GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  جمہ ایڈیشن
کتاب وسنت کے حوالے سے مسائل کا حل


اُردو زبان سیکھنا ریاستی مسلمانوں کا دینی فریضہ

سوال:-اُردو کی موجودہ ناگفتہ بصورت ِ حال آپ کے سامنے ہے ، سرکار اُسے دیس نکالا دینے پر تلی ہوئی ہے ۔ محکمہ تعلیم میں بھی تیزرفتاری سے اُردو کوختم کیا جارہاہے ۔ بولنے میں بھی کچھ لوگ پنجابی قسم کی اُردو بولتے ہیں ، جن کا لہجہ ہی اُردو کی ٹانگیں توڑ دیتاہے ۔

اس صورتحالِ حال کو وسیع تناظر میں سامنے رکھ کر بتائیے کہ اُردو کے مستقبل کے حوالے سے ہم پر کیا ذمہ داری ہے اور اُردو پڑھنے لکھنے کا شرعی درجہ کیا ہے اور نہ پڑھنے کے کیا نقصانات ہوں گے ؟

غلام رسول خان

رعناواری ، سرینگر

جواب:-کسی بھی قوم کا تمام تر علمی تہذیبی، ادبی اور فکری سرمایہ کسی خاص زبان میں ہوتاہے ۔ پورے برصغیر کے مسلمانوں کی طرح کشمیر کے مسلمان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں کہ ان کا تمام تر علمی سرمایہ اُردو زبان میں ہے ۔ اہل کشمیر کی مادری زبان اگرچہ کشمیری ہے مگر اہل کشمیر عموماً دین کے اس لٹریچر سے ہی فائدہ اٹھاتے رہے ہیں جو اُردو کے ذریعہ وجود میں آرہاہے اسی لئے یہاں دینی کتابوں کے لئے اُسی طرح کتب خانے اور بک ڈیپو ہیں جیسے دہلی اور لاہور میں ہیں اور اس لئے اُردوزبان کوپڑھنا،لکھنا ، سمجھنا اور اس کی بھرپور صلاحیت پیداکرنایہاں کے مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے ۔ دراصل یہ ایک شرعی اصول بھی ہے اور اصولی حکم بھی ہے کہ جس جگہ کے مسلمانوں کا دینی ورثہ جس زبان میں ہو اُس زبان کی حفاظت ،اس کی توسیع، اس کے مکمل طور پر لکھنے پڑھنے کا پورا انتظام وہاں کے مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے تاکہ اس زبان کے ذریعہ وہ اپنے دین کا علمی تحفظ کرسکیں ۔ یہ شرعی حکم ہر علاقے اور ہر ملک کے مسلمانوں کے لئے ہے۔ چونکہ برصغیر کی تمام علاقائی زبانوں میں مکمل دینی لٹریچر ہے ۔ اس لئے یہاں کے تمام مسلمانوں پر اپنے دین کے بقاء کے لئے جوچند امور اپناناضروری ہے اُن میں اُردو کا مکمل تحفظ بھی لازم ہے ۔اس میں بنگال ،بنگلہ دیش اور جنوبی ہند کے ساحلی علاقہ مستثنیٰ ہوسکتے ہیں لیکن شمالی ہندوستان اور پورے پاکستان کے مسلمانوں کی طرح پورے اہل کشمیر کے دین کا تحفظ اُردو ہی کے ذریعہ ہے ۔ لہٰذا اگر اُردو پڑھنے لکھنے پر کسی معاشی فائدہ کا حصول بھی نہ ہو ۔مثلاً ملازمت نہ ملے ، نہ گورنمنٹ اداروں میں نہ پرائیوٹ سیکٹرمیں توبھی دینی فریضہ جان کر اس سلسلے میں بے انتہا حساسیت کا مظاہرہ یہاں کی غیرت اور حمیت کے لئے ایک چیلنج ہے ۔ گویا یہ اُردو لکھنا پڑھنا بغرض دین ہوگا نہ کہ معاشی ضرورت کے لئے ۔

