GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادب نامہ
جموں وکشمیر کے اُردو افسانہ نگار


کہانی کار : پریم ناتھ در

کہانی/ڈرامہ : کھڑکی

ترتیب وپیشکش: نور شاہ

 

پریم نا تھ در 25 جولائی 1913 ءکو پیداہوئے اور 1977ءمیں اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگئے ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سرینگر میں حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے لاہور چلے گئے ۔ لاہور میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران وہ کچھ حد تک سیاست میں اُلجھ گئے اور نیشنل کانفرنس کے ایک سرگرم کارکن کی حیثیت سے کشمیر سے باہر کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں مصروف رہے ۔ اس حیثیت سے انہیں مرحوم شیخ محمد عبداللہ کا اعتماد بھی حاصل رہا ۔ انہوں نے کچھ عرصہ کے لئے صحافت کے پیشے کو بھی اپنالیا ۔ وہ ”ہندوستان ٹائمز“ کے ساتھ وابستہ رہے ۔

تقسیمِ ملک سے پہلے پریم ناتھ در کی کہانی ”غلط فہمی “ لاہور سے شائع ہونے والے معروف جریدہ” ادبی دنیا“ میں شائع ہوئی ۔ یہ 1945ءکی بات ہے ۔ ادبی دنیا کے مدیر صلاح الدین احمد نے اس کہانی کے بارے میں اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا تھاکہ پریم ناتھ در بہت جلد افسانوی حدود کو آگے بڑھئے گا اور فن کے پرچم اَن دیکھے میدان میں گاڑے گا۔ پریم ناتھ در نے یہ بات ثابت کرکے دکھائی ۔ مرحوم شمیم احمد شمیم نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پریم ناتھ در کے موضوع سے قطع نظر اُن کی زبان کے برتاﺅ اور پر بڑا رشک آتاہے ۔ یہ شخص اُردو زبان کو اتنی مشاقی اور چابکدستی سے استعمال کرتاہے کہ خود اہل زبان کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔

پریم ناتھ در کا پہلا افسانوی مجموعہ ”کاغذکے واسدیو“ 1949 ءمیںشائع ہوا ۔ اس مجموعے میں شامل افسانے ان کی ادبی زندگی کی پہچان بن گئے ۔ ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ”نیلی آنکھیں“ 1961 ءمیں شائع ہوا ۔ در صاحب کی کہانیوں میں ان کی فنکارانہ بصیرت عروج پر نظر آتی ہے ۔یہ افسانے موضوع کے اعتبار سے بھی انفرادی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ”آخ تھو“ پریم ناتھ در کے اہم افسانوں میں شمار کیا جاتاہے ۔ انہوں نے اپنی کئی کہانیوں میں شعور کی روکابھی تجربہ کیا ہے ۔ افسانہ ”دودھ“ اس کی ایک اچھی مثال ہے ۔ اُن کا تحریر کردہ افسانہ ”کاغذ کا واسدیو“ ایک فکر انگیزافسانہ مانا جاتاہے ۔ ان کے دو اور افسانے ”چڑھاوا“ اور ”گیت کے چار بول“ بھی کافی متاثر کن ہیں اور آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں ۔

درصاحب نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دہلی میں گزارا ۔ وہ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ تھے ۔ اپنی سروس کے آخری ایام میں وہ آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی کی حیثیت سے کام کرتے رہے او رریاست جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے مختلف نوعیت کے پروگراموں کو Co-Ordinate کرنا اُن کی ایک اہم ذمہ داری تھی ۔

