GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادارتی مضمون
یٰسین ملک کے ساتھ ایک ساعت
حالات حا ضرہ کے تناظر میں

مقاومتی لیڈرشپ کی گذشتہ و جدیدروئیداد کی جانکاری جموں و کشمیر کے مطبوعات کی اہم ترین خبروں میں شامل رہتی ہے لہذا ہر خبر نگار و کالم نویس اس موضوع سے با خبر رہنے کی ٹوہ میں لگا رہتا ہے۔مطبوعاتی ہمکاروں پرپیشہ وارانہ ذمہ واریاں عائد ہیں البتہ راقم الحروف کیلئے جرنلزم پیشہ نہیں بلکہ ایک شوق ہے، جس نے مجھے یٰسین ملک کے علاوہ مقاومتی لیڈرشپ کے دوسرے قائیدین سے آشنا ہونے کی ترغیب دی ہے۔ذاتی تعلقات کو مد نظر رکھتے ہوئے پچھلے دنوں میں یٰسین ملک کی عیادت کیلئے گیا۔ جو آج کل نئی دہلی میں ایک اور آپریشن کے بعد زیر علاج ہیں، اُن دنوں دہلی سے آپریشن کرواکے واپس لوٹے تھے اور میرا ارادہ اُنکا انٹرویو لینے کا نہیں تھا البتہ یٰسین ملک کے ساتھ ملاقات کے دوران سیاسی موضوع کو نہ چھیڑنا بغیر ناممکنات میں ہے بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ اُن کی ہر سانس سیاست سے عبارت ہے اور سیاست ہی اُن کا اوڑنا اوربچھونا ہے پوری ملاقات کے دوران یٰسین ملک علالت کے سبب بستر ہی پہ لیٹے رہے۔ یہ ملاقات اُن کی رہائش گاہ پہ ہوئی، جو آج بھی وہی ہے جہاں سے اُنہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا تھا یعنی مائسمہ کے گلی کوچوں کی بھول بھلیوں کو وہ ابھی بھی سینے سے لگائے ہوئے ہیں اور امریکی و یورپی سفارت کاروں سے بھی وہیں ملتے ہیں حالانکہ اُنکا شمار مقاومتی لیڈرشپ کے اہم و موثر ترین اراکین میں ہو تا ہے۔

ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر کے علاوہ فلسطین کے مسئلے پر بھی بات ہوئی، خاصکر یہ کہ فلسطین کے اقوام متحدہ کی رکنیت کے حصول کو کشمیر کے سیاسی تناظر میں کیسے پرکھا جائے اور یہ کہ فلسطین کو ممبرشپ ملنے کے مضمرات سے مسئلہ کشمیر مستقبل قریب یا بعید میں متاثر ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ فلسطینی تحریک حماس کے بارے میں حال ہی میں شائع شدہ ایک کتاب یٰسین ملک کے زیر مطالعہ تھی جس سے فلسطین کے بارے میں بات چیت شروع ہوئی۔ یٰسین ملک کی رسمی تعلیم بہت زیادہ تو نہیں ہے البتہ سیاسی موضوعات پہ ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی کتاب اُن کے زیر مطالعہ رہتی ہے اور ریاست کے معروف دانشوروں بالفرض ماہر تعلیم آغا اشرف علی و چوٹی کے وکیل ظفر شاہ کے ساتھ اُن کے قریبی تعلقات ہیں ۔ بحث و مباحثہ اُن کا محبوب مشغلہ ہے۔ فلسطینی موضوع سے پہلے آج کے کشمیر میں جو کچھ سیاسی سطح پہ ہو رہا ہے اُس پہ یٰسین ملک کی جو رائے تھی وہ زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے زعما ہسپتال میں اُن کی عیادت کیلئے آئے تھے اور اُنہیں پاکستان آنے کی دعوت بھی دی گئی لیکن یٰسین ملک نے بیماری کے سبب پاکستان کے دورے سے معذوری کااظہار کرتے ہوئے معذرت چاہی البتہ وہ کئی وجوہات، جس کا آجکل عام طور پر ذکر ہوتا ہے، کی بنا پہ سفر پاکستان پہ مائل نظر نہیں آئے۔ کسی متفقہ ایجنڈے کے بغیر رسمی بات کا آغاز کرنا، پاکستان میں آنے والے ایام میں الیکشن اور نا ساز گار اندرونی حالات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بات چیت کا آغازکرنا ہی ہو تو بہتر یہی رہے گا کہ الیکشن کے بعد لیڈرشپ سامنے آئے اُس سے بات کی جائے۔یٰسین ملک کا یہ کہنا رہا کہ وہ پاکستان جانے کے مخالف نہیں ہیں بلکہ اِسی سال وہ اُس وقت پاکستان میں تھے جب اُن کے والد داعی اجل کو لبیک کہہ گئے اور اُنہیںفوراً واپس لوٹنا پڑا۔وہ اپنی بچی کی پیدائش کے سبب پاکستان میں تھے اور دورے کی نجی نوعیت کے باوجود وہ پاکستانی لیڈرشپ سے ملاقاتوں میں مصروف رہے، جن میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے علاوہ عمران خان سے بھی ملاقات شامل رہی حالانکہ آج کے پاکستان میں عمران سے ملاقات کو سرکاری ایجنسیاں نا پسندیدہ مانتی فعل ہیں لہٰذا جن کی نظر میں ایجنسیوں کی رضایت اہم ہے وہ عمران سے دور ہی رہتے ہیں۔

