GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
رحمن ملک منموہن سے ملاقی
تعلقات کے نئے امکانات پر غور

 محبت اور امن میں ماضی کی تلخیاں بھلا کر آگے بڑھنا ہوگا : رحمن ملک

نیوز دیسک

نئی دلی //نئے ویزا معاہدے کے نفاذپرعمل درآمد کے اعلان کے بعد پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے سنیچر کو وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ملاقات کے دوران انہیں ایک مرتبہ پھر پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی ۔وزیر اعظم ہائوس نئی دلّی میں دونوں رہنمائوں کے درمیان ہوئی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات ، ویزا معاہدے اور دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کیلئے نئے آپشنز پر غور کیا گیا جس کے دوران دونوں رہنمائوں نے آگے بڑھنے کیلئے مذاکرات کو واحد راستہ قراردیا۔ رحمان ملک نے پاکستانی حکومت کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ اسلام آباد نئی دلّی کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے اور پاکستان مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنا چاہتا ہے ۔پاکستانی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہے اوروہ اس کے خاتمے کیلئے اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تمام تر مسائل کو بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور جنگ و جدل ،کشیدگی اور ٹکرائو سے بہتر نتائج کی امید نہیں کی جا سکتی ہے ۔پاکستانی وزیر داخلہ نے وزیر اعظم کو بتایاکہ وہ امن و محبت کا پیغام لیکر بھارت آئے ہیں اس موقعہ پر انہوں نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کو اسلام آباد کادورہ کرنے کی ایک مرتبہ پھر دعوت دی ۔انہوں نے وزیر اعظم سے کہا کہ ان کے آبائی گائوں میں ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا رہا ہے اور وہ خود آکر ان منصوبوں کا افتتاح کریں ۔ اس موقعہ پر وزیر اعظم ہندڈاکٹر من موہن سنگھ نے پاکستانی لیڈرشپ اور عوام کیلئے نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت بھی اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرناچاہتا ہے کیونکہ حکومت ہند کا مانناہے کہ تشدد اور ٹکرائو سے مسائل اور زیادہ پیچیدہ ہو جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پر امن اور سازگار ماحول میں مسائل پر ٹھوس پیش رفت حاصل کی جا سکتی ہے اور پر امن ماحول میں ہی امن اور ترقی کا راز مضمر ہے ۔خیال رہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ جمعہ نئی دلّی کے ائر پورٹ پر پہنچے تھے جہاں انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ وہ محبت اور امن کا پیغام لیکر نئی دلی آئے ہیں اور بھارت اور پاکستان کو ماضی کی تلخیاں بھلا کر کر آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ بعض غیر ریاستی عناصر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بگاڑنے کے درپے ہیں ۔انہوں نے کہا’’ہمیں ایکدوسرے کے خلاف منفی بیانات سے گریز کرنا چاہئے اور منفی سوچ سے باہر نکل کر اپنے عوام کیلئے کام کرنا ہوگا‘‘۔ادھر ایک ٹیلی ویژن چینل سے انٹر ویو کے دوران بابری مسجد کی شہادت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پاکستانی وزیر داخلہ نے کہا ’’میں نے بابری مسجد کے انہدام کا موازنہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ساتھ نہیں کیا ، میں نے کہا کہ ہم ایسے بد نما واقعات نہیں چاہتے ہیں ،دہشت گردی نے زخم دیئے ہیں اور اس سے غموں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا،ہم 9/11، ممبئی ، سمجھوتہ ایکسپریس اور بابری مسجد انہدام جیسے واقعات نہیں چاہتے ہیں ،ہم امن کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور بات چیت سے مثبت نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں ‘‘۔پاکستانی وزیر داخلہ نے میڈیا پر الزام عائد کیا کہ وہ بھارت ،پاکستان مذاکرات کا ایجنڈا خود ہی طے کرتے ہیں جو درست نہیں ہے ۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں













سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By