GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
  اداریہ
محکمہ صحت۔۔۔۔یہ بدنامی کب تک؟


محکمہ صحت کی کایا کس حد تک پلٹ چکی ہے ،اس کا انداز ہ اس بات سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے کہ نہ صرف اس محکمہ میں آئے روز خرد برد کی خبریں سامنے آرہی ہیں بلکہ طبی و نیم طبی عملہ کی قلت اور جعلی تقرریاں تو جیسے اب اس محکمہ کی شناخت ہی بن چکی ہے۔محکمہ صحت غلط وجوہات کی بناء پر آئے روز خبروں میں رہتا ہے اور اگر گزشتہ کچھ ایام کے دوران ہی ریاستی اخبارات کاجائزہ لیا جائے تو یہ ناقابل تردید حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ یہ محکمہ انتہائی تشویشناک حد تک بنیادی سطح سے لیکر بڑے شفاخانوں تک خود فوری علاج کا محتاج ہے تاکہ جو مختلف نوعیت کی بیماریاں اس محکمہ کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں،اُن پر قابو پاکر اس محکمہ میں نئی روح پھونکی جاسکے ، جس کے طفیل ہی طبی مراکز حقیقی شفاخانوں میں تبدیل کئے جاسکتے ہیں۔یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک تو طبی ونیم طبی عملہ کی شدید قلت کی وجہ سے یہ محکمہ دیہی علاقوں میں بالخصوص تقریباً مفلوج ہوکررہ گیا ہے وہیں طبی مراکز کی تشویشناک قلت صورتحال کو مزید سنگین بنارہی ہے اور نتیجہ طبی سہولیات کی عدم یا کم دستیابی کی وجہ سے انسانی جانوں کا اتلاف ہے ۔اس پر طرہ یہ ہے کہ اب یہ محکمہ اندھا دھند مالی و انتظامی بے ضابطگیوں اور خرد بردکی آماجگاہ بھی بن چکا ہے جہا ں طبی سہولیات میں بہتری کیلئے مرکزی وزارت صحت کی جانب سے فراہم کئے جارہے فراخدلانہ رقوم کودودوہاتھوں لوٹا جارہا ہے اور رہی سہی کسر جعلی تقرریاں عمل میںلاکر پوری کی جارہی ہے اور یکے بعد دیگرے جعلی تقرریوں کے معاملات سامنے آرہے ہیں۔گزشتہ برس راجوری سے لیکر میڈیکل بلاک بیروہ تک جعلی اور فراڈتقرریوں کے حوالے سے سرخیوں میں رہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق سو سے زائد ایسے ملازمین ان علاقوں میں پائے گئے جو جعلی سروس بک لئے کئی برسوں سے خزانہ عامرہ سے تنخواہیں وصول کرتے رہے تاہم اُس جانب کسی کی توجہ نہیں گئی اور نتیجہ یہ نکلا یہ جعلی تقرریاں عمل میں لانے کا ایک ایسا نیٹ ورک وجود میں آیا جو بلاک حدود کو پھلانگتے ہوئے ریاست بھر میں پھیل گیا اور اب ریاست کے تمام اضلا ع سے جعلی اور فراڈ تقرریوں کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔محکمہ میں لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی بڈگام ضلع میں قومی دیہی صحت مشن کے تحت نظامت انڈین سسٹم آف میڈیسن کے تحت ڈاکٹرو ں اور نیم طبی عملہ کی تقرری عمل میںلائی گئی اور حتمی فہرست جاری کرتے وقت آئی ایس ایم اور این آ ر ایچ ایم کے نمائندوں کے دستخط لینا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ساری فہرست جاری ہوتے ہی متناعہ بن گئی اور نہ صرف محکمہ کیلئے شرمندگی کا باعث بن گئی بلکہ اس مسئلہ کو لیکر اب ایک کے بعد ایک انکوائری تشکیل دی جارہی ہے تاہم مسئلہ حل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ان بھرتیوں سے شاید محکمہ کی کم ہی بدنامی ہوئی تھی کہ چند روز قبل ہی محکمہ کی جانب سے 3ہزار کے قریب ایسے ملازمین کی فہرست جاری کی گئی جو محکمہ کے بقول فراڈ ہیں۔غور طلب ہے کہ اس فہرست میں ایسے ڈاکٹر اور بلاک میڈیکل آفیسر بھی شامل ہیں جو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہوئے ہیں اور جن کی ترقیاں باضابطہ ضوابط کے تحت عمل میںلائی گئی ہیں جبکہ نیم طبی عملہ میں ایسے ملازمین کی کچھ کمی نہیں ہے جو یاتو سبکدوش بھی ہوچکے ہیں یا پھر ریٹائر ہونے کی دہلیز پر ہیں اور انہیں بھی تعیناتی کے وقت باضابطہ طور پر مجاز اداروں کی جانب سے بھرتی کیاگیا تھا۔اس فہرست کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو دوہی صورتیں سامنے آتی ہیں۔یا تو محکمہ صحیح ہے اور دیگر تمام ادارے اور ملازمین غلط ہیں یا پھر محکمہ کی تاویلات میں دم خم نہیں ہے اور جان بوجھ کر تین ہزار کے قریب ملازمین کو نہ صرف شدید ذہنی کوفت سے دوچار کیا جارہا ہے بلکہ سماج میں ان کی شبیہ بھی بگاڑی جارہی ہے کیونکہ جعلی تقرریوں کا معاملہ کوئی نیک نامی نہیں ہے اور یقینی طور پر اس پراسرار فہرست میں آنے والے ملازمین کی سماجی ساکھ متاثر ہوئی ہوگی ۔دونوں ہی صورتوں میں معاملہ تحقیق طلب ہے ۔اگر فہرست صحیح ہی مانی جائے تو اس میں وہ ملازمین کیسے شامل ہیں جن کی تقرری ضوابط کے تحت عمل میںلائی گئی ہے ۔کل ملاکر دونوں ہی صورتوں میں یہ طویل فہرست بھی محکمہ کیلئے بدنامی کا باعث بنی ہوئی ہے اور ہر محفل میں اس پر بحث ہورہی ہے ۔وقت آچکا ہے جب اس محکمہ کے اعلیٰ حکام کو بالعموم اور حکومت کو بالخصوص  ذرا شرم کرکے اس محکمہ کی کل سیدھی کرنے کی سعی کرناہوگی کیونکہ فی الوقت یہ محکمہ جس طرح بدنامی کا باعث بن کر عوامی اعتماد بتدریج کھو رہا ہے ،وہ ریاستی عوام کیلئے کسی بھی طور کوئی خوش آئند خبر نہیں ہے بلکہ اس کا براہ راست اثر ریاست میں طبی نگہداشت کے شعبہ پر پڑے گااور یوں انسانی جانیں خطرے سے دوچار ہونے کا احتمال بھی بڑھ جائے گا۔امید کی جانی چاہئے کہ ارباب اختیارغفلت سے بیدار ہوکر نہ صرف اس محکمہ کو مزید بدنامی سے بچانے کی کوشش کریں گے بلکہ اس کا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کے بھی جتن کئے جائیں گے تاکہ مرکزی امداد کا منصفانہ استعمال کرکے ریاست کے طبی شعبہ کو ایک نئی جہت دی جاسکے۔

 

یہ صفحہ ای میل کیجئے پرنٹ کریں












سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2014 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By