یٰسین ملک کے علاوہ اِسی سال مقاومتی لیڈرشپ کے ایک اور اہم رکن پاکستان گئے تھے اور ایک متفقہ تاثر یہی تھا کہ وزارت خارجہ کی سطح پہ اگر چہ مسلہ کشمیر مد نظر ہے البتہ وزیر اعظم کے دفتر یا ایوان صدارت میں مسئلہ کشمیر کے بارے پہلے میں جو جوش و خروش نظر آتا تھا وہ اب نظر نہیں آتا۔ کہا جا سکتا ہے کہ عدالتی نرغے میں آئی ہوئی سرکار سے یہ توقع رکھنا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں سر گرمی کا مظاہرہ کرے ناممکن تھا اور اِس کے علاوہ تشدد کی جوفضا اس وقت پاکستانی سیاست پہ چھائی ہوئی ہے اُس میں بھی کمی کے آثار نظر نہیں آتے۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے پچھلے کچھ مہینوں میں آصف علی زرداری کی سرکار، جو بظاہر مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالے ہوئی نظر آرہی تھی اچانک سر گرم ہوتی ہوئی نظر آئی اور صدر پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی کشمیر کی بات چھیڑی حالانکہ پچھلے کئی سالوں سے پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی ایوانوں میں اچھالنے سے کتراتا رہا ہے اور اِس دوران اگر کوئی بات منظر عام پہ تھی تو وہ بھارت سے تجارتی ناطے بڑھانے کی بات تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ کشمیر پہ تجارت چھا گئی ہے لیکن اچانک حریت (ع) کو پاکستانی دورے کی دعوت اور پھر جن قائیدین کے پاس سفر کے کاغذات نہیں تھے اُنہیں بھارت کی جانب سے پاسپورٹ وغیرہ کی فوری فراہمی سے ایک ایسی صورت حال سامنے آگئی جس کے بارے میں تجزیہ نگار وں کی رائے یہی ہے کہ کس کے ہاتھ میں کونسا پتہ ہے صاف تو نظر نہیں آ رہا ہے لیکن مقاومتی لیڈرشپ کے اہم دھڑے چونکہ اِس بازی میں شامل نہیں ہیں اسلئے یہ جدید سیاسی عمل ایک ایسے بیل کی مانند ہے جو منڈھے چڑتھی ہوا نظر نہیں آتی۔

یٰسین ملک ایک پُر امن سیاسی عمل کے حامی ہوتے ہوئے بھی مقاومتی لیڈرشپ کے سب ہی دھڑوں کی شمولیت کے بغیر ڈائیلاگ (مذاکرات) کے حامی نہیں ہیں اور اُن کی دلائل اپنی جگہ کافی مضبوط ہیں۔ ایک تو یہ کہ اتحاد میں طاقت ہے ثانیاََ کسی بھی دھڑے کو باہر رکھا جائے تو کوئی بھی مذکراتی عمل تردید کا شکار ہو سکتاہے ۔اُنہوں نے یہی بات 2005 میں بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے کہی تھی اور یٰسین ملک کے کہنے کے مطابق اُن کا اصرار یہ بھی رہا کہ جنگجو تنظیموںکو بھی مذکراتی عمل میں شامل کیا جائے تاکہ ایک جامع مذکراتی عمل شروع ہو جائے۔یٰسین ملک نے فضل الحق قریشی کا ذکر کیا ۔موصوف کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ ایک مذکراتی عمل میں شریک تھے اور ایک حملے میں وہ مشکل سے بچ پائے اور ابھی بھی کاملاََ روبصحت نہیں ہو پائے ہیں۔یٰسین ملک نے اگر چہ حریت (ع) کے دورہ پاکستان پہ براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن اُن کی بات چیت کے انداز سے یہ مشخص ہوا کہ وہ موجودہ سیاسی تناظر میں پاکستان کے دورے کو مناسب نہیں سمجھتے اور وہ مذکراتی عمل کوہمہ گیر شمولیت کے بغیر نتیجہ خیز نہیں سمجھتے ہیں۔

