GK Communications Pvt. Ltd
Edition :

  صفحہ اوّل
مغل شاہراہ سے ایک ماہ میں4کروڑ روپے کی تجارت
راجوری میں کشمیری سیب جموں کے مقابلہ میں آدھی قیمت پر دستیاب

راجوری// اگرچہ مغل شاہراہ کو گاڑیوں کی آمد و رفت کے لئے سرکاری طور پر آئندہ سال ماہ اپریل میں کھولے جانے کی توقع ہے تاہم خطہ پیر پنچال کے صارفین اور وادی کے سبزی و میوہ تاجر اس کا پہلے سے ہی خوب فائدہ اٹھانے لگے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق روزانہ 12سے 15لاکھ روپے کے میوہ جات اور سبزیاںراجوری پہنچ رہے ہیں جبکہ گزشتہ کچھ دنوں سے اس میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق صرف گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہی قریب 4کروڑ روپے ما لیت کے سیبوں اور سبزیوں کی تجارت ہو ئی ہے ۔ جہاں صارفین کو جموں سے آئے مال کے مقابلہ میں سبزیاں و سیب آدھی قیمت پر دستیاب ہور ہے ہیں وہیں تاجروں کو بھی بھر پور منافع ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق شوپیاں سے روزانہ 40-50ٹاٹا موبائل گاڑیاں سبزیاں و سیب لے کر براستہ مغل روڈ پونچھ و راجوری پہنچ رہی ہیں ۔ وادی کے تاجروں کا معمول ہے کہ وہ صبح اپنا مال لے کر خطہ پیر پنچال کے مختلف قصبہ جات میں پہنچتے ہیں اور شام تک فروخت کر کے واپس لوٹ جاتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ہر گاڑی پر کم از کم 3تاجروں کا مال لدا ہوتا ہے اور راجوری و پہنچتے ہی وہ مختلف علاقوں میں پھیل جاتے ہیں ۔ چونکہ وادی سے لائی گئی سبزیاں اور سیب جموں کے مقابلہ میں کافی سستے ہیں اس لئے ان ٹاٹا موبائل گاڑیوں کے پاس لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملتی ہیں ان ٹاٹا موبائل گاڑیوں کے باہر لمبی قطار دیکھنے کو ملتی ہے ۔شوپیاں کے ایک تاجر محمد رمضان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ صبح3بجے شوپیاں سے چلے تھے اور 8بجے انہوں نے پولیس لائن راجوری کے سامنے اپنا مال فروخت کر نا شروع کر دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ آنے والے وقت میں مغل شاہراہ ایک انتہائی اہم تجارتی سڑک بن جائے گی اور روزانہ کروڑوں روپے کا رو بار ہو گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا فائدہ تاجروں اور راجوری پونچھ کے صارفین ، دونوں کو ہو گا ۔قابل ذکر ہے کہ جموں کی منڈی سے لایا گیا سیب راجوری میں صارفین کو  40سے60روپے فی کلو ملتا ہے لیکن وادی سے براستہ مغل شاہراہ لایا گیا یہی سیب 20سے 30روپے فی کلو کے حساب سے دستیاب ہے جس کا  واضح مطلب ہے کہ صارفین کو 20سے30روپے کا فائدہ ہو تا ہے ۔ محمد سلیم نامی ایک مقامی صارف نے بتایا کہ وہ شوپیاں سے آئے تازہ سیب خریدنے کے لئے روزانہ صبح سویرے پولیس لائن کے سامنے ٹاٹا موبائل لگنے کا انتظار کرتے ہیں ۔ اگر چہ مقامی سبز ی فروشوں کو وادی سے آئی ان ٹاتا موبائل گاڑیوں سے کچھ شکایا ت بھی ہیں اس کے باوجود وہ مستقبل میں بہتر تجارت کی توقع کر رہے ہیں ۔گوجر منڈی کے ایک سبز فروش نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کشمیر سے آنے والے تاجر ان کی دوکانوں کے سامنے اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے اپنا مال فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں نقصان ہو رہا ہے ۔ لیکن ایک دوسرے سبزی فروش کا کہنا تھا کہ انہیں خوب منافع ہو رہا ہے کیونکہ وہ سبزی جموں منڈی سے منگانے کی بجائے ان ہی تاجروں سے تھوک میں خرید لیتے ہیں جس میں انہیں فی کلو 10روپے کا منافع ہو تا ہے ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2013 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By