GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  مقابل اداریہ
حضرت سلطان العارفین شیخ حمزہ مخدوم علیہ رحمہ


 کشمیر کے بلند پایہ ولیٔ کامل حضرت شیخ حمزہ مخددم رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت ۹۰۰ ہجری میں علاقہ زینہ گیر کے ایک گائوں تجر شر یف (جو سوپور سے ۱۵ کلومیڑ دور ہے) باباعثمان رنیہ کے خانۂ بلند اقبال میں ہو ئی۔ اس گلاب ِ پرُ بہارنے اپنے خوشبو ئے دل فزاء سے شر یعت ،روحانیت اور سلوک وطریقت سے وادی ٔکشمیر کو مہکادیا ہے ۔اسی مبارک ہستی کو اپنی ولایت و علویت کے حسب حال سلطان العارفین حضرت شیخ حمزہ مخددم رحمتہ اللہ علیہ کے نام ِ نامی سے جا ناجاتا ہے ۔ آپ ؒ 85سال کی عمرشریف پاکر 24  ماہ صفر المظفر 984ء میںواصل بحق ہوئے۔ حضرت شیخ حمزہ مخددم سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ نے جو انمٹ اور تاریخ ساز کارنامے انجام دئے وہ تا قیام قیامت ملت اسلامیہ کشمیر کے لئے مینارئہ نور کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ آ پ رحمتہ اللہ علیہ ایک ولی اللہ ، عالم باصفا اور عار ف و پاکباز اور صاحب نظر خاصان خدا میں سے تھے اور آپ کا طریق تصوف، مسلک درویشی اور مشرب عرفان ومعرفت تھا ۔اس لئے آپ ؒ کے طریق و درویشی میں سب اہم مرحلہ عبادات وریا ضات کاہے ۔

  اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تخلیق فرمائی اور ان کی ہدایت و راہنمائی کے لئے وقتاً فووقتاً انبیاء و رسل علیہ الصلوۃ والسلام معبوث فرمائے جنہوں نے انسانیت کو اللہ وحد ہ لاشریک کی بارگاہ میں سرنگوں کیا اور ان کے ظاہر و باطن کو ہرطرح کی آلود گیوں سے پاک فرمایا ۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانیت کے لئے رحمت بناکر معبوث فرمایا۔ بہرحال انبیائے علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ، تابعین تبع تا بعین اور اولیا ئے کرام و علمائے حق رحہم اللہ تعالیٰ نے خلق خدا کو ہدا یت کے نور سے منور کر نے ، علوم نافع سے مزین کرنے اور ان کے اصلاح نفس کے کام سرانجام دینے میں اپناشب وروز وقف کیا۔جوں جوں زمانہ ترقی کرتا گیا ، اصلاح نفس کے مسلمہ طریق کار میں بھی تبدیلیاں آتی گئیں ۔بزرگان دین نے تحریر و تبلیغ سے عوامی اصلاح کی سعئی بلیغ فرمائی ۔ انبیا ئے کرام ؑ سے مستفاد علم وعمل صوفیائے کرام رحہم اللہ تعالیٰ کی اصلاح نفس والی روحانی تحریک کے مفیداثرات بن کر لوگوں کے دلوں میں ثبت ہیں ۔ یہ انہی بزرگان دین کی کا وشیں رنگ لا ئی ہیں کہ آج بھی بہت تنزل کے باوجود گلشن اسلام ہر ابھرا اور لہلہاتا ہوانظر آرہا ہے۔ کشمیر بھی عرصہ دراز سے اولیا اللہ ، صوفیائے عظام اور صاحب دل اولوالعزم ہستیوں کا مسکن رہا ہے ۔ انہوں نے تصوف یعنی للٰہیت ،ا خلاص مندی ، صداقت شعاری اور خدمت خلق اللہ کی طرف بلایا تا کہ انسانی قلوب فتح کر کے اس میں عبادت کی چاشنی اور حقیقت کا عرفان بھر دیا جائے ۔ یہ چیزیں ہو ں تو فرد اور قوم دونوں یک قلم رستگار ہوتے ہیں ۔ علماء حق نے تصوف کی تعریف مختلف زائو یوں سے کی ہے۔ فرماتے ہیں یہ ایسا علم اور نور ہے جس کے ذریعے نفوس کا تزکیہ ، اخلاق کا تصفیہ اور ظاہر وباطن کی تعمیر کے اموال پہچانے جاتے ہیں ، اس کی غرض سعادت ابدی کی ٹحصیل ہے۔ محبوب سبحانی حضرت پیران پیرشیخ سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ’ غنیتہ الطالبین ‘میں اہل مجاہد ہ ،اہل محاسبہ اور اہل قصدکی دس خصلتیں بیان فر ماتے ہیں ، ان کا نچوڑ یہ ہے کہ اگر سالک راہ حق پر ثابت قدم رہا تو اس نے  بہت اونچا مقام پا لیا ۔ البتہ اس کے لئے شرط اول ہے اکل حلال اور صدق مقال۔ حضرت شیخ حمزہ مخدوم ؒم انہی اوصاف عالیہ کے داعی اور منا د تھے ۔ اسی مناسبت سے ان کا کنٹربیوشن اہل کشمیر پر ایک احسان عظیم ہے۔ جس طرح علمدار کشمیر حضرت شیخ العالم شیخ نورالدین نورانی ؒ کے احسانات کا بدلہ ہماری قوم کبھی چکا نہیں سکتی ،اسی طرح آں جناب ؒ نے ہمارے اعمال اور عقائد کو زمانے کے دست برد اور وقت کی آ ندھیوں سے بچا نے میں جو کلیدی کردار اداکیا اس کا وہم وگمان میں بھی کو ئی عوض یا بدلہ نہیں ہو سکتا ۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں پاک ومطہر ہستیوں کا سایہ ہمارے ناقص و کوتاہ عمل وجود پر تاابد رکھے ۔ جب تک دنیا قائم ہے مکتب نبوت ؐ کے یہ دو گل ِ سرسبد باشندگانِ کشمیر کے قلب وجگر کے ساتھ جڑے رہیں گے، یہ حضرت شیخ العالم رحمتہ اللہ علیہ اورحضرت محبوب العالم رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔ شریعت ومعرفت کے بے بدل روحانی رہنما حضرت سلطان العارفینؒ نے تجرسے شہر خاص سرینگر تشریف لاکرکوہِ ماران کے دامن میں سکونت اختیار کی اور یہی کے ہوکر  رہ گئے ۔ آ پ نے طالبین وسالکین اور عام لوگوں کی جتنی تعلیم وتربیت کی وہ محض فی سبیل اللہ خدا وند قدوس کی رضا طلبی اور حضرت رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ِ کا ملہ اور آخرت کی سرخروئی کے لئے تھا۔حضرت سلطان العارفین ؒنے عوام کی تربیت کے لئے شہر خاص میں مخدوم منڈو کا مقام ریا ضت مقرر کیاتھا ۔ یہاںپرآپ باقاعدہ قیام فرما کر مئے عرفان و عمل لٹایا کر تے تھے۔ اس کے علاوہ آ پ ؒ نے کئی ایک مساجد کی تعمیر بھی فرمائی ۔ان میں مسجدپاک اہم شریف بانڈی پورہ، مسجد پورو و مسجد نادی ہل ،بانڈی پورہ ارو مسجد تجر شریف سوپور قابل ذکر ہیں۔  

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں













سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By