GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  صفحہ اوّل
یاد ماضی عذاب ہے یا رب
امیرا کدل پل پر ہٹائے گئے بنکر نے اپنے پیچھے سیاہ ترین تاریخ چھوڑ دی

سرینگر// امیرا کدل پر ہٹائے گئے بنکر نے اپنے پیچھے ایک سیاہ ترین تاریخ چھوڑ دی ہے۔ امیر کدل پر قائم 90ء کی دہائی سے قائم بنکر کو ہٹانے کی کارروائی سنیچر کو بھی جاری رہی جس دوران سی آر پی ایف اہلکار صبح سے ہی بنکر کا ملبہ صاف کرتے نظر آئے ۔عوامی اورکاروباری حلقوں نے امیرا کدل بنکر ہٹانے کو ایک اچھے قدم سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ گاہکوں اور صارفین کو ہمیشہ بنکر کی وجہ سے عدم تحفظ کا احساس ہوتا تھا۔کاروباری حلقوں کے مطابق اس بنکرکو ہٹانے کا مطالبہ بہت پہلے کیا گیا تھا تاہم اب اس کو ہٹایا گیا جو دیر آیددرست آیدکے مترادف ہے۔محمد اکبر نامی ایک معمر شہری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ امیرا کدل پُل پر واقعہ بنکر ریاست میں جنگجوانہ سرگرمیوں کے آغاز1990میں ہی قائم کیا گیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ یہ بنکر سیاہ ترین تاریخ کا حامل رہ چکا ہے کیونکہ اسی کے نزدیک متعدد مرتبہ کئی شہری مارے گئے جن میں دکاندار بھی شامل ہیں جبکہ درجنوں بار بنکر پر ہوئے حملوں کے بعد مقامی دکانداروں اور راہ گیروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔محمد اکبر نے امیرا کدل بنکر کوہٹانے پر اطمینان کی سانس لیتے ہوئے بتایا کہ1990ء میں جب وادی میں ہر طرف جلسے اور جلوس نکالے جاتے تھے تو شہر میں جلوسوں کو روکنے کیلئے حساس مقامات پر بنکر بناکر ناکہ بندی کی گئی اور اس کے ساتھ ہی پورے شہر میں بنکروں کا جال بچھایا گیا ۔ایک مقامی دکاندار نے بتایا کہ امیرا کدل پر بنکر کی موجودگی سے ان کا کاروبار چوپٹ ہوگیا تھا اور ہر روز یہاں ٹریفک جام ہوجاتا تھا ۔امیراکدل بنکر کی سیاہ داستان میں ایک واقعہ خاص طور پر قابل ذکر ہے ۔12سال قبل11جون کو اسی بنکر میں موجود بی ایس ایف اہلکاروں نے رفیق احمد بقال کو اس وقت گولیاں مار کر جاں بحق کیا تھا جب وہ جواہر نگر سے اپنے چند دوستوں کے ہمراہ شادی کی ایک تقریب میں شرکت کرنے کے بعد واپس اپنے گھر کوکر بازار آرہے تھے ۔امیرا کدل پل پر رات کے 11بجے127بٹالین بی ایس ایف اہلکاروںجن کی قیادت اسسٹنٹ کمانڈر ایم پی ایس رتن کررہے تھے، نے رفیق احمد بقال کو شدید اذیتیں دینے کے بعد گولی مار کر جاں بحق کیا۔محمد رفیق بقال کے بھائی اور کشمیر ٹریڈرس یونائٹیڈ فرنٹ کے صدر محمد صادق بقال نے اس درد ناک واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ دعوت سے واپسی کے بعد جب محمد رفیق اپنے دوستوں کے ہمراہ گاڑی زیر نمبرJK01C-6199میں امیرا کدل کے قریب پہنچے تو اسسٹنٹ کمانڈنٹ ایم پی ایس رتن کی کمان میں بی ایس ایف کی ایک پارٹی نے ان کی گاڑی کو روک کر اس میں سوارسبھی افراد کوباہر نکال کر جامہ تلاشی لی۔کوئی بھی قابل اعتراض شے نہ پانے کے باجود ان کا شدید زدو کوب کیا گیا اور محمد رفیق کے سوا سب کو وہاں سے بھاگ جانے پر مجبور کردیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد ایم پی ایس رتن نے محمد رفیق کو پہلے اذیتیں دی اور بعد میں اس پر گولیاں کی بوچھاڑکر دی۔بقال کے مطابق امیراکدل کے آس پاس رہنے والے افراد رات بھر محمد رفیق کی آہ بکار سنتے رہے لیکن کوئی بھی مدد کرنے سے قاصر تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس قتل ناحق پر وادی کے طول وعرض میں فقید المثل احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ہڑتال بھی رہی ۔انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس سٹیشن شہید گنج میں ایف آئی آر زیرنمبر56/2000 کے تحت کیس بھی درج کیا گیا۔تاہم آج تک انصاف نہیں ملا۔انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں عدالت عالیہ اور ہیومن رائٹس کمیشن کے دروازے بھی کھٹکھٹا ئے گئے اور بی ایس ایف نے بھی اپنے طور ایک کورٹ آف انکوائیری تشکیل دی۔جس دوران ایم پی ایس رتن کو مجرم قرار دیا گیا تاہم مجرم کو سزا نہیں دی گئی جس کی وجہ سے وہ سمجھتے ہیںکہ ان کو ہنوز انصاف ملنا باقی ہے۔بقال نے بتایا کہ آج یہاں معصوم اور نابالغ بچوں پرپی ایس ائے لگایا جاتا ہے اور بے گناہوں کو عمر قید کی سزائیں سنائی جاتی ہیں تاہم ایم پی ایس رتن جیسے قاتل کو سزا نہیں دی گئی ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ی قوم مظلوم ہے لہٰذا انصاف کی توقع نہیں رکھی جاسکتی ہے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں













سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By