حالیہ عدالتی فیصلے جن میں عمر قید کو 14سال کے بجائے قید تا دم مرگ قرار دیا گیا ہے، یٰسین ملک کی رائے میںایک خطرے کاالارم ہے، جس سے بہر حال نمٹنا ہو گا۔اُن کا یہ مانناہے کہ ڈاکٹر قاسم کاکیس ہو یا دیگر افراد کا، جن کے بارے میں قید تا دم مرگ کا فیصلہ صادر ہو اہے، فیصلہ تب سنایا گیا جب کہ یہ افراد پندرہ سے بیس سال کا عرصہ جیلوں میں بتا چکے تھے اور اِس مدت طویل کے دوران عدالتی فیصلہ تعطل کا شکار رہااور اب اچانک یکے بعد دیگرے فیصلے سنائے جانے لگے ہیں۔عدالتی فیصلوں کے قانونی پہلوؤں پہ براہ راست تبصرہ کرنے سے پرہیز کرتے ہوئے یٰسین ملک بھارتی سول سوسائیٹی کے اُن سرکردہ افراد سے بیزار نظر آئے جنہوں نے اس وعدے کے ساتھ اُنہیں تشدد کی راہ چھوڑنے کی ترغیب دی کہ امن کی راہ پہ چلتے چلتے اُن کی سیاسی مانگوں پہ ہمدرادانہ غور کرنے کیلئے بھارتی سول سوسائیٹی دیش کے سیاسی زعماء کو آمادہ کرنے کی کوشش کرے گی، لیکن جب اُنہوں نے امن کی راہ اپنائی تووہ قیدخانے اُن کے منتظر نظر آئے اور بھارتی سول سوسائیٹی کا دور دور تک ہیں سراغ نہیں تھا اور آج بھی جب ایک کے بعد ایک عدالتی فیصلہ سنا یاجا رہا ہے بھارتی سول سوسائیٹی پُر اسرار خاموشی اپنائے ہوئے ہے۔یٰسین ملک کا یہ بھی ماننا رہا کہ ایسی صورت حال میں بھارتی سول سوسائیٹی آئندہ کسی ہنگامی صورت حال سے نبٹنے کی راہ کو مسدود پائے گی کیونکہ جو اعتبار تھا وہ مٹ چکا ہے اور ایسے میں جنگجویانہ سر گرمیوں کے بڑھنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے جس سے مسائل ایک بار پھر پیچیدہ ہو سکتے ہیں اور میانہ رو سیاست کی راہیں سکڑنے کی صورت میں یہی کچھ ہو گا ۔مجھے یہی لگا کہ یہ ایک بوجھل دل کی صداہے ۔

یٰسین ملک کی بات سن کے مجھے وہ زمانہ یاد آیا جب کلدیپ نیر اور شاید راجندر سچر اُن کی بھوک پڑتال کو توڑنے کیلئے آئے اور پھر ایک لمبا سلسلہ چل نکلا جہاں پہ بھارتی سول سوسائیٹی کو یٰسین ملک میں ایک ایسا میانہ رو لیڈر نظر آیا جس سے بھارتی لیڈر شپ بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھا سکتی ہے اور ایسے میں یٰسین ملک سے متعلق پاکستان نواز حلقوں میں بد گمانیاں پیدا ہونے لگیں حالانکہ یٰسین ملک کے کسی بیان میں کہیں بھی ایسا ذکر نہیں تھا، جس سے پاکستان کے تئیں اُنکی بے اعتنائی کا ذکر ہوتا۔البتہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسی بد گمانیاں پیدا کرنے کیلئے ایجنسیاں ماضی میں بھی دن رات مشغول رہی ہیں اور آج بھی مصروف ہیں جبکہ بر صغیر ہند و پاک کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے دائمی حل کے بغیر امن و امان ممکن ہی نہیں، البتہ یہ عیاں حقیقت یا تو ایجنسیوں کو نظر نہیں آتی یا جان بوجھ کرانجان بننے کی کوشش ہو رہی ہے اور ایسے میں  شاخ در شاخ کئی اور مسائل مسلہ کشمیر سے وابستہ ہو چکے ہیں بالفرض افغانستان کے حالات مسلے پہ بالواسطہ یا بلا واسطہ اثر انداز ہوئے بھی ہیں اور مستقبل میں بھی اثر انداز ہونے کے احتمالات کو خارج نہیں کیا جا سکتالہذا ہند و پاک کی سفارتی رسہ کشی میں افغانستان بھی ایک اکھاڑہ بن چکا ہے۔