کہانی: کھڑکی

کھڑکی کے پس منظر میں اُس کی زندگی کی ساری داستان ، ماضی کی پوری کہانی ٹوٹ ٹوٹ کر ، بکھر بکھر کر ایسے سمٹ جاتی ہے کہ کانتا جی کے لئے سب کچھ سنبھالنا مشکل ہوجاتاہے ۔ میکے سے سسرال کے سفر میں کبھی ایک نئی بہو کی تمنائیں شامل ہوجاتی ہیں اور کبھی اندھیری رات کے اُجالے خوفناک صورت اختیار کرجاتے ہیں ۔ اپنے ماضی کو یاد کرتے کرتے کانتا جی کو نہ جانے کیا ہوجاتاہے کہ خودبخود آنکھوں سے آنسوﺅں کی جھڑی لگ جاتی ہے ۔کھڑکی ساس اور بہو کے درمیان رشتوں کی کہانی ہے ۔ ان دونو ں کے درمیان پیار اور نفرت کی کہانی ہے ۔ کھڑکی سے گذرنے والی ہوائیں کانتا جی کے وجود کو کچھ اس طرح چھو جاتی ہیں کہ اُس کی رُکی ہوئی سسکیاں پھوٹ پڑتی ہیں ۔جب کانتا جی کا باپ اسے دیکھنے کے لئے کشمیر سے دلی آتا ہے تو وہ اپنے باپ کو کھڑی میں لے جاکر ایک ایسے منظر کو دیکھنے کے لئے اشارہ کرتی ہے جس کے بارے میں اُس نے کبھی بھی نہ سوچا تھا۔ پریم ناتھ در اپنی کہانی ”کھڑکی “ میں اس منظر کو یوں لکھتے ہیں :

نیچے ایک گھونسی بھینس کی تھنوں کو ہاتھ سے بالٹی بھر رہا تھا ، دوسرا اسی بھینس کے سامنے اس کے بچے کی بھوس بھر ی کھال کو ایسے کھڑا کررہا تھاکہ جیسے بھینس سے کہہ رہا ہو کہ لے یہ تیرا بچہ جو مرا نہیں ہے ، بچاری بھینس بچے کی کھڑی کھال ہی کو چاٹ رہی تھی اور گھونسی اپنی بالٹی بھرتا جارہا تھا“۔

کہانی کے ایک حصے کا ڈرامائی انداز :

کانتا (اپنے آپ سے )کسی لمحے ،جب میں رسوئی چھوڑ کر پھیلتے ہوئے دھوئیں سے بھاگ آتی ہوں اور کھڑکی کے بالکل سامنے کھڑی ہوکر سانس لیتی ہوں تو ہوا میں ایک ایسی ملاوٹ پاتی ہوں جوسینکڑوں میل کیا من کے ناپوں میں کروڑوں میل دور لے جاتی ہے ۔

ساس : کانتا....کیا دیکھ رہی ہو ۔

کانتا: کچھ بھی تو نہیں(آہستہ سے اپنے آپ کے ساتھ) میری ساس کو شاید اس بات کا احساس ہوچکاہے کہ کشمیر سے آئی ہوئی ان کی بہو نئی زندگی کی نئی دھوپ کو سمجھنے کی کوشش کررہی ہے ۔

(ساس کانتا کے قریب آتی ہے)

ساس: یہ بھینس جوہمارے سامنے کھڑی ہے....اس کا بچہ مر گیا ہے لیکن....وہ ....وہ ۔

کانتا: پھر بھی گھونسی بھینس کی تھنوں سے دودھ لینے میں مصروف ہے ....یہ کہاں کا انصاف ہے ....ہم لوگ کتنے خودغرض ہیں ، صرف اپنے مطلب کی بات سمجھتے ہیں ....(آہستہ سے)۔میرا بچہ....میں ماں بن بھی سکوں کی نہیں ....

ساس: تم کچھ کہہ رہی ہو ۔

کانتا:نہیں تو ۔

ساس: تم جانتی ہو کہ تمہارے ماتا پیتا کشمیر سے آرہے ہیں تمہیں دیکھنے کے لئے .... تمہارے لئے بادام اور سیب لائیں گے اور ....۔

کانتا: لیکن ماں جی وہ بھینس اور اس کا بچہ....ایک ماں بِن بچے کے کیسے رہ سکتی ہے ، کیسے جی سکتی ہے؟!

پریم ناتھ درآج بھی کشمیر سے تعلق رکھنے والے افسانہ نگاروں میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں اور یہ مقام ان کے افسانوں کی عظمت کی دلیل ہے ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By