GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادب نامہ
شیرازہ کا ’’فرید پربتی نمبر"
ایک سرسری جائزہ

فریدؔ پربتی کو میں اپنے اُن بر خورداروں میں شمار کرتا ہوںجنہوں نے نہایت خلوص کے ساتھ زندگی میں اپنا ادبی سفر جاری رکھا۔ فرید کو میں نے ہمیشہ  خاموش اور نام و نمود سے دور  ایک شاعر کی شکل میں دیکھا۔

میرے تئیں فرید کی قربت اور شفقت کا یہ عالم تھا کہ جب بھی وہ اپنی کوئی نئی تصنیف منظرِعام پر لاتا تو، قطع نظر اس کے کہ وہ کتاب رسمی طو ر کسی تقریب پر جاری ہو ئی تھی یانہیں ،وہ اُس کی پہلی جلد میرے گھر آکر مجھے پیش کر تا ۔

فرید جب گذشتہ سال اسی مہینے میں دنیا سے اُٹھ گیاتو اُس کی عمر مجھ سے زائد از بیس سال کم تھی۔ اپنی زندگی میںجو عزت اُس نے مجھے وقتاً فوقتاً دی اور جو افتخار بخشا وہ  ایک شریف النفس اور انسان نواز شخص ہی کا خاصہ ہو سکتا ہے جس کی یادوںکے گلا ب آج بھی میرے وجود کو مہکاتے ہیں۔ فرید  ایک اعلیٰ شان والا انسان اور ایک اچھا شاعر تھاجواپنے فن کی سدا بہارجولانیاں دکھانے سے پہلے ہی چلا گیا۔

ریاستی کلچرل اکیڈیمی  نے اردو شیرازہ کا فرید پربتی نمبر شایع کر کے ا س نیک خصال فرزندِکشمیر کے تییںبہت حد تک اپنا فرض اداکیا ہے۔

اس خصوصی اشاعت کے اکیس مضامین اگرچہ عام طور پرمرحوم کے لئے مقالہ نگاروں کی ذاتی محبت اوروابستگی ہی کا مظہر ہیںپھر بھی ان تحریروں سے جوان مرگ فریدپربتی کی روح کووقتی طور پرسکون اور طمانیت نے ضرورسرشار کیا ہوگا۔

کسی جریدے کے مدیر کا یہ فرضِ منصبی ہوتا ہے کہ وہ اس میںشامل قلم پاروں پر اپنی علمی ا ستعداد  اور ناقدانہ صلاحیت کے حوالے سے  رائے زنی کرے۔ اس لحاظ سے شیرازہ کے ایڈیٹر محمد اشرف ٹاک نے اپنے مختصر یعنی دو صفحات کے اداریے میںگویا سمندر کو کُوزے میں بند کیا ہے۔اشرف کے اندازِبیان میںجذبات خیزی جلوہ گر ہے جو اس بہت ہی پیارے سخن ور کے حق میںبر محل اور مناسب ہے جس کے ساتھ اگر زندگی وفا کرتی تو بقولِ اشرف ’’کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ا س کا قلم کن اور کون سی ر فعتوںسے ہمکنارہوتا اور زبان و ادب کواور کون سے گوہر پارے نصیب ہوتے‘‘۔

زیرِ بحث خصوصی ایڈیشن میں کشمیر یونیورسٹی سے وابستہ دو ایک مضمون نگاروں کے ایسے عامیانہ اور سطحی مقالات بھی شامل کئے گئے ہیں جن میں اگر فرید پربتی کی بجا ے قیصر قلندر یا اکبر جے پوری کے نام درج  کئے جاتے تو ان کے متن یاہیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ مندرجات میں علی ا حمد جلیلی اور لاہور کے حماد انجم نے اپنے تفصیلی خطوط میںفرید پربتی کے اُن فنی نقایص اور عروضی خامیوںکی ایمانداری اور نیک نیتی کے ساتھ نشاندہی کی ہے جنہیں بغور پڑھ کر فرید نے بہر حال ان باتوں کی طرف سنجیدگی کے ساتھ توجہ دی ہوگی۔

فرید پربتی نے اگر چہ شاعری کے حوالے سے نظم،غزل،منقبت اور نعت اور چند اوراصنافِ سخن پر بھی طبع آزمائی کی ہے لیکن اس کی شاعری میںرُباعی  فرید کا محبوب موضوع رہی ہے۔ کشمیر میںفرید سے زیا دہ  اس صنفِ سخن کی طرف کسی اور اردو شاعرنے اپنے قلم کو وقف نہیں کیا ہے۔ 

