GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
نقشبندی سلسلہ
قلب کی صفائی عمل کا قرینہ

نقشبندیہ سلسلہ ایک واحد سلسلہ ہے جو پورے عالم اسلام میں ابتداء سے مروّج رہا اور سنت نبویؐ کی مکمل پیروی کی وجہ سے ہر مکتبہ فکر کو اس میں شامل ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ سلسلۂ مبارک مکہ معظمہ بلکہ پورے حجاز میں اِس وقت بھی رواں دواں ہے ۔برصغیر کے اکثر علماء ومشایخین اس سلسلہ مبارک سے وابستہ ہیں ۔علماء دیوبند کے تابع خانقاہوں میں تاایں دم معمولاتِ نقشبندیہ رائج ہیں ۔ سلسلۂ نقشبندیہ اگرچہ تمام احکامات قران وسنت نبویؐ پر پابندہے تاہم سالک عبادات وریاضیات کے اعلیٰ درجات حاصل کرنے کے باوجود اپنے آ پ کو ہمہ وقت تسبیح، حمد ،استغفار اور توبہ میں مشغول رکھتاہے اور رجال اس سلسلہ میں اس طرح طالب رہنا چاہئے گویا کہ دنیا کی معاشی خرید وفروخت کرتے ہوئے یادِ خدا میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں آنی چاہئے گویا۔دست باکارِ دل با یار سے ایک مومن ہمہ وقت مشغول ہو۔ حضرت خواجہ خواجگاں بہائو الدین نقشبندی بخاریؒ سے پوچھا گیا اس سلسلہ مبارک میں چلہ کشی کیوں نہیں ہے ۔فرمایا طالب یا مرید اس سلسلہ مبارک میں قدم رکھتے ہی معتکف بن جاتاہے یعنی گوشہ نشینی نہ ہونے کے باوجود عوام اور اپنے اہل وعیال سے وابستہ ہوکر بھی اسے گوشہ نشینی کے آثار موجود ہونی چاہئے   ؎

ہوش در دم خلوت اندر انجمن حالِ اوست

اومربی ہم بخلوت ہم بصحبت در شداست

آپ غورفرمائیے خواجہ نقشبندؒ فرماتے ہیں کہ خدا کا شکر ہے کہ میں نے حضرت سرورعالمؐ کی تمام سنتوں پر عمل کیا۔

حضرت خواجہ نقشبندؒ کے سامنے جب کبھی اصحاب صفہ کا ذکر ہوتا ، فرماتے ہم نے ابھی اس طریقہ مبارک پر عمل نہ کیا تو فوراً اپنی خانقاہ کے چند فاصلے کے دوری پر ایک چبوترہ بنایا اور اس کے ارد گرد بید کے درختوں کو لگایا تاکہ خلفاء مرید ین کر آفتاب کی گرمی سے کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔ اس جگہ کو آج بھی دہبیدی کے نام سے پکاراجاتاہے ۔ اس طرح حضرت خواجہ نقشبندؒنے اصحابِ صفہ کی سنت جاری فرمائی ۔ اعلیٰ کمالات کے باوجود آنجنابؒ نے کراماتِ حسی کی طرف زیادہ توجہ فرمائی بلکہ فرماتے تھے کہ کراماتِ حسی سے زیادہ کراماتِ معنوی یعنی حضرت سرورعالمؐ کی مکمل اتباع و اطاعت ہی اصل کرامت ہے ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ سے کرامات صادر کیوں نہیں ہوتے ہیں ۔ فرمایا یہ کیا کم کرامت ہے کہ مجھ جیسے عظیم گناہ گار کو اللہ تعالیٰ اپنی زمین پر چلنے کی توفیق فرماتاہے ۔

