان اور مشینری ہے ہی نہیں اور جن ہسپتالوں میں کروڑوں اربوں روپے کی مشینری نصب کی گئی ہے وہ اکثرخراب ہوتی یاناقص بنا ئی جا تی ہیں تا کہ مریضوں کو ٹیسٹ وغیرہ کے لئے پرائیوٹ لیبارٹریوں کی طر ف ہا نکا جائے کیونکہ اس سے ہسپتالی عملہ کو لیبارٹریوں سے کمیشن ملتا ہے۔ ادھرپرائیوٹ لیبارٹریوں میں لازمی سہولیات کے فقدان کا یہ عالم ہو تا ہے مریض کے لئے نہ یہاں پانی ، نہ بیت الخلاء اور نہ ہیٹنگ سسٹم مہیا ہو تا ہے ۔خود ہی اندازہ کیجئے کہ چند ٹکوں کے لئے مریض کو کو ن سے عذاب جھیلنے پڑ تے ہیں ۔ اکثر بڑے ہسپتالوں کے کرتا دھرتا یہ کہتے ہوئے سُنے جاتے ہیںکہ حکمران اور بیوروکریسی ہم سے اپنا ہفتہ وصول کرتے ہیں۔

 مضرصحت اشیاء کی خرید وفروخت: -ریاست میںباہر سے لائی گئی غذائی اجناس جس میں مشروبات ودیگر قسم کی اشیائے خوردنیاوردوائیاں شامل ہیںِ، غیر معیاری اور زائدالمعیادہونے کے باوجود نقلی مہریں لگا کر ان کو آرام سے فروخت کیا جاتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ دستیاب اعداد و شمارکے مطابق ریاست جموں کشمیر میں سب سے زیادہ نقلی دوائیوں کی کھپت ہوتی ہے۔ ان نقلی دوائیوں سے ریاست میں عام انسان کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے اور مریضوں کی حالت ٹھیک ہونے کے بجائے ابتر ہی ہوجاتی ہیاور بسااوقات ان کی موت تک واقع وہ جا تی ہے ۔

 سر کاری راشن گھاٹ اکثر بند ہوتے ہیں ۔ عام شکایت تو یہ بھی ہے کہ راشن گھاٹوں میں صارفین میں تقسیم کئے جا نے والے اشیاء کو کالے بازار میں دلالوں کے ذریعے اونچے داموں بیچ کر عوام کے ساتھ صریحاً ظلم کیا جاتا ہے ۔ سرکاری حکم نامے کے مطابق ہر راشن کارڈ ہولڈر کو ماہا نہ 35کلو گرام راشن ملتا ہے چاہے کُنبے میں 10افراد ہوں یا صرف ایک آدمی۔ یہ کہاں کا ’’واندرراج‘‘ ہے۔

سٹرک حادثات کا تواتر:- جموں کشمیر کی سٹرکوں شاہراؤں بالخصوص جموں سرینگر شاہراہ، بھدرواہ، ڈوڈہ، راجوری اور کشتواڑ میں آئے روز سڑک کی شکل میںموت کا خونین رقص ہوتا رہتاہے ۔یہاں تک کہ پولیس سربراہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ پچھلے کئی سالوں سے ملٹینسی واقعات سے اتنی اموات نہیں ہوئیں جتنی سٹرک حادثوں سے لوگوں کی موتیںواقع ہوئیں۔ اگر چہ سٹرکوں کی تعمیر اور اُن کی کشادگی کے لئے خزانۂ عامرہ سے اربوں روپیہ نکالا جاتا ہے لیکن سٹرکوں کی تعمیر ومرمت کے لئے مختص بجٹ میں سے نصف سے زیادہ رقم بے ایمانی اور لوٹ کھسوٹ کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے ۔ سٹرک حادثات کو اگر صحیح معنوں میں روکنے پر عمل درآمد کا کو ئی منصوبہ حکومت کے زیر غور ہے تو اسے ابتدا ئی اقدام کے طور لائسنس کے بغیر کسی بھی فرد گاڑی چلانے پر کڑی سزا دینی چا ہیے، ہرڈرائیور کو کم سے کم تین سال کی ڈرائیو نگ کا تجربہ حاصل ہو نے کے بعد ہی سڑکوںشاہراواؤں پر ڈرائیونگ کی اجازت ملنی چاہئے، گاڑیوں کے رفتار کو چک کیا جائے، گاڑی چلاتے وقت موبائل پر بات کرنے کی قانونی پابندی کو سختی کے ساتھ لا گو کیا جا ئے ، اورلوڈنگ پر نہ صرف جرمانہ عاید کای جا ئے بلکہ ڈرائیور اور کلینر کو قید سخت کی سزا دی جا نی چاہئے ، سب سے بڑ ھ کر ٹریفک عملہ کو نہ صرف متحرک بلکہ اُنہیں ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی کا پابند بنا یاجا ئے۔

