پانی کی ٹنکی سے مردہ کتابرآمد پلوامہ میں مظاہرے،تحقیقات کے احکامات شوکت ڈار
پلوامہ//نیوہ پلوامہ میں درجنون دیہات کیلئے سپلائی کرنے والی پانی کی ایک ٹینکی سے مردہ کتا پائے جانے پر منگل کو سینکڑوں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے جبکہ علاقے میں ہڑتال کی گئی ۔ ادھر ضلع انتظامیہ نے اس ضمن میں کاروائی عمل میں لائی ہے۔ نیوہ پلوامہ کے لوگوں نے سوموارکو محکمہ پی ایچ ای کی طرف سے ہزاروں نفوس پرمشتمل درجنون دیہات کو پانی فراہم کرنے والی ٹینکی میںایک مردہ کتا پایا جس کے بعد منگل کوعلاقے کے لوگ سڑکوں پر اتر آئے اور انتظامیہ کیخلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین متعلقہ محکمہ کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ ناراض احتجاجیوں نے سرینگر نیوہ پلوامہ رابطہ سڑک پر دھرنا دیا جس سے کئی گھنٹوں تک آمدورفت معطل رہا۔ خیال رہے کہ مذکورہ ٹنکی سے درجنون دیہات کو پینے کا پانی فراہم کیا جاتا ہے ۔ ان میں نیوہ ، جہامہ، ملواری، ورون، کاکہ پورہ بنہ گنڈ، تمجی پورہ، ناربل، کانہ گنڈ، شبہ دنی، نامن، پنگلنہ، ہکڈی پورہ کے علاوہ کئی مزیددیہات کوپینے کیلئے پانی فراہم ہوتا ہے۔ لوگوںنے بتایا کہ علاقے میں کئی لوگ خاص کر بچے یرقان اور پیٹ کی کئی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیںجس کی وجہ ٹنکی کا پانی ہے۔ ادھرپلوامہ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر میر طارق نے تحصیلدار اور ایس ایچ او کے ہمراہ نیوہ جاکر لوگوں کو اس ضمن میں کاروائی عمل میںلانے کی یقین دہانی کرنے کے بعد ہی احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کیا۔اس سلسلے میں کشمیر عظمیٰ کیساتھ بات کرتے ہوئے میر طارق نے بتایا کہ انہوں نے پہلے ڈیوٹی پر تعینات محکمہ کے میکانیکل ونگ کے دو اہلکاروں کے تبدیلی کے احکامات صادر کئے ساتھ ہی اس واقعہ کی جانچ کے لئے تحصیلدار کو احکامات دے دیئے ہیں ۔