رباعی عربی زبان سے ماخوذ ہے جو عام طور پراُس شے کے معنوں میںاستعمال ہوتاہے جس کے چار حصے یا اجزاہوں۔جس وقت شاعری میں رباعی لکھنے کی ابتدا ہوئی اُس زمانے کے شاعروں کا ذہن زیادہ ترتصوف اور فلسفے کے گہرے اور باریک نقطوں کی گرہ کشائی کی طرف مرکوز تھا۔ اس رجحان نے رباعی کی صنفِ سخن کو دیگر اصناف سے مختلف  ایک نیامزاج، ایک الگ موضوع اورایک منفر د رنگ بخشا۔ رباعی کا درجہ شروع ہی سے ایک ایسی مختصرمگر با معنی نظم جیسا رہا ہے جو متواتر طور پرآج تک ایک مخصوص مزاج کے مطابق ایک منتخب وزن میں لکھی جاتی ہے اور جس میںاخلاق، روحانیت، تصوف یا فلسفۂ عشق کا وہ بڑے سے بڑامسئلہ بھی حسن و خوبی کے ساتھ واضح ہوجاتا ہے جس کی اگرچہ غزل،مثنوی یا قصیدے میں بھی گنجائش پیداہو سکتی ہے مگروہاں پر یہ اُس خوبصورتی اور اثر پزیری کا دست نگر ہی رہتا ہے جو اسے رباعی میںحاصل ہوسکتی ہے۔

فارسی شاعری میںرباعی کا ایک مالامال سرمایہ موجود ہے جس میں بایزیدؔ بسطامی، رودکیؔ،ابو نصر فارابیؔ،بو علی سیناؔ،بابا طاہر ہمدانیؔ، علی بن حسن باخرزیؔ،حافظ،ؔ سعدیؔ،سرمدؔ،جامیؔ اور امام غزالیؔ نے بیش بہا اضافہ کیا۔بعد میںگیارھویں صدی  عیسویں  میںحکیم عمر خیامؔ نے اپنی شاندار رباعیات کے ذریعہ اسے فارسی کی ادبی دنیا میں ایک اعلیٰ و ارفع مقام عطا کیا۔

جہاں تک اردو شاعری کا تعلق ہے اگر چہ اس میںفارسی رباعی جیسا طنطنہ اور جلوہ سامانی موجود نہیں ہے  اور اس کی دنیا ئے سخن پر غزل ہی  غالب رہی ہے پھر بھی ذوقؔ، سوداؔ،انیسؔ، دبیرؔ،حالیؔ، غالبؔ،امجدؔ حیدر آبادی، جوشؔ، فراق اورشادؔ ؔ نے اس صنفِ سخن کو اپنے زورِقلم سے بہت کچھ دیا ہے۔

فارسی اور اردو میںاگر چہ رباعی کا موضوع کم  و بیش خمریات کے ارد گرد ہی  طواف کرتا رہا ہے لیکن فرید کے یہاںاس موضوع پر رباعیات غالباً  اس لئے بھی ناپید ہیں کہ کشمیر کے مقامی حالات کے تقاضے کی وجہ سے اُس نے سماجی قدروں کے احترام میںاس طرف اپنی توجہ مبذول نہیں کی۔ فرید تو ویسے بھی خود اپنی شریفانہ زندگی میںاس شے سے کوسوں دور رہا۔

فرید پربتی ؔسے میری آخری ملاقات 2011ء میںجموں میںہوئی جہاںہم دونوںایک سمینار میں مدعو تھے۔یونیورسٹی کے گیسٹ ہاوس میں اُس نے اپنی کلیات’’ہزار امکان‘‘ مجھے پیش کی اور میںیہ دیکھ کر کسی حد تک حیران رہ گیا کہ اس نے مجھے ’’استاد‘‘کے القا ب سے نوازاتھا۔ فرید کا چہرہ اُس وقت  بھی ایک مشک فشاں گلدستے کی طرح کھلِا ہوا تھالیکن وہ غالباً  اپنی ہی یہ رباعی دل ہی دل میں گنگنارہا تھا:

آئے گا فلک پر وہ ستارہ واپس

یہ چیز ہی کیا؟آئے گاسارا واپس

افسوس اس اک بات کاہے دنیا میں

آنا نہ مجھی کو ہے دوبارہ واپس

اخیر پر اس بات کا ذکر کرنا میرے لئے ایک اخلاقی تقاضا ہے کہ فرید پربتی نمبر میں جہاں افتخار امام صدیقی، عبیداﷲہاشمی،احمد صغیر،ارشاد علی غوری،شیخ عقیل احمد اور سلیمان اطہر جاوید جیسے غیر کشمیری قلم کاروں نے فرید پربتی کو والہانہ طور پر یاد کیا ہے وہاںاس کے صفحات پر اُن افراد کی کوئی تحریر نظر نہیںآتی جن کے ساتھ مرحوم کے سب سے زیادہ قریبی تعلقات تھے جب وہ کشمیر یونیور سٹی میںاردو اور اقبالیات کے شعبوں میںکام کر تا تھا۔ انہوں نے اپنے اس حبیبِ عنبر دست پر قلم اُٹھانے سے گریز کر کے اپنی کوتاہ بینی،مصلحت پرستی اور تنگ نظری کا افسوس ناک مظاہرہ کیا ہے۔ 

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By