GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
عقائد بمقابلۂ الحاد۔۔۔۔۔۳
دُنیا اسلام کی متلاشی ہے مگر

یہی آخرت کی نجات یا جنّت کے عقیدے کے بغیر انسانی زندگی کو بہتر بناتا ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اخلاقی اقدار کو مشاہدے اور دلائل کی بنیاد پر پرکھیں اور نتائج کی روشنی میں اپنی اخلاقی اقدار میں تبدیلی کرنے پر تیار رہیں۔ ہمارا طریقہ عالمی یاپلینیٹری ہے ، جیسا کہ ہیومنسٹ مینی فیسٹو Humanist Manifesto 2000  میں زور دیا گیا ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس سیارے زمین پر ہر انسان بالکل مساوی حیثیت رکھتا ہے۔ اخلاق کے ساتھ ہماری وابستگی یہ ہے کہ عالمی برادری میں ہر فرد کو اس کے حقوق ملیں اور ہم اپنے مشترکہ گھر یعنی اس زمین کی حفاظت کریں۔ انسانی اخلاقیات فرد کی آزادی، پرائیویسی کے حق، انسانی آزادی اور سماجی انصاف کی ضمانت دیتے ہیں۔ اس کا تعلق پوری نسل انسانیت کی فلاح و بہبود سے ہے۔پال کرٹز Paul Kurtz کے’دی سیکولر ہیومنسٹ پروسپیکٹ ان ہسٹوریکل پرسپیکٹوThe Secular Humanist Prospect: In Historical Perspectiveجوفری انکوائری میگزینFree Inquiry Magazine کے  وولیم Vol. 23‘No. 4, May 2003میںان فلسفیوں نے انسانی حقوق اور انسانی اخلاق کو اپنے فلسفے میں بہت اہمیت دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان ممالک کے عوام میں اخلاقی شعور نسبتاً بہت بہتر ہے۔ وہ لوگ بالعموم جھوٹ کم بولتے ہیں ، اپنے کاروبارمیں بددیانتی سے اجتناب کرتے ہیں، ایک دوسرے کااستحصال کم کرتے ہیں، فرد کی آزادی کا احترام کرتے ہیں، جانوروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، یتیموں اور اپاہجوں کے لئے ان کے ہاں منظم ادارے ہیں، قانون کا احترام کرتے ہیں، ان کی سوچ عموماً معقولیت پسندیRationality  پر مبنی ہوتی ہے، وہ عقل و دانش کی بنیاد پر اپنے نظریات کو تبدیل کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں، ان کے ہاں ایک دوسرے کو مذہبی آزادی دی جاتی ہے، ایک دوسرے کا احترام کیا جاتا ہے، محض اختلاف رائے کی بنیاد پر کوئی کسی کو گولی نہیں مارتا، علم و دانش کا دور دورہ ہے، اشیا ء خالص ملتی ہیں اور ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھانے والے ادارے بہت موثر ہیں۔ایسا بھی نہیں ہے کہ اخلاقی لحاظ سے یہ لوگ فرشتے بن گئے ہیں، بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ ان خوبیوں کے علاوہ ان لوگوں میں بہت سی اخلاقی خرابیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ لوگ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے، ان کی خدمت نہیں کرتے، جنسی بے راہ روی ان کے ہاں عام ہے، ان کی اکثریت طرح طرح کے نشے میں سکون تلاش کرتی نظر آتی ہے، ان میں تشدد کا رجحان بڑھتا ہوا نظر آتا ہے، اور بالخصوص ان کے اخلاقی معیارات اپنی قوم کے افراد کے لئے کچھ اور ہیں اور باقی دنیا کے واسطے کچھ اور۔ نیشنلزم کا جذبہ بہت طاقتور ہونے کی وجہ سے یہ اپنی قوم کے افراد کے لئے تو بریشم کی طرح نرم ہیں اور ہر اخلاقی اصول کی پیروی کرتے ہیں لیکن جب معاملہ کسی دوسری قوم کے ساتھ ہو تو وہاں انسانی حقوق کے تمام سبق یہ بھول جاتے ہیں۔جب یہ الحادی نظریات اہل مغرب سے نکل کر مشرقی قوموں میں آئے تو اشرافیہ کے جس طبقے نے انہیں قبول کیا، بدقسمتی سے وہ اخلاقی اعتبار سے نہایت پست تھا۔جب یہ طبقہ اور اس کے زیر اثر عوام الناس عملی اعتبار سے الحاد کی طرف مائل ہوئے تو انہوں نے تمام اخلاقی حدود سے تجاوز کرتے ہو ئے وحشت اور درندگی کی بدترین داستانیں رقم کیں۔ دور جدید میں اس کا اندازہ محض روزانہ اخبار پڑھنے ہی سے ہو جاتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مغربی ملحدین میں جو خرابیاں پائی جاتی ہیں، وہ تو مسلمانوں نے پوری طرح اختیار کرلیں لیکن ان کی خوبیوں کا عشر عشیر بھی ان کے حصے میں نہیں آیا۔

