GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ادب نامہ
’اک پرندہ جو ہوا میں پرسمیٹے رہ گیا‘


وہ اپنے کام میں یکسوئی کے ساتھ لگے رہے وہ کسی ایسے شخص کو نہیںجانتے جس کی دلچسپیاں اُن کی دلچسپیوں سے مشابہ ہوں۔ کیونکہ وہ اپنی تلاش وجستجو میں تنہا تھے ۔ انہیں اپنے کام اور اپنی ذات دونوں پر یقین تھا ۔ میںنے اس قدر خود اعتمادی اور دنیا سے اس درجہ بے نیازی کے ساتھ کام کرنے والے کم ہی دیکھے ہیں۔ انہیں اس بات پر یقین اور اعتماد بھی تھا کہ خود اعتمادی اور بے نیازی کے ساتھ کام کرنے والے کی کاوش اور محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ فکرونظر کے یہ سیاح بظاہر ایک منزل تک پہنچ چکے تھے۔فرید صاحب جسے ،بے چین روح اور فعال ذہن رکھنے والے ،لوگ کبھی ایک منزل پر قناعت نہیں کرتے۔ ایسے لوگ شرر میں ستاروں کی جستجو کرتے ہیں اور جب ستارے مل جائیں تو ان میں آفتاب کی تلاش رہتی ہے۔ علم وادب اور فکر ونظر کے اس پیکر کا ایک قدم بھی یونہی نہیں تھا۔ اُن کی ہر جنبش قلم پوری توجہ اور گہرے مطالعے کی متقاضی ہے کیونکہ ان کی ہر تحریر پوری توجہ اور گہرے مطالعہ کا ہی ماحصل ہے۔

 فرید صاحب نے اپنی تلاش وتفتیش میں جس قدر وسیع اور گہری علمیت کو بروئے کار لایا ہے وہ خالص ان ہی کا حصہ ہے لیکن علمیت کے زبردست بوجھ کے باوصف اُن کی تحریریں حد درجہ شگفتہ، دلچسپ اور عام فہم ہیں۔فرید صاحب مثبت اور رجائی ذہن کے مالک تھے۔ ہر لمحہ نامعلوم کو معلوم کرنے کی دھن میں سرگرداں اپنی ذات میں مگن اور اپنے دل سے باتیں کرنے میں مصروف۔ اعتدال پسندی اور رواداری ان کا شعار تھا۔

انہوں نے حالات سے کبھی شکست تسلیم نہیں کی۔ سیم وزر کی جھنکار انہیں ان اس کی درویشی سے دور نہ لے جاسکی۔ وہ اپنے ہی شکستہ دل کو اپنا اثاثہ سمجھتے تھے ۔کبھی کبھی سنسان اندھیرے راستوں سے گزرتے ہوئے آدمی اس لیے بھی زور سے گاتا یا خود سے باتیں کرتا ہے کہ اس کے اندر کا خوف اس پر حاوری نہ ہوجائے لیکن فرید صاحب اندھیری سنسان راہوں سے گزرتے ہوئے زور سے گاتے نہ خود سے باتیں کرتے تھے بلکہ خاموشی سے ا ن راستوں سے گزر جاتے تھے تاکہ اندر کے خوف پر بغیر کسی سہارے کے فتح حاصل کرسکیں ۔ ایسا حوصلہ کم ہی لوگوں میںہوتا ہے۔

انسان دوستی کا جذبہ اُن کی سب سے بڑی خوبی تھی او روہ اعلیٰ انسانی اقدار کے حامل اور خلوص ومحبت کے جذبے سے ہمہ وقت سرشار رہتے تھے۔ صبر وتحمل کی وہ قوت بھی ان کے پاس وافر تھی جو انسان کو عظیم بناتی ہے۔

فرید صاحب صلے اور ستائش کی پروا کئے بنا خاموشی سے اُردو ادب کی خدمت میں مصروف رہے ۔خاموشی سے کام کرنا ان کا اسلوب زندگی تھا اور جب اس دنیا سے رُخصت بھی ہوئے تو خاموشی کے ساتھ۔

۲۰۱۱ء میں فرید پربتی کی کلیات’ہزار امکان‘ کی صورت میں شائع ہوئی۔ کلیات کے منظرعام پر آنے کے بعد بیشترلوگوں کے ذہن میں خیال آیاہوگا کہ کیا’’زندہ شاعروں کی بھی کلیات شائع ہوتی ہے ۔‘‘ مجھے بھی تعجب ہوا کہ فرید صاحب کواتنی جلدی میں کیوں ہے۔ عام طور پر کلیات کسی ادیب کی جملہ ادبی سرگرمیوں کا ماحصل ہوتاہے ۔فرید صاحب کو ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے پھر یہ کیا۔ میرے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہوا لیکن اندر سے آوازآئی ہاں ،کلیات تو انہی شاعروں کی شائع ہوتی ہیں جو زندہ ہوتے ہیں اور جو زندہ رہتے ہیں۔ فرید صاحب بھی زندہ رہنے والے شاعر ہیں۔