سلسلۂ نقشبندیہ ہندوستان میں دوذریعوں سے پھیلاہے:ایک خواجہ محمد باقی باللہ نقشبندیؒ اور بعد میں ان کے تتبع میں مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی مجددی فاروقی اور ان کے بے شمار خلفاء پورے برصغیر کے علاوہ عالم اسلام میں رائج کیا اور دوسری برگزیدہ شخصیت حضرت امیر ابوعلیؒ تھے ۔کشمیر میں سب سے پہلے یہ سلسلہ داعی اول حضرت بلبل شاہؒ کے ہمراہ مبلغ حضرت سیدبدرہلالؒ اور بعدمیں دسویں صدی میں حضرت سید خاونہ محمود نقشبندی اور ان کے تتبع میں حضرت سید معین الدین ہادی نقشبندی کے علاوہ حضرت شاہ نیاز نقشبندیؒ نے اس سلسلہ مبارک کی عظیم الشان خدمات انجام دیں اور ان ہی کے نام سے خواجہ بازار شہرسرینگر معروف ہوئی جہاں حضرت سید معین الدین نقشبندیؒ کا آستان عالیہ ہے ۔ ان کی معروف تفسیر قرآن ’’زبدۃ التفاسیر‘‘ عربی میں ہے ۔ڈاکٹر مظفر ندوی نے اس کے ایک حصے کو عربی میں ہی طبع کیاہے ۔ آج اسی زیارت کے قریب ایک عظیم الشان خانقاہِ نقشبندیہ موجود ہے جو اصل میں عشم سوناواری میں دریائے جہلم کے کنارے پر حضرت سلطان زین العابدین نے سید محمد امین منطقی اویسیؒ کے بنوایا تھا۔ بعد میں اسی خانقاہ کے تعمیری مواد کو منتقل کرکے خواجہ بازار میں ازسر نوتعمیر کیا گیا ۔موئے مقدس سرورعالم ؐ حضرت بل سب سے پہلے اسی خانقاہ میں رکھا گیا ۔ حضرت شیخ احمد رادھوچستی ؒ کے دست مبارک سے سب سے پہلے نشاندہی ہوئی ۔سلسلہ نقشبندیہ کا شجرۂ نسب حضرت سرورعالمؐ سے شروع ہوا اور حضرت ابوبکر صدیقؓ،حضرت سلمان فارسیؓ ،حضرت قاسم بن محمد بن ابوبکرؓ ،حضرت امام باقر ؓ،حضرت امام جعفر صادقؒ،حضرت بایزید بسطامیؒ،حضرت شیخ ابوالحسن خرقانی ؒ، حضرت شیخ ابوعلی فارمدی،خواجہ ابویوسف ہمدانیؒ،حضرت شیخ خالق غجدوانی ؒ،خواجہ عارف دیوگریؒ، خواجہ علی لامیتنی ؒ، خواجہ محمد بابا سماسی ؒ، سید امیر کلاںؒ ، حضرت سید بہائو الحق نقشبندی بخاری ؒتک پہنچتاہے ۔ سلسلہ نقشبندیہ کی تعلیم صحبتِ شیخ ذکراللہ اور مراقبہ یعنی اس مرشد کی صحبت میں بیٹھنا جو مکمل طور شریعت کا پابند ہو اور ان سے ذکر وفکر تعلیم حاصل کرکے اپنے آپ کو وجود میں سیر کرتے ہوئے معرفتِ خدا حاصل کرتے ہوئے عامتہ المسلمین کو پروردگار برحق کے احکامات اور سنت نبویؐ پر عمل پیرا کرنے کی ایک مستحکم تحریک ہے ۔اسی لئے حضرت نقشبندؒ فرماتے ہیں جو کچھ ہمارے پاس ہے یہ حضرت شیخ عبدالخالق عجدوانیؒ کے ان کلمات قدسہ کا فیض ہے جن میں (۱)۔یاد خدا،(۲)۔بازگشت،(۳)۔نگاہِ داشت (دل کے خطرات کی نگہبانی کرنا )،(۴)۔ یادداشت (خضوع وخشوع)،(۵)۔ ہوش دردم (کوئی سانس ذکر سے غافل نہ رہے۔) ، (۶)۔سفر دروطن (اپنے اندربُری صفات کو ترک کرکے اچھی صفات کی طرف عروج)،(۷)۔نظر برقدم (اپنے قدم پر نظر تاکہ توجہ منتشر نہ ہو )۔ (۸)۔خلوت درانجمن (سالک ظاہر سے مخلوق کے ساتھ او رباطن خالق کے ساتھ) ،(۹)۔وقوف زبانی (اپنے آپ اور وقت کا محاسبہ نیک کام کرے تو شکر اور اگر بُرے اعمال میں گذرا تو استغفار۔ (۱۰)۔وقوف عددی(ذکر قلبی میں گنتی اور طاق اعداد کالحاظ ۔(۱۱)۔وقوف قلبی (دل وقلب اتنا مستحکم ہو کہ دل کو غیر سے کوئی غرض نہ ہو ۔)

