GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادب نامہ
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے


پرانے زمانے کی بات ہے جب شاگرد بھی استاد ہواکرتے تھے۔علم و ادب کے اسی دورکا یہ واقعہ ہے کہ ایک کالج میں ریاضی کے نئے اُستاد کا تقررہوا۔ریاضی کے پیریڈمیںاستاد ابھی کلاس میں نہیں آئے تھے کہ طالب علموں کو نہ جانے کیا شرارت سوجھی ۔ان میں سے ایک طالبِ علم اُٹھا اور اس نے کہا کہ آج میں نے ایک ایسا شعر کہا ہے کہ استاد کے پاس بھی اس کا کوئی جواب نہیں ہوگا اور ان کے علم کا بھی پتہ لگ جائے گا ۔پھر کیا کِیا جائے سب لڑکو ں نے ایک زبان ہوکر کہا ۔

میرے پاس ایک آئیڈیا ہے مگر ایک شرط ہے کہ کوئی بتائے گا نہیں کہ یہ شرارت کس کی ہے ۔باہمی مشاورت سے یہ طے پایا کہ کوئی کسی کے بارے میں زبان نہیں کھولے گا،چاہے کچھ بھی ہوجائے ۔بعد ازاں بچے نے چاک اُٹھایا اور بلیک بورڈ پر ایک شعر لکھا ،جو کچھ اس طرح تھا   ؎

دعویٰ بہت ہے علم ِ ریاضی میں آپ کو

طولِ شبِ فراق ذرا ناپ دیجئے

تھوڑی دیر میںریاضی کے اُستاد کلاس میں داخل ہوئے ،سب بچے سر جھکائے ہنس رہے تھے لیکن اُستاد ان تمام باتوں سے لاعلم جب بلیک بورڈ کی طرف آئے تو یہ شعر کو دیکھ کر کچھ چونکے اور حیران ہوئے اور کچھ کچھ خوش بھی ہوئے کیوں کہ شعراعلیٰ پائے کا تھا ۔ انہوں نے مسکرا کر بچوں کی طرف دیکھا ۔ بچے دبک کربیٹھے تھے کہ اب اُستاد ہم سے پوچھیں گے کہ یہ بد تمیزی کس نے کی ہے ،لیکن اس وقت ان سب کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب اُستاد نے چاک اُ ٹھایا اور اس کے نیچے ایک شعرلکھ دیااوربچوں کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔شعر کچھ اس طرح تھا   ؎

طولِ شبِ فراق جو ناپا گیا غریب

لیلیٰ کی زلف سے رہا دوچار ہاتھ کم

اسی نوعیت کاایک واقعہ میری زندگی میں بھی پیش آیا ہے جب میرا داخلہ شعبۂ اردو کشمیر یونیورسٹی میں ہوا تھا ۔پہلے ہی دن ریگنگ کی بدولت غبارے سے ہوا نکل گئی ،جس کے اثرات کئی دنوں تک رہے۔آخر کار ہمت جٹاکر ریگولرکلاسیںلینا شروع کیں۔ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ خالی کلاس دیکھ کر میرے دل میںجانے کیا سوجھی کہ میں صدر ِ شعبہ کے پاس چلا گیا ،تو انہوں نے سر ہلائے بغیر کہا کہ تم فرید پربتی سے ملو ،وہ تمہاری کلاس لیں گے ۔فرید بربتی ؔ کا نام میں نے کئی رسالوں میں پڑھا تھا لیکن بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ میں نے فرید صاحب کے کمرے کی راہ لی ،ابھی دروازے کا پردہ ہی کھسکا یا تھا کہ میںنے دیکھا کہ کمرے میںدو صاحبان بیٹھے تھے۔ ایک اپنا کلام سنارہا تھا تو دوسرا ہمہ تن وگوش آنکھیں بند کئے کلام سن رہا تھا۔ کلام سنانے والا دور سے ہی شاعر لگ رہا تھا ،ا س کے گیسو دراز اور لباس شاعرانہ تھا لیکن سننے والا چوڑا بدن،خوبرو،دراز قد ، بارعب ،کلین شیواور سوٹ بوٹ والا ،کسی بھی طور شاعر نہیں لگ رہا تھا ۔میں مخمصے میں پڑ گیا کی فرید صاحب کون ہوسکتے ہیں کیوںکہ دنوں کھڑکی سے لگی کرسیوں پر بیٹھے تھے اور فرید صاحب کی گھومنے والی کرسی (Moveable Chair)خالی تھی ۔میںنے ہمت کرکے اجازت طلب کی تو سوٹ بوٹ میں ملبوس شخص نے ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کو کہا۔میں ساکت و جامد ایک کرسی پر خاموشی سے بیٹھ گیا اور سمجھ گیا کہ فرید صاحب کو ن ہوسکتے ہیں۔میں اندر ہی اندر اپنے آپ پر ہنس رہا تھا کہ پربت جیسے شخص ہی فرید پربتی ہوسکتے ہیںاور آج لفظ اسم با مسمیٰ کے معنی بھی سمجھ میں آرہے تھے ۔کچھ دیر بیٹھنے کے بعد ہی مجھے پتا چلا کہ شاعر موصوف چار چار مصرعوں پرمشتمل اپنا کلام سنارہے تھے کہ اچانک فرید صاحب شاعر سے مخاطب ہوکر گویاہوئے کہ کیا تم نے ریاضی کا مطالعہ کیاہے؟ یہ سوال سن کر شاعر کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا کہ رباعی اور ریاضی کا آپس میں کیا تعلق ؟فریدؔ صاحب نے ہنستے ہوئے کہا کہ برخوردار غزل اور نظم کے لئے خالص شاعر ہونا کافی ہے لیکن رباعی ریاضی کی مانند پیچیدہ اور مشکل فن ہے ۔عمر خیامؔ رباعی میں اس لئے کامیاب ہوا کیوںکہ وہ ریاضی کے بنیاد گزاروں میں تھے ۔  رباعی کے لئے مقررہ چوبیس اوزان کا فارمولہ استعمال کرنا گویا دانتوں پسینہ آنے کے مترادف ہے۔ مجھے دیکھوں میں نے ایم ۔اے کامرس کیا ہے شاید اسی لئے رباعی کی صنف کو قابو کرپایاہوں ۔میری صلاح مانو رباعی کے بجائے غزل میں طبع آزمائی کرو۔اس واقعہ کے بعد روز فریدصاحب کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ کلاس میں یا کلاس سے باہر ،ہر جگہ شعرو ادب کے متعلق باتیں ہوتیں ۔

