GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  ننھوں کی محفل
مُلا نصرالدین کی حاضر جوابی


آپ نے ملانصرالدین کا نام تو سنا ہوگا۔ یہ شخص ترکی کا ایک مسخرہ تھا جس طرح ملا دو پیازہ اور شیخ چلی کے لطیفے مشہور ہیں، اسی طرح ملانصرالدین  کے لطیفے بڑے مزے لے لے کر بیان کیے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں ملا نصیر الدین یوں تو نہایت عقل مند اور عالم فاضل شخص تھا مگر لوگوں کی اصلاح اور تفریح کے لیے بے وقوف بنا رہتا اور ایسی ایسی حرکتیں کرتا کہ لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجاتے۔

            ایک بار بہت برف باری ہو رہی تھی اور کافی ٹھنڈ تھی۔ مْلا نصرالدین کے دوستوں نے کہا کہ اس سردی میں تو کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور رات کا کوئی ایک لمحہ بھی باہر نہیں گزاراجا سکتا۔ مْلا نصرالدین نے کہا کہ میں رات گھر سے باہر کھلے آسمان کے نیچے گزاروں تو کیا تم میرے سب گھر والوں کی دعوت کرنے کو تیار ہو۔

 سب دوستوں نے کہا کہ مْلا پاگل ہو گیا ہے بھلا ایسی سردی میں کون باہر رات گزار سکتا ہے۔

 دوستوں نے کہا کہ اچھا موقع ہے مْلا اپنے آپ کو ہم سے زیادہ عقلمند سمجھتا ہے۔چلو شرط لگا لیتے ہیں ،بے چارہ اپنی جان کے پیچھے پڑگیا ہے ۔مْلا نے کہا کہ اگر میں شرط جیت گیا تو تم سب کو میرے گھر والوں کی دعوت کرنی ہو گی ورنہ میں تم سب کی دعوت کروں گا اگر شرط ہار گیا۔

دوستوں نے کہا ہمیں منظور ہے۔آخر وہ رات بھی آ گئی ملا قمیض شلوار میں گھر سے باہر جا بیٹھا۔ سب دوست اسکو ایک بند کمرے کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھ رہے تھے۔ مْلا ساری رات سردی میں ٹھٹھرتا رہا۔

جب صبح ہوگئی تو سب دوست بڑے حیران ہوئے اور کہا کہ ہم نہیں مان سکتے کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ تم زندہ کیسے بچ سکتے ہو ۔اس سردی میں تو ایک پل باہر نہیں رہا جا سکتا اور تم قمیض شلوار میں ساری رات باہربیٹھے رہے ۔

 مْلا نے کہا کہ بھئی تم سب شرط ہار گئے ہو اب بھاگو مت میری دعوت کرو۔

ایک دوست نے کہا کہ ملا تم جہاں تھے وہاں کوئی گرم چیز تھی کیا، یاد کرو۔ ملا نے کہا کہ نہیں کوئی چیز نہیں تھی۔ اب تم میری دعوت کرو..دوست نے کہا کہ یاد کروآس پاس کوئی ایسی چیز تھی۔

ملا نے ذہن پر زور دیا اور کہا کہ ہاں یاد آیا جہاں میں بیٹھا تھا وہاں ایک کھڑکی پر موم بتی جل رہی تھی۔ مگر اتنی سی موم بتی سے کیا ہوتا ہے۔ اب تو دوستوں کے ہاتھ جیسے ملا کی کمزوری آ گئی۔

 دوستوں نے کہا کہ ہاں جب ہی تو ہم بولیں کہ تم آخر بچ کیسے گئے۔ اس موم بتی کی گرمی کی وجہ سے تم شرط ہار گئے ہو۔ مْلا اب تم ہماری دعوت کرو ہم نے کہا تھا کہ تمہارے پاس کوئی گرم چیز نہیں ہو گی۔ مگر تم ساری رات ایک موم بتی کی گرمی میں زندہ رہے

ملا سے کوئی جواب نہ بن سکا اگلے دن سب دوست ملا کے گھر دعوت میں جمع ہوئے۔

مْلا نے کہا کہ بیٹھو یارو۔۔۔۔ ابھی کھانا پک کر تیار ہو جاتا ہے۔ دوست کافی دیر بیٹھے رہے اور انتظار کرتے رہے مگر کھانا نہیں آیا۔

دوستوں نے کہا کہ مْلا ابھی کتنی دیر اورہے۔ مْلا نے کہا کہ بس تھوڑی دیر اور دوستوں نے کچھ دیر اور انتظار کیا ۔جب کھانا نہیں آیا تو دوستوں نے کہا کہ تم ہم سب کو بیوقوف بنا رہے ہو بھلا کھانے میں اتنا ٹائم لگتا ہے۔

دکھاؤ ہم کو کھانا کہاں بن رہا ہے ہم بھی تو دیکھیں۔مْلا سب کو اپنے باورچی خانے میں لے گیا۔ دوستوں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا برتن رکھا ہوا ہے اور اس کے نیچے ایک موم بتی جل رہی ہے۔

دوستوں نے یہ دیکھا تو کہا کہ مْلا کبھی اس موم بتی سے بھی کھانا بنتا ہے۔ پاگل تو نہیں ہو گیا کیا؟

مْلا نے کہا کہ جب موم بتی سے انسان بچ سکتا ہے تو کھانا نہیں بن سکتا

 یہ بات سن کر سب دوست بہت شرمندہ ہوئے اور اگلے دن سب نے مْلا نصرالدین کے گھر والوں کی دعوت کی۔ اور سب مْلا کی اس حاضر جوابی سے بڑے متاثر ہوئے۔

شیخ شکیل احمد

گیارویں جماعت

 ساکنہ کھریو پانپور

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By