اُردو میں بصیرت حاصل کرنا اور اس زبان کو پوری گہرائی اوروسعت کے ساتھ پڑھنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہاں مسلمانوں کا تمام تر فکری، ادبی اورتہذیبی وتاریخی اور تمام تر سرمایہ اسی زبان میں ہے ۔ اُردو نہ جاننے کا یقینی نقصان یہی ہوگاکہ ہم اپنے اُس ادب سے محروم ہوجائیں گے جو سرسیّد، میر تقی میر، اور غالبؔ سے ہوتے ہوئے اقبال ؔجیسی آفاقی شخصیت کے افکار عالیہ سے مزین ہو کر ہم تک پہنچا ۔ ادب کے تمام اوصاف چاہے وہ قصیدہ ہو،مرثیہ ہو ،غزل ہو ، نظم ہو یا پھر جدید نظم ۔ اسی طرح نثر میں چاہے اصلاحی مضامین کا لٹریچر ہوں، ناول ہو ں،افسانے ہوں ، فیچر ہو، سفرنامے ہوں ۔ رپوتاژ ہویا ڈرامے ہوں یہ سب اُسی وقت ہمارے دسترس میں ہوں گے جب ہم اس زبان کو پوری گہرائی کے ساتھ جانتے ، سمجھتے اور پڑھتے ہوں۔ بصورت دیگر اس پورے سرمایے سے ہم محروم ہوں گے۔پھر صورتحال یہ ہوگی کہ اقبال کی ’’بچوں کی دعا‘‘ پڑھنے اور سمجھنے والے بھی نہ ہوں ۔ بال جبرئیل اورضربِ کلیم سمجھنے کی توبات ہی نہیں ۔

برصغیر کے مسلمانوںکی تاریخ خصوصاً انگریز استعمار کے بعد کی تاریخ کیا رہی وہ اُس وقت تک صحیح طو رپر سمجھی ہی نہیں جاسکتی جب تک اُس صحافت تک رسائی نہ ہو جو اُس وقت سرگرم تھی ۔اس لئے الہلال، زمیندار ،علی گڑھ گزٹ اور انقلاب وغیرہ اُردو ہی کے رشحات سے مزین ہیں ان تک رسائی اُردو جانے بغیر ممکن نہیں ۔برصغیر اور کشمیر کی تمام دینی ، رفاہی اور سیاسی تنظیموں کی تاریخ بھی اُردو جانے بغیر حقائق شناسی کے بغیر جاننا ممکن نہیں اس لئے بھی اُردو ضروری ہے ۔تاکہ اپنی ملّی ، فکری اور ادبی وسیاسی تاریخ سے آشنا ہوسکیں ۔

یہاں آج جتنی بھی اُردو صحافت ہے ظاہرہے وہ اُسی وقت تک ہے جب تک یہاں اُردو پڑھنے اور لکھنے والے ہیں ۔ ورنہ آج کی وہ نسل جوسکولوں کالجوں میں پڑھ رہی ہے ۔ پندرہ بیس سال کے بعد یہ اُردو ناآشنا جب ہمارے دفتر بازاروں اور گھروں میں ہوگی تو وہ ان اردو اخباروں کو کیوں وکیسے ہاتھ لگائیں گے ۔ نتیجتاً یہاں کی اُردو صحافت کا مستقبل شدید حدتک بھیانک ہے اور جب اُردو صحافت سمٹتے سمٹتے اُ س سطح تک پہنچ جائے گی کہ یہاں کے اخبارات مشکلاً چند سو یا چند ہزار کی تعداد چھاپنے پر مجبورہوں اور وہ بھی ردّی کاغذ میں فروخت کرنے پڑیں تو وہ خود ہی بند ہوجائیں گے ۔

