GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  فکر صحت
زخمِ معدہ واثنیٰ عشر
وجوہات، علامات، علاج اور احتیاطی تدابیر

علامات

زخمِ معدہ واثنیٰ عشر( پیپٹک السر) آنے جانے والا مرض ہے۔ طبی دنیا میں مشہور مقولہ ہے’’ایک بار مریضِ زخمِ معدہ واثنیٰ عشر سدا کیلئے مریض ہے (اگر علاج نہ کیا جائے)‘‘۔ زخمِ معدہ اور زخمِ اثنیٰ عشر سریریاتی مظاہر کے حوالے سے دو مختلف مسائل ہیں۔

عمر: زخمِ اثنیٰ عشرزیادہ ر پچاس برس کی عمر کے افراد کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جبکہ زخمِ معدہ ساٹھ برس کی عمر میں زیادہ ترپا یا جاتا ہے۔

 درد:زخمِ معدہ کا درد غذا کھانے کے فوری بعد یا بعض مریضوں میں زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے کے بعد شروع ہوتا ہے، رات کے وقت کبھی درد نہیں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس زخمِ اثنیٰ عشر مریضوں کو رات (دو بجے) کو درد ہوتا ہے اور غذا کھانے کے بعد درد میں نمایاں کمی ہوتی ہے۔

جسمانی اور ذہنی دبائو: زخمِ اثنیٰ عشر کی شرح دماغی کام کرنے والے افراد (جیسے کہ ڈاکٹروں، لیڈروں، بنک ملازموں، ادیبوں، فن کاروں، صحافیوں، قلمکاروں) میں بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ زخمِ معدہ کی شرح جسمانی کام کرنے والے افراد میں زیادہ ہوتی ہے۔

وقفہ آزادی:زخمِ معدہ کے حملے دو سے چھ ماہ تک رہتے ہیں اور پھر مریض کو ایک سے چھ ماہ تک کا وقفہ آزادی ملتا ہے جس دوران وہ بالکل نارمل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس زخمِ اثنیٰ عشر کے حملوں میں ’’زیادہ کام، زیادہ دبائو اور موسمی تغیرو تبدیل‘‘ سے شدت آتی ہے۔

اُلٹی:اگر مریض کو اُلٹی کے بعد درد میں نمایا ںکمی محسوس ہوتی ہے تو یہ زخمِ معدہ کی طرف واضح اشارہ ہے۔ زخمِ اثنیٰ عشر کے مریض کو اُلٹی کی شکایت نہیں ہوتی ہے۔ اسکے بجائے وہ ’’دل جلنے‘‘ کی شکایت کرتے ہیں۔ وہ اکثر چھاتی کے بائیں جانب پستان کے نیچے درد محسوس کرتے ہیں جسکی وجہ سے وہ قدرے بے چینی محسوس کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ اکثر اوقات مُنہ میں ’’تُرش آب‘‘ کی شکایت کرتے ہیں۔

سیاہ مدفوع اور خون کی اُلٹیاں: زخمِ معدہ کے مریضوں کو اگر بروقت صحیح اور مناسب علاج میسرنہ ہو تو وہ خون کی اُلٹیاں کرنے لگتے ہیں اور اُن کے مدفوع (فُضلہ) کا رنگ سیاہ ہوتا ہے جسے عرف عام میں بلیک موشن کہا جاتا ہے۔ ان مریضوں میں اسکا تناسب 60:40 ہے۔ زخمِ اثنیٰ عشر کے مریضوں میں بلیک موشن کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔ ایسے مریضوں میں دونوں علامتیں بیک وقت بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔

بُھوک: زخمِ معدہ میں مبتلا مریض ڈر اور خوف کی وجہ سے غذا منتخب کرتے ہیں، سوچ سمجھ کر کھاتے ہیں اور مصالحہ دار غذائیں کھانے سے پرہیز کرتے ہیں جبکہ زخمِ اثنیٰ عشر مین مبتلا مریض کو بھوک زیادہ لگتی ہے اور وہ ہر قسم کی غذا کھاتے ہیں۔ ایسے مریض اکثر دودھ کا استعمال کرتے ہیں اسلئے وہ چاق و چوبند دکھائی دیتے ہیں جبکہ زخمِ معدہ میں مبتلا مریض کمزور دکھائی دیتا ہے۔

وزن:  زخمِ معدہ کے مریضوں میں وزن کم ہوتا جاتا ہے کیوں کہ وہ غذائی کھانے سے کتراتے نہیں جبکہ زخمِ اثنیٰ عشر کے مریضوں کے وزن میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

غذا:  زخمِ معدہ میں مبتلا مریض اپنے لئے ’’سرد‘‘ غذائوں کا استعمال کرتے ہیں ۔وہ تیز مصالحہ دار غذائوں ، فاسٹ فوڈ، جنک فوڈ کھانے سے ڈرتے ہیں جبکہ زخمِ اثنیٰ عشر مریض غذا کے معاملے میں کوئی احتیاط نہیں برتتے ہیں۔

پیٹ میں درد:پیٹ کے بالائی حصہ میں زور سے دبانے سے دونوں بیماریوں میں درد ہوتا ہے۔ زخمِ معدہ ہوتو پیٹ کے بالائی حصہ کے وسط میں اور زخمِ اثنیٰ عشر ہوتو پیٹ کے بالائی حصے کے دائیں طرف درد ہوتا ہے۔

تشخیص

۱)مریض کا شرح ِحال (ہسٹری) :مریض اپنے معالج کے سامنے اپنے سبھی علائم بیان کرے اور اپنے طرز زندگی کے بارے میں معالج کو آگاہ کرے۔ یوں تو زخمِ معدہ اور زخمِ اثنیٰ عشر کی تشخیص معالج مریض کے ساتھ تفصیلی گفتگو کے فوری بعد ہی نوٹ کرسکتا ہے لیکن پھر بھی درج ذیل آزمائشات لازمی ہیں۔

۱)خون کے ٹیسٹ، سی بی سی، ایل ایف ٹی، کے ایف ٹی، بلڈ شوگر۔

۲)الٹرا سائونڈ

۳)ادرار اور فضلہ کی جانچ: فضلہ کا اہم ٹیسٹ اوکلٹ بلڈ لینے ’’پوشیدہ خون‘‘ ضروری ہے۔ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ مریض کے معدہ، اثنیٰ عشر یا آنتوں میں کوئی زخم ہے۔ اگر فضلہ میں خون کی آمیزش ثابت ہوئی تو پچاس برس کی عمر سے زائد افراد کو ، کولونوسکوپی اور انڈوسکوپی دونوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

۴)انڈوسکوپی: معدہ اور اثنیٰ عشر کی سبھی بیماریوں کا پتہ لگانے کیلئے انڈوسکوپی ایک بہترین ، آسان، مفید،بے ضرراورارزاں تشخیصی طریقہ کار ہے۔ بعض مریضوں کا خیا ل ہے کہ یہ ایک خطرناک، پیچیدہ اورضرررساںٹیسٹ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف پانچ منٹ میں کسی تکلیف کے بغیر ایک ماہر انڈوسکوپسٹ آپ کو نظام ہاضمہ کے بالائی حصے کے متعلق صددر صد جانکاری فراہم کرسکتا ہے اور آپ کا ایچ پائیلوری ٹیسٹ بھی انجام دیتا ہے تاکہ اگر یہ جراثیم آپ کے معدہ میں رہائش پذیر ہوتو آپ دس دن کے لئے مخصوص دوائیاں استعمال کرنے کے بعد اس جراثیم سے چھٹکار ا پاسکتے ہیں اور کینسر جیسے موذی مرض سے بچ سکتے ہیں۔ اگر آپ کی عمر چالیس برس ہے تو انڈوسکوپی ضرور کروائیے اور اگر آپ معدہ کی کسی بیماری کیلئے چارہفتوں سے زائد دوائیاں لے رہے ہیں اور کوئی واضح فرق محسوس نہیں کر رہے ہیں تو جاکر انڈوسکوپی کروائیے۔ اگر آپ انڈوسکوپی نہیں کرواتے ہیں اور کسی ماہر معالج سے علاج نہیں کرواتے ہیں تو آپ درج ذیل پیچیدگیوں میں کسی ایک کا شکار ہوسکتے ہیں۔