کشمیر سے بات بڑھتے بڑھتے فلسطین پہ آئی اور مجھے یٰسین ملک کے ایک سوال کا سامنا کرنا پڑا اُن کاسوال پر رہا کہ میں فلسطین کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ممبر شپ ملنے کو کس تناظر میں دیکھتا ہوں تو میں نے سریحاََ کہا ممبرشپ ملنے سے فلسطینیوں کے روز و شب میں کوئی فرق نہیں پڑا نہ ہی مستقبل قریب میں کسی قابل محسوس تغیر کا امکان ہی موجود ہے اور ممبرشپ کی نوعیت بھی قدرے مختلف ہے ۔یہ رکنیت مشاہداتی سطح تک ہی محدود رہے گی بہ معنی دیگر فلسطینی ریاست (سٹیٹ) کا نمائندہ اقوام متحدہ میں تشریف فرما تو ہو سکتا ہے لیکن وہ عملی شرکت کے تمام فرائض نبھانے سے محروم ہی ہو گا۔ یعنی یہ ممبرشپ پوری نہیں بلکہ آدھی ہو گی، جہاں فلسطینی ریاست کے نمائندے کو اظہار رائے کا موقعہ توشاید مل جائے البتہ اُسے وؤٹ دینے کا حق حاصل نہیں ہو گا اور اِس کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ یہ رکنیت جنرل اسمبلی تک ہی محدود رہے گی اور فلسطینی نمائندہ سیکورٹی کونسل کے غیر ویٹوممبران کے انتخابات کیلئے نامزد نہیں کیا جا سکتا۔سیکورٹی کونسل میں ویٹو کا حق صرف پانچ ملکوں امریکہ،برطانیہ،فرانس،روس اور چین کو حاصل ہے باقی دس ممبراں مدت معین کیلئے منتخب ہوتے ہیں اورمدت پوری کر کے وہ صرف جنرل اسمبلی کے ممبر رہ جاتے ہیں۔سیکورٹی کونسل ہی اقوام متحدہ کا اعلی ترین ادارہ ہے جہاں اہم ترین فیصلے لئے جاتے ہیں۔جنرل اسمبلی میں بحث و مباحثہ تو ہوتا رہتا ہے لیکن وہاں کسی بھی متحدہ یااکثریتی فیصلے کو سیکورٹی کونسل چاہے تو کالعدم بھی قرار دے سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کو سیکورٹی کونسل کے مستقل ممبران خاصکر امریکہ کی داشتہ بھی کہا جاتا ہے۔

فلسطینی ریاست کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیںبلکہ محمود عباس کی صدارت کے اختیارات کسی جمہوری ملک میں بلدیاتی ادارے کے سیاسی سربراہ سے زیادہ نہیں اور فلسطین، خواہ دریائے اردن کے مغربی کنارے کی بستی ہو یا غازہ کی پٹی، اسرائیلی شکنجے کسا ہوامیں ہے۔ میری بات سے اقرار کرتے ہوئے بھی یٰسین ملک 193 وؤٹوں میں سے 138وؤٹ فلسطینی ریاست کے حق میں پڑنے کو مثبت انداز میں پرکھتے ہوئے نظر آئے۔اُن کا یہ ماننا رہا کہ اگر عالمی برادری کبھی بھی سیاسی مشکل میں پھنسی ہوئی ریاست کو مشکلات میں سے نکالنے پہ مائل ہو تو وہ میانہ روسیاسی دھڑے کے ساتھ ہی تال میل قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔صاف نظر آرہا تھا کہ یٰسین ملک مسئلہ فلسطین و مسلہ کشمیر میں یکسانیت کے پہلو ؤں کے سراغ میں ہیں۔ میں اُن کے خیالات سے نہ ہی اختلاف کر سکا نہ ہی اتفاق البتہ مجھے مرحوم یاسر عرفات کا وہ دور یاد آیا جب اُنہوں نے جنگجویانہ سر گرمیوں کو خیر باد کہا اور امریکہ کے سفارتی اہلکاروں پہ بھروسہ کر بیٹھے، لیکن بدلے میں اُن کو ایک لنگڑی ریاست ملی، جس کو چلانے کیلئے بیساکھیاں تک میسر نہیں تھیں ۔پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا محمود عباس کی فلسطینی ریاست کیلئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی محدود رکنیت بیساکھیاں فراہم کر سکتی ہے؟ آپ کا جواب میرے جواب کے ہم پلہ ہو سکتا ہے۔اللہ نگہباں ہمہ ما باشد۔

یار زندہ صحبت باقی!

Feedback on: Iqbal.javid46@gmail.com

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By