دُنیا میں زبانوں کے مٹنے کی تاریخ پڑھئے تو جواسباب اُن کے مٹنے کے پائے گئے وہ سب اس وقت یہاں کی اُردو کے لئے جمع ہیں ۔صرف فلمی نغموں،ٹی وی سیریل اور مشاعروں کی واہ واہ سے کوئی زبان نہ زندہ رہ سکتی ہے اور نہ وہ پروان چڑھ سکتی ہے ۔ یقیناً آگے کے پندرہ بیس سال کے بعد یہاں کے تمام دینی کتب خانے بند ، یہاں کی تمام اُردو صحافت خزاں رسیدہ ، یہاں کی لائبریریوں میں تمام اُردو کا دینی اور ادبی لٹریچر گرد آلود اور یہاں کے اپنے دینی وادبی تاریخی سرمائے سے منقطع ہوکر ایک ایسی نسل کے وجود میں آنے کے سارے اسباب جمع ہیں جو اپنے ماضی سے ناآشنا ، اپنے دین سے نابلد ، اپنے ادب سے محروم اور اپنی اصل تہذیب سے تہی دامن ہوگی ۔

کاش! یہاں کے نظام تعلیم چلانے والے سرکاری وغیر سرکار ی افراد کو اس کو سوچیں اور دردوفکر کے ساتھ اس کے تدارک کے لئے مؤثر اوریقینی طور پر مفید مکمل اور کامیاب لائحہ عمل تیار کریں اور پھر جامع منصوبہ بناکر خودبھی اس پر کاربند ہوں اوراپنے تمام تعلیمی اداروں کوتحفظ ِ اُردو کی نہج پرقائم کریں ۔ساتھ ہی یہاں کے تمام تاجر برادری پر لازم ہے کہ وہ اُردو کے فروغ کے لئے اپنی دوکانوں کے سائن بورڈ اُردو میں لکھوائیں۔اسی طرح محکمہ ٹرانسپورٹ اور شاہرائوں کی منتظمہ پر لازم ہے کہ راستوں پر جیسے وہ انگریزی میں صاف ستھرے اور پُرکشش سنگ میل لکھواتے ہیں ایسے میں اچھی تحریر اور جاذب نظرانداز میں اُردو میں بھی جگہوں کے نام لکھوائیں ۔ دفاتر پر لگائے جانے والے بورڈ چاہے یہ سرکاری دفاتر کے بورڈ ہوں یا پرائیوٹ اداروں کے اُن پر بھی لگائے جانے والے بورڈ اُردو میں پُرکشش انداز میں لکھوائیے جائیں۔کوئی حرج نہیں کہ ساتھ میں انگریزی میں بھی لکھا جائے ۔

مجموعی طور پر تمام اہلیان کشمیراُردو اخبارات لینے ، پڑھنے اوربچوں کو پڑھانے کا مزاج بنائیں ۔اپنے گھروں کو صالح اور تعمیری اُردو لٹریچر سے آباد رکھیں۔

ان چند اقدامات کے بعد توقع ہے کہ کسی نہ کسی درجہ میں اُردو کی بقاء کی ناقص صورت ہی سہی لیکن سامنے آجائے گی ۔ 

نماز کے متفرق مسائل

سوال:۱-ایک نمازی نیت میں یوں کہتاہے کہ میں اقتداء کرتاہوں اس امام کے پیچھے اگر اس مقتدی کو کبھی امام کی وضو ٹوٹنے کی صورت میں خلیفہ بننا پڑا تو کیا اس مقتدی یا اور دوسرے مقتدیوں کی نمازوں میں کوئی فرق تو نہیں پڑے گا۔

سوال:۲-کیا امام کو مقتدیوں کی نماز پڑھانے کی نیت کرنا ہوتی ہے ۔

سوال:۳- اگر امام رکوع میں چلا گیا ہو اور مقتدی فوراً ہی آکر رکوع کی تکبیر کہہ کر شامل ہوگیا تو کیا اس کی رکعت ہوجائے گی ۔

