GK Communications Pvt. Ltd
Edition :

  اداریہ
مرکز کے عوام کُش فیصلے


پارلیمنٹ کا مون سون اجلاس کوئلے کی کانوں میں بھاری گھوٹالے پر اپوزیشن کی جانب سے شدید ترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہونے کے فوراً بعد مرکزی حکومت نے13ستمبر جمعرات کو ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، رعایتی داموں پر گیس سلنڈروں کی فراہمی محدود کرنے اورپرچون سیکٹر میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا جو فیصلہ لیا،اُس کے خلاف ملک بھر میں عوامی حلقوں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آرہا ہے اور جہاں جمعرات سے ہی ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے وہیں نہ صرف اپوزیشن اور بائیں بازو کی جماعتوں بلکہ کانگریس کی سربراہی والے متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت کو باہر اور اندر سے حمایت کرنے والی کئی جماعتوں نے بھی 20ستمبر کو ان فیصلوں کے خلاف ملک گیر ہڑتال اور احتجاج کی کال دی ہے ۔غور طلب ہے کہ مرکزی حکومت کے نئے فیصلہ کی روسے ڈیزل 5روپے فی لیٹر مہنگا ہوگیا اور جہاں تک رسوئی گیس کا تعلق ہے تو اب تیل کمپنیوں کی جانب سے ملک بھر کے گھریلو صارفین کو سال بھر میں صرف6گیس سلینڈر ہی رعایتی داموں پر ملیں گے اور یوں ہر دو ماہ کے بعد صارفین کو رعایتی داموں پر ایک گیس سلنڈر فراہم ہوگا اور اگر صارفین کو اس سے زیادہ گیس کی ضرورت پڑے تو انہیں بازاری قیمتوں پرگیس سلنڈر خریدنا پڑے گا جو دلّی میں749روپے ہے جبکہ دلّی میں فی الوقت رعایتی گیس فی سلنڈر کی قیمت 399روپے ہے ۔اب جہاں تک ریاست جموں و کشمیر کا تعلق ہے تو یہاں رعایتی داموں پر فی گیس سلنڈر412روپے میں ملتا ہے ۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تویہاں فی گیس سلنڈر کی بازاری قیمت 775روپے کے آس پاس ہوگی۔وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور مرکزی منصوبہ ساز کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین مونٹیک سنگھ آہلووالیہ کے نزدیک ان فیصلوں سے صارفین کو وقتی طور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم وزیراعظم اور مسٹر آہلووالیہ کا ماننا ہے کہ یہ تمام فیصلے بروقت ، جرأتمندانہ اوردور رس نتائج کے حامل ہیں جن سے یقینی طور پر ملکی شرح نموکو2.8فیصد تک پہنچانے میں مدد ملے گی جبکہ پہلے یہ ہدف9فیصد رکھاگیا تھا تاہم معیشی کساد بازاری کے چلتے ہدف میں کمی کرکے اس کو2.8فیصد رکھاگیااور بقول وزیراعظم اگر یہ ہدف عبور کرنا ہے تو ایسے فیصلے لینے ہی پڑیں گے ۔وزیراعظم اور دیگر متعلقین کے استدلال سے ہر گز انکار نہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تیل کمپنیوں کو پیٹرولیم مصنوعات کی رعایت پر ماہانہ ہزاروںکروڑ روپے کا خسا را اٹھاناپڑرہا تھاتاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خسارے کا سارا نزلہ عام صارفین پر گرایا جائے۔جہاں تک ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا تعلق ہے تو اس کا براہ راست اثر عام لوگوں پر پڑے گا کیونکہ بیشتر پبلک ٹرانسپورٹ ڈیزل پر ہی چلتا ہے اور یوں بس کرایوں میں اضافہ طے ہے اور اس اضافہ کے نتیجہ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ جانا ایک لازمی امر ہے ۔