اللہ تعالیٰ کو بندوں کا دعا کرنا بہت پسند ہے۔ دنیا میں کسی شخص سے بار بار کچھ مانگا جاتا رہے۔ تو وہ خواہ کتنا ہی بڑا سخی ہو۔ بالآخر اکتا کرنا راض ہو جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ ہے کہ ان سے بندہ جتنا زیادہ مانگے گا اللہ تعالیٰ اس سے اتنے ہی زیادہ خوش ہوں گے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے مانگتا نہیں اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے۔ دعا اپنے مقاصد کے حصول کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک مستقل عبادت ہے۔ یعنی دعا خواہ اپنے ذاتی اور دنیاوی مقصد کیلئے مانگی جائے وہ بھی عبادت میں شمار ہوتی ہے۔ اور اس پر ثواب ملتا ہے۔ اور جتنی زیادہ دعا مانگی جائے اتنا ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں اضافہ ہوتا ہے۔حدیث میں ہے کہ جو شخص یہ چاہئے کہ مصائب اور تنگیوں کے وقت اس کی دعائیں قبول ہوں تو اسے چاہئے کہ خوشحالی کے وقت دعا کی کثرت کرے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ دعامیںبڑی بڑی چیزیں مانگی جائے بلکہ اپنی ہر چھوٹی بڑی حاجت اللہ تعالیٰ سے مانگنی چاہئے۔ یہاں تک کہ حدیث میں ہے کہ اگر جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو اللہ تعالیٰ سے مانگو۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں وعدہ فرمایا ہے کہ ’’ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا‘‘۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ غلط نہیں ہوسکتا اسلئے اس یقین کے ساتھ دعا مانگنی چاہئے کہ وہ ضرور قبول ہوگی۔