GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
ملازمین کی راج بھون گھیرائو کوشش ناکام
جے سی سی سینئر لیڈران سمیت 200گرفتار، آج اگلے پروگرام کا اعلان ہوگا

جموں،سرینگر//ریاستی پولیس نے مشترکہ مشاورتی کمیٹی (جے سی سی)سینئرلیڈران سمیت 200 کے قریب سرکاری ملازمین کو گرفتار کر کے راج بھون کی طرف ملازمین کے احتجاجی مارچ کوناکام بنا دیا۔ اس دوران جے سی سی کی کال پر جموں،سرینگر اور لداخ میں سرکاری دفاتر میں مکمل ہڑتال کی گئی جس سے سرکاری مشینری یکسر مفلوج ہوکر رہ گئی ۔ ادھر ملازم قیادت نے سرکار کیخلاف کڑا رُخ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے کوئی مثبت ردعمل سامنے نہ آیا توآجپریس کانفرنس میں پانچویں مرحلہ کا ریاست گیرایجی ٹیشن پروگرام دیا جائیگا جوکہ سخت ترین ہوگا۔ ہفتہ کے روز طے شدہ پروگرام کے تحت ریاستی سرکار کی ہٹ دھرمی کے خاتمے اور سرکاری ملازمین کے دیرینہ تسلیم شدہ مطالبات کی فوری عمل آوری کیلئے سینکڑوںکی تعداد میںملازمین مولانا آزاد اسٹیڈیم میں جمع ہوئے اور راج بھون کی طرف احتجاجی مارچ کیا۔احتجاجی مارچ کی قیادت جے سی سی لیڈران عبدالقیوم وانی ،محمد خورشید عالم اورعبدالغفور ڈارکے علاوہ دیگر لیڈران نے کی ۔اس موقعے پرا گرچہ ایم اے اسٹیڈیم کے باہر جمع پولیس اہلکاروں نے ملازمین کو آگے جانے سے روکا تاہم ڈیڑھ ہزار کے قریب ملازمین کے بڑے جلوس کی وجہ سے پولیس کوشش ناکام ہوئی۔ اپنے مطالبات کے حق اور سرکارمخالف نعرہ بازی کرتے ہوئے ملازمین نے راج بھون کی طرف پیش قدمی کی، گھمٹ کے مقام پر ملازمین کوپولیس نے دوبارہ روکا، جس دوران ہاتھاپائی بھی ہوئی مگر مظاہرین آگے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ اندرا چوک میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی تاہم ملازمین نعرہ بازی کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے، ملازمین کے تیور کے چلتے حالات کو بے قابو ہوتے دیکھ کرپولیس نے بڑے پیمانے پر احتیاطی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا اور سول سیکرٹریٹ کے گردونواح اور شالیمار چوک میں نافذ دفعہ144کی خلاف ورزی کرنے پرجے سی سی سینئر لیڈران سمیت 200کے قریب ملازمین کو پولیس گاڑیوں میں بھر کرگاندھی نگر پولیس لائنزلیا گیا۔بعد دوپہر3بجے تمام ملازمین کو رہا کر دیا گیا۔جے سی سی لیڈر عبدالقیوم وانی نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’’سرکار کے پاس ایک ہی آپشن ہے یا تو تسلیم شدہ مطالبات کو من وعن سے عملایاجا ئے یاپھر مخاصمت کا سامنا کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ سرکار جان بوجھ کر بے ایمانی کر رہی ہے اور مطالبات کو پورا کرنے میں کی جارہی دیری سے مسئلہ پیچیدہ ہورہا ہے جس کا نقصان عام آدمی کو اٹھاناپڑ رہا ہے۔ عبدالقیوم وانی نے سوالیہ انداز میں کہاکہ ملازمین حکومت کو مطالبات پورا کرنے کیلئے بھرپور وقت دے رہے ہیں لیکن اس کے بعد بھی اگر انہیں پورا نہ کیا جائے تو ملازمین احتجاجی راستہ اختیار نہ کریں توپھر کیاکریں؟۔ انہوں نے بتایاکہ حکومت کی طرف سے کوئی مثبت ردعمل نہ آیا تو آج پریس کانفرنس میں اگلا ایجی ٹیشن پروگرام کا علان کیا جائیگا اور اب کی بار زیادہ سخت رویہ اختیار کیا جائیگا۔اس سے قبل صبح 9بجے وادی کشمیر ،لداخ کے علاوہ صوبہ جموں کے خطہ پیرپنجال وچناب سے بھاری تعداد میں ملازمین کا ایم اے ایم اسٹیڈیم میں جمع ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جہاں پرجے سی سی لیڈران محمد خورشید عالم ، عبدالقیوم وانی ،عبدالغفور ڈار اور ڈاکٹر منظورنے خطاب کیا۔ملازم قائدین نے خطاب کرتے ہوئے سرکار پر وعدہ خلافی اور بے ایمانی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہاکہ سرکار خود اپنے لئے مشکلات پیدا کر رہی ہے اور ملازمین کے تسلیم شدہ مطالبات کو عملی جامہ پہنانے میں غیر ضروری تاخیر کر کے مسئلہ میں زیادہ ہی پیچیدگیاں پیدا کی جارہی ہیں۔ ملازمین کے ساتھ تحریری طور طے پائے معاہدات کو پور اکرنے میں جان بوجھ کر ٹھنڈے بستے میں ڈالاگیاہے ۔ 15ستمبر 2011کو بھی ملازم قیادت اور سرکار کے درمیان معاہدہ طے پایا جس کی عمل آوری کیلئے سرکار نے 31مارچ 2012تک کا وقت مانگا لیکن مدت پوری ہونے تک حکومت کی طرف سے اس معاہدہ کو روبہ عمل لانے کیلئے زرا بھر پیش رفت نہ ہوئی۔ انہوں نے بتایاکہ ملازمین کی جدوجہد کا سلسلہ جاری رہا جس کے چلتے حکومت نے امسال 15ستمبر ایکبارپھرتحریری معاہدہ کیا اور 30ستمبر تک اس کوپورا کرنے کی مہلت مانگی لیکن اڈھائی مہینے گذر جانے کے باوجود بھی سرکار ٹس سے مس نہیں۔جے سی سی لیڈران نے اس عزم کا اظہار کیاکہ کسی بھی صورت میں جاری جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے ملازمین سے پرزور دیا کہ وہ حکومتی وانتظامی سطح پر ملازمین میں دراڑیں پیدا کرنے کی جوکوششیں کر رہے ہیں انہیں ناکام بنایا جائے ۔یاد رہے کہ ملازمین کے تسلیم شدہ مطالبات میں ریٹائرمنٹ عمر کی حدمیں اضافہ ،متعدد سرکاری محکموں میں یومیہ اجرت ملازمین کی ریگولر آئزیشن، آل کلریکل کیڈرز کی تنخواہوں میں تفاوت کو دور کرنے،پبلک سیکٹرز یونٹس ملازمین کی مانگیں ودیگران شامل ہیں جن کیلئے 2009سے منظم جدوجہد کا سلسلہ جاری ہے۔اس دوران سرینگر سمیت وادی بھر میں بھی ملازمین نے جے سی سی کی کال پر ہڑتال کی ۔جس کے نتیجے میں سرکاری کام کاج دوسرے روز بھی مفلوج ہوکر رہ گیا۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By