تعلیمی اداروں کی اصلاح : -تعلیمی اداروں کا آوا کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ جس ریاست میں وزیر تعلیم کے بیٹے کو نقل کرانے کے لئے پورا محکمہ تعلیم دست بستہ کھڑا ہو، اُس ریاست کی تعلیمی پالیسی کا انجام لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں اگرچہ اساتذہ تیس چا لیس ہزار سے اوپر ما ہا نہ تنخواہیں لیتے ہیں لیکن کارکر دگی ندارد  ۔ بعض اسکولوں میںاساتذہ طالب علموں سے زیادہ ہیں اور بے شمار اسکول ایسے ہیں جن میں ٹیچر نہ ہو نے کے برا بر ہے گو کہ سٹوڈنٹ رول زیادہ ہے ۔کئی ایک اسکو لو ں کی عمارتیں ہے ہی نہیں ، اکثر سرکاری اسکول تعلیمی ساز وسامان سے تہی دامن ہیں ۔اسی لئے چند ایک سرکاری ا سکولوں میں اس سال بھی میڑک کے نتایٔج صفرہی رہا۔ اصل میں یہ موجودہ حکومت کی سوچی سمجھی چال ہے کہ سرکاری ا سکولوں میں اساتذہ اور دیگر ضرورت کا بحران کھڑا کرکے لوگوں کو پرائیوٹ اسکولوں کی طرف دھکیلا دیا جائے کیونکہ اس طرح سر کاری سیکٹر میں تعلیم کے لئے مخصوص فنڈس کا خردبرد کیا جانا آ سان ہو تا ہے ۔ نیز اکثر پرائیوٹ تعلیمی ادارے حکمرانوں کے رشتہ داروں، پارٹی ورکروں یا تعلق داروں کے ہوتے ہیں۔ ان کو فا ئدہ پہنچا نے کی مجبوری بھی حکام کو رہتی ہے ۔

آخر پہ انتہائی مظلوم اور بے کس طبقہ یعنی کوڑھ کے مریض اور ان کے بال بچوں کی انتہائی خستہ حال پر دو باتیں ۔ یہ مریض سماج سے کٹ کر بہرار لعل بازار میں مہا راجی دور سے گزر بسر کر رہے ہیں۔ یہ اسی زمانے کے بنے ہو ئے کچے گھروں( جنہیں جگی جھونپڑی کہنا زیادہ منا سب ہو گا ) میں رہتے ہیں جو معمولی ہو ا کے جھونکے سے کسی بھی وقت گر سکتے ہیں ۔ یہ کو ئی چمتکار ہی ہے کہ یہ بوسیدہ دیواریں گر نہیں رہی ہیں ۔یہ لوگ یہاں بغیر کسی معقول علاج معالج کے رہ رہے ہیں۔ ان کے لئے اگر چہ چند عمار تیں بنانے کا کام شروع ہوا تھا لیکن نہ جانے مارچ ۲۰۱۲ء سے تعمیر کا کام ادھورا چھوڑ کر اس مظلوم طبقے کو کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا گیا۔کوڑھ کے ان لا چار مر یضوں کی اصل ضرورت صاف و شفاف اور تمام ضروری بنیادوں سے لیس مکا نات کی ہے ، نیز ترجیحی بنیادوں پر ان کو علاج معالجہ کی تمام ترسہولت بہم رکھی جائے ۔مزید برآ ں نابنیائوںکے لئے ہر ضلع میں مخصوص اسکول کھولنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ طبقہ اپنے قدموں پر کھڑا ہواور سر اٹھا کر جینے کے قابل ہو ۔

…………

مضمون نگارجموں کشمیر ڈیموکریٹک لبریشن پارٹی کے چیئر مین ہیں۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By