GK Communications Pvt. Ltd
Edition :

  ادارتی مضمون
ریزرویشن: اچھا سوال صحت مندمباحثہ
درجوابِ آ ں غزل

بہاروںکا ہمیں مژدہ سنانے سے ہے کیا حاصل

پسِ دیوار ہم بے بال و پر ناشاد بیٹھے ہیں

مسلط زیر دستوں پر یہاں اب بھی غلامی ہے

جو تھے آزاد پہلے آج بھی آزاد بیٹھے ہیں

8ستمبر2012کو ’’کشمیرعظمیٰ‘‘ کے شما رے میں صفحہ6 پرفاضل تجزیہ نگار جناب شفیع نقیب کے قلم سے تحریر کیا ہوا مضمون’ریزرویشن :ایک سوال‘‘  کے عنوان سے پڑھا۔ مجھے بحیثیت چیئرمین آل انڈیا بیک ورڈ کلاسز یونین یک گونہ خوشی ہوئی کہ ملک کو آزادی ملے نصف صدی گذر جانے کے بعد ہی سہی ریاست کی52%صدیوں سے جبراً غلام رکھی گئی آبادی کے انسانی حقوق کی بحالی کے لئے ایک مباحثہ تو چھڑا ہے۔ ریاست کی سماجی تاریخ کی روشنی میں اس بحث کو مندرجہ ذیل سات حقائق پر تقسیم کیا جاسکتا ہے : میں،لوہار،ترخان، نجار،آہنگر،کمہار،حجام،نائی،موچی، جولاہا،کاسی،بافند، چوپان،تیلی، ہانجی،میراثی، بھنگی،بھانڈ،پھاٹ، جھیور،گلکار، دھوبی،شاخساز،بازی گر،فقیر، ڈوم، ساہنی،شیری واتل،شیر گوجری، سکلی گر،لبانہ، بھوریہ، گورکھن، ڈھول والا،نعلبند،جوگی، ماہی گیر، ملیار،سنگتراش، پیر،پتھیر،سراج،ٹھٹھیار،ارا، بھرونجہ وغیرہ جیسی خدمت گزار قوموں کے طور پر درج ہیں۔ جو لوگ حکومت وقت اور اونچی ذات کے لوگوں کی جبری خدمت پر مامور تھے جن میں ریاست کے مسلمان، ہندو،سکھ بلکہ( مٹھی بھر) عیسائی بھی شامل ہیں اور یہ لوگ ریاست کے ہر شہر، قصبہ،گائوں پہاڑوں اور میدانوں وغیرہ میں ہر جگہ آباد ہیں اور جو ریاست میںبولی جانے والی ہر بولی اپنے اپنے مقامات پر بولتے ہیں۔غلامی کے دور میںبھی ان غلام بنائے گئے لوگوں کا کوئی نمائندہ نہ ہونے کے باوجود ۱۹۳۱ء میں حکومت کی جانب سے کرائی گئی مردم شماری کے مطابق ان کی آبادی اس ریاست میں34% درج ریکارڈ ہے جب کہ تاریخ اقوام پونچھ و تواریخ اقوام کشمیر مولفہ محمد الدین فوق 1934ء کے اندراجات میں بھی ان اقوام کے غلام رکھے جانے اور ان کثیر قوموں کاذکر موجود ہے۔ ملاحظہ ہوسکتا ہے۔

تاریخ اور1947ء سے قبل کے سرکاری ریکارڈ مال خصوصی ہدایت کے مطا بق انہیں چار کنال سے زیادہ زمین اپنے پاس رکھنے یا خرید نے کی اجازت نہ تھی۔ انہیں ووٹ دینے یا ووٹ لینے سے حکماً محروم رکھا گیاتھا۔ دوسرے درجے کے شہری ہونے کی بناء پر انہیں سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے کی اجازت ہی نہ تھی۔

اس وقت کے ریکارڈاور سرکاری اندراجات میں انہیں ’’کمین‘‘ ( یعنی نیچی ذات والے )کے نام سے درج کیا جاتا تھا اور سال بھرلگاتار ان سے خدمت لینے کے عوض سالا نہ ان کو اجرت کے طور پر ایک کلو(سیر) سے لے کر20سیر غلہ تک حکماً حاصل کرنا پڑتا تھا اور اسی چندسیرغلے پر انہیں سال بھر گذارہ کرنے پر مجبور ہونا پڑتا تھا۔