سوال:۴- سجدۂ سہو کن کن چیزوں پر واجب ہوتاہے ۔ تاخیر فرض، ترک واجب کے علاوہ یعنی تاخیر واجب ، تکرارِ فرض ،تکرار واجب سے بھی لازم ہوتاہے ۔ مہربانی کرکے تفصیل سے جواب فرمائیں۔

سوال:۵- وضو کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے ۔ کیا اگر کوئی شخص گھٹنوں پر سر رکھ کر بغیر ٹیک لگائے سو جائے تو کیا اس کی وضوٹوٹ جائے گی ۔

سوال:۶- اگر کوئی شخص یوں کہے کہ ’’فلاں چیز‘‘ میں اگر کھائوں تو وہ میرے لئے خنزیر کے گوشت کے برابر ہوگاتو کیا اس سے قسم پڑجاتی ہے ۔ اگر پڑجاتی ہے تو اس کے لئے کفارہ کیا ہوگا ۔

ابواویس

بارہمولہ ، کشمیر

جواب:۱-نیت دل کے ارادے کا نام ہے ۔ زبان سے نیت کرنا ضروری نہیں ہے ۔اب اگر کسی نے زبان سے نیت کرتے ہوئے یوں کہاکہ میں اس امام کی اقتداء کرتاہوں اور بعد میں امام کے وضو ٹوٹ جانے کی وجہ سے دوسرا شخص خلیفہ بن کر نماز کی امامت کرے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس لئے کہ امام کے مقرر کرنے کے معنی یہ نہیں کہ کوئی دوسرا شخص امامت کرے تو نماز فاسد ہوجائے ۔

جواب:۲-امام کے لئے ہرگز یہ لازم نہیں کہ وہ مقتدیوں کو نماز پڑھانے کی نیت کرے ۔ نہ کتاب وسنت میں کہیں بھی اس کو لازم کہاگیا ہے ۔

جواب:۳- فقہ حنفیہ کے مطابق اگر مقتدی نے امام کو رکوع میں پالیاتو اس مقتدی کی وہ رکعت درست ہوگئی ۔ اس سلسلے میں احادیث میں ہے کہ جس نے رکوع پالیا اُس نے رکعت پالی۔ اس مضمون کی احادیث سنن بیہقی ، مصنف عبدالرزاق ،مصنف ابن ابی شیبہ، صحیح ابن خزیمہ ، دارقطنی میں موجود ہیں ۔

جواب:۴-سجدۂ سہو لازم ہونے کی بہت ساری صورتیں ہیں ۔ اس کے لئے بہتر ہے کہ مسائل سجدۂ سہو نام کی کتاب لے لیں ۔ اس سے اکثر پیش آنے والے عمومی سجدہ سہو کے مسائل معلوم ہوجائیں گے ۔ ترکِ فرض سے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے لیکن ترک واجب ہویاتکرار فرض ہو یا تاخیر فرض ہو تو اِن تینوں امور کی وجہ سے سجدۂ سہو لازم ہوجاتاہے ۔

جواب:۵-وضو توڑنے والی چیزیں یہ ہیں : پیشاب، پاخانہ کرنا ، ہوا خارج ہونا ،مذی نکلنا، جسم سے خون یا پیپ نکلنا، سوجانا ، بے ہوش ہوجانا ،نشہ میں بے حواس ہوجانا ، نماز میں زور سے ہنسنا ۔یہ نواقص وضوفقہ حنفی کے مطابق ہیں ۔

 جواب:۶-انسان کو حق نہیں کہ خود بخودکسی چیز کو خنزیر کا درجہ دے ۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ چیز خنزیر بن کر حرام نہ ہوگی ۔ نہ اس سے قسم ہی منعقد ہوتی ہے۔نہ ہی کفارہ لازم ہوتاہے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By