رسوئی گیس کے حوالے سے پریشانیاں کچھ زیادہ ہی ہیں کیونکہ نئی پالیسی کے ہوتے ہوئے متوسط اور غریب طبقہ کے چولہے جلنا مشکل بن چکے ہیں۔بجلی فیس تو پہلے ہی صارفین کی حد استطاعت سے باہر ہوچکی ہے ،ایسے میں رسوئی گیس کا ہی صارفین اور خاص کر خواتین خانہ کو سہارا تھالیکن نئے نظام کے تحت انہیں یا تو ایک ماہ کیلئے چولہا ٹھنڈا کرکے رکھنا پڑے گا یا پھر بازاری قیمتوں پر گیس سلنڈر خرید کررسوئی گھر کی چہل پہل برقرار رکھنی ہے ۔دونوں صورتوں میں جیب غریب صارفین کی ہی کٹے گی۔ اب جہاں تک پرچون سیکٹر میں براہ راست سرمایہ کاری کا تعلق ہے تو اس میںکوئی شک نہیں کہ اس وسیلہ سے بیرونی سرمایہ ملک میں آجائے گاتاہم اس کا فائدہ بھی چند مٹھی بھر صاحب ثروت لوگوں کو ہی ملے گا جبکہ پرچون سیکٹر سے وابستہ کروڑوں لوگ روزگار سے محروم ہوجائیں گے بلکہ اگر یہ کہا جائے گا بیشتر مقامی دکانیں بند ہوجائیں گی تو غلط نہ ہوگا کیونکہ جب بیشتر اشیاء باہر سے درآمد ہوں گی تو بھلا دیسی مال کون خریدے گا۔اس صورتحال کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بیرونی ممالک کے اشیاء کی چمک دھمک کھینچ کھینچ کر صارفین کو ان دکانوں پر لیجائے گی اور نتیجہ کے طور پر مقامی طور محنت شاقہ کے بعد کمایا جانے والا پیسہ بیرونی ممالک کی تجوریوں میں چلا جائے گااور مقامی تجوریاں خالی کی خالی رہ جائیں گی تاہم حکومت کو خوش فہمی ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری آئے گی تو انقلاب آئے گااو رپیسے کی اتنی بہتات ہوگی کہ ہر سو خوشحالی ہی خوشحالی ہوگی تاہم انہیں اس بات کا شاید اندازہ نہیں کہ اس چکاچوند میں اس ملک کا غریب شہری سسک سسک کر دم توڑ رہا ہوگا۔ریاستی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے تو براہ راست سرمایہ کاری کی حمایت کرڈالی ۔انہیں کس طرح یہ فیصلہ اچھا لگا ،وہ تو وہی جانیں تاہم حکومتی ڈکٹیشن سے آزاد اقتصادی ماہرین کے نزدیک تویہ فیصلہ ملک کے غریب عوام کے سروں پر لٹکتی تلوار ہے جو ان کو کبھی چین سے سونے نہیں دے گی ۔ان تمام دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکزی حکومت کا فیصلہ یقینی طور پر بے وقت لگتا ہے اور اس کے خلاف اب جو ایجی ٹیشن شروع ہورہی ہے ،وہ موجودہ حکومت کے استحکام کے لئے ایک الارم ہوسکتاہے کیونکہ اگر ترنمول کانگریس ،سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی حمایت سے یوپی اے محروم ہوجاتا ہے تو پورے ملک کیلئے نئی سیاسی ہلچل لے سکتی ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے اور عوامی خواہشات کا ادراک کرتے ہوئے ایسے عوام دوست فیصلے لئے جائیں جس سے عوام کی بھلائی ممکن ہوسکتی ہے ورنہ عوام کش فیصلے چاہئے کتنے ہی حقیقت پسندانہ کیوں نہ ہوں،اُن کی وجہ سے عوام کا بپھر جانا فطری بات ہے جو پھر سیاسی ہلچل کی صورت میں سامنے آجاتا ہے اور پھر حالات کو قابو میں کرنے کی کوئی بھی تدبیر کام نہیں آتی۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2013 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By