GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
’آنسوئوں کا سمندر‘
دستاویزی فلم کی نمائش پر روک

 سرینگر// کشمیر یونیورسٹی میں گذشتہ روز ’اشکوں کا سمندر' نامی دستاویزی فلم کی نمائش پولیس کی طرف سے روک لگا دی گئی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم کو تیار کرنے میں پبلک سروس براڈکاسٹنگ ٹرسٹ نے اشتراک کیاہے ۔اس ادارے کو مرکزی وزارت انفارمیشن و براڈکاسٹنگ کی طرف سے فنڈ کیا جاتا ہے اور اسے دوردرشن اور دیگر سرکاری نشریاتی اداروں کا تعاون حاصل ہے۔بلال جان پروڈکشنز کے بینر تلے بلال احمد جان کی ہدایت کاری میں بنی اس فلم میں ریاست جموں وکشمیر میں خواتین پر ہوئے مظالم  کی عکاسی کی گئی ہے۔فلم میںکونن پوشہ پورہ اجتماعی عصمت دری اور شوپیان سانحہ کے ساتھ ساتھ دیگر خواتین کے ساتھ ہوئے زیادتی کے غیر معروف واقعات کی عکاسی کی گئی ہے۔27منٹ پر محیط اس فلم کی جھلکیاں پہلے ہی یوٹیوب نامی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئیں تھیںجس کوایک مہینے سے کم عرصہ میں ایک لاکھ45ہزار سے بھی زائد لوگوں نے دیکھا ہے۔ بلال جان پروڈکشنز کی طرف سے سنیچر کو اس فلم کو باضابطہ طور کشمیر یونیورسٹی کے کنوکیشن حال میں ریلیز کیا جانا تھا تاہم تقریب سے عین قبل یونیورسٹی حکام نے اس تقریب کے انعقاد کی اجازت واپس لے لی ۔ فلم کے ہدایتکار بلال جان کے مطابق یونیورسٹی ذمہ دارا ن کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان کو اس فلم کی نمائش سے منع کر دیا ہے۔ اس لئے اب یہ فلم ریلیز نہیں ہو پائے گی ۔ بلال جان کا کہنا تھا کہ حیرت کی بات ہے کہ ان کی فلم کو بھارتی سینسر بوڑد کی طرف سے پاس کیا گیا ہے اور پھر بھی ریاست میں اس کی نمائش پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔اس ضمن میں کشمیر عظمیٰ نے آئی جی کشمیر سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کو اس بارے میں کوئی علمیت نہیں کیونکہ وہ اس وقت ریاست سے باہر ہیں ۔Ocean of Tears کشمیر کے حالات پر بننے والی اکلوتی دستاویزی فلم نہیں اس سے قبل ، جشن آزادی،انشاء اللہ کشمیر اور کشمیر:اے ٹارچر ٹرائل جیسی دستاویزی فلموں میں کشمیر میں جاری تصادم اور یہاں ہورہی انسانی حقوق کے پامالیوں کی ترجمانی کرنے کی کوششیں کی گئی اور ان کو دنیا بھر میں سراہا گیا ۔ اگر چہ یہ فلمیں باضابطہ طور ہندوستان میں ریلیز نہیں ہوئیں تاہم انٹر نیٹ پر یہ فلمیں مہیا ہیں اور وادی کشمیر میں بھی عوام کی طرف سے ان فلموں کو خوب پذیرائی کی گئی۔ واضح رہے کہ وادی کشمیر پر بنے والی پہلی دستاویزی فلم عذرا میر کی طرف سے 1952میں بنائی گئی ’پمپوش‘ تھی جس کا افتتاح اس وقت کے وزیر اعظم کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے کیا تھا ۔ اس فلم کو ڈل کے کناروں پر عکس بند کیا گیا تھا اور یہ فرانس کے شہرہ آفاق کانز فلم فیسٹول میں بھی دکھائی گئی تھی تاہم بدقسمتی سے اس فلم کا کوئی بھی پرنٹ اب موجود نہیں۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By