فرید صاحب کلاس میں آتے ہی کلاسیکل شعرو ادب کی پھلجھڑیاںبکھیرتے رہتے ، ادبی لطیفوں سے کلاس کو زعفران زا ر بنادیتے ، جس سے نصاب کی تھکاوٹ دورہوتی۔ اشعار اس طرح ازبر تھے کہ ایک مصرعہ کہنے پر پوری غزل سنادیتے ،کبھی کبھار منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے اپنی رباعیاں بھی سنادیتے ۔نوآموز شعراء کو سنجیدگی سے ادب کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دیتے ،نئی نئی کتابیں خریدنے میںپہل کرتے ،ادبی جریدے پڑھنے کی صلاح دیتے۔جس کو مدد کی ضرورت ہوتی ،اس کی دامے ،درمے اور سخنے مدد کرنے سے کبھی نہیں کتراتے تھے لیکن جب کسی سے کبیدہ خاطر ہوتے تو اس کی خوب خبر لیتے ۔

ایم اے مکمل کرنے کے بعد مجھے ایم ،فل کرنے کی تلقین کی ۔ساتھ ہی اس بات کی یقین دہائی کی کہ وہ مجھے اپنی نگرانی میں ریسرچ کرائیں گے ۔ کچھ عرصہ بعد میری رجسٹریشن ’’اردو کے ضرب المثل اشعار‘‘کے عنوان کے تحت ہوئی ۔موضوع چونکہ پیچیدہ تھا ،میرے لئے یہ طے کرنا مشکل تھا کہ ضرب المثل اشعار،زبان زد اشعار، برجستہ اشعاراور آوارہ گرد اشعار میں کیا فرق ہے ۔انہوں نے شفقت آمیزطریقے سے میری نگرانی کی اور وقتِ مقررہ سے پہلے ہی میرا مقالہ تیار ہوگیا ۔ آخر تک ان کی یہی کوشش تھی کہ میں یہ مقالہ شائع کروں لیکن میری تساہل پسندی سے یہ کام التوا میں پڑ گیا ،جس کا ان کو بہت دکھ تھا ۔ریسر چ کے دوران ہی مجھے اخبارات ورسائل میں لکھنے کی ترغیب دی اور یہ نصیحت کرتے رہے کہ لکھنے سے تحریر نکھر جاتی ہے۔

فرید صاحب جب بھی کوئی تازہ شعریا رباعی تخلیق کرتے تو مجھے ضرورسناتے اور ساتھ ہی داد بھی وصول کرتے ۔ان کے کئی شعری مجموعوں کا  پروف میں نے پڑھاہے ،یہاں تک کہ ان کی ایک کتاب کا نام بھی میں نے تجویز کیا تھا ۔جب میں ان کی شخصیت اور فن پر کتاب مرتب کررہاتھا تو انہوں نے خطوط کا ایک بڑا پلندہ سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ انتخاب کرتے وقت میرے استاد علی احمد جلیلی کے خطوط قلم زد نہیں کرنا کیونکہ یہ خط میرے لئے بہت ہی قیمتی اثاثہ ہیں۔ان کی شخصیت اور فن کے حوالے سے مجھے جو بھی مضامین ملے ان کی ایڈیٹنگ کرنے میں انہوں نے کوئی داخل اندازی نہیں کی ۔یہاں تک کہ ترتیب و تہذیب کو بھی میری صوابدید پر چھوڑدیا۔لیکن جب کتاب کا عنوان طے کرنے کا وقت آیا تو میرے منہ سے بے ساختہ ’’ فرید پربتی … شعر،شعوراور شعریات ‘‘ نکالا تو میری رائے کی تائید کی ۔

