سلاطین ہند کی رواداری کا ثبوت برآمد شدہ سکوں پہ عربی اور سنسکرت عبارات تحریر طارق علی میر
سرینگر//کوٹ بلوال جیل سے قدیم سکوںکو محکمہ آثار قدیمہ نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے ۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ یہ سکے اپنی نوعت کے پہلے ایسے شاہی سکے ہیں جن پر عربی اور سنسکرت زبانوں میں عبارت کندہ ہیں۔محکمہ کی ٹیم نے کہا کہ تانبے کی دھات سے بنے 107 سکے مختلف مسلم دور حکومت کے ہیں جن میں سلطان محمود غوری کے دور حکومت کے شاہی سکے بھی شامل ہیں۔محکمہ آثار قدیمہ کے ڈپٹی ڈائر یکٹر پیر زادہ محمد اشرف نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ بر آمد سکوں کی خاص بات یہ ہے کہ سکوں کے ایک رخ پر جہاں عربی کے رسم الخط میں عہد اور سلطان کا نام کندہ ہے وہی دوسری جانب سنسکرت زبان میں عبارت کندہ ہے‘‘ انہوں نے کہا کہ اس سے یہ معلوم ہو تا ہیکہ سلطان محمود غوری ،جن کو مورخین کی ایک بڑی تعداد نے ہندستان کی تاریخ میں منفی پہلوں سے پیش کیا ہے،بہت سی باتوں کی نفی کر تا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ بر آمد شدہ سکوں پر عربی اور سنسکرت کی عبارت کندہ ہو نے کی دلیل ایک نئی بحث کو جنم دیتی ہے کہ سلطان غوری انتہاپسند تھے یا اعتدال پسند‘‘۔مذکورہ آفیسر نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ دلی سلطنت سلطان ابو مظفر کے دور حکومت کے سکے بھی بر آمد کئے گئے ۔ تاہم بہت سے سکے ایسے بھی ہے جن پر عبات زائل ہو چکی ہے۔سلطان محمود غوری نے قدیم ہندستان پر1193 سے1206 تک حکومت کی ۔یاد رہے کہ کوٹ بلوال جیل سے بر آمد قدیم سکوں کی جانچ کیلئے ریاستی محکمہ آثار قدیمہ کی ٹیم کل جیل حکام سے نمونہ حاصل کر نے گئی تھی اور جیل حکام نے مذکورہ محکمہ کی تحویل میں107 تانبے کی دھات کے سکے دیئے۔ان سکوں کو جیل میں محبوس قیدیوںنے کھدائی کے دوران13نومبر کو دو الگ الگ مٹی کے مٹکوں میں پایا تھا۔