GK Communications Pvt. Ltd
Edition :

  صفحہ اوّل
حریت(ع) کے موجودہ ڈھانچے میں تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ
شوریٰ نظام رائج نہیں ہوگا:میرواعظ

سرینگر// حریت کانفرنس(ع)میںشوریٰ نظام متعارف کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے فورم چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ دو دائروں والا نظام (جنرل و ایگزیکٹیوکونسل) برقرار رہے گا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جائے گی۔گوکہ پریس کانفرنس سے قبل ہی حریت ایکزیکٹیو و جنرل کونسل اجلاس میں اختلافات کھل کر سامنے آئے اور کئی ممبران احتجاجی طور واک آئوٹ کر کے چلے گئے تاہم میرواعظ نے دعویٰ کیا کہ حریت کے اندر داخلی انتشار ختم ہوچکا ہے او ر اس ضمن میں پروفیسر عبدالغنی بٹ اور نعیم احمد خان کی وضاحت اطمینان بخش ہے جبکہ اعظم انقلابی کے حوالے سے میرواعظ نے کہا کہ انہوں نے از خود حریت سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے اور جونہی وہ وجہ بتائو نوٹس کا جواب روانہ کریں گے تو اس کے بعدہی حریت ایگزیکٹیو کے اجلاس میں اس پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔منگل کوفورم کے ہیڈکوارٹر واقع راجباغ میں ایکزیکٹیو اور جنرل کونسل کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں  حریت کانفرنس کو مضبوط،متحرک اور مزید فعال بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں تاہم ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس وقت اختلافات کھل کر سامنے آگئے جب شبیر احمد شاہ نے دوٹائروں والے نظام کو ختم کرکے حریت کو مزید وسعت دیکر شورائی نظام قائم کرنے کی وکالت کی جس سے میرواعظ نے صاف انکار اور کہا کہ فورم کو ان کے اشاروں پر نہیں چلایاجاسکتا ہے اور یہ کہ شبیر شاہ حریت کیلئے مسائل کھڑے کررہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق اس کے جواب میں شبیر شاہ نے انہیں بتایا کہ وہ مسائل پیدا نہیں کررہے ہیں بلکہ تحریکی سرگرمیوں میں سرگرم ہیں جبکہ مسائل ایکزیکٹیو کے دیگر ممبران کی جانب سے پیدا کئے جارہے ہیں جن پر چیئرمین کی خاموشی معنی خیز ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ اس موقعہ پر جب اختلاف عیاں ہوگیا اور اتفاق رائے کی کوئی امید نظر نہیں آئی تو شبیر احمد شاہ اجلاس سے واک آئوٹ کرگئے جس کے ساتھ ہی نعیم احمد خان ،ظفر اکبر بٹ ،محمد یوسف نقاش بھی اجلاس چھوڑ کر چلے گئے جبکہ یاسمین راجہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئی تھی ۔بعد ازاں اجلاس جاری رہا ہے اور اجلاس کے اختتام کے فوراً بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میر واعظ عمر نے کہا کہ ایگزیکٹیو اور جنرل کونسل کے مشترکہ اجلاس میں تمام اہم تنظیمی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور طویل بحث و مباحثہ کے بعد حریت میں دو دائروں والا نظام بر قرار رکھے جانے پر اتفاق رائے ہوا۔انہوں نے کہا’’چند ممبران نے تجویز پیش کی تھی حریت کے بنیادی ڈھانچہ میں تبدیلی لائی جائے اور شورائی نظام کا قیام عمل میں لایاجائے تاہم اجلاس میں اتفاق رائے سے موجودہ دو ٹائروں والا نظام ہی جاری رکھنے کا فیصلہ لیاگیا جس میں ایکزیکٹیو اور جنرل کونسل شامل ہیں اور دونوں مضبوط فیصلہ ساز ادارے ہیں‘‘۔ میرواعظ نے کہا کہ جنرل کونسل اراکین کی سربراہی میں مختلف ورکنگ گروپوں یا کمیٹیوں کا قیام عمل میں لاکر حریت کو متحرک و فعال بنا یا جائیگا۔ان کا کہنا تھا کہ ایک یا دو ہفتوں کے اندر تشکیل دی جانے والی ان کمیٹیوں کی کمان زیادہ تر جنرل کونسل اراکین کے ہاتھوں میں ہی دی جائیگی تاکہ ان میں ذمہ داری کا احساس بڑھ سکے اور وہ خو دکو بھی جوابدہ تصور کریں ۔ انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس چھوٹی بڑی تنظیموں اور اکائیوں کا ایک فورم ہے جہاں سب پر ذمہ داری عائد کی جارہی ہے تاکہ اس فورم کو عوامی اور سیاسی سطح پر زیادہ فعال اور متحرک بنایا جاسکے۔میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ حریت کانفرنس کے آئین کو سب کیلئے مقدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوچوں پر کوئی قد غن نہیں لگایا جاسکتا لیکن حریت کانفرنس کے سبھی لیڈران کو کسی بھی معاملے پر رائے زنی کرتے وقت حریت آئین اور منشور کو ملحوظ نظر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ حریت کانفرنس فورم کے اندر کسی بھی انفرادی رائے کا احترام کرتی ہے لیکن فیصلہ وہی قابل قبول ہو گا جواکثریت رائے کے ساتھ لیا جائے گا ۔میر واعظ کا کہنا تھا’’انفرادی نہیں اجتماعی فیصلہ مقدم ہوگا اور جو بھی فیصلہ لیا جائے گا وہ فورم کے اندر لیا جائیگا اور اسے میڈیا کی چکا چوند سے دور رکھا جائے گا ‘‘۔اس موقعہ پر میر واعظ نے گذشتہ دنوں پروفیسر عبدالغنی بٹ ،نعیم احمد خان اور محمد اعظم انقلابی کے نام اجراء کی گئی نوٹسوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ دو ممبران نے اسکا جواب دیا ہے جو اطمینان بخش ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنمائوں کی طرف سے جواب آنے کے بعد یہ باب بند ہو گیا ہے تاہم اعظم انقلابی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے ابھی کوئی جواب نہیں آیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اعظم انقلابی نے از خود حریت سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے اور جونہی وہ وجہ بتائو نوٹس کا جواب روانہ کریں گے تو اس کے بعد حریت ایگزیکٹیو کے اجلاس میں اس پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔میر واعظ عمر فاروق نے حریت لیڈران پر مشتمل وفد کی طرف سے ممکنہ طور ماہ ستمبر کے اوائل یا اواخر میں دورہ پاکستان کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی قیادت کے ساتھ بھی مشاورت کی جائیگی اور رائے عامہ کو منظم کرنے کی کوشش کی جائیگی۔ حریت (ع) چیئر مین نے کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام کی پر امن جدوجہد کا احترام کرتے ہوئے اب وقت ضائع کئے بغیر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے چاہیے۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ خیالات کی جنگ کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ہند نواز لیڈران جب ریاست میں عنان اقتدار سنبھالتے ہیں تو ان کیلئے آزادی پسند قیادت کی سرگرمیاں بار گراں نظر آتی ہیں اور بقول میر واعظ حریت پسند لیڈران کو پر امن سیاسی سرگرمیوں کیلئے جگہ فراہم نہیں کی جاتی ہے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2013 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By