الحاد کے معاشرتی اثرات میں ایک بڑا واضح اثر خاندانی نظام کا خاتمہ اور فری سیکس کا فروغ ہے جب کہ جنسی زندگی سے متعلق آداب انسان کو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہی نے بتائے ہیںجنہوں نے اس ضمن میں ہر قسم کی بے راہ روی کا خاتمہ کیا ہے۔ جب ایک شخص انہی کا انکار کردے تو پھر اس کی راہ میں ایسی کونسی رکاوٹ ہے جو اسے دنیا کی کسی بھی عورت سے آزادانہ صنفی تعلقات سے روک سکے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ پھر ماں ، بہن اور بیٹی کا تقدس پامال کرنے  میںبھی کیا حرج رہ جاتا ہے؟ اس کے بعد اگر نت نئی لذتوں کی تلاش میں ہم جنس پرستی کے طوفان بپا ہوںتو اس میں کیا قباحت رہ جاتی ہے؟ ہندوستان میں تو اس طوفان کو عدلیہ کے ذریعہ باقاعدہ سرکاری حمایت حاصل ہو چکی ہے۔الحاد کا یہ وہ اثرہے جسے مغربی معاشروں میں پوری طرح فروغ حاصل ہوا۔ دور غلامی میں خوش قسمتی سے مسلم دنیا الحاد کے ان اثرات سے بڑی حد تک محفوظ رہی لیکن بیسویں صدی کے ربع آخر میں میڈیا کے فروغ سے اب یہ اثرات بھی ہمارے معاشروں میں تیزی سے سرایت کر رہے ہیں۔ جہاں کہیں یہ’ فری سیکس‘فروغ پا رہا ہے وہاں اس کے نتیجے میں ایک طرف تو ایڈز سمیت بہت سی بیماریاں پھیل رہی ہیں،دوسری جانب خاندانی نظام کا خاتمہ بھی ہورہا ہے جس کے نتیجے میں نہ تو کوئی بچوں کی پرورش کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی بوڑھوں کی خبر گیری کرنے کو۔ کڈز ہومز میں پلنے والے یہ بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو اسی بے راہ روی کا شکار ہوکر یہ ذمہ داریاں قبول نہیں کرتے اور مکافاتِ عمل کے نتیجے میں یہ جب بوڑھے ہوتے ہیں تو پھر ان کی خبر گیری کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ اچھے اولڈ ہومز میں داخلہ بھی اسی کو ملتا ہے جس کی اولاد کچھ فرمانبردار ہو اور اس اولڈ ہوم کا خرچ اٹھا سکے۔ان کی زندگی اب کڈز ہوم سے شروع ہوکر اولڈ ہوم پر ختم ہو جاتی ہے۔رہی سہی کسر ’لیو آن‘ جیسے قانون نے پوری کردی ہے جس کے ذریعہ ہندوستان میں بسنے والے نفس پرستوں کو ’رکھیل‘ کے ذریعہ عیاشی کا سرکاری لائسنس مل گیا ہے۔