فرید صاحب کا زندگی کا نظریہ اور لوگوں سے بہت مختلف تھا ۔وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ اختلاف ِ رنگ و بو سے بات بنتی ہے۔شاید اسی لئے ان کی اپنے ہمعصر شعراء کے ساتھ زیادہ نہیں بنتی تھی ۔ وہ ہر کام میں عجلت آمیز مستعدی سے کام لیتے۔ ان کے روابط اردو دنیاسے بہت زیادہ استوار تھے ،وہ ہر سال ایک یا دو کتابیں شائع کرتے جیسے انہیں پہلے سے معلوم تھا کہ زندگی زیادہ دیر وفانہیں کرے گی ۔’’ابرِ تر‘‘ سے ’’ہجوم آئینہ‘‘تک کا تخلیقی سفر آٹھ شعری مجموعوں میں مکمل کیا۔کم عمری میں ہی ان کی شخصیت سراپا شعر بن گئی تھی۔وہ تقریر کے فن میںماہر نہیں تھے لیکن تحریر میں ان کاجادو بولتا تھا ۔ان کی رباعیوں کے بارے میں کسی کو اختلاف نہیں کہ انہوں نے ریاست کا نام رباعی کے فن کے حوالے سے بہت دور تک پہنچایا ہے ۔کلیات داغ ؔ کی تدوین کے لئے بہت کوشاں تھے ،اس کے لئے NCPUL سے ایک تحقیقی پروجیکٹ بھی منظور کروایا تھا۔اپنے تخلیقی سفر کو جاری رکھتے ہوئے تحقیقی و تنقیدی مقالے بھی تحریرکرتے رہتے۔

پھر وقت گزرتا گیا اور میرا یونیورسٹی جانا کم ہوتا گیا ، جس کا ان کو بہت گلہ تھا ۔وہ چاہتے تھے کہ میں یونیورسٹی کے ساتھ رابطہ بحال رکھوںلیکن میری گھریلواور منصبی مجبوریاں تھیں جن کی وجہ سے پی ایچ ڈی میں داخلہ ہونے کے باوجود بھی اپنا ریسرچ کا سفر جاری نہ رکھ سکا۔شاید یہی وجہ تھی کہ میں ان کی صحبت سے دور ہوتا گیا۔اتنا دور جس کا مجھے اندازہ نہیں تھا ۔ان کی بیماری کی خبر ملی تو میں جموں میں رہائش پذیر تھا ۔ میں نے لاکھ چاہا کہ فون پر ہی عیادت کروں لیکن ہمت نہیں ہوئی۔اکثر و بیشتر ان کا شگفتہ چہرہ سامنے آتا اور دل میں ایک ہوک اُٹھتی تھی ۔پھر کئی دنوں بعد معلوم ہوا کہ ان کو میڈیکل انسٹی ٹیوٹ صورہ لایا گیا ہے تو میری چھٹی حِس نے مجھے کشمیر آنے کے لئے اکسایا ۔ جوں ہی میں ان کی عیادت کرنے ہسپتا ل پہنچا تو میری ہمت جواب دے گئی۔کیونکہ میں نے فرید صاحب کو ہمیشہ ہشاش بشاش دیکھا تھا ، ہر بات پر قہقہہ مارنا ان کی عادت ثانیہ تھی،معمولی بات کو بھی سنجیدگی سے لیتے ۔آج فرید صاحب نحیف ونزاز تھے اور مجھ سے ان کی یہ حالت نہیں دیکھی گئی ۔ چہرے پر آکسیجن کا ماسک چڑھا ہوا اور اُس چہرہ ، جو ہمیشہ کلین شیو رہا کرتا تھا ،پر سفید داڑھی صاف دکھ رہی تھی۔میںوارڈ کے کونے میں ساکت و جامد مبہوت ہو کر رہ گیا تھا ،جیسے میری رگوں میں خون منجمدہوگیا ہو اور آنسو خودبخود راستہ ڈھونڈنے لگے تھے۔میری آنکھوں کے سامنے وہی منظر ابھرآ یا جب میں نے پہلی بار فرید صاحب کو دیکھا تھا ۔ اس دن وہ ایک شاعرکو ریاضی کی اہمیت سمجھا رہے تھے اور آج خودایک ماہر ریاضی دان کی طرح وقت کی قلیل گھڑیاں کو گن رہے تھے ۔کچھ گھنٹوں کے بعد ہی پتہ چلا کہ فرید صاحب نے زندگی کی کشمکش چھوڑکر امن وسکون کی راہ اختیار کرلی ہے ۔جس کا اشارہ انہوں نے پہلے ہی اپنی ایک رباعی میںدیا تھا  ؎

باہوش تھا لیکن میں بے ہوش رہا

زندہ تھاموت سے ہم آغوش رہا

ایسے بھی مقاموں سے گزرا ہوں فریدؔ

وہ کہتا رہا اور میں خاموش رہا

saleemsalik2012@gmail.com

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By