GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  اداریہ
انتظامیہ کے لئے متحرک ہونے کا وقت


جمعرات کی سہ پہر سے وادی کے طول وعرض ، خاص کر پیر پنچال پہاڑی رینج میں زبردست برف باری سے بالآخر محکمہ موسمیات کی وہ پیشینگوئی دُرست ثابت ہوئی ،جس کو دیکھتے ہوئے صوبائی انتظامیہ نے 17اور 18جنوری کو سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل کرنے کے احکامات صادر کئے تھے ۔ اگرچہ 16جنوری کو دن بھر کھلی اورگرم دھوپ کے سبب اس ایڈوائزری میں تھوڑی بہت ترمیم کرکے جمعرات کو شاہراہ نصف دن کے لئے کھول دی گئی ، تاہم مجموعی طور پرصوبائی انتظامیہ کا یہ فیصلہ درست اور بروقت ثابت ہوا تھا، جس کے لئے انتظامیہ سراہنا کی مستحق ہے،کیونکہ ماضی میں ایسے ہی موسمی حالات میں انتظامی کوتاہیوں کی وجہ سے مسافر بردار گاڑیاں بھاری برف باری کے بیچ درماندہ ہونے کی وجہ سے کئی قیمتیں جانوں کا اتلاف عمل میں آیاہے ۔ اگرچہ16جنوری کے دن کھلی کھلی دھوپ کی وجہ سے محکمہ موسمیات اورصوبائی انتظامیہ کو احتیاطی ایڈوائزری کی بناء پر استہزا کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا لیکن تازہ موسمی حالات نے انہیں دُرست ثابت کیاہے اور اس طرح کے ذمہ دارانہ اپروچ کومزید فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔تاہم دریں حالات انتظامیہ پر عائد ذمہ داریوں میں بے پناہ اضافہ ہواہے،کیونکہ نہ صرف پوری وادیٔ کشمیر بلکہ جموں خطہ کے بیشتر علاقے بھی اس وقت پاور سپلائی کی بے ترتیبی کا شکارہیں،جس کی وجہ سے لوگوں کو بے بیان مشکلات کا سامناہے ۔شہری علاقوں میں شیڈلوںکی بجلی کٹوتی کے ساتھ ساتھ آئے دن وقفوں وقفوں سے بجلی کی سپلائی بند ہوجاتی ہے، جب کہ دیہی علاقوں میں حال انتہائی دگرگوں ہے ، بیشتردیہی علاقوں میں چوبیس گھنٹوں کے دوران مشکلاً چھ سے آٹھ گھٹنے بجلی دستیاب رہتی ہے لیکن اس کے دوران بھی لوگوں کو لمبے لمبے اندھیرے وفقوں کا سامنا رہتاہے۔ رواں سرما کے دوران محکمہ بجلی کا عمومی طرز عمل انتہائی صارف مخالف رہاہے کیونکہ ایک طرف سپلائی نظام میں بہتری لانے کی کوشش نہیں کی گئی اور دوسری جانب صارفین سے وصول کئے جانے والے بجلی فیس کا سسٹم بھی ،دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ،بے ربطی کاشکار بنایا گیا ۔لیکن دریں حالات ، جب کہ موسم نے اپنی سختیاں دکھانا شروع کی ہیں،محکمہ بجلی کو اپنے اس طرزعمل پر نظرثانی کرکے سپلائی نظام میں سدھار لانے کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں ،کیونکہ فی الوقت سرینگر جموں شاہراہ بھی بند ہے اور ظاہر بات ہے کہ کھانا پکانے والے ایندھن کی سپلائی لازمی طور پر متاثر ہوگی ، ایسے حالات میں صارفین کا بجلی پر انحصار مزید بڑھ جائے گا ۔ آفاتِ سماوی کسی کو پوچھ کے نہیں آتیں ،لیکن ان کا مقابلہ کرنے کے لئے عزم اورانتظام کی ضرورت ہوتی ہے ،جومظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ چند روز قبل ریاستی کابینہ میں جو ردوبدل عمل میں آیاہے ، یہ مرحلہ اُن نئے چہروں کے لئے امتحان کا وقت ہوگا جنہیں نئی ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔انتظامیہ کے لئے فی الوقت ، بجلی کی سپلائی میں بہتری لانا،عبور ومرور کو برقرار رکھنے کے لئے سڑکیں صاف رکھنا اور اشیائے ضروریہ کی سپلائی میں اعتدال قائم رکھناا ور مریضوں کے لئے ضروری طبّی سہولیات بہم رکھنا بہت بڑا کام ہوگا، کیونکہ دریں حاثات ان چیزوں کی سماج کے ہرطبقے ، خواہ وہ اشراف سے تعلق رکھتا ہویا غرباء سے ، کو ضرورت ہے انتظامیہ نے حالیہ ایام میں برف باری کی مشکلات سے نمٹنے کے لئے مکمل تیاریاں کررکھنے کے بار بار اعلانات کئے ہیں اور امید بھی جانی چاہئے کہ یہ حکومتی دعوے غلط ثابت نہ ہوں ، جیساکہ ماضی میں اکثر ہوتاآیاہے ۔ گزشتہ برس بھی ماہ جنوری میں شدید برف باری کے دوراں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے وادی میں قیام کرکے انتظامیہ کو متحرک کرنے میں ایک اہم رول اداکیا تھا اور رواں برس بھی اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ موسمی مشکلات کے حوالے سے لوگوں کی ضروریات کا بذات خود جائزہ لے کر سنجیدگی کے ساتھ انتظامی اکائیوں کو متحرک رکھیں گے ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By