باتوں میں ،لہجے میں، انداز سے ، وہی زندہ دلی تھی جو فرید صاحب کی پہچان کہی جاسکتی تھی۔ فرید صاحب تیز سوچتے تھے، تیز چلتے تھے اور تیز بولتے تھے۔ کبھی کبھی لگتا تھا کہ وہ سننے سے زیادہ دیکھنے کی چیز ہیں اور کبھی محسوس ہوتا تھا کہ نہیں وہ دیکھنے سے زیادہ سننے کی چیزہیں۔تو کیا انہوںنے اپنے حصے کا سفر قبل از وقت ہی تمام کرلیاتھا۔ اگرایسا نہیں ،پھر یہاں سے جانے کی اتنی جلدی کیوں؟ بیماری کی تشخیص، دہلی علاج کے لیے آنا، زندگی کے اس سفر کے آخری پڑائو تک ایک عجیب پر اسرار جلد بازی ۔کیا فرید جلد باز تھے ہر کام کو جلد نپٹانے کی عادت تھی۔عجلت پسند طبیعت تھی ان کی اس طریقۂ زندگی (لائف اسٹائل) سے کم فرصتی کا گمان کرنا غلط بھی نہیں۔

آپ آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (Aims)کے پرائیویٹ وارڈ کے روم نمبر209میں زیر علاج تھے۔ جس وقت میں اپنے محسن استاد کی عیادت کے لیے وہاں پہنچا تو دیکھا کہ فرید صاحب لیٹے ہوئے ہیں۔ میں کمرہ میں داخل ہوتے ہی اپنے چہیتے استاد کی حالت دیکھ کر افسردہ ہوا ۔سلام کرنے کے بعد بالکل خاموش رہا۔میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کہوں۔ دراصل میری آنکھیں جو دیکھ رہی تھیں اس پر یقین نہیں آرہا تھا۔ ذراتوقف کرکے دھیرسے بیماری کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے پچھلے کئی مہینوں سے اکثر ان کے پیٹ میں درد رہتا تھا۔میں اپنے ساتھی منصور (ڈاکٹر منصور احمد شعبہ اُردو کشمیر یونیورسٹی) کے ساتھ یونیورسٹی ہیلتھ سینٹر جاتا تھا لیکن بیماری کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ تاہم جب درد نے کچھ شدت اختیا کی۔ڈاکٹر کو Consultکیا ۔ انڈوسکو پی سے معلوم ہوا کہ پیٹ میں السر ہوگیاہے۔ گھرو الوں نے کہا کہ دہلی جانا چاہیے ،یوں ہم دہلی آگئے۔میں نے کہا سر گھبرانے کی ضرورت نہیں انشاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔آپ پریشان مت ہوں کچھ ہی دنوں بعد آپ صحت یاب ہوں گے۔ فرید صاحب بولے نہیں گلزارمیجرآپریشن ہے۔ فریدصاحب کے چہرے سے تھکن اور شکست کے آثار نمایاں تھے۔

بالآخر ۱۴؍دسمبر ۲۰۱۱ء کی شام وہ آہی گئی جب وجود کی دیوار سے نکل کر عدم کی دنیا کی جانب جاتے ہوئے ہم سب کے فرید صاحب رخصت ہوئے مگر اُردو حواریوں کے لئے رُخصت ہونے کے باوجود آج بھی حاضر موجود نہیں ۔ ان کی روح کا سایہ اردو شاعری کی دنیامیں ہمیشہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہے گا۔ ہاں ہاں کچھ لوگ جانے کے بعد بھی اپنی جگہ خالی نہیں چھوڑتے۔ بھلا فرید صاحب جیسے خوددار لوگ ایسے ہی جانے والے نہیں ہوتے۔ وہ آواز جو سنگین دروازہ(حول) سرینگر کی خاموش فضائوں سے نکل کر تمام اُردو دنیامیں گونجنے لگی تھی ،خاموش کیسے ہوگی۔

کسی نے سچ ہی کہاہے ’’بڑے شاعر کی زندگی اس کی آنکھیں بند ہونے کے بعد شروع ہوتی ہے۔ ‘‘سچ تو یہ ہی کہ فرید صاحب کی زندگی اب شروع ہوگئی ہے وہ ہمارے درمیان ہیں۔ ہمارے شعور اورآگہی کا ایک حصہ بن کر۔ فرید صاحب کے مشاعرہ یا مقالہ پڑھنے کا وہ اکھڑا اکھڑا لہجہ، بات چیت میں نرمی اور ملائمت کو بھلا بھول سکے گا۔ چہرے پر سنجیدگی ، متانت اور شرافت کی بہار ہمیشہ نظر آتی تھی۔ اپنی انا کی حفاظت کے لیے بڑے سے بڑے آدمی سے ٹکر لینا اور اپنے ادنیٰ سے ادنیٰ چاہنے والے کی محبت میں سب کچھ لٹا دینا۔ وہ سب کے لیے تھے مگر پھر بھی اکیلے۔ اس دنیا سے جاتے ہوئے اپنے جینے کا ڈھنگ اپنے ساتھ لے گئے ۔

فرید صاحب کو جب جب یاد کرتا ہوں۔ ان کے یہ اشعار بار بار ذہن پر دستک دیتے ہیں    ؎

اک تھکاہارا مسافر سوچتا ہے دیر سے

ساحل امید پر گھر بنتے بنتے رہ گیا

تولتا تھا خود کو وہ یا ناپتا تھا وسعتیں

اک پرندہ جو ہوا میں پر سمیٹے رہ گیا

لے گیا ہے وقت مجھ کو مجھ سے کب کا چھین کر

سوچتا ہوں اب تلک زندہ میں کیسے رہ گیا

……………

ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دلّی

موبائل نمبر:-8802790484

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By