پیچیدگیاں

 اگر زخم چھوٹے ہوں تو وہ خود بخود بھر جاتے ہیں اور کوئی نشانی نہیں چھوڑتے ہیں لیکن بڑے اور دیرینہ زخم بسا اوقات کسی ایک پیچیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔

۱)رکاوٹ: معدہ کا کوئی پرانا زخم بغیر علاج بھرنے کے بعد معدہ کی نچلی نالی میں رکاوٹ کا باعث بن کر مریض کیلئے زبردست پریشانی کا سبب بن سکتا ہے ۔اسی طرح زخم اثنیٰ عشر، اتنی عشر کی تنگی کا سبب بن سکتا ہے اور پرانے زخمِ معدہ کی شکل بھی بگاڑ سکتے ہیں۔

۲)خون ضائع ہونا:  معدہ اور اثنیٰ عشر کے زخم اگر خصوصی علاج کے ذریعہ ٹھیک نہ ہوں تو ان زخموں سے خون رستارہتاہے جو فضلہ کے رنگ (سیاہ) اور جانچ سے ظاہر ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں ہر روز فضلہ کے ساتھ خون خارج ہونے سے مریض خون کی کمی کا شکار ہوجاتا ہے اور مریض کمزوری محسوس کرتا ہے۔ بعض اوقات زخمِ اثنیٰ عشر گہرا اور ’’آرپار‘‘ ہونے سے نزدیکی شریان کو زبردست ضرر پہنچاکرخون کی اُلٹیوں کا باعث بنتا ہے اور مریض کو موت کی دہلیز پر کھڑا کرتا ہے۔

۳)سوراخ:  زخمِ معدہ اور اثنیٰ عشر کسی وقت ’’پھٹ جاتے‘‘ ہیں۔ ان میں آرپار سوراخ ہوتا ہے اور پیٹ کے اندرونی حصوں میں زہر پھیل جاتا ہے یہ ایک میڈیکل ایمرجنسی ہے جس کا بروقت علاج نہ ملے تو مریض کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔

طبی دنیا میں مشہور مقولہ ہے کینسر السر میں تبدیل ہوتا ہے لیکن السر شاذونادرہی کینسر میں تبدیل ہوتا ہے۔ زخمِ اثنیٰ عشر ہر گز کینسر میں تبدیل نہیںہوتا ہے جبکہ زخمِ معدہ کے سرطان میں تبدیل ہونے کے امکانات ایک فیصد سے کم ہیں۔

علاج:

معدہ کی کسی بیماری بشمول زخمِ معدہ واثنیٰ عشر کیلئے از خود ادویات کا استعمال ’’ناجائز، غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر مذہبی‘‘ ہے۔ اشتہاری اور بازاری ادویات کا استعمال غلط اور ممنوع ہے۔ جب تک نہ بیماری کا پتہ چلے ،یعنی فائینل ڈائیگنوسس نہ ہو، تب تک کسی بھی دوائی کا استعمال خودکشی کے برابر ہے۔ نظام ہاضمہ کی بیماریوں کا علاج صرف ماہر معالجوں اور ماہرین امراض نظام ہاضمہ سے کروانا بے حد ضروری ہے۔ اپنے معدہ سے پیار کیجئے۔ اسکی توہین مت کریں۔ اس پر ضرورت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالیں، یہ کبھی آپ سے بے وفائی نہیں کرے گا بلکہ عمر بھر آپ کی خدمت کرتا رہے گا۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں













سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By