معاشرتی اور معاشی اعتبار سے الحاد نے مسلم معاشروں کو جس اعتبار سے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ دنیا پرستی کا فروغ ہے۔ دنیا پرستی کا فلسفہ مغربی اور مسلم دونوں علاقوں میں پوری آب و تاب کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ جب انسان عملی اعتبار سے آخرت کی زندگی کا انکار کردے یعنی اس کے تقاضوں کو مکمل طور پر فراموش کردے تو پھر دنیاوی زندگی کی اس کی سرگرمیوں کا مطمح نظر بن جاتی ہے۔ مغربی معاشروں پر تو کسی تبصرے کی ضرورت نہیں لیکن ہمارے اپنے معاشروں میں جس طرح دنیا پرستی کی بھیڑ چال شروع ہو چکی ہے، جو بلا شبہ پستی کی انتہا ہے۔ایک طر ف تو ایسے لوگ ہیں جن کی اخلاقی تربیت نہایت ناقص ہے جس کے نتیجہ میں وہ ہر طرح کے جرائم میں مبتلا ہیں لیکن اس کے برعکس ایسے لوگ جن کی اخلاقی قدریں کافی حد تک قائم ہیں،حب دنیااور عیش پرستی کے مرض میں کس حد تک مبتلا ہو چکے ہیں، اس کا اندازہ ان کی محض24 گھنٹے کی مصروفیات سے لگایا جاسکتا ہے۔امت مسلمہ کے عام تعلیم یافتہ لوگ جن کی اخلاقی سطح معاشرے کے عام افراد سے بلند ہے، روزانہ صبح اٹھتے ہیں اور اپنے کاروبار یا دفاتر کی طرف چلے جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت کم ایسے ہوں گے جو دفتری اوقات کے فوراً بعد واپس آجاتے ہوں۔ زیادہ سے زیادہ ترقی کیلئے لیٹ سٹنگزLate Sittings  کا رجحان بڑھتا جارہا ہے جب کہ لوگ عام طور پر8تا9 بجے تک دفتر سے اٹھتے ہیں۔ اس کے بعد گھر واپس آکر کھانا کھانے ، ٹی وی دیکھنے اور اہل خانہ سے کچھ گفتگو کرنے میں 11تا12 بڑے آرام سے بج جاتے ہیں۔حتیٰ کہ بستر تک جانے میں1 یا2 بج جاتے ہیں۔ صبح کی نما ز چھوڑ کر لوگ بالعموم7 بجے تک بیدار ہوتے ہیں اور پھر دفتر کی تیاری میں لگ جاتے ہیں۔چھٹی کا دن عموماً ہفتے بھر کی نیند پوری کرنے اور گھریلو مسائل حل کرنے میںصرف ہوجاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورتحال میں اللہ کو راضی کرنے ، دین سیکھنے، اپنی اخلاقی حالت بلند کرنے اور دین کے تقاضے پورے کرنے کے لئے کتنا وقت نکالا جا سکتا ہے؟افسوس ہے کہ اس مادی ترقی کو حاصل کرنے کے لئے جو زیادہ سے زیادہ20تا25 سال تک کام دے گی، ہم لامحدودبرسوں پر محیط آخرت کی زندگی کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں!کیایہ ایسانہیں ہے جیسے کہ کوئی اپنے کاروبار میں 20 روپے منافع کمانے کے لئے اربوں روپے کا نقصان کرلے یا پھر دریا کی تہہ میں پڑے ہوئے ایک روپے کا سکہ حاصل کرنے کے لئے لاکھوں روپے کی دولت پھینک کر دریا میں چھلانگ لگا دے؟

……ختم شد

sa.sagar7@gmail.com

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By