GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
وزیر اعظم کا بیان افسوسناک اور کشمیریوں کیلئے دھچکہ
منموہن سنگھ اپنی پاکستان پالیسی ترک نہ کریں: مفتی

سرینگر//وزیر اعظم کے بیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے پی ڈی پی سرپرست اور سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے کہا ہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ہند و پاک کے مابین موجودہ مشکلات کے حوالے سے اُن لوگوں کی ہاں میں ہاں ملائی جو تعلقات کو استوار ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ اُن کا کہنا تھا کہ امن عمل کو صرفِ نظرکرنے کے تمام اقدامات کو وہ مضبوبی کے ساتھ مسترد کرتے ہیں۔ جمعرات کو کٹھوعہ میں ضلع کمیٹی کے ممبران کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی سعید کہا کہ ہند وپاک کے درمیان امن عمل میں بریک لگانے کے ایسے اقدامات ریاستی عوام کی خواہشات کیلئے شدید دھچکہ ہیں۔انہوں نے کہا نئی آسان ویزا پالیسی کو التوا میں ڈالنے اور ہاکی کے کھلاڑیوں کو واپس بھیجنے کے نتیجے میں ریاستی عوام میں منفی تاثر پیدا ہوگیا ہے، جو وزیر اعظم کی طرف نظریں لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ امن عمل کو آگے لیجانے میں سنجیدہ ہیںاور جس کی وجہ سے گذشتہ10برسوں میں ریاستی عوام کے دلوں میں ایک مثبت کیفیت کا رجحان پیدا ہوگیاہے۔ انہوںنے حکومت ہندوستان کی طرف سے حد متارکہ پر پیدا شدہ کشیدگی اور تنائو کے بعد اٹھائے گئے اقدامات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے جموں وکشمیر کے عوام کے جذبات و احساسات کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔ انہوںنے وزیر اعظم پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ شروع کئے گئے امن عمل اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے حوالے سے موثر اور ٹھوس اقدامات اٹھائے اور اس ضمن میں وزیر اعظم خود پہل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہند پاک کے درمیان شروع کئے گئے امن عمل اور مذاکرات کے سلسلے کے باعث ریاستی عوام کی زندگیوں پرکافی اثر پڑا تھا اور ریاستی عوام دونوں ممالک کے درمیان امن عمل کو آگے بڑھانے کے حق میں ہیں۔ مفتی نے کہاکہ ملک کے اُن تمام امن پسند حلقوں کیلئے وزیر اعظم کا بیان بد دل کرنے کے متراف ہے، جو انہوںنے لائن آف کنٹرول پر بدقسمتی سے پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ روابط کو جاری نہ رکھنے کے بارے میںدیا، اور اس کے بعد میڈیاکے ایک حلقے میں اسے اچھالا گیا اور یہ انتہائی بدقسمتی کا مقام ہے کہ وزیر اعظم نے ہی امن عمل کو تقویت پہنچانے کیلئے کٹھن راستہ اختیار کیا اور اب وہی پاکستان سے متعلق پالیسی میں اُن انتہا پسند رجحانات کو جگہ دے رہے ہیں جو کہ انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ مفتی نے کہا ’’پارلیمنٹ حملہ کے بعد جب دونوںملکوں کی افواج جنگ کیلئے تیار تھیں اور کرگل واقعہ کے بعد ممبئی حملے ہوئے تھے، جیسے واقعات کے باوجود بھی پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے کسی بھی حکمت عملی کو مؤخر نہیں کیاگیا تو کیا جوازیت بنتی ہے کہ لائن آف کنٹرول پر ہوئے واقعہ کے بعد امن عمل کو روکا جائے۔اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھائو آتے رہے ہیں کیونکہ ایسے معاملات ہیں، جن کا تاریخ کے ساتھ جوڑ ہے اور یہ کوئی آسان معاملہ نہیں کہ آسانی کے ساتھ دونوں ملک آگے بڑھ سکیں۔ مفتی نے کہا کہ ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو امن عمل کو روک دینا چاہتے ہیں لیکن وزیر اعظم کی حوصلہ مندی اور سابق وزیر اعظم واجپائی کی دانشمندی کی وجہ سے ہی دونوں ملکوںکے درمیان نفرت کی خلیج کم ہوئی۔ انہوںنے کہا کہ 6دہائیوں سے دونوں ملکوں کے درمیان اسی طرح کی کشیدگی کی وجہ سے ریاستی عوام کو بھاری قیمت چکانا پڑی ہے اور یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ریاستی عوام کے دکھ درد کو دھیان میںنہ رکھتے ہوئے اب پھر وہی جنگی صورتحال پید کی جارہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ وہ امن اور دوطرفہ تعلقات بڑھانے کی اپنی اُس پالیسی کا مان رکھیں ورنہ ماضی میں اُن کا جو طریقہ کار رہا ہے، کہیں وہ بھی مت ضائع ہوجائے۔ انہوںنے حد متارکہ پر جاری کشیدگی و تنائو پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں میں مقیم لوگ ایک بار پھر عدم تحفظ کے شکار ہورہے ہیں اور وہ دوبارہ بینکروں اور محفوظ مکانوں کی تعمیر کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ گذشتہ کئی برسوں سے فائر بندی کے چلتے انہوںنے راحت کی سانس لی اور وہ محفوظ مکانوں کے ساتھ ساتھ بینکروں کی تعمیر کو محسوس نہیں کررہے تھے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں













سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By