ملاحظہ ہو قبل از 1947کے ریکارڈ مال کی ’’واجب الارض‘‘ و جمبندی و شجرہ خسرہ ہاجو ریاست کے ہر محافظ خانہ سے دستیاب ہوسکتے ہیں۔بعد از حصولِ آزادی ملک کی صدیوں سے غلام او بی سی ( پسما ندہ ذات وطبقہ جا ت) کی اس آبادی کو بھی ریاست کی ایس سی اور ایس ٹی کی طرح اوپر اٹھانے اورمین اسٹریم میں شامل کرنے کا قانون بنایاگیا جس کے تحت ملکی آئین کی دفعہ340 اور آرٹیکل15-4اور16-4 کے تحت انہیں ریزرویشن کا حق دینے کا اعلان ہوا۔ اسی کے تحت ایس سی کی8% آبادی کو8% ریزرویشن۔ ایس ٹی کی12% آبادیکو10% ریزرویشن اور او بی سی کی50سے زائد درج فہرست ذاتوں پر مشتمل52%آبادی کو بہت ہی کم یعنی27% ریزرویشن دینے کا باضابطہ حق دیاگیا ۔یہ ریزرویشن سسٹم ریاست میں  نا فذالعمل ہے جسے بعد آنریبل سپریم کورٹ نے بھی جائز تصور کر کے اس کو بحال رکھاتھالیکن ریاست کی بدنصیبی کہ ریاست کے قانون سازوں نے جو مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے تھے ،اپنے ایک من گھڑت ایس آر او126 کے تحت ایس سی اور ایس ٹی کو بالترتیب8%اور10%کاباضابطہ اجراء کر دیا جو آج بھی اس رعایت اور ریزرویشن کا باضابطہ فاعدہ حاصل کر رہے ہیں لیکن او بی سی کو ملنے والی27% ریزرویشن صدیوں کی52% غلام آبادی کو حیوانات بن کر ہر انسانی وآئینی حق سے سراسر مرحوم کر کے انہیں برائے نام صرف2% حصہ دے کرباقی حصہ آر بی اے، اے ایل سی وغیرہ کی من گھڑت کیٹگریوں میں بالترتیب20%،3% اور2% کے طور پر ہیرپھیر کر کے مراعات یافتہ48% آبادی کی جھولی میں ڈال دیا اور اس طرح ریاست کی 52فیصد آبادی کو بدستور غلام بنائے رکھنے کے لئے برائے نام2حصے اور48%مراعات یافتہ آبادی کو98% حقوق انسانی دے کر ریاست کو استحصال وجبر کی گہرئی کھائی میں دکھیل دیا۔

(ملاحظہ ہو SRO 126 آف 1994ریزرویشن بل پاس کردہ ریاستی قانون سازیہ مورخہ 5مارچ2004 مقام جموں(باتفاق رائے)اورا یس آر او 144آف جون2008اس انسانی استحصال وجبر کی یوں تو ساری سیاسی تاریخ بھری ہوئی ہے لیکن مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر مندرجہ ذیل ایک ثبو ت ملاحظہ ہو:

12جون2009 کو سروس سلیکشن بورڈ جموں نے لیبارٹری ……کی288پوسٹوں کی تقسیم کاری کیں:

کل سیٹیں:  288

اوپن میرٹ                     آر بی اے           ایس سی ایس ٹی  اے ایل سی            او ایس سی

   161               69         26          24            7           1

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 52% او بی سی کی آبادی کا کوئی بچہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے نہ ہی اوپن میرٹ میںابھر سکتا ہے اور نہ دوسری کسی کیٹگری میں فارم بھر سکتا ہے۔ریاست کے حکمران طبقہ نے ریاستی عوام کو باضابطہ طور پر ایس سی ، ایس ٹی، او بی سی اور اداز نام کے چار طبقوں میں تقسیم کر رکھا ہے اور اسی من گھڑت پالیسی کے تحت جہاں حکومت نے ریاست کی او بی سی کی52% آبادی کو صرف2% ریزرویشن دے کر 98% حصہ اپنے پاس رکھے ہیں۔ اسی کی روشنی میں ریاست کا48% مراعات یافتہ حکمران طبقہ100% سیاسی اقتدار اپنے قبضے میں رکھنے میں کامیاب ہوگیا اور52%صد بی سی کی آبادی محروم ہے۔

اس کے ثبوت کے طور پر مندرجہ ذیل حقائق ملاحظہ ہوں:

(۱)- یہ کہ ریاست کے قانون سازیہ(اپرہائوس اور لوئر ہائوس)میں ایک بھی نمائندہ ریاستی او بی سی کا موجود نہیں ہے۔(ب)- جب ریاست کے ندر او بی سی کا آج کوئی بھی ایم ایل اے یا ایم ایل سی ہی نہیں ہے تو وزارت میں اس آبادی کا کوئی نمائندہ کیسے ہوسکتا ہے؟(ج) -ریاست کی کسی بھی سیاسی تنظیم میں ریاست کے او بی سی طبقہ سے آج تک کوئی بھی نمائندہ شامل نہیں کیاگیا۔ (د) -ریاست میں آج تک کوئی بھی ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر یا کوئی بھی ایس ایس پی یا ترقیاتی، تعلیمی اور تعمیراتی اداروں کا کوئی ضلعی سربراہ او بی سی کے طبقہ سے موجود ہے و او بی سی کی 52%آبادی کے مسائل، مصائب اور حقوق کی بحالی میں ان کی قانونی مدد کر سکے۔اس طرح ریاست کا یہ پورا جسم ہی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے جس سے ریاست میں سرمایہ و محنت کی ایک جنگ چھڑ چکی ہے کہ جس کے خاتمے کے کوئی امکانات ہی نظر نہیں آتے۔ لہٰذا ریاست کے شہری حقوق کی یہی غیر فطری تقسیم کاری ریاست میں بدامنی، انتشار،لوٹ کھسوٹ، خوف و تشکیک، غربت، بے کاری، مہنگائی، ہنگامہ آرائی کے دوروازے کھول چکے ہیں۔ریاست کی اس نصف سے زیادہ آبادی کے انسانی حقوق تلف کرنے اور ان کا جبری استحصال کرنے والے کیا قانون اور آئین کی نظر میں وطن دشمن، انسان دشمن اور قانون شکن کے طور پر شمار نہیں کئے جاسکتے؟

آئینی حقوق کی اس غیر انسانی، غیر آئینی اور غیرفطری تقسیم کاری سے ریاست کی یہ محروم رکھی گئی 52%آبادی مندرجہ ذیل مشکلات، مسائل ، مصائب کا شکار ہو چکی ہے۔ تلخ حقیقتیں ملاحظہ فرمائیں:

(۱) -ان کے بچے کھچے اثاثے، ان کے کاروبار اور ذرائع معاش ان کا عزت و وقار لٹ جانے پر ان کی کوئی دادرسی نہیں ہوتی۔(ب)- ان کے پاس نہ سیاسی یا سماجی اقتدار ہے اور نہ ہی انہیںسسٹم بدلے کے لئے درکار کوئی ہمت ہے نہ بغاوت کے لئے کوئی فرصت۔ اس وجہ سے یہ لوگ اپنی بے سر و سامانی کی وجہ سے ہر طرف سے برابر مار کھارہے ہیں اور جانی، مالی اور سماجی نقصانات برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ ج) -ان کے آبائی پیشے، اثاثے اور تعلیمی وفنی ذرائع جبراً چھن جانے کی وجہ سے یہ لوگ90% بے روزگاری،80% جہالت اور40% خانہ بدوشی کے مائل سے بری طرح جوجھ رہے ہیں۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ریاستی او بی سی میں جتنی ذاتیں شامل ہیں، سب کی سب محنت کش، انسان دوست، وطن پرست، حوصلہ مند، دیانتدار، سادہ لوح، ماہرین ہنروفن اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال ہیں۔اس لئے ریاستی او بی سی کی52% آبادی کو جتنی جلدی Main Stream میں شامل کرنے کے لئے ان کے انسانی، سماجی، آئینی اور تعلیمی حقوق بحال کر دیئے جائیں اتنا ہی ریاست کی معیشت،ٹیکنالوجی،تعمیر و ترقی ، اتحاد وی گانگت کا ایک انقلاب بپا ہو کر ریاست میں امن و امان، استحکام اور خوشحالی سے مالامال ہوسکتی ہے۔یہاں ہم یہ بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ریاست میں لاگو کئے گئے ریزرویشن کو اگر کسی میں ہمت ہے تو توڑ دے تاکہ ریاست میں آئینی اور شہری حقوق کی تقسیم کاری کا کوئی قابل قبول ڈھانچہ تیار کیا جاسکے ۔اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو ریاستی حکومت کا یہ اولین فرض ہے کہ وہ ریاست میں انسانی حقوق، آئین اور قانون کی حقیقی عملداری کے لئے ریاستی او بی سی کی52% آبادی کو بھی27% ریزرویشن دیئے جانے کا فوری طور پر اعلان کرے۔ایسا نہ ہو کہ بے انصافی کر کے یہ سارے اقتدار والے لوگ  خداوند عالم کے غیض و غضب کا شکار ہو جائیں۔

 مضمو ن نگار آل انڈیا بیک ورڈ کلاسز یونین (رجسٹرڈ) کے چیئرمین ہیں۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2013 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By