حضرت خواجہ نقشبندؒ کی تشریف آوری کی پیشن گوئی ان کے ولادت سے قبل 157سال حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی ؒ نے فرمائی ہے جب آنجنابؒ نے اپنا روئے اقدس بخارا کی طرف کرکے فرمایا مجھے اُس فرزند محمدیؐ کی بو آرہی ہے جس کے ہاتھوں سے سنت نبویؐ کی عظیم خدمت ہوگی ۔اس پیشین گوئی کے بعد حضرت غوث الالعظم ؒ بارہ سال بساطِ ارض پر رہے مگر ازروئے تعظیم بخاری کی طرف کبھی پشت نہیں کیا۔ ذریعہ معاش صاحب ثروت تاجر گھر سے تعلق کے باوجود علوم ظاہری وباطنی سے فارغ ہو کراپنے والد محترم کے کاروبار سے منسلک رہ کر ہر ایک کو عطا فرماتے تھے اور لینے سے اکثر اجتناب فرماتے تھے ۔نسب نامہ تا حضرت سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا گذرا ہے کہ ہر ایک کے نام سے نام محمد وابستہ تھا اور بعد وفات اس مقبرے میں سپرد خاک ہوئے تھے جس کا نام ہی مقبرہ محمدین ہے ۔عجزوانکساری کا عالم یہ تھاکہ اتنے کمالات ریاضات ،عبادات ،سنت کی پیروی اور عظیم نظریہ کے باوجود فرماتے تھے ۔

’’کہ اگرمیرے گناہ کسی روٹی پر لکھے جائیں تو اگر کسی بھوکے کُتے کو بھی سامنے ڈالی جائے تو میرے گناہوں کے عارگی کی وجہ سے یہ روٹی نہ کھانے پر ہی اکتفا کرے گا ۔

توحید اور توکل کا حال یہ تھاکہ ہمہ وقت خدا کے حضور میں سجود اور مناجات کے لئے اپنے قاضی الحاجات پر وردگار کی طرف توجہ مبذول کرتے تھے اور ایمان واسلام کا اعلیٰ نمونہ ہونے کے باوجود اُس دولت پر ناز نہ ہوتے ہوئے اپنے ایمان کو خوف رجا کے درمیان میں رکھتے تھے ۔ جب ابدی زندگی کی طرف سامانِ سفر کے باندھنے میں تیاریاں فرمارہے تھے تو کسی مرید نے عرض کی کہ شیخ ابوسعید ابوالخیر کے جنازے میں یہ پڑھاگیا  ؎

چست ازیں خوب تر در ہمہ آفاق کار

دوست رسد نزددوست یاربہ نزدیک یار

 انہوں نے فرمایاایسے ہی عمل فرمائی تھی مگر مجھ گنہگار سے کوئی کام دردست نہیں آیا ۔ میرے جنازے پر پڑھنا     ؎

مفلسانیم آمدہ در کوے تو

شینا اللہ از جمال روئے تو

(میں مفلس تیرے گلی میں آیا ہوں بھیک مجھے بھی ملے کچھ تیرے حسن سے )

آخر 3ماہ ربیع الاوّل 791ھ کو انتقال فرماگئے او رقصری رفاں کی سرزمین کو جسد خاکی سونپ کر آپ کا مزارشریف تاایں دم او رقیامت تک مرجع الخلائق ہے جہاں آج بھی ہزاروں عقیدت مندوں کی تعداد اس عظیم پاسبان سنت نبویؐ سے روحانی فیض حاصل کرتے ہیں ۔اتقافاً اُن کا وصال اُس وقت ہوا جب بعد نماز عصر ہر روز معمولات نقشبندیہ انجام دیئے جانے  تھے کیونکہ قرآن کے مطابق نمازِ عصر کی حفاظت آنجناب سختی سے خود کرتے رہے اور خلفاء کو بھی اس پر عمل کرنے کی ہدایت فرمائی تھی اور حضرت نقشبندؒ کا وصال 3ربیع الاوّل ان ہی معمولات کے دوران ہوا۔ آج تک یہ معمولات نقشبندی خانقاہوں میں بعد عصر رائج ہیں بلکہ دارالعلوم دیوبند ، حضرت تھانویؒ کے تھانہ بھون خانقاہ ، حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ، خانقاہ مجدد الف ثانی سرہند، شاہ ابوالحسن زید مجددفاروقی دہلی ، رائے پورہ شریف ، گنگوشریف وغیرہ میں بھی یہ کلمات نقشبندیہ ورد کئے جاتے ہیں ۔اس لئے نماز عصر پر سختی سے کار بند ہونے کی وجہ سے کشمیر میں ’’خوجہ دگر‘‘ سے معروف ہوا جس کا اہتمام حضرت نقشبندؒ کے عرس 3ربیع الاول ہر نہایت ہی تزک واحتشام سے کیا جاتاہے بعد عصر معمولات کا ورد ہوتاہے بلکہ مادیات کے غلبے کے باوجود ہر جمعرات کو بعد عصریہ کلمات اجتماعی طور الحمدللہ آج بھی رائج ہیں ۔ اصل مقصد قرآن وسنت کی پیروی کرکے خدا اور رسول اللہؐ کے قریب ہوناہے او ریہی اولیاء عظام اور ان کے سلسل کی تعلیم ہے  ورنہ    ؎

نقش حق تابدل نہ بستی تو

نقشبندی چہ گونہ ہستی تو

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By